آر ايس ايس فيڈ

ہیٹی میں زلزلہ

ہیٹی (Haiti)میں ایک قیامت برپا ہے، انتہائی خوفناک زلزلے کے بعد اور ایک انتہائی غریب ملک اس وقت گلوبل وارمنگ کا نشانہ بن گیا ہے ، وہی گلوبل وارمنگ جس سے نظریں چرا کر ہم سب اپنی اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں جو ہر سال ہزاروں لوگوں کی ہلاکتوں کا سبب بن رہا ہے، سونامی ہو ، کٹرینہ ہو ، پاکستان کا زلزلہ ہو یا اب تازہ ترین ہیٹی کا زلزلہ ہو۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں یہ تباہی اور بربریت کا مظاہرہ کر رہا ہے اور انسانوں کو کرہ ارض کو تباہ کرنے سے روکنے سے خبردار کرنے کی کوشش کر رہا ہے مگر انسان اب تک غافل ہے اور غافل ہی رہنا چاہتا ہے۔

پچھلے سال گلوبل وارمنگ پر ہونے والی کانفرنس بے نتیجہ رہی اور سوائِے وعدے وعید کے کچھ خاص کام نہ ہوا کیونکہ دنیا پر قابض ضمیر اور انسانیت سے عاری سرمایہ داروں کا گروہ پیسوں کے لیے سب کچھ کرنے کو ہمہ وقت تیار ہے پر انسانیت کے لیے کچھ بھی کرنے کا سوچ کر ہی انہیں موت محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق تقریبا ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگ اس جان لیوا زلزلے میں زندگیاں گنوا بیٹھے ہیں اور تیس لاکھ سے زائد لوگ اپنے گھر بار گنوا بیٹھے ہیں اور انہیں مدد کی سخت ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ہیلپنگ ہینڈز یو ایس اے  (Helping Hand USA) مدد کے لیے اپیل بھی کر رہی ہے اور مدد کے لیے شہرت بھی رکھتی ہے۔ ویب سائٹ ایڈریس اور نمبر مندرجہ ذیل ہیں

 

www.hhrd.org

1-888-808-4357

 

جس قدر ہو سکے اور جتنی استطاعت ہے ہیٹی کے زلزلہ زدگان کی مدد کرنی چاہیے

کافی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ اس موضوع پر لکھوں کیونکہ جب بھی بہت زیادہ پڑھی لکھی محترمہ کا بلاگ پڑھتا ہوں ضرور اس میں کچھ نہ کچھ ایسا لکھا ہوتا جو مندرجہ ذیل چیزوں میں سے کسی ایک پر لازما مشتمل ہوتا ہے

 

مردوں کے خلاف بالعموم اور پاکستانی مردوں کے خلاف بالخصوص

پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف

کبرائی بڑائی اور انا

صحیح بات بھی اگر غلط طریقے سے کی جائے تو اثر کھو دیتی ہے اور بری لگتی ہے۔ کئی باتیں بذات خود ٹھیک ہوتی ہیں مگر اس طور سی کی جاتی ہیں کہ نتیجہ میں انتشار اور کدرورتیں ہی پیدا ہوتی ہیں۔

 

عورت اور مرد دونوں رب ذاولجلال کی تخلیق ہیں اور دونوں بحیثیت انسان ایک جیسی قدر و منزلت رکھتے ہیں اللہ کی نظر میں۔ مرد و عورت کی فضیلیت اور برتری رشتوں اور تعلق کی بنیاد پر مقرر کی گئی ہے۔ عورت کو سب سے بلند رتبہ بحیثیت ماں دیا گیا ہے اور مرد کو بحیثیت شوہر۔  اگر تعصب اور مغربی پروپیگنڈا کو ایک طرف رکھ کر انصاف کیا جائے تو مرد و عورت کو جس رشتہ میں سب سے زیادہ تقدس دیا گیا ہے وہاں اس کی بڑی مضبوط وجوہات ہیں ، دل و دماغ دونوں اس چیز کو نہ صرف مانتے ہیں بلکہ تقاضہ بھی کرتے ہیں۔

 

مرد و عورت برابر نہیں ہیں ، نہ تھے اور نہ کبھی ہوں گے ۔

یہ دونوں ملتےجلتے ضرور ہیں مگر ایک جیسے نہیں۔ دونوں میں جسمانی ، ذہنی ، نفسیاتی اور روحانی فرق موجود ہیں۔ دونوں کے اپنے اپنے دائرہ کار ہیں اور دونوں کے لیے پروردگار نے فرائض اور حقوق مقرر کر دیے ہیں جن پر اگر عمل ہو تو مرد اور عورت کا جھگڑا ہی نہ اٹھے۔ نہ تو دنیا مردوں کے  لیے پیدا کی گئی نہ عورتوں کے لیے دنیا کی تخلیق کا اصل راز تو اللہ کو ہی پتہ ہے البتہ جو اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے اس کے مفہوم کے مطابق اللہ نے انسان کو دنیا میں اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے تاکہ وہ اس کی عبادت کر سکے۔

اس میں کہیں بھی مرد اور عورت کا ذکر نہیں ہے بلکہ انسان کا ذکر کیا ہے اور اشرف المخلوقات بھی ہمیشہ انسان کو ہی بتایا گیا ہے مرد و عورت کا ذکر نہیں کیا گیا۔ عورتوں کو نبوت کا اعزاز نہیں ملا جس کی بڑی سادہ اور واضح وجہ ہے کہ نبی کو زندگی میں بہت زیادہ مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہے حتی کہ بہت سے نبیوں کو لوگوں نے شہید بھی کر دیا۔ نبی کے منصب کا تقاضہ تھا کہ وہ لوگوں میں گھلے ملیں اور ہر جگہ اور ہر قسم کے لوگوں کو تبلیغ کریں ظاہر ہے یہ کام ایک عورت کے لیے ناممکن نہیں تو انتہائی کٹھن ضرور تھے اور دوسرا عورت اگر نبی ہوتی تو بحیثیت بیوی وہ اپنے شوہر کے تابع ہو جاتی اور یوں ایک اور مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔ اس کے باوجود ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں بڑی ہی جلیل القدر اور عزت مآب عورتوں کی مثالیں ملتی ہیں جو روحانیت کی بلندیوں پر فائز ہیں اور تمام مردوں اور عورتوں کے لیے مینارہ نور ہیں۔

حضرت آسیہ فرعون کی بیوی اور حضرت موسی کو پالنے والی اور موسی کے دین پر قربان ہو جانے والی۔ کوئی عورت اس زمانے میں اس سے زیادہ کیا چاہ سکتی تھی جو حضرت آسیہ کو میسر تھا مگر انہوں نے حق پر شاہانہ جاہ و جلال اور مادی آسائشیں قربان کر دیں۔ غیر مصدقہ تاریخ کے مطابق ان کو ایمان سے ہٹانے کے لیے فرعون نے انہیں تختہ دار پر کھینچ ڈالا اور انہوں نے تختہ دار پر اپنے بیٹے کے دین حق پر جان دے دی مگر شوہر کی فرعونیت پر سر تسلیم خم نہ کیا۔

حضرت مریم سے زیادہ شاید ہی کسی عورت نے دکھ سہا ہو اور میرے خیال میں اللہ نے عورتوں کی تشفی قلب کے لیے تاریخ انسانی میں ولادت انسان کا دوسرا معجزہ دکھاتے ہوئے بغیر مرد کے ایک عورت کو ماں کا تقدس بخش دیا اور عورتوں کو بھی دلیل قاطعہ دے دی کہ اگر مائی حوا بغیر ماں کے صرف ایک مرد کے بطن سے پیدا ہوئی تھی تو حضرت مریم نے بھی اللہ کے حکم سے حضرت عیسی کو جنم دیا کسی مرد سے بیاہے بغیر۔ یہ چیز عقل انسانی ہضم نہیں کر سکتی تھی اس لیے ان پر جاہلوں نے بہت الزام لگائے باوجود اس کے کہ حضرت مریم کی گود میں ایک بولتا ہوا بچہ تھا جو خود بول کر اپنی ماں کے تقدس کی گواہی دے رہا تھا مگر جب کسی کے دل میں بیماری اور نقص ہو تو وہ زندہ و جاوید معجزوں کو بھی نہیں مانتا۔ حضرت مریم اللہ کو کتنی محبوب تھیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن جسے الہامی کتابوں میں سب سے اونچا درجہ حاصل ہے جس کی عظمت اور پاکیزگی کی قسم سب مسلمان کھاتے ہیں اس میں اللہ نے اپنی محبوب بندی حضرت مریم کے درد زہ کا تذکرہ اس طرح سے کیا ہے کہ رہتی دنیا تک وہ تذکرہ سامعین اور قارئین کے لیے باعث ثواب و نجات بن گیا ہے۔ وہی درد زہ جس کا تذکرہ عام حالات میں لوگ باعث شرم سمجھتے ہیں اسے اللہ نے قرآن کا حصہ بنا دیا ہے۔

حضرت عائشہ کا تذکرہ کرکے اس پوسٹ کو ختم کروں گا کہ تاریخ انسانی میں اللہ کی محبوب بہت سی بندیاں گزری ہیں جن کا ذکر تمام عمر کرتے بھی عمر کم لگے گی۔ حضرت عائشہ کی فضیلیت اور برتری کو کون مسلمان ہے جو نہیں جانتا اور مانتا ہو گا سوائے ان کے جن کے دل میں کھوٹ اور بیماری ہو۔ حضرت عائشہ ایک سفر میں ہار گرنے اور پھر اسے ڈھونڈنے کی وجہ سے قافلے سےپیچھے رہ گئیں۔ وہ جب واپس قافلے سے ملیں تو چار لوگوں نے جنہیں رئیس المنافقین کی پشت پناہی حاصل تھی حضرت عائشہ پر الزام لگایا اور پورے شہر میں اس بات کو مشہور کر دیا جس پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت رنج اور تکلیف پہنچی۔ اس کے ساتھ ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی علیہ کو اور ان کے گھر والوں کو بھی بہت تکلیف اور رنج اٹھانا پڑا۔ یہ معاملہ اللہ کی قدرت سے بغیر وحی اتارے بھی سلجھ سکتا تھا اور حضرت عائشہ کی بے گناہی بہت سے طریقوں سے ظاہر ہو سکتی تھی مگر اللہ نے اپنی محبوب بندی کی پاک دامنی کی گواہی اور بے گناہی ثابت کرنے کے لیے قرآن کی اٹھارہ آیتیں اتاریں جو کہ ایسا اعزاز ہے جو کسی اور عورت کو حاصل نہیں ہوا۔

قرآن میں بہت سی عورتوں کا تذکرہ ہے جو اللہ کی اپنی بندیوں سے محبت اور کرم کا اظہار ہے۔ مسلمانوں کو مغرب سے عورتوں کے حقوق کا سبق پڑھنے کی نہ تو حاجت ہے اور شوق۔ اللہ کے فضل سے مسلمان عورتوں کے علم و فضل اور کارہائے نمایاں سے تاریخ بھری پڑی ہے اس کے لیے کسی تحریک نسواں یا نسائیت کی علمبردار گمراہ اور جدید جاہلیت کی پیروکار کے لیکچر کی ضرورت نہیں۔

 

مسلمان مردوں اور عورتوں کو لیے اسلام ہی مکمل ضابطہ حیات ہے۔ 

نادیہ خان واہ واہ

کافی پہلے لکھنا تھا اس موضوع پر گردش دوراں نے مہلت ہی نہ دی البتہ میں نے احتیاط اس پوسٹ کو سرخی کے ساتھ ڈرافٹس میں رکھ لیا تھا وہی آج کام آ گیا۔

نادیہ خان جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے سب سے پہلے کلیاں یا انکل سرگم کے ساتھ کسی پروگرام میں آئی تھی اور اس کے بعد اپنی صلاحیتیوں اور قابلیت کے زور پر آگے ہی بڑھتی گئی ۔ کئی عمدہ ڈرامے کیے جن میں مجھے بندھن کافی پسند ہے ، اس کے علاوہ شاید ایک ڈرامہ اڑان میگا کاسٹ کے ساتھ بھ تھا۔

اب کافی عرصہ سے نادیہ جیو ٹی وی پر صبح کا طویل دورانیہ کا ایک پروگرام کرتی ہیں جو کافی مقبول ہے اور واقعی ایک اچھا اور معیاری پروگرام ہے۔ نادیہ کافی سلجھی ہوئی باتیں کرتی ہے اور اپنے پروگرام کے ذریعے کافی لوگوں کی تربیت بھی کر رہی ہے بس ڈانس کا شوق کم کر لے تو بہت ہی عمدہ تعلیم و تربیت کا پروگرام بھی بن سکتا ہے۔  اس کے کچھ حصے تو لاجواب ہیں جیسے

 

واہ واہ پاکستان

ایک اور حصے میں ایک لڑکی دو ڈھول والوں کے ساتھ لوگوں کی غلطیوں پر انہیں پکڑتی ہے ، ان سے ان کی غلطی منواتی ہے ، انہیں پھولوں کا ہار پہناتی ہے  اور پھر اس پر ڈھول بجواتی ہے یعنی بھگو بھگو کر خطا کے پتلوں کو آن سکرین مارتی ہے۔

 

نادیہ نے پچھلے سال بہترین ہوسٹ کا ایوارڈ جیتا ہے جو کہ یقینا ایک بہت بڑا اعزاز ہے اور میں اس پر تہہ دل سے نادیہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ کوئی بھی شخص جو پاکستان کے لیے اعزاز حاصل کرتاہے ، پاکستان کا نام روشن کرتا ہے قابل احترام ہے۔

The Phantom of the Opera

The Phanton of the Opera
یہ ناول  Gaston Leroux نے 1909 میں لکھا اور بطور ایک سیریل کے شائع کیا تھا۔ یہ ناول مصنف کے تخیل کی پیداوار ہے اور تعارف لکھتے ہوئے مصنف نے فرض کرتے ہوئے اپنے ناول کا ابتدائیہ اس طرح لکھا کہ اس نے 1880 میں پراسرار واقعات کی تحقیق کی جو کہ مشہور اوپیرا ہاؤس میں پیش آئے۔ مصنف نے یہ بھی لکھا کہ اس نے وہ بہت بڑی جھیل بھی دیکھی جہاں فینٹم چھپا رہا جہاں بہت سے لوگوں کے لاشے بھی تھے جنہیں بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ یہ کتاب بیسٹ سیلر تو نہیں بنی مگر  1925 میں اس پر ایک فلم ضرور بن گئی جو کہ مشہور بھی ہو گئی۔
Andrew Lloyd Webber نے ایک میوزیکل کہانی لکھی جو کہ   لندن میں  1986 اور پھر 1988 نیویارک میں پیش کی گئی۔  2006 تک Broadway Productions میں یہ شو Cats سے بھی زیادہ چلنے والا شو بن گیا ہے اور Broadway تاریخ میں سب سے زیادہ چلنے والا شو بن گیا ہے۔
اب تک اس میں
9100 پرفارمنس ہو چکی ہیں
10 کروڑ سے زائد لوگ اسے دیکھ چکے ہیں
25 ملکوں کے  124 شہروں میں یہ شو دیکھا جا چکا ہے اور بلاشبہ اسے تاریخ انسانی کی اعلی ترین تفریحی پڑاڈکشن کہا جا سکتا ہے

اسلام آباد میں میں نے بھی یہ شو اسلام آباد کلب میں شاہ شرابیل کی ڈائریکشن میں دیکھا تھا اور بہت لطف اندوز ہوا تھا۔

نئےسال کے نئے عزم

نئے سال پر ایک روایت مجھے اچھی لگتی ہے کہ کچھ لوگ نیو  ایئر  ریزولوشن پاس کرتے ہیں  اور نئے سال میں اپنے لیے کچھ اہداف مقرر کرتے ہیں۔ میں نے سوچا میں جو ہر وقت خواب غفلت ، خواب خرگوش اور میٹھے خوابوں میں مست رہتا ہوں کچھ جاگتی آنکھوں کے خواب قلمبند کر دوں تاکہ یار لوگ مجھے یاد بھی دلا سکیں اور مجھ میں بھی اپنا ہی لکھا  پڑھ کر عقابی روح بیدار ہو سکے۔

پہلا منصوبہ جو کہ جنوری میں ہی انشاءللہ پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے وہ ہے اردو بلاگنگ فورم کا دوبارہ اجرا ایک نئے نام سے۔ پچھلی دفعہ یہ کام اردو ٹیک کے نام سے کیا گیا تھا جس میں عبدل قدیر احمد رانا اور بدتمیز شامل تھے۔ بدتمیز نے ویب ہوسٹنگ کی سہولت مہیا کی تھی اور اردو ٹیک کی ڈومین بھی اسی کے نام سے رجسٹر تھی جو اب بھی ہے۔عبدل قدیر احمد رانا نے ایس ایم ایف فورم کا اردو ترجمہ کیا تھا اور یوں اردو بلاگنگ فورم اور بلاگنگ سروس شروع ہو گئی تھی۔  اس زمانے کی یادگاریں اردو ٹیک کے بلاگران آج بھی ہیں اور انشاءللہ رہیں گے۔ بدتمیز نے اردو ٹیک وینس کو سنبھال لیا تھا اور اب بھی سنبھالے ہوا ہے۔ عبدل قدیر احمد رانا  اور بدتمیز  کی صلح صفائی کی برکات سے پہلے اردو بلاگنگ سروس تعطل کا شکار ہوئی اور پھر فورم بھی اس کی نظر ہو گیا۔ میں بھی مصروف رہا اور امریکہ آنے کے بعد اسے بالکل نہ دیکھ سکا۔
اب انشاءللہ نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ اسے پھر سے شروع کرنا ہے اور اس دفعہ جس جوان کا انتخاب کیا ہے وہ اردو بلاگنگ کی دنیا کا جانا پہچانا اور نامی گرامی بندہ ہے۔ سندھ کے اس سپوت کو آپ سب راشد کامران کے نام سے جانتے ہیں اور پچھلے سال کے بہترین بلاگر کا اعزاز بھی اس سندھ کے سپوت کے پاس ہے۔ سندھ کے اس سپوت کی میں بڑی قدر کرتا ہوں کیونکہ سندھ کے اس جیسے سپوتوں سے ہی سندھ کا نام روشن ہے ورنہ جانے کتنے زردار ،  مرزا اور بھٹو سندھ کا نام بدنام کرنے کو کافی ہیں۔ ابو شامل یقینا ایک اور قابل تعریف نام ہے سندھی سپوتوں میں اور اگر مکی کا تعلق بھی بنیادی طور پر سندھ سے ہے تو پھر آپ لوگ خود سمجھدار ہیں۔
خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا ، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ راشد کے ساتھ یہ طے ہو گیا ہے کہ ہم لوگ مل کر یہ فورم جلد از جلد شروع کریں اور اردو بلاگران کو اس پر اکٹھا کریں اور ساتھ میں ورڈ پریس پر مفت اردو سروس دینا شروع کریں۔ سعود ابن سعید بھی ہاں نہ کے درمیان ہیں مگر امید کی جانی چاہیے کہ وقت پڑنے پر آگے ہی ہو گا پیچھے نہیں۔

یہ تو ہے اردو  بلاگنگ کے فورم اور سروس کے متعلق ایک منصوبہ۔ اس کے علاوہ ایک عدد سافٹ ویئر ہاؤس اور اپنی کمپنی کی سائٹ بھی جلد ہی بنانی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان جا کر خوب آرام اور لطف اٹھانے کے منصوبے ہیں جو وہاں پہنچ کر ہی بتاؤں گا۔

اس کے علاوہ راشد کے ساتھ ہی مل کر ایک عدد عمدہ رومن ٹو اردو کنورٹر بھی لکھنا ہے جو کہ اصل میں تو راشد نے ہی لکھنا ہے میں نے ساتھ مدد دینی ہے۔

PHP  اور  JAVA   سیکھنے کا بھی ارادہ ہے اسپانوی اور فرنچ سیکھنے کے ساتھ ساتھ۔

اب دیکھتے ہیں کتنے ارادے پایہ تکمیل تک پہنچتے ہیں اور کتنے نہیں۔

اور ہاں اگلے سال بہترین بلاگر کا اعزاز جیتنا بھی منصوبہ جات میں شامل کر لیا ہے جب سے سنا ہے کہ سرکاری سطح پر بھی کسی اردو بلاگر کو اعزاز ملنے کا امکان ہے۔

نئےسال کے نئے عزم

نئے سال پر ایک روایت مجھے اچھی لگتی ہے کہ کچھ لوگ نیو  ایئر  ریزولوشن پاس کرتے ہیں  اور نئے سال میں اپنے لیے کچھ اہداف مقرر کرتے ہیں۔ میں نے سوچا میں جو ہر وقت خواب غفلت ، خواب خرگوش اور میٹھے خوابوں میں مست رہتا ہوں کچھ جاگتی آنکھوں کے خواب قلمبند کر دوں تاکہ یار لوگ مجھے یاد بھی دلا سکیں اور مجھ میں بھی اپنا ہی لکھا  پڑھ کر عقابی روح بیدار ہو سکے۔

پہلا منصوبہ جو کہ جنوری میں ہی انشاءللہ پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے وہ ہے اردو بلاگنگ فورم کا دوبارہ اجرا ایک نئے نام سے۔ پچھلی دفعہ یہ کام اردو ٹیک کے نام سے کیا گیا تھا جس میں عبدل قدیر احمد رانا اور بدتمیز شامل تھے۔ بدتمیز نے ویب ہوسٹنگ کی سہولت مہیا کی تھی اور اردو ٹیک کی ڈومین بھی اسی کے نام سے رجسٹر تھی جو اب بھی ہے۔عبدل قدیر احمد رانا نے ایس ایم ایف فورم کا اردو ترجمہ کیا تھا اور یوں اردو بلاگنگ فورم اور بلاگنگ سروس شروع ہو گئی تھی۔  اس زمانے کی یادگاریں اردو ٹیک کے بلاگران آج بھی ہیں اور انشاءللہ رہیں گے۔ بدتمیز نے اردو ٹیک وینس کو سنبھال لیا تھا اور اب بھی سنبھالے ہوا ہے۔ عبدل قدیر احمد رانا  اور بدتمیز  کی صلح صفائی کی برکات سے پہلے اردو بلاگنگ سروس تعطل کا شکار ہوئی اور پھر فورم بھی اس کی نظر ہو گیا۔ میں بھی مصروف رہا اور امریکہ آنے کے بعد اسے بالکل نہ دیکھ سکا۔
اب انشاءللہ نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ اسے پھر سے شروع کرنا ہے اور اس دفعہ جس جوان کا انتخاب کیا ہے وہ اردو بلاگنگ کی دنیا کا جانا پہچانا اور نامی گرامی بندہ ہے۔ سندھ کے اس سپوت کو آپ سب راشد کامران کے نام سے جانتے ہیں اور پچھلے سال کے بہترین بلاگر کا اعزاز بھی اس سندھ کے سپوت کے پاس ہے۔ سندھ کے اس سپوت کی میں بڑی قدر کرتا ہوں کیونکہ سندھ کے اس جیسے سپوتوں سے ہی سندھ کا نام روشن ہے ورنہ جانے کتنے زردار ،  مرزا اور بھٹو سندھ کا نام بدنام کرنے کو کافی ہیں۔ ابو شامل یقینا ایک اور قابل تعریف نام ہے سندھی سپوتوں میں اور اگر مکی کا تعلق بھی بنیادی طور پر سندھ سے ہے تو پھر آپ لوگ خود سمجھدار ہیں۔
خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا ، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ راشد کے ساتھ یہ طے ہو گیا ہے کہ ہم لوگ مل کر یہ فورم جلد از جلد شروع کریں اور اردو بلاگران کو اس پر اکٹھا کریں اور ساتھ میں ورڈ پریس پر مفت اردو سروس دینا شروع کریں۔ سعود ابن سعید بھی ہاں نہ کے درمیان ہیں مگر امید کی جانی چاہیے کہ وقت پڑنے پر آگے ہی ہو گا پیچھے نہیں۔

یہ تو ہے اردو  بلاگنگ کے فورم اور سروس کے متعلق ایک منصوبہ۔ اس کے علاوہ ایک عدد سافٹ ویئر ہاؤس اور اپنی کمپنی کی سائٹ بھی جلد ہی بنانی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان جا کر خوب آرام اور لطف اٹھانے کے منصوبے ہیں جو وہاں پہنچ کر ہی بتاؤں گا۔

اس کے علاوہ راشد کے ساتھ ہی مل کر ایک عدد عمدہ رومن ٹو اردو کنورٹر بھی لکھنا ہے جو کہ اصل میں تو راشد نے ہی لکھنا ہے میں نے ساتھ مدد دینی ہے۔

PHP  اور  JAVA   سیکھنے کا بھی ارادہ ہے اسپانوی اور فرنچ سیکھنے کے ساتھ ساتھ۔

اب دیکھتے ہیں کتنے ارادے پایہ تکمیل تک پہنچتے ہیں اور کتنے نہیں۔

اور ہاں اگلے سال بہترین بلاگر کا اعزاز جیتنا بھی منصوبہ جات میں شامل کر لیا ہے جب سے سنا ہے کہ سرکاری سطح پر بھی کسی اردو بلاگر کو اعزاز ملنے کا امکان ہے۔

نیا سال اچھا ہو

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
نئے وعدوں کا جو ڈالا ہے وہ جال اچھا ہے

ظلم کی رات بہت جلد ڈھلے گی
آگ چولہوں میں ہر ا ک روز جلے گی

بھوک کے مارے کوئی بچہ نہیں روئے گا
چین کی نیند ہر ا ک شخص یہاں سوئے گا

آندھی نفرت کی چلے گی نہ کہیں اب کے برس
پیار کی فصل اگائے گی زمیں اب کے برس

ہے یقیں اب نہ کوئی شور شرابہ ہو گا
ظلم ہو گا نہ کہیں ، خون خرابہ ہو گا

اوس اور دھوپ کے صدمے نہ سہے گا
کوئی اب میرے دیس میں بے گھر نہ رہے گا

را ہنماؤں نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
دل کے بہلانے کوغالب یہ خیال اچھا ہو

حسین اور کاروبار یزید

کیا ستم ہے کہ آج پیروئے یزید بھی
ماتم کناں ہیں لے کر نام حسین ہی
وہ جو دست یزید پر بیعت کیے ہیں ظلم کی
وہ جو کھیلتے ہیں جسم و جاں سے سادہ دلوں کی
وہ بھی روتے ہیں لے کر نام حسین ہی

میں دس بہ دست گزارش ہے ساہوکاروں ، سرمایہ داروں ، سیاستدانوں ، حکمرانوں اور علمائے سو سے عرض کر رہا ہوں کہ آیتیں ، حدیثیں اور جانے کتنی مقدس چیزیں بیچ کر بھی ان کا دل نہیں بھرا تو فریب و ریا کے لیے کوئی اور شے ڈھونڈ لیں مگر خون حسین فروخت کرنا بند کر دیں۔ کسی کو تو چھوڑ دیں، خون حسین پر تو اپنی دکانیں نہ سجاؤ ، حسین کے لہو کی سبیلیں تو نہ لگاؤ ، حسین کی قربانی کی تجارت تو نہ کرو۔ حسین کا نام لے کر اپنے قد اونچے کرنے کی ناکام کوشش تو نہ کرو ، حسین کی اعلی ظرفیوں میں تو اپنی کم ظرفی نہ چھپاؤ ، حسین کو جذبات کی بھینٹ نہ چڑھاؤ۔

حسین میراث ہے بنی نوع انسان کی
حسین پہ تسلط نہ جماؤ
وہ جس نے خون حق دیا ہے امت کے لیے
اسے امت کے لیے وجہ تنازع نہ بناؤ
حسین سب کے ہیں
انہیں فقط اپنا نہ بناؤ

کنور سنگھ بیدی کی نظم کا یہ حصہ بہت اچھا لگا

زندہ اسلام کو کیا تُو نے   
حق و باطل کو دکھا دیا تُو نے
جی کے مرنا تو سب کو آتا ہے
مر کے جینا سکھا دیا تُو نے

سقوط ڈھاکہ سے سقوط کرپشن تک

سولہ دسمبر تمام  پاکستانیوں کے لیے یوم سوگ ہوتا ہے۔ اس دن ہمارا ایک بازو ہم سے کٹ گیا تھا اور ہمارے بڑوں نے کمال سنگدلی اور بے حسی سے اس بازو کا نہ صرف کٹنا گوارا کر لیا بلکہ اسے جوڑنے کی کوئی کوشش بھی نہ کی۔

وہ جو کبھی “ہم“  تھے  آج  “میں“ اور “تم“  کیسے ہوگئے

چونکہ صوبائیت کا  زہر ہر طرف کار فرما ہے اور اچھے خاصے باعلم  پڑھے لکھے غیر جانب دار لوگ بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے اب ہر شخص کے ساتھ اس کی قومیت ضرور لکھوں گا تاکہ پڑھنے والے کو قوم کا پتہ چل سکے۔

ابھی بھی فقط ادھورے سچ کا ذکر جاری ہے ابھی بھی سارا قصور پنجابیوں کا نکالا جا رہا ہے جس میں سب سے زیادہ سیاہ کردار پٹھان ایوب کا تھا جس نے کتا کتا کہلوا کر بھی جاتے جاتے اقتدار اپنے ہی بنائے ہوئے آئین کی بجائے پنجابی چیف آف آرمی سٹاف یحیی کو دے گیا۔ تین کرداروں میں ایک کا تعلق سندھ سے ایک کا پنجاب سے اور ایک کا بنگلہ دیش سے تھا۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے یحیی کا نام تو سیاہ حروف سے لکھا جاتا ہے اور لکھا جانا بھی چاہیے مگر سندھی بھٹو اور بنگالی مجیب کا سیاہ کردار، روشن اور ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اس پر کب احساس ہوگا ہمیں اور کب لکھا جائے۔ بنگالیوں کو ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے ان سے زیادہ دنیا کی کوئی قوم مظلوم تھی نہ ہے جب کہ ان کی اپنی حرکات بھی بہت سیاہ تھی اگر ان پر ظلم ہوا تو انہوں نے بھی ظلم کی انتہا کر رکھی تھی اور مظالم کے لیے وہ سب سے زیادہ خود ذمہ دار ہیں۔ پہلا مارشل لا اسکندر مرزا نے لگوایا ایوب کو بلوا کر ۔ ایوب مرزا پٹھان تھا اور اسکندر مرزا بنگالی اور جس وزیر اعظم کو برطرف کیا گیا وہ پنجابی۔ اصولا تو یہ پنجاب کے ساتھ پٹھان اور بنگالی قوم کی زیادتی تھی مگر کمال خوبی سے یہ پنجاب کے حصہ میں ڈالی جاتی ہے۔ پھر جاتے جاتے پٹھان ایوب  اقتدار  پنجابی یحیی کو دے کر گیا ، اس لحاظ سے بھی پٹھان ایوب کا کردار پاکستان میں سب سے سیاہ ہے۔ پھر بنگالی مجیب اور سندھی بھٹو کی اقتدار کے لیے خونی کشمکش اور دونوں کا انجام ساری دنیا کے سامنے ہیں فقط ہمارے سوا۔ ایک کو اسی کی قوم نے گولیوں سے بھون ڈالا دوسرے کے اسی کی قوم نے پھانسی دے ڈالی۔ پنجابی یحیی تو اپنی زندگی میں ہی مر گیا تھا اور گمنامی کی زندگی گزاری ، افسوس کہ سندھی بھٹو نے اسے عزت سے دفن ہونے دیا حالانکہ پوری قوم کو اس کے سیاہ کارنامے بتانے چاہیے تھے اور عدالت سے اس کے گناہ کو ثابت کرنا چاہیے تھا مگر یہ تو تب ہوتا اگر سندھی بھٹو مخلص ہوتا۔

سولہ دسمبر کو اس سال سقوط ڈھاکہ  کے  38 سال بعد سقوط  کرپشن ہوا ہے جو قوم کی مشترکہ جدوجہد اور قربانیوں  کا ثمر ہے۔ قدرت نے اپنا فیصلہ دے بھی دیا اور سمجھا بھی دیا ہے ۔

کیا ہم اب بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مشیت  ایزدی کیا  ہے  !!!!!

 

جن آنکھوں کو
خواب محبت کی پہلی من موہنی دستک سے کھلنا تھا
وہ آنکھیں اک وحشت ناک دھماکے
کے خونی جھٹکے سے…بند ہوئی ہیں
بھورے بھورے بال الجھے ہیں… اک جھاڑی سے
تن کی دھجی دھجی رستوں پر بکھری ہے
مارنے اور مرجانے کی اندھی خواہش میں
کس بدلے کی بھاونا… اک شعلے کی صورت
اس نازک تن میں جلتی تھی
دشمن کو بن پہچانے ہی
بیس برس کے اس سینے میں
کیوں اتنی نفرت پلتی تھی؟
بیس برس کی عمرتو ماں کی سبز دعاؤں سے اُگتی ہے
بیس برس کی آنکھوں کے محمل میں تو لیلیٰ رہتی ہے
بیس برس کا دل تو عشق کی اونچی لَو سے
سرخ چراغ بنا رہتا ہے
اپنے انجانے جذبوں کا
خود ہی سراغ بنا رہتا ہے
کس نے تمہارے روشن دل کو نفرت کرنا سکھلایا تھا
لمبی عمر کی… سبز دعاؤں والی رُت میں
کس ظالم نے موت کا سپنا دکھلایا تھا؟
کس نے کہا، اس آگ میں جل کر تم کو شہادت مل جائے گی
کس نے بتایا، موت کی کالی راہ پہ جنت مل جائے گی
بیس برس کے کم سنِ دل کو
پہلی چاہت مل جائے گی؟
~~~
( ثمینہ راجہ )

ملک وقوم کو آپ کے قلم کی ضرورت ہے۔ ان بے گناہ اور معصوم لوگوں کو آپ کے قلم کی ضرورت ہے جوشب وروز  بلا وجہ اور بے قصور، تاریک راہوں میں مارے جا رہے ہیں ۔

پراني تحارير »

WordPress Loves AJAX