فیضو اور گلابو خطوط
۔۔۔۔پہلا خط
دوسرا خط
تیسرا خط
چوتھا خط
پانچواں خط
بے وفا گلابو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے وفا ہی نکلی نہ
اب مجھ سے کاہے بولو اب بولنے کے لیے کوئی اور جو مل گیا تم کو اور گستاخ لڑکی تمہاری زبان کو کیا ہوا ، میری صحبت کا اثر اور لکھنوی زبان کا ذائقہ اتنی جلدی بدل لیا تم نے ۔ کس گنوار کے پلے پڑ گئی ہو تم ؟ اب تمہیں سارے جہان کے چاچے ، مامے اور ماسیاں یاد آنے لگی ہیں میرے جانے کے بعد اور سارا شہر مل کر میرے نکے پنڈ کی خبریں بھی دے رہا ہے تمہیں اور تم کسی ایف ایم ریڈیو کے ریسیور کی طرح ساری خبریں کیچ بھی کر رہی ہو اور بذریعہ خط نشر بھی ۔ گیا تو میں پنڈ ہی تھا جلدی میں مگر تمہارا خیال اپنے پسندیدہ جانور کے محاورے کی طرف ہی گیا حسب معمول ، کام سے گیا تھا ماموں کی فصلوں کی کٹائی کے لیے ۔ میں تو فصلوں کی کٹائی کے لیے گیا تھا کیا خبر تھی تم پیچھے سے میرا ہی پتا کاٹ دوگی ، وائے افسوس ترے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔
پینو سمیت اپنے چاچے ، ماسی ، مامے اور جملہ خاندان کے اول درجے کی پھپھے کٹنی ہے اور اس کی ماسی تو ماسی پھاتاں کے نام سے بچپن سے ہی مشہور ہے ، حیرت ہے تم اتنی انجان اور معصوم ہو تو نہیں مگر اس معاملے میں کیسے ہوگئی۔ خط تمہیں محنت سے نہیں محبت سے لکھتا تھا مگر تمہارے حسابی کتابی ذہن نے میری محبت کو بھی محنت ہی سمجھا اور انعام میں گوبھی کا پھول ، کیا سوچ ہے تمہاری بالکل کسی ہندو بنئے جیسی ، گھر کے آنگن میں کھلے گوبھی کے پھول سے ہی کام چلانے کا سوچ لیا۔ ایک تیر سے کتنے شکار کرنے کا سوچا ہوا تھا تم نے ، گوبھی کے پھول سے مجھے بھی خوش کرنے کا ارادہ تھا اور میری اماں کو بھی ، گوبھی کا پھول نہ ہوا تمناؤں کا پھل ہو گیا جسے پا کر میں اور میرے گھر والے خوشی سے جھوم اٹھتے اور تمہارے وارے نیارے جاتے۔
محبت کی باتیں تمہیں ہمیشہ بہکی بہکی ہی لگیں ، کبھی محبت کی ہوتی تمہیں تو پتہ ہوتا کہ محبت کیا ہوتی ہے اور محبت کی باتیں کیا ۔ میں ہی نادان تھا جو تمہاری اماں کے سودے سلف لا کر ہفتہ بھر کے کاموں کی فہرست سنتا اور سادہ لوحی کی انتہا تو دیکھو کہ تمہارے کہے کام کو بھی محبت کی ایک ادا سمجھتا مگر تمہیں کن سوئیاں لینے ، چغلیاں کھانے اور پینو کی زبانی محلے بھر کے قصے کہانیوں کی بارہ مصالحے کی چاٹ کے سوا اور کوئی کام کہاں تھا۔ بھول گئیں کیا وہ اصرار جو تمہیں اپنی تعریفیں سننے پر ہوا کرتا تھا اور میں کیسا سعادت مند تھا کہ آنکھیں بند کرکے تواتر سے سفید جھوٹ بولا کرتا تھا۔ تیل میں نچڑے تمہارے بالوں کی کسی ہوئی چٹیا کو میں زلفِ گرہ گیر کہا کرتا تھا ( کوئی حسن پرست شاعر سن لیتا تو مجھے زندہ دفن کر دیتا ) ، گھر بھر کی صفائی کے بعد گرد میں اٹی ہوتی تھی تم مگر میں چاند کو دیکھ کر تمہیں چاندنی کہا کرتا تھا جس کا کبھی تم نے بھولے سے بھی انکار نہیں کیا ، کبھی شرما کر بھی یہ نہیں کہا کہ اب ایسا بھی نہیں بلکہ حق سمجھ کر وصول کیا کرتی تھی ساری تعریفیں ڈھٹائی کے ساتھ ۔ اب سوچتا ہوں کہ محبت میں انسان کتنے جھوٹ بولتا ہے اور کتنے سنتا بھی ہے سچ سمجھ کر۔ خود تو تمہارے بال کبھی زلف کہلا نہ سکے میرے جھوٹ کے سوا ، اس لیے میرے بالوں کے پیچھے پڑی رہتی تھی کہ کٹوا دوں ، بالوں کی جگہ ان کی نشانی ہی رکھ ، اب خود ہی کہہ ڈالا کہ تمہیں محبوب گنجا گواراہ تھا یہ تو میں خوب جانتا تھا کہ تم کس محرومی کے زیر اثر یہ کہہ رہی ہو۔ خود نہیں رکھتی تو میرے بھی مٹانا چاہتی ہو خوبصورت بال
اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں
خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ
کہاں کی منگنی اور کس مامے کی بیٹی سے ، دو ہی بیٹیاں ہیں اور دونوں خیر سے اپنے گھر کی ہو چکی ہیں۔ یہ خبریں ہیں تمہیں ، صاف کیوں نہیں کہتی کہ تمہارا اپنا دل بے ایمان تھا کب سے اور بے وفائی کے بہانے تلاش کر رہی تھی۔ میں گاؤں کیا سدھارا تم پیا گھر سدھار گئیں ، آنا فانا منگنی کرلی جیسے اس گھڑی نہ ہوئی تو پھر کبھی نہ ہوگی۔ ابھی تو عید پر میری دی ہوئی مہندی کا رنگ بھی نہیں اترا ہو گا کہ تم نے پھر سے اپنے ہاتھ رنگ لیے کسی اور کے نام سے۔ جس طرح اور جتنی جلدی تم نے خط کے ذریعے مجھے محبوب کے عہدے سے معزول کیا ہے اتنی جلدی تو ہمارے ہاں حکومت بھی نہیں بدلتی ۔ ستم بالائے ستم تم نے بغیر عبوری دور کا اعلان کیے اور جذبات کے سرد ہونے کا انتظار کیے بغیر محبوب بھی ڈھونڈ لیا اور منگنی بھی کر لی اس سے تمہاری وفا کی ساکھ سخت مجروح ہوئی (پہلے ہی اس پر سوالیہ نشان تھا)، اتنی جلدی تو ہماری حکومت وزیر بھی نہیں بدلتی جتنی جلدی تم نے محبوب بدل لیا۔ ۔ فیکے نے کئی بار مجھے سمجھایا کہ گلابو کے تیور مجھے بدلے بدلے لگتے ہیں مگر میری آنکھوں پر تو پٹی بندھی تھی پیار کی ، تمہیں وفا کی مورت سمجھتا رہا اور تمہارے دل کے چور کو نہ سمجھ سکا۔ باتیں مجھ سے اور دل میں کسی اور بسائے رکھا ،گلابو یہ کس طرح تو نے مجھے الجھائے رکھا۔
سانوں پتا تیرے دل وچ چور نی
گلاں ساڈے نال دل وچ کوئی ہور نی
جب تمہارا یہ پتر بے وفائی کا منہ بولتا ثبوت بن کر مجھ تک پہنچا ، نہ پوچھ کیا میرے دل پر بیتی اور کس طرح شب ہجر بن کر عذاب گزری۔ تمام رات کبھی ایک فلم لگا کر گزاری کبھی دوسری ، ‘کچھ کچھ ہوتا ہے‘ پوری دیکھی مگر کچھ نہ ہوا پھر ‘کبھی کبھی ‘ لگا کر دیکھی مگر میرے دل میں کوئی خیال نہ آیا۔ کسی اور کے ساجن کی سہیلی دیکھی تو جا کر صبح نیند آئی۔ اگلے دن فیکے نے میرے غم کی رات کو دیکھتے ہوئے دوپہر چڑھتے ہی گانے لگا دیے
رہا گردشوں میں ہر دم میرے عشق کا ستارہ تو مستقل لگا دیا بڑی مشکل سے بدلوایا تو ظالم نے لگا دیا
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسمان کے لیے
تیرا وجود تو ہے بس اک داستاں کے لیے
پلٹ کر سوئے چمن دیکھنے سے کیا ہوگا
وہ شاخ ہی نہ رہی جو تھی آشیاں کے لیے
اس پر میں تڑپ کر اٹھا مگر میرے غصہ کرنے پر اس نے بدلا بھی تو کیا بدلا
میرے دوست قصہ یہ کیا ہوگیا
سنا ہے کہ تو بے وفا ہو گیا ہے
گزرے ہیں آج عشق میں اس امتحان سے
نفرت سے ہوگئی ہے محبت کے نام سے
غرض کونسا دکھی اور بے وفائی سے بھرا گانا تھا جو اس نے اس دن مجھے نہ سنایا ہو اور مجھے بھی یہ یقین دلا دیا کہ غرض پرست زمانے میں وفا ڈھونڈنے سے کیا حاصل ، یہ شے تو بنی ہے کسی دوسرے جہاں کے لیے۔ مجھے کب یہ گمان تھا کہ راہ وفا میں بہک جائیں گے تیرے قدم ، تم بھی ہو جاؤ گی کسی اور کے سنگ
تیری بے وفائیوں پر تیری کج ادائیوں پر
کبھی سر جھکا کر روئے کبھی منہ چھپا کر روئے
او بے وفا تیرا بھی یونہی ٹوٹ جائے دل تو بھی تڑپ تڑپ کر پکارے کہ ہائےےےےےےےے دل تیرا بھی سامنا ہو کبھی غم کی شام سے تو بھی واقف ہو رنج کے جام سے
میری دکھ اور ٹینشن کو چھوڑو تم تو خوش ہو نہ منگنی کروا کر۔ پینو کے بھائی نے تمہاری اماں کو کب سے بہلانا پھسلانا شروع کیا ہوا تھا اور اب تم بھی مان گئی ہو یہ سوچ کر اس کی اپنی کریانے کی دوکان ہے گھر کے سودے سلف گھر میں ہی مل جایا کریں گے۔تم نے کہا کہ مجھے آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا تو وہ تو مجھے اب بھی معلوم ہے
آٹا ہے 110 روپے کلو
دال ماش 88, دال چنا 40 ، دال مسور 56، دال مونگ 56 اور سبزیوں کا بھاؤ بھی معلوم کرنا تو بلا جھجھک پوچھ لینا تمہارے کافی کام آئے گا عنقریب۔ ویسے تمہیں مارکیٹ سے بھی کہیں زیادہ کم بھاؤ کا جلد پتہ چل جائے گا جب روز تمہیں اتوار بازار یا منڈی سے یہ چیزیں منگوانا پڑیں گی۔ تم نے محاوروں میں سنا ہوگا لفظ کفایت شعاری، کنجوسی اب شادی کے بعد جب تمہارے نصیب پھوٹیں گے پینو شیخنی کے شیخ بھائی سے تو تمہیں لگ پتہ جائے گا۔ چیزیں گھر ضرور آیا کریں گی مگر تمہیں ملیں گی ترس ترس کر ، اس پر فضول خرچی کے طعنے الگ ہوا کریں گے پھر تمہیں قدر ہوگی میری اور میرے بغیر حساب لائے سودا سلف کی ، کوسوں گی اپنے کچے کانوں کو جو پینو کی باتوں میں آجاتے تھے۔ سانسیں بھی گن کر لینے کی اجازت ہوگی تمہیں باقی چیزوں کا حساب خود ہی لگا لینا۔ پینو ویسے تو تمہاری دوست ہے مگر اب نند بننے کے بعد اس کے رنگ ڈھنگ دیکھنا۔ اماں کے پاس اس کی دونوں بڑی بھابھیاں آ کر اپنے دل کے پھپھولے پھوڑا کرتی ہیں ، پینو کی لگائی بجھائی اور گز بھر کی زبان کا رونا روتی ہیں۔ پینو خود بھی آ کر اماں کو فخر سے بتا کرتی ہے کہ وہ بھابھیوں کے مزاج ٹھکانے پر رکھنے کے لیے بھائیوں کے کان بھر کر آئے دن انہیں دو تین کرارے ہاتھ لگوا دیا کرتی ہے اور جس دن زیادہ جلی بیٹھی ہو تو خود بھائیوں کے ساتھ مل کر ان کی چٹیا کھینچ کر عقل ٹھکانے پر لے آتی ہے۔
خدا تمہارے حال پر رحم کرے مگر جب تمہیں خود نہ اپنے آپ پر رحم آیا تو خدا کیسے کرے گا۔ تمہاری تمام تر بے وفائیوں کے باوجود دل تمہاری حالت کا سوچ سوچ کر لرزتا ہے ، چلو اگر ہمارے ستارے نہیں ملے تو تمہارے نصیب تو کھل جاتے کہیں ۔
ایک خبر تو سنائی ہی نہیں تمہیں ، دل تھام کر ، گرے گی قیامت بن کر تم پر مگر اب تو تم عادی ہو جاؤ کہ زندگی اب اسی طور بسر ہوگی تمہاری۔ پینو نے میری اماں کی خدمتیں کرکے ، تمہارے کان بھر کر تمہیں اپنے بھائی کے پلے بندھوا کر میدان صاف کر لیا ہے اور مجھ سے کہا ہے کہ چھوڑ دے ساری دنیا کسی گلابو کے لیے یہ مناسب ہے فیضو کے لیے ۔ میں سوچ رہا ہوں کہ میں پینو کی بات مان تو لوں مگر پھر
تیرا کیا ہوگا کسی اور کی گلابو؟
———————————————
نوٹ:
اشیائے نرخ کم از کم تین سال پرانے ہیں اس لیے براہ مہربانی ان نرخوں کو پڑھ کر خریداری کے لیے نکلنے والا ہنگامی طبی امداد والوں کو پیشگی فون اطلاع کردے