میں بڑی ہو کر بس بنوں گی
Friday، 3 July 2009 | مصنف: محب علوی

Powered by ScribeFire.
Friday، 3 July 2009 | مصنف: محب علوی

Powered by ScribeFire.
Tuesday، 30 June 2009 | مصنف: محب علوی
تم کو بھی ہے خبر
مجھ کو بھی ہے پتہ
ہو رہا ہے جدا دونوں کا راستہ
دور جا کے بھی مجھ سے
تم میری یادوں میں رہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
تم کو بھی ہے خبر
مجھ کو بھی ہے پتہ
ہو رہا ہے جدا دونوں کا راستہ
دور جا کے بھی مجھ سے
تم میری یادوں میں رہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
جتنی تھی خوشیاں
سب کھو چکی ہیں
بس ایک غم ہے کہ جاتا نہیں
سمجھا کے دیکھا
بہلا کے دیکھا
دل ہے کہ چین اس کو آتا نہیں
آتا نہیں
آنسو ہیں کہ ہیں انگاریں
آگ ہے اب آنکھوں سے بہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
رت آ رہی ہے رت جا رہی ہے
درد کا موسم بدلا نہیں
رنگ یہ غم کا اتنا ہے گہرا
صدیوں بھی ہوگا ہلکا نہیں
ہلکا نہیں
کون جانے کیا ہونا ہے
ہم کو ہے اب کیا کیا سہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
تم کو بھی ہے خبر
مجھ کو بھی ہے پتہ
ہو رہا ہے جدا دونوں کا راستہ
دور جا کے بھی مجھ سے
تم میری یادوں میں رہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
Tuesday، 23 June 2009 | مصنف: محب علوی
آج غصہ کی کیفیت طاری ہوئی اور کافی ضبط کرنے کے باوجود جب نہ گئی تو میں نے سوچا کہ گوگل سے تلاش کرکے غصہ دور کرنے اور قابو پانے کے طریقے ہی ڈھونڈے جائیں۔ درج ذیل اقتباسات مختلف ویب سائٹس سے ہیں۔ پہلا اقتباس ہے اردو مجلس سے جو عبدالرحمن نے بنائی ہے اور انہوں نے ہی اردو ویب محفل کو وی بلیٹن کا اردو ترجمہ دیا تھا۔
دورِحاضر کا ذکر ہے کہ ایک بچہ بہت بدتمیز اور غصے کا تیز تھا۔اسے بات بے بات فوراً غصہ آجاتا ، والدین نے اسے کنٹرول کرنے کی بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے۔ایک روز اسکے والد کو ایک ترکیب سوجھی۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو کیلوں کا ایک ڈبا لا کے دیا اور گھر کے پچھلے حصے کی دیوار کے پاس لے جا کر کہنے لگے، “ بیٹا جب بھی تمہیں غصہ آئے ۔اس میں سے ایک کیل نکال کر یہاں دیوار میں ٹھونک دینا۔پہلے دن لڑکے نے دیوار میں 37 کیلیں ٹھونکیں۔ایک دو ہفتے گزرنے کے بعد بچہ سمجھ گیا کہ غصہ کنٹرول کرنا آسان ہے لیکن دیوار میں کیل ٹھونکنا خاصا مشکل کام ہے۔اس نے یہ بات اپنے والد کو بتائی۔والد نے مشورہ دیا کہ اب جب تمھیں غصہ آئے اور تم اسے کنٹرول کر لو تو ایک کیل دیوار میں سے نکال دینا۔لڑکے نے ایسا ہی کیا اور بہت جلد دیوار سے ساری کیلیں نکال لیں۔
باپ نے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور اس دیوار کے پاس لے جا کر کہنے لگے،بیٹا تم نے اپنے غصے کو کنٹرول کرکے بہت اچھا کیا لیکن ذرا اس دیوار کو غور سے دیکھو ! یہ پہلے جیسی نہیںرہی۔ اس میں یہ سوراخ کتنے برے لگ رہے ہیں۔جب تم غصے سے چیختے چلاتے ہو اور الٹی سیدھی باتیںکرتے ہو تو اس دیوار کی مانند تمھاری شخصیت پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے۔تم انسان کے دل میںچاقو گھونپ کر اسے باہر نکال سکتے ہو لیکن چاقو باہر نکالنے کے بعد تم ہزار بار بھی معذرت کرو ، معافی مانگو ، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔وہ زخم اپنی جگہ باقی رہے گا۔
یاد رکھو زبان کا زخم ،چاقو سے کہیںبد تر اور دردناک ہے !
اس کے بعد بھی گوگل پر تلاش جاری رکھی اور مسرت اللہ جان کا آرٹیکل کیا آپ کو غصہ آتا ہے اچھا لگا جس میں سے ایک اقتباس یہ ہے
مجھے بھی آتا ہے اور البرٹ پینٹو کو بھی آتا ہے۔ لیکن کب اور کیوں آتا ہے اور یہ کہ کن لوگوں کو کم اور کن کو زیادہ آتا ہے۔ مجھے غصہ کیوں آتا ہے اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اپنی زندگی تلخیوں سے عبارت ہے بلکہ ایسی بات پر بھی آتا ہے جنہیں لوگ نظرانداز کردیتے ہیں۔ بات بات پر غصہ آتا ہے اور چونکہ ایک عدد ملازم رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہوں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اپنا یہ غصہ ہمیشہ قہر درویش بر جان درویش ثابت ہوا اسی غصہ اور بے بسی کے باعث ایک سے زائد مرتبہ ذہنی دباؤ میں بھی مبتلا ہوا اور اس طرح جسم اور ذہن کے ساتھ ساتھ پیسے کا بھی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
روح کا ناسور نامی عنوان سے یہ مفید باتیں پتہ چلیں
حضرت امام جعفر صادق(علیہ السلام) سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے پدر بزرگوار حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے سنا۔کہ ایک بدّو رسول خدا کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں ریگستان میں رہتا ہوں۔ مجھے عقل اور دانش کی باتیں بتائیں۔ جواب میں جناب رسول اللہ نے فرمایا۔ ”میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ غصّہ نہ کیا کرنا۔“
اسی سوال کو ۳ دفعہ دہرانے اور رسول خدا سے ایک ہی جواب پانے پر بدّو نے اپنے دل میں کہا کہ اس کے بعد میں پیغمبر خدا سے اور کوئی سوال نہیں کروں گا اس لئے کہ وہ نیکی کے علاوہ اور کسی چیز کا حکم نہیں دیں گے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کہتے تھے کہ میرے والد ماجد فرمایا کرتے تھے :
”کیا غضب سے بڑھ کر اور کوئی شدید شئے ہوسکتی ہے؟ ایک شخص کو غصّہ آجاتا ہے اور وہ کسی ایسے آدمی کا قتل کردیتا ہے۔ جس کا خون اللہ کی طرف سے حرام کردیا گیا ہے یا ایک شادی شدہ عورت پر تہمت اور الزام لگا بیٹھتا ہے۔“
(الکلینی الکافی، جلد ۲، صفحہ ۳۰۳، حدیث ۴)امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السّلام نے فرمایا:
’اپنے آپ کو غصّہ سے بچاؤ اس لئے کہ اس کی ابتداء دیوانگی ہے اور انتہا اس کی ندامت اور پشیمانی۔‘
فیض رضا سے یہ کام کی چیزیں ملی۔
حدیث شریف میں ہے جو شخص اپنے غصے کو روک لے گا، اللہ عزوجل بروز قیامت اس سے اپنا عذاب روک لے گا۔ ( مشکٰوۃ شریف )
ابوداؤد کی حدیث میں ہے جس نے غصے کو ضبط کر لیا حالانکہ ہ اسے نافذ کرنے پر قادر تھا تو اللہ تعالٰی بروز قیامت اس کو تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا اور اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے لے لے ( اس کے بعد مرد حضرات پر تو غصہ حرام ہونا حقیقی معنوں میں سمجھ آ جاتا ہے کیونکہ غصہ کرکے حور گنوانا گویا لاٹری جیت کر ٹکٹ گنوانے کے مترادف ہے )۔
غصہ معاشرے کی ان بڑی برائیوں میں سے ہے جس سے انسان کی شخصی اور تعمیری بلندی کو زوال آتا ہے انسان ہمیشہ ان حالات سے دوچار رہتا ہے جس کی وجہ سے اعصاب اور حواس کھینچے رہتے ہیں اس کی یادداشت بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی غصہ زہر کا اثر رکھتا ہے اور خون میں ایک زہریلا مادہ پیدا کرتا ہے جس سے چہرے پر رونق ختم ہو جاتی ہے آنکھوں اور ہونٹوں میں تازگی ختم ہو جاتی ہے غصہ معدے اور اعصابی نظام کو بری طرح متاثر کرتا ہے اور کردار میں منفی اور تخریبی اثرات پیدا کرتا ہے ماہرین عمرانیات ( سوشیالوجی ) کا کہنا ہے کہ خاوند غصیلا ہو یا بیوی ان کے گھر میں سکون اور اطمینان نہیں رہتا ا سکے اثرات بچوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں بچے آپس میں پیار و محبت میں رہنے کے بجائے لڑتے جھگڑتے ہیں پھر غصہ پورے معاشرے میں بد امنی کرتا ہے۔ ( سنتیں اور انکی برکتیں )
غصہ پر قابو پانے کے لیے مندرجہ ذیل علاج بتائے جاتے ہیں ، آپ بھی آزما کر دیکھیںاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھنا
لاحول ولا قوتہ الا باللہ پڑھنا
وضو کر لینا
کھڑے ہو تو بیٹھ جانا اور بیٹھے ہوں تو لیٹ جانا
جس پر غصہ آ رہا ہو اس کے سامنے سے ہٹ جانا
پانی پینا
خاموش ہو جانا
ڈیوک یونیورسٹی امریکہ کے ایک سائنسدان ڈاکٹر ریڈ فورڈ بی ولیمز کے مطابق غصے اور بغض رکھنے والے افراد جلد مر جاتے ہیں ان کے مطابق اس سے انسانی قلب کو وہی نقصان پہنچتا ہے جو تمباکونوشی اور ہائی بلڈ پریشر سے پہنچتا ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے سائنسی ادیبوں کے سیمینار میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بہت سے لوگ وقت سے پہلے محض بغض اور کینے کے جذبات کی شدت کی وجہ سے چل بستے ہیں غصہ اور بغض قلبی دردوں کے اہم اسباب میں سے ایک ہیں اس طرح حرص و طمع میں مبتلا بے چین و بے صبر افراد بھی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی تمناؤں اور آرزؤں کے ہاتھوں اپنی شمع زندگی کو گل کر لیتے ہیں۔
ماہرین نے غصیلے اعصاب زدہ، بے چین اور ضرورت سے زیادہ آرزو مند افراد کو زمرہ “ الف “ اور بردبار، حلیم اور صابر و شاکر لوگوں کو زمرہ “ ب “ میں تقسیم کیا ہے وہ اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زمرہ الف سے تعلق رکھنے والے افراد بالعموم امراض قلب کی زد میں رہتے ہیں اور انہیں کولیسٹرول کی زیادتی، سگریٹ نوشی اور ہائی بلڈ پریشر ہی کی طرح دورہ قلب کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ ( سنت نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور جدید سائنس )یہ سب پڑھ کر میرا غصہ تو اتر گیا ہے آپ بھی غصہ آنے کی صورت میں پورا آرٹیکل پڑھ لیں امید واثق ہے اتنا لمبا مضمون پڑھ کر غصہ کا باقی رہ جانا امر محال ہے۔
Sunday، 21 June 2009 | مصنف: محب علوی
Image via Wikipedia
روسی ناول نگار اور فلسفی جس کا شمار دنیا کے عظیم ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ عالمی ادب کا تذکرہ اس کی تحریروں کے بغیر ادھورا ہے۔ اس کے ناول اور کہانیوں کے ترجمے دنیا کی تقریبا ہر زبان میں ہو چکے ہیں۔ اس کی دو مشہور کتابیں
دنیا کی بہترین کتابوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ یہ دونوں شاہکار ناول اردو میں بھی ترجمہ ہو چکے ہیں۔
Thursday، 18 June 2009 | مصنف: محب علوی
Image via Wikipedia
سن اشاعت 2005
یہ کتاب A Brief History of Time in1988 (وقت کی مختصر تاریخ) ہی کا نیا ورژن بلکہ دوبارہ لکھا گیا ہے نسخہ ہے جسے اسٹیفن ہاکنگ ( Stephen Hawking) نے امریکی سائنسدان لیونارڈ ملادینو ( Leonard Mlodinow) کے ساتھ مل کر لکھا ہے ۔ اس نئی کتاب میں کوانٹم میکانیات ، سٹرنگ تھیوری اور دیگر سائنسی نظریات کو عام فہم زبان میں عوام کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایک سائنسی کلاسک ہے جسے زیادہ جامع، قابل رسائی ، واضح آسان اور نئی ریسرچ کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
مصنفین نے اس میں زمان و مکان کی فطرت ، تخلیق میں خدا کے کردار اور کائنات کے ماضی اور مستقبل کے بارے میں بحث کی ہے۔
Friday، 12 June 2009 | مصنف: محب علوی
یہ مضمون میں نے وکیپڈیا کے لیے لکھا تھا اب سوچا شیئر کر لوں تاکہ کوئی اس میں اضافہ کرنا چاہے تو کر سکے۔
یہ کتاب اسٹیفن ہاکنگ کے لیکچروں کا مجموعہ ہے جسے گلوبل سائنس کے مدیر علیم احمد نے ترجمہ کیا ہے۔ ان لیکچروں کے ذریعے مصنف نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ بگ بینگ (Big Bang) سے لے کر بلیک ہولز تک ، کائنات کی تاریخ کے بارے میں ہم کیا سوچتے ہیں اور کیا سوچتے چلے آ رہے ہیں۔
پہلے لیکچر میں کائنات کے متعلق گزشتہ نظریات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ کائنات کی موجودہ تصویر تک ہماری رسائی کیسے ہوئی۔ اسے تاریخِ کائنات کی تاریخ کہا جا سکتا ہے۔
دوسرے لیکچر میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ نیوٹن اور آئن سٹائن ، دونوں کے نظریاتِ ثقل کس طرح ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتے ہیں کہ کائنات ساکن نہیں ہو سکتی۔ یعنی یہ نتیجہ کہ کائنات کو لازما پھیلنا یا سکڑنا چاہیے۔ اسی تصور سے یہ خیال اخذ کیا گیا ہے کہ ماضی بعید میں ، آج سے دس یا بیس ارب سال قبل ، ایک موقع ایسا بھی تھا جب کائنات کی کثافت (density) لامتناہی تھی۔
تیسرے لیکچر میں بلیک ہولز کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ یہ تب بنتے ہیں جب کمیت والا کوئی ستارہ یا اس سے بڑا کوئی جسم ، اپنی ہی قوت ثقل کے زیر اثر ، اپنے ہی وجود میں منہدم (collapse ) ہوتا ہے۔ آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کے مطابق ، بلیک ہول میں جا گرنے والا کوئی احمق ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا؛ وہ بلیک ہول سے باہر آنے کے کے قابل نہیں رہے گا۔ اس کے برعکس ، بلیک ہول میں گرنے والے کسی شخص کے لیے تاریخ کا خاتمہ ایک ایسے مقام پر ہوگا جسے وحدانیت کہتے ہیں لیکن عمومی نظریہ اضافیت ایک کلاسیکی نظریہ ہے یعنی اس میں کوانٹم آلاتیات کے اصول عدم یقین کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
چوتھا لیکچر یہ واضح کرتا ہے کہ کوانٹم آلانیات کس طرح توانائی کو یہ اجازت دیتی ہے کہ وہ رس رس کر بلیک ہول سے باہر نکلتی رہے یعنی بلیک ہولز ایسے سیاہ و تاریک نہیں جیسے کہ ان کی تصویر کشی کی جاتی ہے۔
پانچواں لیکچر اس پہلو کا احاطہ کرے گا کہ بگ بینگ اور ابتدائے کائنات جیسے مواقع پر میکانیاتی تصورات کا اطلاق کیسے کیا جاتا ہے۔ اسی اطلاق کی وجہ سے یہ خیال سامنے آتا ہے کہ زمان و مکان اس انداز سے متناہی finite ہو سکتے ہیں کہ ان کا کوئی سرا یا کنارہ نہ ہو ۔ یہ ( زمان و مکان ) زمین کی سطح جیسے ہوں گے مگر ان میں دو اضافی جہتیں (dimensions) ہوں گی۔
چھٹے لیکچر میں بتایا گیا ہے کہ حد بندی والا یہ نیا تصور کس طرح اس امر کی وضاحت کر سکتا ہے کہ قوانین طبیعات ، وقت کے اعتبار سے متشاکل (symmetric) ہی کیوں نہ ہو لیکن پھر بھی ماضی اور مستقل ایک دوسرے سے کس طرح مختلف ہوں گے۔
ساتویں لیکچر میں اس بابت گفتگو ہے کہ کیونکر کائنات کا مکمل ترین ، حتمی اور متحد نظریہ کھوجنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ایک ایسا نظریہ جس میں کوانٹم آلاتیات ، ثقل اور طبیعات کے دیگر عوامل کا احاطہ کیا جائے گا۔ اگر یہ نظریہ حاصل ہو گیا تو ہم واقعتا کائنات کو سمجھ لیں گے اور یہ بھی جان لیں گے کہ کائنات میں ہمارا مقام کیا ہے۔
کوشش کروں گا کہ اس سلسلے میں آئندہ بھی پوسٹ کروں
Thursday، 16 April 2009 | مصنف: محب علوی
آج بہت عرصہ بعد ایک پوسٹ کر رہا ہوں گو کہ کسی اچھے موضوع پر کرنی چاہیے تھی مگر ذہن میں الجھن ہے کہ پاکستان کے حالات کیا رخ اختیار کریں گے اور حالات بہتر ہوں گے کہ ابتری کی طرف جائیں گے۔ قوم میں اتحاد ہوگا کہ مزید انتشار کا شکار ہوتی جائے گی ؟ کیا سیاسی اور معاشی استحکام آئے گا یا رہا سہا بھی جاتا رہے گا؟
ایک دم اتنے سارے طالبان کہاں سے نمودار ہو گئے ہیں اور اتنے مضبوط کیسے ہیں جبکہ پوری دنیا ان کی مخالف ہے۔ افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی افواج ہیں اور پاکستان میں پاکستان کی افواج اور سیکیوریٹی فورسز کئی سالوں سے ان کے ساتھ لڑ رہی ہیں مگر ان کی طاقت اور اثر رسوخ کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ بغیر بھاری امداد ، اسلحہ اور پیسے کے یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک چھوٹا سا گروہ اتنی زیادہ طاقتوں کے ساتھ اتنی دیر تک لڑ سکے اور دن بدن مضبوط بھی ہوتا جائے۔ متعدد رپورٹس میں یہ کہا جاتا ہے کہ ڈرگ ڈیلرز ، جرائم پیشہ اور امریکہ کے خلاف لڑنے والے گروپس اب ایک ہوگئے ہیں اور اب مجموعی طور پر ان کا نام پاکستانی طالبان ہے۔ ان کے لیے فنڈنگ اور امداد کئی ملک کر رہے ہیں جن میں بہت سے غیر ممالک کا نام لیا جاتا ہے جو سرحد اور بلوچستان میں مسلسل بدامنی پھیلا رہے ہیں۔ بیت اللہ محسود پر تو کئی دفعہ بھارت سے مدد لینے کا الزام لگ چکا ہے مگر تصدیق نہیں ہوئی۔ دن رات میڈیا پر طالبان کے حق اور مخالفت میں آخری حدوں کو چھونے والی بحثیں ہو رہی ہیں مگر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیئے کوئی ٹھوس اور قومی پالیسی نہیں بنائی جا رہی جو کہ اس وقت سب سے اہم اور ضروری ہے۔ حکومت کا سب سے اہم اور اولین فریضہ لوگوں کی جان اور مال ہوتا ہے جس میں حکومت بری طرح ناکام ہو رہی ہے اور تاحال اسے پہلی ترجحیح دینے میں ناکام ہے۔ انتہاپسندی صرف قبائلی علاقوں میں ہی زوروں پر نہیں ہے بلکہ مبصرین اور تبصرہ نگار بھی انتہا پر جا کر تبصرے دے رہے ہیں کوئی کسی کے مخالف کوئی بات کردے تو اسے دوسری انتہا کا حامی قرار دے دیا جاتا ہے اور پھر اس کی ہر رائے کو اسی پلڑے میں رکھ کر تولا جاتا ہے جبکہ حقیقتا وہ شخص شاید چند باتوں سے اختلاف اور چند سے اتفاق رکھتا ہے اور معقولیت سے اسے قائل کیا جا سکتا ہے مگر زور بیان اور جلد بازی میں اس کی فکر کم ہی کی جاتی ہے۔ اس رویہ کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی اور بات کو سن کر اپنے موقف کو طعنوں اور طنز سے پاک رکھ کر ادب سے پیش کرکے ہی بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے اور اہم معاملات پر اتفاق پیدا کیا جا سکتا ہے۔
ایک خبر پڑھی تھی چند دن پہلے کہ حکومت نے پنجاب اور سندھ میں بیس بیس ہزار کی فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو صرف دہشت گردی کے مرض سے نمٹنے کے لیے ہی استعمال ہوگی اور اب پنجاب میں بھی ایک اسپیشل فورس بنانے کی بات ہو رہی ہے جسے پنجاب بارڈر پر تعینات کیا جائے گا تاکہ شدت پسند اور دہشت گردوں کو ان کی کاروائیوں سے روکا جا سکے۔ یہ ایک خوش آئین قدم ہے اور ضرورت ہے کہ ایسی ٹاسک فورس کا قیام جلد از جلد پورے ملک میں ہو اور اس کے ذمہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنا ہو اور اس فورس کے پاس جدید آلات اور بہترین سہولیات ہونی چاہیے۔
کچھ عرصہ کے لیے تمام جماعتوں کو مل کر معاشی اور سیاسی استحکام کے لیے پوری کوششیں وقف کر دینی چاہیے کہ اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو کوئی جماعت بھی اقتدار کا لطف نہ اٹھا سکے گی۔ ویسے بات تو میں ذہنی انتشار پر کرنا چاہتا تھا مگر شاید رخ امن و عامہ کی صورتحال کی طرف ہو گیا ہے جو کہ بہت نازک ہے اور اس طرف دھیان بار بار جاتا ہے۔ آئیندہ کبھی ذہنی انتشار جو میرا بھی اور قوم کا بھی اس پر لکھوں گا۔
Monday، 16 March 2009 | مصنف: محب علوی
اللہ رے زرداری کی معصومیت قبلہ فرما رہے ہیں کہ میں کبھی بھی جسٹس افتخار کے خلاف نہیں تھا فقط ڈوگر کی ریٹائرمنٹ کا انتظار کر رہا تھا۔ یہ ایک چھوٹی سی چیز تھی مگر اس چھوٹی سی چیز نے بڑے بڑے لوگوں کو بے نقاب کر دیا۔ اس موقع پر انہوں نے یہ شعر بھی دہرایا کہ
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
لیکن اتنا تو ہوا کہ کچھ لوگ پہچانے گئے
ویسے تو زرداری اب سخت مقابلہ کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کو ببانگ دہل جھوٹ بولنے میں پیچھے چھوڑ چکے ہیں مگر پھر بھی اس تازہ تازہ جھوٹ کے لیے ان کا ابھی دو دن قبل کا بیان ملاحظہ کر لیں۔
جنگ چودہ مارچ کی یہ خبر دیکھیں
صدر نے لانگ مارچ اور دھرنا تحریک کو سیاسی چیلنج قرار دیا اور کہا کہ افتخار محمد چوہدری کی بحالی کوئی ایشو نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افتخار چوہدری بحال ہوں گے اور نہ ہی پنجاب میں گورنر راج ختم ہوگا، سلمان تاثیر بدستور گورنر پنجاب رہیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر زرداری نے دو ٹوک کہا کہ حکومت کسی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرے گی اور سیاسی چیلنجز کا مقابلہ سیاسی طریقے سے کیا جائیگا۔
سیاسی چیلنج قبول کرنے اور کسی کمزوری کا مظاہرہ نہ کرنے والے مرد حر کی کمزوری ڈیڑھ دن میں ہی سامنے آ گئی اور پہلے مرحلے پر افتخار چوہدری صاحب کو تو بحال کرنا پڑ گیا ہے دوسرے مرحلے پر گورنر راج اور اس کے ساتھ سلمان تاثیر کو بھی رخصت پر بھیجنا پڑے گا۔ پیپلز پارٹی والوں کا عجب حال ہے اور ڈھٹائی کی حد ہے کہ فخر سے بتا رہے ہیں کہ شہید بینظیر بھٹو کا اور زرداری کا وعدہ پورا کر دیا ہے ، ہم تو شروع سے ہی وعدہ پورا کرنا چاہتے تھے ( مگر نواز شریف لانگ مارچ کر ہی نہیں رہا تھا ) اب مناسب موقع پر یہ وعدہ پورا کر دیا ( جب عوامی طاقت کے سامنے بالکل نہ چلی)۔
اس کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم نے سندھ دھرتی کے خلاف نعروں کا نوٹس نہ لینے پر اڑتالیس گھنٹوں میں حکومت سے علیحدگی کا نوٹس چوبیس گھنٹوں میں واپس لے کر اصول پسندی اور مفاہمت کی روشن مثال قائم کی ہے( اس طرح کی پھلجڑیاں چھوڑنے کی ماہر جو ٹھہری ویسے سندھ کارڈ اس دفعہ بری طرح سے ناکام رہا آئندہ الطاف بھائی دیکھ کر استعمال کیجیے گا)۔ اس کے ساتھ انہوں نے بھی ججوں کی بحالی کو خوش آئین قرار دیا ہے( مجبوری کا دوسرا نام سیاست شاید اس کو کہتے ہیں)۔
Sunday، 15 March 2009 | مصنف: محب علوی
ابھی ابھی پاکستان وقت کے مطابق سولہ مارچ صبح دو بجے یہ خبر جیو نیوز پر آ رہی ہے کہ چیف جسٹس کو بحال کر دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور چوہدر ی نثار نے کامران خان کو بتایا ہے کہ حکومت کی طرف سے یہ پیغام پہنچا دیا گیا ہے کہ ابھی چند منٹ میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی قوم سے خطاب میں چیف جسٹس اور دو نومبر کی عدلیہ کی بحالی کا اعلان کریں گے۔ وکلا چیف جسٹس کے گھر کے سامنے جمع ہو گئے ہیں اور کامران خان نے شہباز شریف کے پانچ مارچ کے جلسہ میں کی گئی پیشن گوئی کو سنوایا کہ لانگ مارچ ابھی جہلم تک نہیں پہنچے گا کہ چیف جسٹس بحال ہو جائیں گے اور ایسا ہی ہو رہا ہے۔
قوم کو مبارک ہو۔