Realtime hit counterweb stats
آر ايس ايس فيڈ

کرپشن کی انتہا

No Gravatar

ایسا لگتا ہے مصیبتوں اور بلاؤں نے پاکستان کا مستقل رخ کر لیا ہے اور کوئی دن نہیں گزرتا کہ بری اور افسوسناک خبر نہیں ملتی اور وہ بھی تب جب انتہائی مشکل حالات چل رہے ہیں اور مزید صدموں اور سانحوں کی تاب نہیں۔ پہلے ہی مشکلات اور اعتبار کی کمی کے بحران کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا مگر شاید کہیں کوئی کسر رہتی تھی جو تازہ ترین کرکٹ اسکینڈل نے بھرپور انداز میں پوری کر دی۔ کرپشن تو ہمیشہ سے تھی اور مکمل طور پر تو شاید کبھی بھی ختم نہیں ہوگی کہ کسی ملک میں بھی مکمل خاتمہ نہیں ہوا اس موذی بلا کا۔ کرپشن بھی ایمان کی طرح گھٹی بڑھتی رہتی ہے اور محسوس یوں ہوتا ہے کہ اس وقت کرپشن اپنے عروج پر ہے جس کی ایک سادہ وجہ تو شاید کرپٹ ترین شخص کا ملک کا سربراہ ہونا ہے جس نے انتہائی دھڑلے اور بے شرمی کی حد تک کرپشن کو ہر جگہ رواج دے رکھا ہے۔ ہر جگہ دوست ، رشتہ دار تعینات ہیں جو ہر جگہ تباہی مچا رہے ہیں اور ثبوت سمیت الزامات پر بھی کسی کو فارغ نہیں کیا جائے۔ اب اعجاز بٹ ، چیئر مین پی سی بی جو کہ وزیر دفاع احمد مختار کے رشتہ دار (بہنوئی شاید) اور یاور سعید منیجر ( رضا ربانی کے سسر ) دونوں انتہائی نا اہل اور ستر ستر سال سے زائد عمر کے ہیں اور سوائے پیسے بنانے کے دونوں کو اور کوئی کام نہیں۔ قائمہ کمیٹی برائے کھیل بھی کافی چیخ چکی ہے مگر بے حسی اور بے شرمی کی انتہا ہو چکی ہے جس کی بڑی وجہ جناب آصف علی زرداری ہیں جو کہ بدقسمتی سے کرکٹ بورڈ کو بھی دیکھتے ہیں۔ امید کرنی چاہیے کہ پیپلز پارٹی اور اس کی حلیف جماعتوں کی کرپشن کو اگر ملک جھیل گیا تو ہم بدترین دور دیکھ چکے ہوں گے کیونکہ مجھے اس سے زیادہ بدعنوان اور ڈھیٹ بد دیانت لوگوں کی حکومت آگے نظر نہیں آ رہی ۔
ایک چیز جو صاف نظر آ رہی ہے وہ ہے ٹرکل ڈاؤن کرپشن ( Trickle Down )  جو اوپر سے نیچے کی طرف اس قدر تیزی سے رواں دواں ہے کہ ملکی تاریخ میں اس کی کوئی نظیر نہیں ( اور بے نظیر فائدہ ہمیشہ زرداری نے ہی اٹھایا حتی کہ مرنے کے بعد بھی محترمہ کی یہ خطا معاف ہونے میں نہیں آ رہی) ۔ کرپشن پہلے بھی تھی مگر پہلے کرپشن کا موجودہ حکومت میں پتہ نہیں چلتا تھا اور پچھلی حکومتوں کی کرپشن کی بھرپور مذمت ہوا کرتی تھی اور ان پر کیس بھی بنا کرتے تھے اور مخالفین کے پاس صرف ایک ہی جواز ہوا کرتا تھا کہ یہ محض موجودہ حکومت کی پچھلی حکومت سے دشمنی ہے جو یہ سب کروا رہی ہے ورنہ اس میں کوئی سچ نہیں اور اس بات پر انہیں کچھ شک کی گنجائش مل بھی جاتی تھی کہ واقعی دونوں ہوتے تو دشمن ہی تھے مگر کرپشن کے کیس زیادہ تر اصلی ہی ہوتے تھے اور لوگ ان پر یقین بھی کرتے تھے۔ اب موجودہ دور میں میڈیا کی آزادی سے اپوزیشن کی بجائے یہ فرض میڈیا نے سنبھال لیا اور بمع ثبوت کے کرپشن پر حکومت کی گرفت شروع کر دی ہے مگر حکومت شاید بالکل لا تعلق ہو کر یا انتہائی ڈھیٹ ہو گئی ہے اور اسے پرواہ ہی نہیں کہ ان کی حرکات کیا ہیں اور ان سے ملک کو کیا نقصان پہنچ رہا ہے۔ ایک عجیب منطق کچھ منتشر اور قنوطیت پسند لوگوں کا یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ نیچے سے اوپر تک کرپشن ہے تو پھر کچھ کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے جبکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر حاکم یا ایسے اشخاص جن کے ہاتھ میں طاقت اور اختیار ہو اور وہ اسے صحیح استعمال کریں تو مثبت تبدیلی جلد آنے لگتی ہے اور بگڑے ہوئے بھی سدھرنے لگتے ہیں اور جو نہ سدھریں وہ محتاط ہو جاتے ہیں۔
دعا ہے کہ کچھ اچھی خبریں اگلے چند دنوں میں ضرور قوم کو ملیں تاکہ کچھ تو گلشن کا کاروبار چلے

امید کی شمعیں جلتی ہوئی

No Gravatar

بہت سی اداس اور پریشان کن دنوں اور خبروں کے بعد آج فرحت کیانی کی پوسٹ امید ابھی کچھ باقی ہے دیکھ کر اداسی کم ہوئی اور پوری پڑھنے کے بعد امید کی بجھتی ہوئی کرنیں پھر سے جلنے لگیں۔ خاص طور پر یہ جملے  پڑھ کر

 

متاثرینِ سیلاب کے لئے لگائے گئے جس کیمپ  سے گزرتے ہوئے مجھے کبھی دو چار لوگوں اور آٹھ دس تھیلوں کے سوا کچھ نہیں دکھائی دیتا تھا وہا ں سے ہر شام 3 ٹرک امدادی سامان لیکر متاثرینِ سیلاب کی اور نکلتے ہیں۔

اس کے بعد عمران خان کی پکار پر قوم کی مدد ، ایدھی صاحب کی ایپل پر لوگوں کی کروڑوں کی امداد ، یہ سب پڑھ کر بہت اچھا لگا اور وہ اداسی، پریشانی کم ہونے لگی جو مسلسل پریشان کن اور مصائب پر مبنی خبروں سے بڑھتی جا رہی تھی۔

اس کے بعد جعفر کی پوسٹ   آیئے پڑھی جسے بہت اچھے انداز میں جعفر نے لکھا اور فیشن کے مطابق چند مخصوص گروہوں کو کوسنے ، چند طبقات کو ذمہ دار ٹھہرانے اور ملک اور قوم کا نوحہ پڑھنے کی بجائے جس چیز کی اشد ضرورت ہے وہ ہے جذبہ ہمدردی اور ایثار ان آف زدوں اور مصیبت زدوں کے لیے جو اس آفت ناگہانی کا شکار ہوئے ہیں۔ کچھ دیر کے لیے اگر سوچا جائے کہ ایک رات کو سوتے ہوئے ان لوگوں کے پاس گھر  ، سامان ، اناج اور مال مویشی تھے اور اگلے دن نہ ان کے پاؤں تلے زمین تھی اور نہ سر پر چھت۔ نہ سر چھپانے کو جگہ نہ تن ڈھانپنے کے لیے پورے کپڑے ، کھانا ایک طرف پینے کے لیے صاف پینے تک کو ترس گئے ہیں۔ جو گندا اور بدبودار پانی جانور پی رہے ہیں وہی پینے پر مجبور ہیں اور اس کے ہاتھوں بیمار بھی ہو رہے ہیں اور مر بھی رہے ہیں۔ امداد کم اور ضرورت مند زیادہ ہیں جس سے امداد آتی بھی ہے تو اسے لینے میں جو کشمکش اور چھینا جھپٹی ہوتی ہے وہ ایک اور ہی دل خراش داستان ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ لوگ جو اب تک گومگو کی کیفیت میں تھے اور امداد دینے میں یا تو کشمکش کا شکار تھے یا اس سانحے کی سنگینی کا اندازہ نہیں کر پا رہے تھے اب میدان میں نکل کھڑے ہوئے ہیں اور بڑھ چڑھ کر مدد کر رہے ہیں۔

طلعت اور کاشف عباسی کے اکاؤنٹ میں بیس جولائی تک چار کروڑ سے اوپر رقم جمع ہو چکی ہے اور یہ صرف چند دن میں بغیر زیادہ ترویج اور چندہ مہم کی مسلسل اپیل کے بغیر۔ طلعت اور کاشف نے اس امدادی کام کو شفاف رکھنے کے لیے ویب سائٹ اور اس پر اکاؤنٹ کی تفصیل دے رکھی ہے جو یہاں پر دیکھی جا سکتی ہے۔

ریلیف آج ویب سائٹ

اس سائٹ پر کال کرنے اور ایس ایم ایس کرنے کے لیے نمبر موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ سائٹ پر بینک اسٹیٹمنٹ اور آئندہ خرچ ہونے والی رقم اور منصوبہ جات بھی ہوں گے۔

عمران خان فلڈ ریلیف  اور میر خلیل الرحمن فاؤنڈیشن کی پہلی ٹیلی تھون میں ہی تقریبا سات کروڑ جمع ہو گئے اور عمران کا کہنا ہے کہ وہ اتوار کے روز کم از کم پانچ سو ٹرکوں کا امید کارواں لے کر  خیبر پختونخواہ کی طرف روانہ ہوگا تاکہ ناکافی امداد کا سلسلہ ختم ہو اور لوگوں کو حوصلہ ملے کہ منظم انداز میں ان کی مدد ہو رہی ہے ۔ اس کے بعد یہ ٹرکوں کا کارواں جنوبی پنجاب ، سندھ اور بلوچستان کی طرف روانہ ہوگا دو ہفتوں کے دوران۔ اس کے بعد لوگوں کی بحالی اور انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے لگاتار کوشش جاری رہے گی۔ اس ٹیلی تھون کو پکار کا نام دیا گیا اور اندرون ملک اور بیرون ملک پاکستانیوں نے اس پکار پر لبیک کہا اور پانچ کروڑ کے ہدف کو با آسانی پورا کرتے ہوئے تقریبا سات کروڑ جمع کروا دیے۔ جذبوں کو جواں رکھنے اور اپنا حصہ ڈالتے رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے وہ بہن بھائی اور بزرگ جو اس افتاد سے بے گھر ہوئے ہیں وہ اپنے گھروں میں بس سکیں۔ کاش لوگ جس طرح عمران کو پیسے دیتے ہیں اس طرح ووٹ بھی دے دیں۔ اس سیلاب نے بھی لوگوں کی آنکھیں نام نہاد سیاستدانوں کی طرف سے نہ کھولی تو کونسی آفت کھلوائے گی۔

پکار ٹیلی تھون میں میزبان ساحر نے اقبال کے سحر انگیز تین اشعار پر پروگرام کا اختتام کیا جس کے ایک مصرعہ پر فرحت نے بھی اپنی پوسٹ کا اختتام کیا۔

 

دگرگوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی

دل ہر ذرہ میں غوغائے رستا خیز ہے ساقی

متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی

یہ کس کافر ادا کا غمزۂ خوں ریز ہے ساقی

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

سیلاب اور ہماری مدد

No Gravatar

 

ملک کا پانچواں حصہ زیر آب اقوام متحدہ کے مطابق ، ملک کی آبادی کا ایک تہائی  حصہ سیلاب سے متاثر ہو چکا ہے ۔

اعداد میں بات کی جائے تو ڈیڑھ سے دو کروڑ پاکستانی اس سیلاب سے براہ راست متاثر ہو چکے ہیں جن میں سے ساٹھ لاکھ کے قریب بچے ہیں۔ اموات کی تعداد تقریبا پندرہ سو، دو ہزار  سے چار ہزار کے قریب  بتائی جا رہی ہے۔

پانچ لاکھ ٹن سے زائد گندم اور دو لاکھ ٹن سے زائد کپاس کی گانٹھیں بہہ گئی ہیں اور مجموعی طور پر اسی فیصد فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔

ایک لاکھ سے زائد مویشی ہلاک ہو کر پانی میں بہہ چکےہیں اور اب ان کی وجہ سے تعفن اور بیماریاں پھیل رہی ہیں جس میں خصوصی طور پر سانس کی ، ہیضی کی اور جلد کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

اس تمام قیامت خیز ہنگامے اور طوفان میں اگر خاموشی ہے تو بین الاقوامی اداروں کے طرف سے امداد کی جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے اور گذشتہ قدرتی آفات کے مقابلے میں انتہائی کم۔

 

اس سے پہلے پاکستان میں زلزلے کے دوران تقریبا 247 ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا گیا تھا

میانمیر برما میں تقریبا 110 ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ ہوا تھا

ہیٹی میں تقریبا 742 ملین ڈالر

اور اس دفعہ سیلاب کے لیے  45 ملین ڈالر سے بھی کم اور صرف پانچ ممالک کی امداد پانچ ملین ڈالر سے زائد ہے جس میں امریکہ ، آسٹریلیا ، اٹلی ، یوکے اور کویت شامل ہیں۔  اقوام متحدہ کی طرف سے ہنگامی امداد کے 450 ملین ڈالر کی اپیل کی گئی ہے جس کے نیتجے میں امداد کے وعدے بڑھ کر 150 ملین ڈالر تک پہنچی ہے جس میں جانےکتنی حقیقی طور پر پاکستان پہنچے گی کیونکہ ماضی میں بھی امداد کے وعدے تو کافی ہو جاتے ہیں مگر امداد کم ہی پہنچتی ہے۔

 

زلزلے کے مقابلے میں اس دفعہ ملک میں اور بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے بھی امداد بہت ہی کم ہے اور لوگ شش و پنج میں مبتلا ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں۔ جن میں سے ایک بڑی وجہ تو یہ ہےکہ زلزلے میں بہت زیادہ اموات ہو گئی تھیں اور میڈیا نے اس پر بہت بروقت اور تیزی سے کام کیا تھا جس سے اس سانحے کی سنگینی بہت جلد واضح ہو گئی تھی۔ دوسرا وہ سانحہ ایک مخصوص علاقہ میں تھا جس پر تمام ملک کی توجہ مرکوز ہو گئی تھی اور بیرون ملک پاکستانی تک بھی بڑے موثر انداز میں امداد کی اپیل کی گئی تھی اور انہیں متحرک کیا گیا تھا۔ تیسرا لوگوں کی معاشی حالت بہتر تھی اور ان میں مدد کرنے کی سکت بھی  آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی ۔ چوتھی اور سب سے اہم وجہ لوگوں کی بد اعتمادی اتنی ہمہ گیر اور بے حسی کی حد تک بڑھی ہوئی نہیں تھی جیسی کہ اس دفعہ ہے۔

اس بے حسی کو دیکھ کر جی بہت کڑھ رہا تھا مگر چند دنوں سے اس میں تبدیلی نظر آنا شروع ہوئی جس میں ایک اچھی خبر عبدالستار ایدھی کا متحرک ہونا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ دو کروڑ سے متاثرین کی امداد کی ہے اور مزید چھ کروڑ سے آئندہ چند روز میں مدد کی جائے گی۔ اس کے علاوہ شہزاد رائے ، فخر عالم بھی ٹی وی پر نظر آ رہے ہیں اور وہ امدادی کاروائیوں میں اپنے ماضی کی طرح سرگرم ہیں۔ فخر عالم کے مطابق پی آئی اے نے ملک اور بیرون ملک سے مفت کارگو کی سہولت فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔ اس کے علاوہ مشہور صحافی اور ٹی اینکر کاشف عباسی اور طلعت حسین نےملک کر ایک سیلاب زدگان کی مدد کے لیے ایک ریلیف اکاؤنٹ قائم کیا ہے جہاں پیسے جمع کروائے جا سکتے ہیں ملک اور بیرون سے۔ یہ اکاؤنٹ شفاف ہوگا اور اس کی شفافیت کے لیے ایک ویب سائٹ بھی بنائی جائے گی جہاں سے رقوم کی ترسیل اور ان کی فراہمی کو دیکھا جا سکے گا۔ یہ اکاؤنٹ اس لیے قائم کیا گیا ہے تاکہ جو لوگ اعتماد کے فقدان کا شکار ہیں وہ اس میں پیسےجمع کروا سکیں تاکہ لوگوں کی مدد جاری رہ سکے۔ تفصیلات کچھ یوں ہیں

 

Account Details for Flood Relief
Title of Account: Syed Talat Hussain/ Kashif Abbasi
Account No: 0516616341000689
Bank: Muslim Commercial Bank
Branch: Stock Exchange Branch, Blue Area, Islamabad
Branch Code: 1390
Swift Code: MUCBPKKAA

اس کے علاوہ مندرجہ بالا فون پر کال کرکے معلومات حاصل کی جا سکتی ہے

 

Tel: +92-51-111010010

اور نیچے دیے گئے کاشف عباسی اور طلعت حسین کے نمبروں پر ایس ایم ایس کرکے رقوم عطیہ کی جا سکتی ہیں۔

 

SMS: +92-347-5023842, +92-301–54735

 

اس کے علاوہ عمران خان کو بھی میں نے جاوید چودھری کے پروگرام میں کہتے سنا ہے کہ اس نے چند لاکھ ڈالر سیلاب زدگان کے لیے اکٹھا کیے ہیں اور مزید کے لیے وہ اپنی ٹیم کے ساتھ کوشش کریں گے۔ ان میں سے جس پر بھی اعتماد ہو اس ادارے یا شخص کو جتنی توفیق ہو اتنی مدد ضرور کرنی چاہے اور خود نہ زیادہ کر سکیں تو اس کے لیے دوسروں کو متحرک کریں یا مل کر کوشش کریں۔

 

No Gravatar

ہفتہ کتب جو آدھا رمضان سے پہلے ہے اور آدھا رمضان کے بعد ، آج کے دن اختتام پذیر ہو رہا ہے عید کی خوشیوں کے ساتھ دوبارہ طلوع سے پہلے تو سوچا کہ کچھ نہ کچھ مجھے بھی لکھ لینا چاہے آخر ایک موضوع کی تجویز میں ذوق و شوق سے دے چکا ہوں اور انصاف تو یہی تھا کہ اسی موضوع پر لکھتا بھی ، موضوع ہے

کتابوں کا آپ کی زندگی میں کردار

مگر اس پر لکھنے کے لیے یکسوئی اور کسی قدر فرصت کی ضرورت ہے اور دوسرا میں موضوع کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش میں بھی ہوں اس لیے آج کتب کے حوالے سے ایک نظر انداز شدہ مگر انتہائی اہم لائبریری قسم پر اپنے تاثرات سب سے بانٹنا چاہتا ہوں۔ لائبریری کا لفظ ذہن میں آتے ہی عموما ایک پختہ انتہائی چوکور، وسیع و عریض اور خستہ حال سی عمارت ذہن میں آتی ہے ( کم از کم میرے ذہن میں اکثر یہی تصویر آتی ہے ) اور یہ حقیقت سے اتنا دور بھی نہیں کہ عموما لائبریریاں پرانی عمارتوں پر مشتمل ہوتی ہیں یا ان کا تاثر سنجیدہ دینے کے چکر میں اسے غمگین اور اداس سا ضرور بنا دیا جاتا ہے۔ ایسا صرف پاکستان میں ہی نہیں ہے دوسرے ممالک میں بھی ایسا نظر آتا ہے مگر پاکستان میں تو خصوصیت سے میرا یہ مشاہدہ ہے۔ پنجاب پبلک لائبریری ہو ، بڑی یونیورسٹیوں کی لائبریریاں جیسے ایف سی کالج ، گورنمنٹ کالج سب ایسا ہی نقشہ پیش کرتی ہیں جس کی ایک وجہ ان کا سو سال پہلے قائم ہونا بھی ہے۔ لارنس گارڈن لاہور میں قائم  قائد اعظم لائبریری دیکھ کر البتہ پہلی بار مجھے احساس ہوا تھا کہ لائبریری کی عمارت خوبصورت اور دلکش بھی ہو سکتی ہے خاص طور پر لائبریری کا اندرون تو بہت ہی دل موہ لینے والا ہے اور وہاں کتابیں پڑھنے سے زیادہ وقت بتانے کا زیادہ لطف آتا ہے۔ کچھ پوچھ گچھ پر اس عمارت کی خوبصورتی کا راز اس طرح سے کھلا کہ پاکستان بننے سے پہلے یہ ایک بال روم ( ناچنے مع گانے کی جگہ ) تھا اور یہاں ہمارے پرانے آقا تفریح کے مواقع ڈھونڈنے نہیں بلکہ منعقد
کروایا کرتے تھے جسے کسی عالی دماغ نے بعد میں ایک لائبریری میں بدل دیا اور بلا شبہ یہ پاکستان کی خوبصورت ترین لائبریری ہے اور شاید دنیا میں کم ہی ایسی دلکش اور تاریخی لائبریریاں ایسے تاریخی پس منظر کے ساتھ موجود ہوں۔ ایک انتہائی ظالمانہ نظام جو اس لائبریری میں نافذ ہے وہ وہی ہے جس کا رونا ہمارا میڈیا کئی مہینوں سے رو رہا ہے یعنی گریجویٹ ہونا اور اس کے لیے سچی اور اصلی ڈگری کا ہونا شرط لازم ہے ( میرے خیال میں بی اے کی اصلی ڈگری کے فساد کی جڑ اسی لائبریری سے جڑی ہے ) ۔ میں جب پہلی بار اسے لائبریری میں گیا اس وقت میں شاید ایف ایس سی میں تھا یا ابھی بیچلر کے اوائل دن تھے اس لیے ڈگری نہ ہونے کے باعث میں ممبر نہ بن سکا بعد میں بھی نہ بن سکا کیونکہ جس پرائیوٹ انسٹیٹوٹ سے میں نے ڈگری لی وہ اس وقت تک چارٹر شدہ نہ تھا ، یوں قائد اعظم لائبریری کا ممبر بننا ایک خواب تھا اور خواب ہی رہا۔

Quaid-e-Azam_Library_in_Jinnah_Garden[1]

358167651_9dba4c88b9[1] 

اس اثنا میں البتہ میں نے کوشش کی کہ پنجاب پبلک لائبریری (پنجاب یونیورسٹی کی لائبریری گو زیادہ بڑی ہے شاید مگر وہ صرف طالب علموں کے لیے ہے ) کا ممبر بن جاؤں جو کہ عوام الناس کے لیے ایک عدد فارم اور شاید کم تر تصدیق سے ممبر بنانے کی طرف مائل تھی مگر جانے کیوں فارم بھرنے اور فیس جمع کرنے کے باوجود میں پنجاب پبلک لائبریری کا ممبر بھی نہیں بن سکا یا بنا تو بہت ہی کم استفادہ کر سکا ( صحیح سے یاد نہیں اب ) حالانکہ وہاں اس وقت ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں کتابیں میسر تھیں اور میں نے گورمکھی اور سنسکرت کی کتابوں والے سیکشن میں کتابوں پر جالے یا مٹے مٹے حروف والی کئی کتابیں کسی لائبریری میرے خیال سے میں نے دو دفعہ فارم بھر تھا اور دوسری بار ممبر بننے کے بعد میں نے شاید کچھ کتابیں مستعار لی تھیں اور پہلی دفعہ مجھے بہت خوشی ہوئی تھی کہ آپ پورا ایک مہینہ کسی کتاب کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اور وہ بھی بالکل مفت اور زائد رکھنے پر بھی بہت ہی کم جرمانہ ہوتا ہے۔  میرا دھیان  اس وقت تک کچھ خاص ادبی، سچی ، حقیقی  یا خشک کتابوں کی طرف نہیں ہوا تھا اور میں کاروباری لائبریریوں سے غیر ادبی کتب سے ہی لطف اٹھانے میں مشغول تھا۔
پبلک لائبریری میں میری دلچسپی کی دو بڑی وجوحات تھیں ایک تو کتاب ایک مہینہ تک آپ کے پاس اور وہ بھی مفت ورنہ میں جو اب تک کرائے کی لائبریریوں سے روزانہ کی بنیاد پر کرایہ ادا کرکے کتابیں پڑھتا تھا اور سارا جیب خرچ اس کی ہی نظر ہو جاتا تھا اس کے لیے یہ ایک بمپر آفر تھی۔ دوسری وجہ کتابوں کی اتنی بڑی تعداد تھی جو میں کسی جگہ آج تک ایک ساتھ اپنے ذہن میں نہیں لا سکا۔ کتابوں کی زیادتی گو بظاہر تو بہت مفید معلوم ہوتی ہے مگر شاید یہی چیز میرے لیے ایک مسئلہ بن گئی ( شاید عمر بھی کم تھی اور لائبریری کا صحیح تجربہ بھی نہیں تھا) ۔ جتنی بار بھی پنجاب پبلک لائبریری ( Punjab Public Library ) جانے کا اتفاق ہوا ، کیٹلاگ ڈھونڈتے اور کتابوں کے نام پڑھنے میں اتنی دیر گزر جاتی کہ اس میں با آسانی ایک عدد کتاب پڑھی جا سکتی ۔ طویل وقت گزار کر میگزین یا کسی رسالے کی ورق گردانی کرکے چند اچھی اور ناموں سے دلچسپ محسوس ہونے والی کتابوں کے نام زہن نشین کر لینے کے بعد اکثر میں کتاب ایشو کروائے بغیر ہی آجاتا کہ اگلی بار جن کتابوں کو ذہن میں پذیرائی بخشی ہے ان میں سے کوئی کتاب لے لوں گا مگر اس اگلی بار میں پرانی غلطی دہراتا البتہ کبھی کبھی آخری لمحوں میں دو تین بھاری بھرکم کتابیں ایشو کروا لیتا جو اکثر بغیر پڑھے یا سرسری طور پر جائزہ لے کر ہی واپس بھی  کر آتا۔ ایسا میں نے کبھی کرائے پر لی ہوئی خشک سے خشک یا مشکل سے مشکل کتاب کے ساتھ بھی نہ کیا سوائے ایک معرکتہ الارا کتاب

ذلتوں کے مارے لوگ  از  دوستو ؤ سکی

 

گو کہ یہ کتاب ایک ہفتہ کے لیے ایشو ہوئی تھی مگر ایک تو پہلے دن میں چند دوستوں سے ملنے گیا جو سارے ادب شناس تھے ان میں سے ایک نے جو تعریفیں کرنی شروع کی اس کتاب کی اور فورا مانگ لی میں نے ذرہ برابر تامل نہ کیا کہ چند صفحات کی ورق گردانی میں کر چکا تھا۔ اگلے دن کتاب واپس کرتے ہوئے اس نے پھر اس کے بہت قصیدے پڑھے اورمیرے ذوق کی وہ تعریفیں کی کہ آج تک کلیجہ ٹھنڈا ہے۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ میں اتنا ہی کہہ سکوں کہ ابھی میں نے کتاب پوری نہیں پڑھی مگر اس کی تعریفوں کے سیلاب کے سامنے بند نہ باندھا گیا مجھ سے۔ بعد میں کئی دن کی لگاتار کوشش کے باوجود میں فقط پچاس صفحات کی پڑھ سکا کہ پڑھتے ہوئے اتنی مایوسی اور اندھیرے کا احساس ہوتا تھا کہ پڑھنا دوبھر ہو جاتا تھا ، آج سوچتا ہوں کہ مترجم نے کمال کا ترجمہ کیا تھا کہ واقعی ناقابل یقین اور ناقابل مطالعہ بنا دیا تھا کتاب کو ، شاید یہی کتاب کی خوبی تھی۔ یہ کتاب ڈیفنس کی ایک تنگ سی کرائے کی لائبریری سے لی تھی جو اس وقت فی کتاب سات یا دس روپے ہفتہ پر کتاب دیتے تھے مگر ان کے پاس انگریزی کے ناول زیادہ یا ابن صفی مرحوم کی کتابیں زیادہ تھیں جن میں سے دونوں سے مجھے دلچسپی نہ تھی کیونکہ میں اس وقت سے اب تک اشتیاق احمد کا معتقد تھا میں نے خود سے عہد کیا تھا کہ ہمیشہ اشتیاق احمد سے وفادار رہوں گا جس پر آج بھی قائم ہوں دوسرا مظہر کلیم ایم اے نے مجھے عمران سیریز سے متنفر کر دیا تھا اور میں ابن صفی کا لطف نہیں اٹھا سکا ویسے میں نے ابن صفی کو پڑھا بھی بہت ہی کم، یہی کوئی دو چار ناول جو کہ اوسطا میں نے ہر لکھاری کے پڑھے ہیں جس کسی کے بھی پڑھے۔
کرائے کی لائبریریاں جو کہ کاروبار کی شکل ہوا کرتی تھیں یقینا اب بھی ہیں مگر پہلے کافی زیادہ تعداد میں ہوا کرتی تھیں اور ان سے بچے خصوصا اور یقینا بڑے بھی کتابیں کرائے پر لے کر پڑھنے کی ہوس پوری کر لیا کرتے تھے اب بہت کم ہو گئی ہیں۔  پہلے تو ہر گلی نکڑ اور جنرل سٹور تک میں لوگ کتابوں کا چھوٹا سا سیٹ لے کر اسے کرائے پر دینا شروع کر دیتے تھے جس سے ایک تو گاہک بھی بڑھتے تھے اور دوسرا کچھ آمدنی بھی شروع ہو جاتی تھی ۔

گڈ لک بک سنٹر نے تو میری دانست میں مجھ جیسے اندھا دھند جاسوسی ناولوں کے سائقین سے پیسے کما کر دوکان بڑھائی مگر ایسی کہ ناول اور کہانیاں کرائے پر دینی ہی بند کر دی مگر شاید وقت کے ساتھ ساتھ طلب کم ہو گئی یا لکھنے والوں نے لکھنا کم کر دیا بہرحال وجہ کچھ بھی ہو اب مجھے جا بجا کاروباری لائبریریاں نظر نہیں آتی جو کسی زمانے میں غریب اور متوسط طبقے کے بچوں اور بوڑھوں کی کتابیں پڑھنے کی عیاشی کا سامان کر دیتی تھیں۔
پوسٹ خاصی طویل ہو گئی ہے اور میرا خیال ہے جذبات کی رو بلکہ ماضی کی سمندر میں بہہ کر میں نے عنوان پر کم اور بلا عنوان زیادہ تقریر کی ہے جس کے لیے پڑھنے والوں سے قطعا کوئی معذرت نہیں کہ کسی نے انہیں مجبور تھوڑی کیا تھا یہ سب پڑھنے کے لیے۔ بلاگستان میں صوبائیت افروز پوسٹس پڑھ دل تو میرا بھی کر رہا تھا کہ کوئی مصالحہ دار اور تڑکے والی صوبائیت پرور یا قوم پرست پوسٹ کروں اور ڈھیروں تبصرے پاؤں مگر
شازل کی تازہ تحریر پڑھ کر شگفتہ کے طے کیے ہوئے ہفتہ کو ہی منانے کو ترجحیح دی ویسے بھی تعصب کے لیے تو عمر پڑی ہے ابھی ، کونسا کہیں جانے والا ہے۔
انشاءللہ آئندہ کبھی کتابوں کے سفر پر اور لائبریریوں پر مزید روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا مگر اس ماہ میں ارادہ ہے کہ کوشش کرکے سیلاب ، رمضان اور مثبت موضوع پر کچھ پوسٹ کر سکوں۔

بدتمیز کا بلاگ غائب

No Gravatar

آج شگفتہ کا بلاگ پڑھنے کے بعد بدتمیز کے بلاگ پر جانے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ جناب کا بلاگ ہی غائب ہے ، دوسروں کے بلاگ بحال اور واپس لانے والا کا اپنا بلاگ کس وجہ سے غائب ہے۔ خاص طور پر آخری پوسٹ جس میں بدتمیز نے اپنی جملہ بدتمیزیوں سے شگفتہ انداز میں معذرت بھی کی تھی اور اپنے مخصوص اسٹائل میں ایک اچھی پوسٹ لکھ کر اپنی پرانی کاروائیوں پر کافی پانی ڈال دیا تھا اور امید تھی کہ اب اچھی اور معلوماتی پوسٹ آئے گی مگر بلاگ ہی سرے سے غائب۔

 

بدتمیز نے کئی بلاگ بحال کر دیے جس کے لیے وہ لائق تعریف ہے مگر چند بلاگ ابھی بحال ہونے سے رہ گئے ہیں جن میں

شوبی کا بلاگ

shobi.urdutech.com

، ماورا

mawra.urdutech.com

، امید

umeed.urdutech.com

رضوان ،

sarab.urdutech.com

فہیم

fahim.urdutech.com

 

ظفری

zafar.urdutech.com

 

کا بلاگ بھی بحال ہو جائے تو اچھا ہے۔

 

یہ اس لیے بھی کہ ان لوگوں نے چند بہت اچھی پوسٹس کی ہیں جو کہ انٹر نیٹ پر موجود رہنی چاہیے اور رفتہ رفتہ بھی انہیں بحال کیا جا سکتا ہے

No Gravatar

اب تک کی اطلاعات کے مطابق لاہور میں دو مقامات ماڈل ٹاؤن اور گڑھی شاہو میں احمدیوں کی دو عبادت گاہوں پر دہشتگردی کے حملے میں بیاسی افراد لقمہ اجل بن گئے اور سو سے زائد زخمی ہیں۔

انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ ہے یہ اور پورے ملک میں شاید قتل و غارت اور جان و مال کی بے قدری کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ کچھ دن پہلے ہی کراچی میں اس قدر فائرنگ اور قتل ہوئے اور اب اب بیاسی لوگ لاہور میں دہشتگردی کی اس ظالمانہ اور سفاکانہ کاروائی کی بھینٹ چڑھ گئے۔
حکومتیں بیٹھ کر صرف تماشہ اور لوٹ مار کر رہی ہیں ، شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اب ان کی اپنی ہی ذمہ داری رہ گئی ہے۔

محاورتہ نہیں حقیقتا اگر ملک کو اس دگرگوں حالت سے نکالنے کے لے جنگی بنیادوں پر کام نہ کیا گیا اور تمام شرپسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نہ نمٹا گیا تو شاید کرغزستان والا حال زیادہ دور نہیں۔

فیس بک عالمی بحران

No Gravatar

فیس بک کا بحران شدت اختیار کرتے ہوئے اب عالمی سطح پر خبروں کا مرکز بن گیا ہے اور لگتا نہیں ہے کہ دو چار دنوں میں یہ ختم ہوگا۔ ایک دن کے لیے گو کہ وہ صفحہ غائب ہو گیا تھا جس پر قابل اعتراض کارٹون مقابلے کا انعقاد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا مگر اب پھر سے وہ صفحہ موجود ہے اور صفحہ کے ناظمین میں سے ایک شخص کم ہو گیا جس کی وجہ غالبا اس کے ای میل اور سکائپ آئی ڈی کا ہیک ہونا بتایا گیا جو کچھ ترک نوجوانوں کا کام بتایا جاتا ہے۔ 

کارٹونوں کے مقابلے کے لیے مختلف قسم کا احتجاج سامنے آیا اور کچھ لوگوں نے بطور احتجاج اپنا اکاؤنٹ غیرفعال کر دیا ، کچھ نے جذبات بھڑکانے کے لیے ہولوکاسٹ ڈے منانے کا اعلان کیا اور کچھ نے مقابلے والے صفحے کو ہیک کرنے کی کوشش کی جس میں جزوی کامیابی بھی ہوئی مگر یہ صفحہ ایک آدھ دن بعد پھر سے فیس بک پر موجود ہے۔ ہولو کاسٹ ڈے منانے والے صفحات بھی ختم کر دیے گئے مگر وجہ تنازعہ بننے والا صفحہ اپنی جگہ قائم رہا جو کہ حیرت ناک اور افسوسناک ہے۔

اس صفحہ کو شروع کرنے والی کارٹونسٹ نے اپنے اس اقدام پر معافی مانگ لی ہے اور اپنی غلطی کا احساس بھی کر لیا ہے مگر معاملہ اب اور لوگوں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے جو آزادی اظہار کے نام پر یہ افسوسناک کام کرنا چاہتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے شاید انتہا پسند مسلمانوں کو سبق سکھایا جا سکتا ہے اور اپنی رائے کی  آزادی کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے جو ایک گمراہ کن خیال کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔

پاکستان کی طرف سے فیس بک ، یوٹیوب اور وکیپیڈیا کی پابندی بین الاقوامی مشہور ویب سائٹس پر خبر بنی ہے خصوصا فیس بک کی پابندی کی خبر تو CNET جیسی خالص ٹیکنالوجی کی سائٹ پر بھی آئی ہے اور سی این این نے بھی پابندی کی خبر کو شائٰع کیا ہے

 

آج فیس بک پر گیا تو عواب علوی کا دلچسپ جملہ دیکھا۔

 

Everybody draw Mark Zuckerberg’s Mother Day

یہ صفحہ صرف اٹھارہ لوگوں کی پسند کے بعد ہی ختم ہوگیا ، ہولوکاسٹ تو بہت مقدس شے ہے ، اظہار آزادی بھی آزاد لوگوں کے لیے ہی ہے شاید ۔

 

میرے خیال سے یہ مسئلہ اجتماعی طور پر حکومتوں کے اٹھانے اور اس سلسلے میں قانون سازی سے ہی حل ہونے والا ہے ویسے نہیں۔

مئی اور اداسی

No Gravatar
some urdu poetry

Image by Asif . Ali via Flickr

بہت سارے دنوں کے بعد ایک پوسٹ لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں مگر لگتا ہے کہ جیسے لکھنا بھول گیا ہوں۔ ایک تو شاید یہ سیاسی اور ملکی و غیر ملکی حالات سے وابستہ نہیں کہ جس میں مواد اس قدر میسر ہوتا ہےکہ سوچنے اور تفکر کی چنداں ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ کہنے کو اداس لفظ کتنا آسان ہے اور قابل فہم ہے مگر بیان کرنے میں کتنا مشکل اور تہہ دار ۔ اداس سے اداسی میں داخل ہوں تو اور بھی مشکل ہوتا ہے اسے بیان کرنا ، بولنا اور لکھنا اور بھی مشکل تر۔

اس سے مجھے کچھ کچھ یاد آ رہا ہے کہ چند مصنفین جن میں حسن نظامی کا نام میرے ذہن میں آ رہا ہے جو سادہ عام فہم مگر درحقیقت مشکل موضوعات پر لکھا کرتے تھے جن کو بڑے بڑے تو ایک طرف چھوٹے چھوٹے مصنفین بھی گھاس نہیں ڈالتے تھے۔ میٹرک میں پڑھا ہوا ایک مضمون مچھر جانے کیوں یاد آ رہا ہے حالانکہ اب تو اس شب بیدار ہستی سے ملاقات کو دو سال کا عرصہ ہونے کو آ گیا ہے۔ بات ہو رہی تھی اداسی پر اور نکل گئی شب بیداری اور مچھر کی طرف، بے ربطگی شاید ایسی ہی تحریروں کا شاخسانہ ہوتی ہے۔

اداسی پر لکھنا اس وقت اور بھی مشکل ہو جاتا ہے جب آپ یوٹیوب پر رفیع کے مختلف گانوں کے ساتھ ساتھ فیس بک پر حاضری دے رہے ہوں تو ظاہر ہے اداسی تو ہچکیاں لے گی نہ ۔ ویسے جب میں نے لکھنا شروع کیا تو واقعی کافی اداسی تھی اور دو تین جملے لکھ کر رک گیا تھا جو کہ قرار واقعی اداسی کا ثبوت تھا کہ لکھا نہ گیا اور سوچنا تو دشوار تھا ہی سوچے بغیر لکھا اور پڑھا جا سکتا ہے جس کا ثبوت یہ تحریر اور پڑھنے والے بھولے بھٹکے ہیں۔ ویسے کسی بھی موضوع پر لکھنے کا آزمودہ طریقہ جو میں نے اخباروں اور اردو کی کچھ مشہور کتابوں میں پڑھا ہے وہ ہے کسی انگریزی لغت سے اس موضوع کی تعریف اور تشریح لینا اور اسے ترجمہ کرنا تو یہی نیک کام میں بھی کر لیتا ہوں ویسے شاید پوری پوسٹ میں یہی واحد کام کی شے ہو۔ اداسی کو اکیلے پن کے ساتھ جوڑتے ہوئے Loneliness کا مطلب نکالا پہلے تو جو کچھ میرے ترجمے میں یہ بنا

متاثر ، مخصوص یا مایوس کن اکیلے پن کی کیفیت

دوستانہ یا ہمدردانہ صحبت سے مکمل محرومی

انسانی آبادی سے دور ، ویران جگہ

اسی طرح اگر SAD جو کہ اب ایک بیماری کا بھی نام ہے Seasonal Affective Disorder اس کے مطلب و معنی  کم و بیش یہ نکلے۔

رنج و ناخوشی سے متاثر ، غمگین ، ماتمی

تاریک ، بے جان

معذرتی،معافی،افسوسناکا رویہ یا بدقسمت ،برا

بے کیف، بے زار

میرا خیال ہے اب تو کچھ اداسی کے خدو خال ، مطالب اور مفاہیم نکل آئے ہوں گے۔

آج تو بے سبب اداس ہے جی

عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی

Reblog this post [with Zemanta]

No Gravatar

فیضو اور گلابو خطوط
۔۔۔۔
پہلا  خط
دوسرا خط
تیسرا خط

چوتھا خط

پانچواں خط

 

 

بے وفا گلابو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے وفا ہی نکلی نہ

اب مجھ سے کاہے بولو اب بولنے کے لیے کوئی اور جو مل گیا تم کو اور گستاخ لڑکی تمہاری زبان کو کیا ہوا ، میری صحبت کا اثر اور لکھنوی زبان کا ذائقہ اتنی جلدی بدل لیا تم نے ۔ کس گنوار کے پلے پڑ گئی ہو تم ؟ اب تمہیں سارے جہان کے چاچے ، مامے اور ماسیاں یاد آنے لگی ہیں میرے جانے کے بعد اور سارا شہر مل کر میرے نکے پنڈ کی خبریں بھی دے رہا ہے تمہیں اور تم کسی ایف ایم ریڈیو کے ریسیور کی طرح ساری خبریں کیچ بھی کر رہی ہو اور بذریعہ خط نشر بھی ۔ گیا تو میں پنڈ ہی تھا جلدی میں مگر تمہارا خیال اپنے پسندیدہ جانور کے محاورے کی طرف ہی گیا حسب معمول ، کام سے گیا تھا ماموں کی فصلوں کی کٹائی کے لیے ۔ میں تو فصلوں کی کٹائی کے لیے گیا تھا کیا خبر تھی تم پیچھے سے میرا ہی پتا کاٹ دوگی ، وائے افسوس ترے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔

پینو سمیت اپنے چاچے ، ماسی ، مامے اور جملہ خاندان کے اول درجے کی پھپھے کٹنی ہے اور اس کی ماسی تو ماسی پھاتاں کے نام سے بچپن سے ہی مشہور ہے ، حیرت ہے تم اتنی انجان اور معصوم ہو تو نہیں مگر اس معاملے میں کیسے ہوگئی۔ خط تمہیں محنت سے نہیں محبت سے لکھتا تھا مگر تمہارے حسابی کتابی ذہن نے میری محبت کو بھی محنت ہی سمجھا اور انعام میں گوبھی کا پھول ، کیا سوچ ہے تمہاری بالکل کسی ہندو بنئے جیسی ، گھر کے آنگن میں کھلے گوبھی کے پھول سے ہی کام چلانے کا سوچ لیا۔ ایک تیر سے کتنے شکار کرنے کا سوچا ہوا تھا تم نے ، گوبھی کے پھول سے مجھے بھی خوش کرنے کا ارادہ تھا اور میری اماں کو بھی ، گوبھی کا پھول نہ ہوا تمناؤں کا پھل ہو گیا جسے پا کر میں اور میرے گھر والے خوشی سے جھوم اٹھتے اور تمہارے وارے نیارے جاتے۔

محبت کی باتیں تمہیں ہمیشہ بہکی بہکی ہی لگیں ، کبھی محبت کی ہوتی تمہیں تو پتہ ہوتا کہ محبت کیا ہوتی ہے اور محبت کی باتیں کیا ۔ میں ہی نادان تھا جو تمہاری اماں کے سودے سلف لا کر ہفتہ بھر کے کاموں کی فہرست سنتا اور سادہ لوحی کی انتہا تو دیکھو کہ تمہارے کہے کام کو بھی محبت کی ایک ادا سمجھتا مگر تمہیں کن سوئیاں لینے ، چغلیاں کھانے اور پینو کی زبانی محلے بھر کے قصے کہانیوں کی بارہ مصالحے کی چاٹ کے سوا اور کوئی کام کہاں تھا۔ بھول گئیں کیا وہ اصرار جو تمہیں اپنی تعریفیں سننے پر ہوا کرتا تھا اور میں کیسا سعادت مند تھا کہ آنکھیں بند کرکے تواتر سے سفید جھوٹ بولا کرتا تھا۔ تیل میں نچڑے تمہارے بالوں کی کسی ہوئی چٹیا کو میں زلفِ گرہ گیر کہا کرتا تھا ( کوئی حسن پرست شاعر سن لیتا تو مجھے زندہ دفن کر دیتا ) ، گھر بھر کی صفائی کے بعد گرد میں اٹی ہوتی تھی تم مگر میں چاند کو دیکھ کر تمہیں چاندنی کہا کرتا تھا جس کا کبھی تم نے بھولے سے بھی انکار نہیں کیا ، کبھی شرما کر بھی یہ نہیں کہا کہ اب ایسا بھی نہیں بلکہ حق سمجھ کر وصول کیا کرتی تھی ساری تعریفیں ڈھٹائی کے ساتھ ۔ اب سوچتا ہوں کہ محبت میں انسان کتنے جھوٹ بولتا ہے اور کتنے سنتا بھی ہے سچ سمجھ کر۔ خود تو تمہارے بال کبھی زلف کہلا نہ سکے میرے جھوٹ کے سوا ، اس لیے میرے بالوں کے پیچھے پڑی رہتی تھی کہ کٹوا دوں ، بالوں کی جگہ ان کی نشانی ہی رکھ ، اب خود ہی کہہ ڈالا کہ تمہیں محبوب گنجا گواراہ تھا یہ تو میں خوب جانتا تھا کہ تم کس محرومی کے زیر اثر یہ کہہ رہی ہو۔ خود نہیں رکھتی تو میرے بھی مٹانا چاہتی ہو خوبصورت بال

اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں

خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ

کہاں کی منگنی اور کس مامے کی بیٹی سے ، دو ہی بیٹیاں ہیں اور دونوں خیر سے اپنے گھر کی ہو چکی ہیں۔ یہ خبریں ہیں تمہیں ، صاف کیوں نہیں کہتی کہ تمہارا اپنا دل بے ایمان تھا کب سے اور بے وفائی کے بہانے تلاش کر رہی تھی۔ میں گاؤں کیا سدھارا تم پیا گھر سدھار گئیں ، آنا فانا منگنی کرلی جیسے اس گھڑی نہ ہوئی تو پھر کبھی نہ ہوگی۔ ابھی تو عید پر میری دی ہوئی مہندی کا رنگ بھی نہیں اترا ہو گا کہ تم نے پھر سے اپنے ہاتھ رنگ لیے کسی اور کے نام سے۔ جس طرح اور جتنی جلدی تم نے خط کے ذریعے مجھے محبوب کے عہدے سے معزول کیا ہے اتنی جلدی تو ہمارے ہاں حکومت بھی نہیں بدلتی ۔ ستم بالائے ستم تم نے بغیر عبوری دور کا اعلان کیے اور جذبات کے سرد ہونے کا انتظار کیے بغیر محبوب بھی ڈھونڈ لیا اور منگنی بھی کر لی اس سے تمہاری وفا کی ساکھ سخت مجروح ہوئی (پہلے ہی اس پر سوالیہ نشان تھا)، اتنی جلدی تو ہماری حکومت وزیر بھی نہیں بدلتی جتنی جلدی تم نے محبوب بدل لیا۔ ۔ فیکے نے کئی بار مجھے سمجھایا کہ گلابو کے تیور مجھے بدلے بدلے لگتے ہیں مگر میری آنکھوں پر تو پٹی بندھی تھی پیار کی ، تمہیں وفا کی مورت سمجھتا رہا اور تمہارے دل کے چور کو نہ سمجھ سکا۔ باتیں مجھ سے اور دل میں کسی اور بسائے رکھا ،گلابو  یہ کس طرح تو نے مجھے الجھائے رکھا۔

سانوں پتا تیرے دل وچ چور نی

گلاں ساڈے نال دل وچ کوئی ہور نی

جب تمہارا یہ پتر بے وفائی کا منہ بولتا ثبوت بن کر مجھ تک پہنچا ، نہ پوچھ کیا میرے دل پر بیتی اور کس طرح شب ہجر بن کر عذاب گزری۔ تمام رات کبھی ایک فلم لگا کر گزاری کبھی دوسری ، ‘کچھ کچھ ہوتا ہے‘ پوری دیکھی مگر کچھ نہ ہوا پھر ‘کبھی کبھی ‘ لگا کر دیکھی مگر میرے دل میں کوئی خیال نہ آیا۔ کسی اور کے ساجن کی سہیلی دیکھی تو جا کر صبح نیند آئی۔ اگلے دن فیکے نے میرے غم کی رات کو دیکھتے ہوئے دوپہر چڑھتے ہی گانے لگا دیے

رہا گردشوں میں ہر دم میرے عشق کا ستارہ تو مستقل لگا دیا بڑی مشکل سے بدلوایا تو ظالم نے لگا دیا

نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسمان کے لیے

تیرا وجود تو ہے بس اک داستاں کے لیے

پلٹ کر سوئے چمن دیکھنے سے کیا ہوگا

وہ شاخ ہی نہ رہی جو تھی آشیاں کے لیے

اس پر میں تڑپ کر اٹھا مگر میرے غصہ کرنے پر اس نے بدلا بھی تو کیا بدلا

میرے دوست قصہ یہ کیا ہوگیا

سنا ہے کہ تو بے وفا ہو گیا ہے

گزرے ہیں آج عشق میں اس امتحان سے

نفرت سے ہوگئی ہے محبت کے نام سے

غرض کونسا دکھی اور بے وفائی سے بھرا گانا تھا جو اس نے اس دن مجھے نہ سنایا ہو اور مجھے بھی یہ یقین دلا دیا کہ غرض پرست زمانے میں وفا ڈھونڈنے سے کیا حاصل ، یہ شے تو بنی ہے کسی دوسرے جہاں کے لیے۔ مجھے کب یہ گمان تھا کہ راہ وفا میں بہک جائیں گے تیرے قدم ، تم بھی ہو جاؤ گی کسی اور کے سنگ

تیری بے وفائیوں پر تیری کج ادائیوں پر

کبھی سر جھکا کر روئے کبھی منہ چھپا کر روئے

او بے وفا تیرا بھی یونہی ٹوٹ جائے دل تو بھی تڑپ تڑپ کر پکارے کہ ہائےےےےےےےے دل تیرا بھی سامنا ہو کبھی غم کی شام سے تو بھی واقف ہو رنج کے جام سے

میری دکھ اور ٹینشن کو چھوڑو تم تو خوش ہو نہ منگنی کروا کر۔ پینو کے بھائی نے تمہاری اماں کو کب سے بہلانا پھسلانا شروع کیا ہوا تھا اور اب تم بھی مان گئی ہو یہ سوچ کر اس کی اپنی کریانے کی دوکان ہے گھر کے سودے سلف گھر میں ہی مل جایا کریں گے۔تم نے کہا کہ مجھے آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا تو وہ تو مجھے اب بھی معلوم ہے

آٹا ہے 110 روپے کلو

دال ماش 88, دال چنا 40 ، دال مسور 56، دال مونگ 56 اور سبزیوں کا بھاؤ بھی معلوم کرنا تو بلا جھجھک پوچھ لینا تمہارے کافی کام آئے گا عنقریب۔ ویسے تمہیں مارکیٹ سے بھی کہیں زیادہ کم بھاؤ کا جلد پتہ چل جائے گا جب روز تمہیں اتوار بازار یا منڈی سے یہ چیزیں منگوانا پڑیں گی۔ تم نے محاوروں میں سنا ہوگا لفظ کفایت شعاری، کنجوسی اب شادی کے بعد جب تمہارے نصیب پھوٹیں گے پینو شیخنی کے شیخ بھائی سے تو تمہیں لگ پتہ جائے گا۔ چیزیں گھر ضرور آیا کریں گی مگر تمہیں ملیں گی ترس ترس کر ، اس پر فضول خرچی کے طعنے الگ ہوا کریں گے پھر تمہیں قدر ہوگی میری اور میرے بغیر حساب لائے سودا سلف کی ، کوسوں گی اپنے کچے کانوں کو جو پینو کی باتوں میں آجاتے تھے۔ سانسیں بھی گن کر لینے کی اجازت ہوگی تمہیں باقی چیزوں کا حساب خود ہی لگا لینا۔ پینو ویسے تو تمہاری دوست ہے مگر اب نند بننے کے بعد اس کے رنگ ڈھنگ دیکھنا۔ اماں کے پاس اس کی دونوں بڑی بھابھیاں آ کر اپنے دل کے پھپھولے پھوڑا کرتی ہیں ، پینو کی لگائی بجھائی اور گز بھر کی زبان کا رونا روتی ہیں۔ پینو خود بھی آ کر اماں کو فخر سے بتا کرتی ہے کہ وہ بھابھیوں کے مزاج ٹھکانے پر رکھنے کے لیے بھائیوں کے کان بھر کر آئے دن انہیں دو تین کرارے ہاتھ لگوا دیا کرتی ہے اور جس دن زیادہ جلی بیٹھی ہو تو خود بھائیوں کے ساتھ مل کر ان کی چٹیا کھینچ کر عقل ٹھکانے پر لے آتی ہے۔

خدا تمہارے حال پر رحم کرے مگر جب تمہیں خود نہ اپنے آپ پر رحم آیا تو خدا کیسے کرے گا۔ تمہاری تمام تر بے وفائیوں کے باوجود دل تمہاری حالت کا سوچ سوچ کر لرزتا ہے ، چلو اگر ہمارے ستارے نہیں ملے تو تمہارے نصیب تو کھل جاتے کہیں ۔

ایک خبر تو سنائی ہی نہیں تمہیں ، دل تھام کر ، گرے گی قیامت بن کر تم پر مگر اب تو تم عادی ہو جاؤ کہ زندگی اب اسی طور بسر ہوگی تمہاری۔ پینو نے میری اماں کی خدمتیں کرکے ، تمہارے کان بھر کر تمہیں اپنے بھائی کے پلے بندھوا کر میدان صاف کر لیا ہے اور مجھ سے کہا ہے کہ چھوڑ دے ساری دنیا کسی گلابو کے لیے یہ مناسب ہے فیضو کے لیے ۔ میں سوچ رہا ہوں کہ میں پینو کی بات مان تو لوں مگر پھر

تیرا کیا ہوگا کسی اور کی گلابو؟

———————————————

نوٹ:

اشیائے نرخ کم از کم تین سال پرانے ہیں اس لیے براہ مہربانی ان نرخوں کو پڑھ کر خریداری کے لیے نکلنے والا  ہنگامی طبی امداد والوں کو پیشگی فون اطلاع کردے

No Gravatar

فیضو اور گلابو خطوط
۔۔۔۔
پہلا  خط
دوسرا خط
تیسرا خط

چوتھا خط

گلابوکا  خط  فیضو  کے دوسرے خط کے جواب میں

ہرجائی فیضو ۔۔۔۔۔ جا جا میں تو سے نا ہی بولوں ۔۔۔۔۔۔۔

یہ جو تم گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب تھے سُنا ہے پنڈ گئے تھے مامے کے گھر، اور مجھے کہہ گئے تھے کام سے جا رہا ہوں وہ تو بھلا ہو پینو کا اُس کے چاچے کی ماسی تمھارے مامے کے پنڈ کی ہے ساری خبریں مل گئیں مجھے اُس سے ، سوچا تو پہلے یہی تھا کہ تم جو اتنی محنت سے مجھے خط لکھتے ہو تو اب کی بار آؤ گے خط لے کے تو گلاب کا پھول نہ سہی گوبھی کا ہی دے دوں گی تاکہ تمہاری امّاں بھی خوش ہو جائیں کہ بیٹا کچھ لایا تو ، اور یہ تم بہکی بہکی باتیں جو کرنے لگے ہو پنڈ سے واپسی پر سب جانتی ہوں میں یہ خیال میں ڈوبے رہنا سپنے دیکھنے کی باتیں گلابی آنچل کی باتیں ، ہائے افسوس کاش تم پنڈ نہ جاتے برگد کا پیڑ ہی بن جاتے چاہے برگ و گُل جھڑ جاتے محبوب گنجا ہو یہ تو میں گوارہ کر لیتی مگر تم کسی پینڈو ہیر کے رانجھے بن جاؤ یہ مجھے گوارہ نہیں ۔پنڈ میں مامے کی بیٹی سے منگنی کروا لی اور یہاں آکے مجھے پریم پتّر لکھ رہے ہو ، ساری خبریں ہیں مجھے اب محبت کے ڈرامے کی آخری قسط سمجھنا اس خط کو دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے تم بے وفائی کرکے بھی پٹتے پٹتے رہ گئے ( پنڈ میں جو تھے )

کہاں گئیں وہ محبتیں ، قول و قرار ، ساتھ جینے مرنے کی قسمیں ، مجھے تو پہلے ہی تمہارے تیور ٹھیک نہیں لگتے تھے جب ہی تو تمہاری جاسوسی کرواتی تھی وہی ہوا جس کا ڈر تھا گرگٹ کی طرح رنگ بدل لیا بس خیال رکھنا رنگ بدلتے بدلتے پھیکا نہ پڑ جائے تمہارا کیونکہ پینڈو ہیر کو شوخ رنگ ہی بھاتے ہیں ۔

یہ آئے ہائے کرنے میں تو تمہارا جواب نہیں ، یہ آئے ہائے اب اُس وقت کرنا جب پینڈو بیوی چمٹا پھینک کر مارے گی چھپتے رہنا پھر امّاں کے پیچھے۔

اب تم ٹھکانے لگ ہی گئے ہو تو لگ پتہ جائے گا جلد ہی آٹے دال کا بھاؤ میری امّاں کے سودا سُلف لانے میں جان جاتی تھی تمہاری اب تم اُس پنساری کی دکان پر دن میں دس بار جاؤگے جس کی شکل تک تم نے کبھی پہلے نہیں دیکھی تھی تب یاد کرنا مجھے

رات میں تارے گننے کی عادت تو تمہیں پہلے ہی ہے اب دن میں تارے دیکھا کرنا

ہرجائی فیضو مجھے تم سے یہ اُمید پہلے ہی سے تھی کہ تم جو انارکلی کے چکر لگاتے ہوئے بار بار کبھی اُس کے کبھی اِس کے ساتھ پکڑے جاتے ہو کبھی مجھ سے وفا نہیں کروگے اس لیئے میں نے امّاں کے کہنے پر منگنی کروا لی ہے

ہرجائی فیضو کوئی بھی ٹینشن مت لینا کیونکہ ویسے بھی اب تمہارا سامنا ہائی ٹینشن سے ہونے والا ہے جو تمہیں کسی بھی وقت دھماکے سے اُڑا سکتی ہے اُس وقت اگر میں تم کو یاد آؤں تو مجھے بالکل یاد نہ کرنا اور یہ سوچ کر سب کچھ برداشت کرنا کہ یہ سب تو زندگی کا حصّہ ہے یہ ہے ہماری محبت کا ڈراپ سین۔

اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو

تمہارے لیئے دعا گو

کسی اور کی گلابو

پراني تحارير »

5 visitors online now
5 guests, 0 members
Max visitors today: 5 at 07:55 am MST
This month: 6 at 09-01-2010 12:20 am MST
This year: 20 at 08-31-2010 03:14 am MST
All time: 20 at 08-31-2010 03:14 am MST

محب اور محبت is using WP-Gravatar

WordPress Loves AJAX