آر ايس ايس فيڈ

فیضو اور گلابو خطوط
۔۔۔۔پہلا  خط
دوسرا خط
تیسرا خط

فیضو کا خط گلابو کے دوسرے خط کے جواب میں

وعلیکم آداب ،

خط ملتے ہی حسین خیال آیا نہ ، گملے کا خیال شاید تمہیں پھول کو سجا کر رکھنے کے لیے آیا ہوگا فکر نہ کرو صرف پھول ہی مارنا گملے بہت ہیں میرے پاس۔ اب سچا عاشق بننے کے لیے تم سے تربیت لینے پڑے گی کیا مجھے  ، عشق کا کوئی مکتب کھولنے کا ارادہ تو نہیں ؟ ویسے تم نے سنا نہیں شاید کہ عشق آتا ہے آتے آتے اور عاشقوں کے ایک نہایت باریک بین تجزیہ نگار کہہ گئے ہیں

کھیلنے دو انہیں عشق کی بازی کھیلیں گے تو سیکھیں گے

اب مجنوں و فرہاد کے لیے کھولیں ہم اسکول کیا

ویسے تم نے عاشقوں کی کوئی فہرست بنا رکھی ہے کیا جس میں سچے ، جھوٹے ، کچے پکے عاشقوں کے زمرے بناتی رہتی ہو۔ میں تو تمہیں معصوم و سادہ سمجھ کر مائل ہو گیا اور تم نے عشق کو بھی جھوٹ سچ کے ترازو میں ناپنا شروع کر دیا ستم گر۔ طبعیت تمہاری ناساز تھی تو پیار سے بتاتی میں حال احوال میں ہی سارا خط لکھ ڈالتا مگر تم نے تو آہ و زاریوں کے ساتھ قیامت کا رونا شروع کر دیا ، لے کر بیٹھ گئیں پھر سے اپنی اماں کے رونے اور دن میں تارے۔  میں جو ہفتہ بھر سے دل کے ارمانوں کو خط میں سمو کر تمہارے آنگن تک جان پر کھیل کر پہنچا کر گیا تھا تمہارا جواب پڑھ کر دل کلس کر رہ گیا ، کیا کیا نہ سوچا تھا دلِ خوش امید نے ،

میرے خط کے انتظار میں راہ تکتی ہوگی ، پہروں میرے خیال میں ڈوبی رہتی ہوگی ، رات کو کسی پل نیند نہ آتی ہوگی ، کروٹیں بدل بدل خود ہی تھک جاتی ہوگی۔ ہر صبح میرے خیال سے آنکھ کھلتی ہوگی ، ہر رات میرے ہی سپنے دیکھتی ہوگی ، ہر پہر مجھے ہی سوچتی ہوگی ، سکھیوں سے میری ہی باتیں کرتی ہوگی ، سوچ کر مجھے خود ہی شرما جاتی ہوگی ، گلابی آنچل دانتوں میں دبا کر میرے خیالوں میں کھو جایا کرتی ہوگی۔ پر تم نے سوچا تو گھر کو کاموں کا ،سودا سلف کا اور تحفوں کا ، کتنی خود غرض اور تحفہ پرست ہو تم۔

خط پھینک کر کیا تمہارے گھر کے سامنے برگد کا پیڑ بن کر کھڑا ہو جاتا ، تمہارے ابا کے ہاتھ لگ جاتا تو برگ و گل بھی جھڑ جاتے اور اب تک کے عشق کا ثمر بھی ملتا ، انتہائی میٹھا اور ڈھیر سارا۔

آئے ہائے لگتا ہے اماں اٹھ گئی ہیں ، خط یہیں ختم کر رہا ہوں ورنہ ان کے ہاتھ لگ گیا تو یہ نو عمر عاشق رہے گا  نہ عشق (جھوٹ سچ کا تو سوال ہی کیا) فقط عشق کے آثار رہ جائیں گے۔

تمہارا  اپنا

فیضو

آداب

تمہارا خط ملا پڑھتے ہی خیال آیا تمہیں پھول ماروں گملے کے ساتھ

تم کبھی سچّے عاشق نہیں بن سکتے لکھا بھی تھا طبعیت ناساز ہے مگر تم خیریت بھی نہ پوچھ سکے اور گِلے شکوے کر کے سارے موڈ کا ستیاناس کر دیا۔

اور تم خط پھینک کے یوں غائب نہ ہوا کرو جیسے گنجے کے سر سے بال ،بہت سے کام کروانے ہوتے ہیں، بال پر یاد آیا ذرا اپنی زلفیں کٹوا لو جوگی لگنے لگے ہو پیسے نہیں ہیں تو ادھار لے لو ، اور کچھ کام بھی کیا کرو میرے گھر کی رپورٹ لینے کے علاوہ ، تم میرے ابّا کے بارے میں اتنا کچھ جانتے ہو اُن کی عمر کے تو نہیں لگتے کہ ابّا کے راز پتہ ہوں یا خزاب لگاتے ہو ، اب کی بار آؤ تو یاد سے اپنی بتیسی چیک کروانا منہ پر تو آج کل ڈینٹ پینٹ سے عمر چھپا لی جاتی ہے مجھے شک ہونے لگا ہے تمہاری عمر پر۔

کتنا افسوس کروں اُس بھیگی شام کا جب تم سے ملاقات ہوئی تھی اور تم نے اپنی پرانی سائیکل کے پیڈل پر پاؤں مارتے ہوئے آفر کی تھی کہ بے جا سائیکل تے ، اور میں تمہارے ساتھ جی ٹی روڈ کی سیر کو چل پڑی تھی مجھے کیا پتہ تھا کہ تم ترقی نہیں کرو گے اور سائیکل سے پیدل ہو جاؤ گے عقل سے پیدل تو تم پہلے ہی تھے مگر خیر اُمید کا دیا جلتا رکھو بجھ جائے تو پھر جلا لیا کرو ماچس ساتھ رکھا کرو ۔اور انار اور کلی سے دور رہتے ہو تو اُس میں بھی تمہارا قصور ہے کوئی گھاس ہی نہیں ڈالتی تو کرو گے کیا پہلے اپنے کرتوت تو ٹھیک کر لو وہ تو میں ہوں جو برداشت کرتی ہوں تمہاری دل پھینک عادتوں کو ، میرے جیسا ہیرا مل نہیں سکتا کبھی تم کیا جانو میری قدر کسی جوہری کو ہی ہو سکتی ہے ، وہ جو میری سہیلی ہے پینو اُس کے سامنے تمہارا ذکر کردوں تو شرمندہ کر دیتی ہے مجھے تمہارے قصّے سنا کر۔تمہارے ان قصّوں نے تو میری سُکھ دیاں نیندراں ہی اُڑا دی ہیں اور ایک تم ہو کہ تم سے خط تک نہیں پھینکا جاتا بابوں کی طرح بس چارپائی پر پڑے رہا کرو قاصد نہیں لگواؤں گی میں ہمت ہے تو خود کُنڈی بجا کے خط دے جایا کرو اور ٹماٹر خط کے ساتھ باندھنے کی بجائے کلو دو کلو ساتھ دے جایا کرو امّاں کو، تاکہ ان ٹماٹروں کی چٹنیاں کھا کے کچھ تو اچھا سوچیں میرے گھر والے تمہارے لیئے، اچھا اب مجھے دیر ہو رہی ہے ذرا محلّے سے جاکے آج کی رپورٹ تو لوں جب تک تم چھت پر جاکے کبوتر بازی کے چکر میں تاک جھانک کر لو ۔

والسّلام ۔۔۔۔۔۔ گلابو ۔

گلابو اور فیضو کے خطوط کے سلسلے میں پہلا خط آپ نے پچھلی پوسٹ میں پڑھا اب دوسرا خط پیش خدمت ہے۔

 

کیا زمانہ آ گیا کہ خط کا ملنا قیامت ٹھہرا اور طبیعت ناساز سے آہ و فریاد بن گئی۔ پہلے خط آنے پر بہار چھا جایا کرتی تھی جلترنگ سے بجنے لگتے تھے ، ہوائیں گنگنانے لگتی تھیں اور طبیعت پر نکھار آ جایا کرتا تھا اور اب قیامت ، ساری نا شکری کی باتیں ہیں ، گھر بیٹھے خط جو مل جاتے ہیں خود لکھ کر اس طرح پھینکنے پڑیں تو قدر بھی ہو۔ خط کے ساتھ چھوٹا پتھر باندھا کروں ، کیا خط لکھوانے کے ساتھ ساتھ پتھر مارنے کا کام بھی مجھ سے لیا کرو گی۔ گھر والوں سے نہیں بنتی تو یہ غضب تو نہ ڈھاؤ ، کچھ تو خیال کرو ان کا آخر تمہارے گھر والے ہیں ، میں اتنا خیال رکھتا ہوں کہ صرف آدھ پاؤ کے ٹماٹر میں لپیٹ کر خط پھینکتا ہوں اس پر بھی تمہاری اماں کا واویلا آدھا شہر سنتا ہے۔ ویسے تمہیں دن میں تارے نظر آنے بھی چاہیے رات بھر جو تارے گنواتی رہتی ہو مجھے۔

شاعری سمجھنے کی کوشش نہ کیا کرو بس پڑھا کرو ، سمجھ لی تو خود بھی لکھنے لگو گی اور پھر تمہارے لکھے کو کون پڑھے گا ، خط سنبھالنے کے لیے نہیں پڑھنے کے لیے بھیجتا ہوں اور حرکتیں تمہارے گھر سے باہر ہوتی ہیں تم ان سے آنکھیں بند رکھا کرو اور جتنی معصوم تمہاری جان ہے وہ میں جانتا ہوں یا تمہاری اماں۔

غزل تو خط کو سجانے کے لیے بھیجتا ہوں اور تحفے کی خوب کہی ، ابھی پچھلے ماہ ہی تو نقلی چاندی کی قیمتی انگوٹھی بھیجی تھی تمہیں۔ اب میں نواب تو ہوں نہیں کہ ہر خط کے ساتھ ایک عدد جڑاؤ ہار بھی بھیجا کروں اور بالفرض نواب ہوتا تو پھر ان عشق کے بکھیڑوں میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا تھی ، اب میں تو خدا لگتی کہتا ہوں چاہے کسی کے دل پر جا کر لگے۔

انار کلی میں گھومتا ہوں مگر انار اور کلی دونوں سے دور دور ہی رہتا ہوں گو کھینچتے دونوں ہیں مگر تمہارا خیال ہے وگرنہ کب کا اکیلا پن ختم ہو چکا ہوتا۔ دھمکیاں مت دو غزلوں اور ابا کی اور دینی ہے تو ایک ایک کرکے دو ، اکھٹی دونوں تو نہ دو ویسے غزل میں نے وزن میں لکھی تھی اس لیے تمہارے ابا نہیں مانیں گے کہ میری ہے اور تمہارے لیے تو قطعا نہیں مانیں گے جتنے استعارے اور تشبہیات اس غزل میں ہیں اس کے بعد کسی کا خیال کسی الپسرا سے کم پر نہیں ٹھہرے گا، بھولے سے بھی تمہارا خیال نہیں آئے گا انہیں ، اک عمر گزری ہے ان کی اس دشت میں ، سمجھ جائیں گے کہ کسی نے کسی کو فردوسِ بریں دکھائی ہے۔

بھولے سے خط کا جواب دیتی ہو اور پھر یہ تاکید کہ میں جواب کا اصرار بھی نہ کروں ، منشی لگ جاتا کہیں تو تم خود پہروں بیٹھ کر خط لکھا کرتی مجھے ، تمہاری طبیعت سے اتنی واقفیت تو مجھے بھی ہے ۔

اجازت کی کتنی جلدی ہے اور جیسے سب کام میری اجازت سے کرتی ہو ، نئی رپورٹ سے پہلے ذرا اپنے گھر کی رپورٹ لکھ بھیجنا اور ہاں خط کے لیے کسی قاصد کا بندوبست کرلو اب مجھے سے ہر بار خط پھینکا نہیں جاتا۔

یہ خطوط  اردو ویب محفل پر میرے اور حجاب کے درمیان ایک دھاگے میں لکھے گئے تھے جو خاصہ مشہور ہوا تھا مگر اس میں اور بھی بہت سے لوگوں کے خطوط تھے ۔ حجاب سے مشورے کے بعد فیصلہ کیا ہے اسے بلاگ پر باری باری شائع کیا جائے۔ خطوط میں گلابو حجاب ہے اور فیضو محب۔  اس دھاگے میں دو خط میں نے خود کلامی کے انداز میں لکھے تھے جن کا موضوع سخن کسی کی طرف نہیں تھا اس لیے وہ اتنے دلچسپ بھی ثابت نہیں ہوئے۔  حجاب نے ایک خط کو فرض کرتے ہوئے پہلا خط لکھا جس سے یہ دلچسپ سلسلہ شروع ہوا۔

پہلا خط گلابو کا فیضو کے نام

تمہارا  خط  اب کی بار کیا ملا سمجھو قیامت آ گئی طبیعت پہلے ہی ناساز تھی اب ساز و آواز بن گئی، تم خط پھینکتے ہوئے خط کے ساتھ چھوٹا سا پتھر باندھا کرو اس بار تمہارا خط امّاں کے سر پر لگا وہ تو شُکر تھا کہ امّاں اپنی چیخ و پکار میں یہ بھول گئیں کہ کیا چیز لگی ہے سر پر ورنہ دن میں تارے نظر آ جاتے مجھے

میں تمہاری شاعری سمجھنے کی کوشش کروں ، تمہارے خط سنبھالوں یا تمہاری حرکتوں پر پردے ڈالوں ایک ننھی سی معصوم میری جان اور اُس پر اتنے ظلم

اور غزل ہی بھیجنا تم کبھی تحفے بھی بھیج دیا کرو ایسے تو کافی خبریں ملتی ہیں اڑتی اڑتی انار کلی میں گھوم رہے ہوتے ہو وہ تو شکر کرو اکیلے ہوتے ہو اس لیئے کبھی پوچھا نہیں اور یاد رکھو آئندہ بھی اکیلے گھومنا ورنہ وہ غزل ابّا کو بھجواؤں گی تمہارے جو تم نے مجھے لکھی ہے پھر تم پر دیوان لکھیں گے ابّا تمہارے

اور ہاں یہ تمہارے خط لکھنے کا شوق اور اُس سے زیادہ جواب مانگنے کا شوق کچھ زیادہ نہیں ہو گیا کہیں منشی لگنے کا ارادہ تو نہیں رکھتے اگر ایسا ہے تو ذرا قلم کو قابو میں رکھنا میں تمہارے مزاج سے خوب واقف ہوں

اچھا اب اجازت دو تمہاری نئی رپورٹ ملے گی تو خط لکھوں گی۔

ہیٹی میں زلزلہ

ہیٹی (Haiti)میں ایک قیامت برپا ہے، انتہائی خوفناک زلزلے کے بعد اور ایک انتہائی غریب ملک اس وقت گلوبل وارمنگ کا نشانہ بن گیا ہے ، وہی گلوبل وارمنگ جس سے نظریں چرا کر ہم سب اپنی اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں جو ہر سال ہزاروں لوگوں کی ہلاکتوں کا سبب بن رہا ہے، سونامی ہو ، کٹرینہ ہو ، پاکستان کا زلزلہ ہو یا اب تازہ ترین ہیٹی کا زلزلہ ہو۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں یہ تباہی اور بربریت کا مظاہرہ کر رہا ہے اور انسانوں کو کرہ ارض کو تباہ کرنے سے روکنے سے خبردار کرنے کی کوشش کر رہا ہے مگر انسان اب تک غافل ہے اور غافل ہی رہنا چاہتا ہے۔

پچھلے سال گلوبل وارمنگ پر ہونے والی کانفرنس بے نتیجہ رہی اور سوائِے وعدے وعید کے کچھ خاص کام نہ ہوا کیونکہ دنیا پر قابض ضمیر اور انسانیت سے عاری سرمایہ داروں کا گروہ پیسوں کے لیے سب کچھ کرنے کو ہمہ وقت تیار ہے پر انسانیت کے لیے کچھ بھی کرنے کا سوچ کر ہی انہیں موت محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق تقریبا ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگ اس جان لیوا زلزلے میں زندگیاں گنوا بیٹھے ہیں اور تیس لاکھ سے زائد لوگ اپنے گھر بار گنوا بیٹھے ہیں اور انہیں مدد کی سخت ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ہیلپنگ ہینڈز یو ایس اے  (Helping Hand USA) مدد کے لیے اپیل بھی کر رہی ہے اور مدد کے لیے شہرت بھی رکھتی ہے۔ ویب سائٹ ایڈریس اور نمبر مندرجہ ذیل ہیں

 

www.hhrd.org

1-888-808-4357

 

جس قدر ہو سکے اور جتنی استطاعت ہے ہیٹی کے زلزلہ زدگان کی مدد کرنی چاہیے

کافی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ اس موضوع پر لکھوں کیونکہ جب بھی بہت زیادہ پڑھی لکھی محترمہ کا بلاگ پڑھتا ہوں ضرور اس میں کچھ نہ کچھ ایسا لکھا ہوتا جو مندرجہ ذیل چیزوں میں سے کسی ایک پر لازما مشتمل ہوتا ہے

 

مردوں کے خلاف بالعموم اور پاکستانی مردوں کے خلاف بالخصوص

پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف

کبرائی بڑائی اور انا

صحیح بات بھی اگر غلط طریقے سے کی جائے تو اثر کھو دیتی ہے اور بری لگتی ہے۔ کئی باتیں بذات خود ٹھیک ہوتی ہیں مگر اس طور سی کی جاتی ہیں کہ نتیجہ میں انتشار اور کدرورتیں ہی پیدا ہوتی ہیں۔

 

عورت اور مرد دونوں رب ذاولجلال کی تخلیق ہیں اور دونوں بحیثیت انسان ایک جیسی قدر و منزلت رکھتے ہیں اللہ کی نظر میں۔ مرد و عورت کی فضیلیت اور برتری رشتوں اور تعلق کی بنیاد پر مقرر کی گئی ہے۔ عورت کو سب سے بلند رتبہ بحیثیت ماں دیا گیا ہے اور مرد کو بحیثیت شوہر۔  اگر تعصب اور مغربی پروپیگنڈا کو ایک طرف رکھ کر انصاف کیا جائے تو مرد و عورت کو جس رشتہ میں سب سے زیادہ تقدس دیا گیا ہے وہاں اس کی بڑی مضبوط وجوہات ہیں ، دل و دماغ دونوں اس چیز کو نہ صرف مانتے ہیں بلکہ تقاضہ بھی کرتے ہیں۔

 

مرد و عورت برابر نہیں ہیں ، نہ تھے اور نہ کبھی ہوں گے ۔

یہ دونوں ملتےجلتے ضرور ہیں مگر ایک جیسے نہیں۔ دونوں میں جسمانی ، ذہنی ، نفسیاتی اور روحانی فرق موجود ہیں۔ دونوں کے اپنے اپنے دائرہ کار ہیں اور دونوں کے لیے پروردگار نے فرائض اور حقوق مقرر کر دیے ہیں جن پر اگر عمل ہو تو مرد اور عورت کا جھگڑا ہی نہ اٹھے۔ نہ تو دنیا مردوں کے  لیے پیدا کی گئی نہ عورتوں کے لیے دنیا کی تخلیق کا اصل راز تو اللہ کو ہی پتہ ہے البتہ جو اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے اس کے مفہوم کے مطابق اللہ نے انسان کو دنیا میں اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے تاکہ وہ اس کی عبادت کر سکے۔

اس میں کہیں بھی مرد اور عورت کا ذکر نہیں ہے بلکہ انسان کا ذکر کیا ہے اور اشرف المخلوقات بھی ہمیشہ انسان کو ہی بتایا گیا ہے مرد و عورت کا ذکر نہیں کیا گیا۔ عورتوں کو نبوت کا اعزاز نہیں ملا جس کی بڑی سادہ اور واضح وجہ ہے کہ نبی کو زندگی میں بہت زیادہ مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہے حتی کہ بہت سے نبیوں کو لوگوں نے شہید بھی کر دیا۔ نبی کے منصب کا تقاضہ تھا کہ وہ لوگوں میں گھلے ملیں اور ہر جگہ اور ہر قسم کے لوگوں کو تبلیغ کریں ظاہر ہے یہ کام ایک عورت کے لیے ناممکن نہیں تو انتہائی کٹھن ضرور تھے اور دوسرا عورت اگر نبی ہوتی تو بحیثیت بیوی وہ اپنے شوہر کے تابع ہو جاتی اور یوں ایک اور مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔ اس کے باوجود ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں بڑی ہی جلیل القدر اور عزت مآب عورتوں کی مثالیں ملتی ہیں جو روحانیت کی بلندیوں پر فائز ہیں اور تمام مردوں اور عورتوں کے لیے مینارہ نور ہیں۔

حضرت آسیہ فرعون کی بیوی اور حضرت موسی کو پالنے والی اور موسی کے دین پر قربان ہو جانے والی۔ کوئی عورت اس زمانے میں اس سے زیادہ کیا چاہ سکتی تھی جو حضرت آسیہ کو میسر تھا مگر انہوں نے حق پر شاہانہ جاہ و جلال اور مادی آسائشیں قربان کر دیں۔ غیر مصدقہ تاریخ کے مطابق ان کو ایمان سے ہٹانے کے لیے فرعون نے انہیں تختہ دار پر کھینچ ڈالا اور انہوں نے تختہ دار پر اپنے بیٹے کے دین حق پر جان دے دی مگر شوہر کی فرعونیت پر سر تسلیم خم نہ کیا۔

حضرت مریم سے زیادہ شاید ہی کسی عورت نے دکھ سہا ہو اور میرے خیال میں اللہ نے عورتوں کی تشفی قلب کے لیے تاریخ انسانی میں ولادت انسان کا دوسرا معجزہ دکھاتے ہوئے بغیر مرد کے ایک عورت کو ماں کا تقدس بخش دیا اور عورتوں کو بھی دلیل قاطعہ دے دی کہ اگر مائی حوا بغیر ماں کے صرف ایک مرد کے بطن سے پیدا ہوئی تھی تو حضرت مریم نے بھی اللہ کے حکم سے حضرت عیسی کو جنم دیا کسی مرد سے بیاہے بغیر۔ یہ چیز عقل انسانی ہضم نہیں کر سکتی تھی اس لیے ان پر جاہلوں نے بہت الزام لگائے باوجود اس کے کہ حضرت مریم کی گود میں ایک بولتا ہوا بچہ تھا جو خود بول کر اپنی ماں کے تقدس کی گواہی دے رہا تھا مگر جب کسی کے دل میں بیماری اور نقص ہو تو وہ زندہ و جاوید معجزوں کو بھی نہیں مانتا۔ حضرت مریم اللہ کو کتنی محبوب تھیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن جسے الہامی کتابوں میں سب سے اونچا درجہ حاصل ہے جس کی عظمت اور پاکیزگی کی قسم سب مسلمان کھاتے ہیں اس میں اللہ نے اپنی محبوب بندی حضرت مریم کے درد زہ کا تذکرہ اس طرح سے کیا ہے کہ رہتی دنیا تک وہ تذکرہ سامعین اور قارئین کے لیے باعث ثواب و نجات بن گیا ہے۔ وہی درد زہ جس کا تذکرہ عام حالات میں لوگ باعث شرم سمجھتے ہیں اسے اللہ نے قرآن کا حصہ بنا دیا ہے۔

حضرت عائشہ کا تذکرہ کرکے اس پوسٹ کو ختم کروں گا کہ تاریخ انسانی میں اللہ کی محبوب بہت سی بندیاں گزری ہیں جن کا ذکر تمام عمر کرتے بھی عمر کم لگے گی۔ حضرت عائشہ کی فضیلیت اور برتری کو کون مسلمان ہے جو نہیں جانتا اور مانتا ہو گا سوائے ان کے جن کے دل میں کھوٹ اور بیماری ہو۔ حضرت عائشہ ایک سفر میں ہار گرنے اور پھر اسے ڈھونڈنے کی وجہ سے قافلے سےپیچھے رہ گئیں۔ وہ جب واپس قافلے سے ملیں تو چار لوگوں نے جنہیں رئیس المنافقین کی پشت پناہی حاصل تھی حضرت عائشہ پر الزام لگایا اور پورے شہر میں اس بات کو مشہور کر دیا جس پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت رنج اور تکلیف پہنچی۔ اس کے ساتھ ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی علیہ کو اور ان کے گھر والوں کو بھی بہت تکلیف اور رنج اٹھانا پڑا۔ یہ معاملہ اللہ کی قدرت سے بغیر وحی اتارے بھی سلجھ سکتا تھا اور حضرت عائشہ کی بے گناہی بہت سے طریقوں سے ظاہر ہو سکتی تھی مگر اللہ نے اپنی محبوب بندی کی پاک دامنی کی گواہی اور بے گناہی ثابت کرنے کے لیے قرآن کی اٹھارہ آیتیں اتاریں جو کہ ایسا اعزاز ہے جو کسی اور عورت کو حاصل نہیں ہوا۔

قرآن میں بہت سی عورتوں کا تذکرہ ہے جو اللہ کی اپنی بندیوں سے محبت اور کرم کا اظہار ہے۔ مسلمانوں کو مغرب سے عورتوں کے حقوق کا سبق پڑھنے کی نہ تو حاجت ہے اور شوق۔ اللہ کے فضل سے مسلمان عورتوں کے علم و فضل اور کارہائے نمایاں سے تاریخ بھری پڑی ہے اس کے لیے کسی تحریک نسواں یا نسائیت کی علمبردار گمراہ اور جدید جاہلیت کی پیروکار کے لیکچر کی ضرورت نہیں۔

 

مسلمان مردوں اور عورتوں کو لیے اسلام ہی مکمل ضابطہ حیات ہے۔ 

نادیہ خان واہ واہ

کافی پہلے لکھنا تھا اس موضوع پر گردش دوراں نے مہلت ہی نہ دی البتہ میں نے احتیاط اس پوسٹ کو سرخی کے ساتھ ڈرافٹس میں رکھ لیا تھا وہی آج کام آ گیا۔

نادیہ خان جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے سب سے پہلے کلیاں یا انکل سرگم کے ساتھ کسی پروگرام میں آئی تھی اور اس کے بعد اپنی صلاحیتیوں اور قابلیت کے زور پر آگے ہی بڑھتی گئی ۔ کئی عمدہ ڈرامے کیے جن میں مجھے بندھن کافی پسند ہے ، اس کے علاوہ شاید ایک ڈرامہ اڑان میگا کاسٹ کے ساتھ بھ تھا۔

اب کافی عرصہ سے نادیہ جیو ٹی وی پر صبح کا طویل دورانیہ کا ایک پروگرام کرتی ہیں جو کافی مقبول ہے اور واقعی ایک اچھا اور معیاری پروگرام ہے۔ نادیہ کافی سلجھی ہوئی باتیں کرتی ہے اور اپنے پروگرام کے ذریعے کافی لوگوں کی تربیت بھی کر رہی ہے بس ڈانس کا شوق کم کر لے تو بہت ہی عمدہ تعلیم و تربیت کا پروگرام بھی بن سکتا ہے۔  اس کے کچھ حصے تو لاجواب ہیں جیسے

 

واہ واہ پاکستان

ایک اور حصے میں ایک لڑکی دو ڈھول والوں کے ساتھ لوگوں کی غلطیوں پر انہیں پکڑتی ہے ، ان سے ان کی غلطی منواتی ہے ، انہیں پھولوں کا ہار پہناتی ہے  اور پھر اس پر ڈھول بجواتی ہے یعنی بھگو بھگو کر خطا کے پتلوں کو آن سکرین مارتی ہے۔

 

نادیہ نے پچھلے سال بہترین ہوسٹ کا ایوارڈ جیتا ہے جو کہ یقینا ایک بہت بڑا اعزاز ہے اور میں اس پر تہہ دل سے نادیہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ کوئی بھی شخص جو پاکستان کے لیے اعزاز حاصل کرتاہے ، پاکستان کا نام روشن کرتا ہے قابل احترام ہے۔

The Phantom of the Opera

The Phanton of the Opera
یہ ناول  Gaston Leroux نے 1909 میں لکھا اور بطور ایک سیریل کے شائع کیا تھا۔ یہ ناول مصنف کے تخیل کی پیداوار ہے اور تعارف لکھتے ہوئے مصنف نے فرض کرتے ہوئے اپنے ناول کا ابتدائیہ اس طرح لکھا کہ اس نے 1880 میں پراسرار واقعات کی تحقیق کی جو کہ مشہور اوپیرا ہاؤس میں پیش آئے۔ مصنف نے یہ بھی لکھا کہ اس نے وہ بہت بڑی جھیل بھی دیکھی جہاں فینٹم چھپا رہا جہاں بہت سے لوگوں کے لاشے بھی تھے جنہیں بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ یہ کتاب بیسٹ سیلر تو نہیں بنی مگر  1925 میں اس پر ایک فلم ضرور بن گئی جو کہ مشہور بھی ہو گئی۔
Andrew Lloyd Webber نے ایک میوزیکل کہانی لکھی جو کہ   لندن میں  1986 اور پھر 1988 نیویارک میں پیش کی گئی۔  2006 تک Broadway Productions میں یہ شو Cats سے بھی زیادہ چلنے والا شو بن گیا ہے اور Broadway تاریخ میں سب سے زیادہ چلنے والا شو بن گیا ہے۔
اب تک اس میں
9100 پرفارمنس ہو چکی ہیں
10 کروڑ سے زائد لوگ اسے دیکھ چکے ہیں
25 ملکوں کے  124 شہروں میں یہ شو دیکھا جا چکا ہے اور بلاشبہ اسے تاریخ انسانی کی اعلی ترین تفریحی پڑاڈکشن کہا جا سکتا ہے

اسلام آباد میں میں نے بھی یہ شو اسلام آباد کلب میں شاہ شرابیل کی ڈائریکشن میں دیکھا تھا اور بہت لطف اندوز ہوا تھا۔

نئےسال کے نئے عزم

نئے سال پر ایک روایت مجھے اچھی لگتی ہے کہ کچھ لوگ نیو  ایئر  ریزولوشن پاس کرتے ہیں  اور نئے سال میں اپنے لیے کچھ اہداف مقرر کرتے ہیں۔ میں نے سوچا میں جو ہر وقت خواب غفلت ، خواب خرگوش اور میٹھے خوابوں میں مست رہتا ہوں کچھ جاگتی آنکھوں کے خواب قلمبند کر دوں تاکہ یار لوگ مجھے یاد بھی دلا سکیں اور مجھ میں بھی اپنا ہی لکھا  پڑھ کر عقابی روح بیدار ہو سکے۔

پہلا منصوبہ جو کہ جنوری میں ہی انشاءللہ پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے وہ ہے اردو بلاگنگ فورم کا دوبارہ اجرا ایک نئے نام سے۔ پچھلی دفعہ یہ کام اردو ٹیک کے نام سے کیا گیا تھا جس میں عبدل قدیر احمد رانا اور بدتمیز شامل تھے۔ بدتمیز نے ویب ہوسٹنگ کی سہولت مہیا کی تھی اور اردو ٹیک کی ڈومین بھی اسی کے نام سے رجسٹر تھی جو اب بھی ہے۔عبدل قدیر احمد رانا نے ایس ایم ایف فورم کا اردو ترجمہ کیا تھا اور یوں اردو بلاگنگ فورم اور بلاگنگ سروس شروع ہو گئی تھی۔  اس زمانے کی یادگاریں اردو ٹیک کے بلاگران آج بھی ہیں اور انشاءللہ رہیں گے۔ بدتمیز نے اردو ٹیک وینس کو سنبھال لیا تھا اور اب بھی سنبھالے ہوا ہے۔ عبدل قدیر احمد رانا  اور بدتمیز  کی صلح صفائی کی برکات سے پہلے اردو بلاگنگ سروس تعطل کا شکار ہوئی اور پھر فورم بھی اس کی نظر ہو گیا۔ میں بھی مصروف رہا اور امریکہ آنے کے بعد اسے بالکل نہ دیکھ سکا۔
اب انشاءللہ نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ اسے پھر سے شروع کرنا ہے اور اس دفعہ جس جوان کا انتخاب کیا ہے وہ اردو بلاگنگ کی دنیا کا جانا پہچانا اور نامی گرامی بندہ ہے۔ سندھ کے اس سپوت کو آپ سب راشد کامران کے نام سے جانتے ہیں اور پچھلے سال کے بہترین بلاگر کا اعزاز بھی اس سندھ کے سپوت کے پاس ہے۔ سندھ کے اس سپوت کی میں بڑی قدر کرتا ہوں کیونکہ سندھ کے اس جیسے سپوتوں سے ہی سندھ کا نام روشن ہے ورنہ جانے کتنے زردار ،  مرزا اور بھٹو سندھ کا نام بدنام کرنے کو کافی ہیں۔ ابو شامل یقینا ایک اور قابل تعریف نام ہے سندھی سپوتوں میں اور اگر مکی کا تعلق بھی بنیادی طور پر سندھ سے ہے تو پھر آپ لوگ خود سمجھدار ہیں۔
خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا ، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ راشد کے ساتھ یہ طے ہو گیا ہے کہ ہم لوگ مل کر یہ فورم جلد از جلد شروع کریں اور اردو بلاگران کو اس پر اکٹھا کریں اور ساتھ میں ورڈ پریس پر مفت اردو سروس دینا شروع کریں۔ سعود ابن سعید بھی ہاں نہ کے درمیان ہیں مگر امید کی جانی چاہیے کہ وقت پڑنے پر آگے ہی ہو گا پیچھے نہیں۔

یہ تو ہے اردو  بلاگنگ کے فورم اور سروس کے متعلق ایک منصوبہ۔ اس کے علاوہ ایک عدد سافٹ ویئر ہاؤس اور اپنی کمپنی کی سائٹ بھی جلد ہی بنانی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان جا کر خوب آرام اور لطف اٹھانے کے منصوبے ہیں جو وہاں پہنچ کر ہی بتاؤں گا۔

اس کے علاوہ راشد کے ساتھ ہی مل کر ایک عدد عمدہ رومن ٹو اردو کنورٹر بھی لکھنا ہے جو کہ اصل میں تو راشد نے ہی لکھنا ہے میں نے ساتھ مدد دینی ہے۔

PHP  اور  JAVA   سیکھنے کا بھی ارادہ ہے اسپانوی اور فرنچ سیکھنے کے ساتھ ساتھ۔

اب دیکھتے ہیں کتنے ارادے پایہ تکمیل تک پہنچتے ہیں اور کتنے نہیں۔

اور ہاں اگلے سال بہترین بلاگر کا اعزاز جیتنا بھی منصوبہ جات میں شامل کر لیا ہے جب سے سنا ہے کہ سرکاری سطح پر بھی کسی اردو بلاگر کو اعزاز ملنے کا امکان ہے۔

نئےسال کے نئے عزم

نئے سال پر ایک روایت مجھے اچھی لگتی ہے کہ کچھ لوگ نیو  ایئر  ریزولوشن پاس کرتے ہیں  اور نئے سال میں اپنے لیے کچھ اہداف مقرر کرتے ہیں۔ میں نے سوچا میں جو ہر وقت خواب غفلت ، خواب خرگوش اور میٹھے خوابوں میں مست رہتا ہوں کچھ جاگتی آنکھوں کے خواب قلمبند کر دوں تاکہ یار لوگ مجھے یاد بھی دلا سکیں اور مجھ میں بھی اپنا ہی لکھا  پڑھ کر عقابی روح بیدار ہو سکے۔

پہلا منصوبہ جو کہ جنوری میں ہی انشاءللہ پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے وہ ہے اردو بلاگنگ فورم کا دوبارہ اجرا ایک نئے نام سے۔ پچھلی دفعہ یہ کام اردو ٹیک کے نام سے کیا گیا تھا جس میں عبدل قدیر احمد رانا اور بدتمیز شامل تھے۔ بدتمیز نے ویب ہوسٹنگ کی سہولت مہیا کی تھی اور اردو ٹیک کی ڈومین بھی اسی کے نام سے رجسٹر تھی جو اب بھی ہے۔عبدل قدیر احمد رانا نے ایس ایم ایف فورم کا اردو ترجمہ کیا تھا اور یوں اردو بلاگنگ فورم اور بلاگنگ سروس شروع ہو گئی تھی۔  اس زمانے کی یادگاریں اردو ٹیک کے بلاگران آج بھی ہیں اور انشاءللہ رہیں گے۔ بدتمیز نے اردو ٹیک وینس کو سنبھال لیا تھا اور اب بھی سنبھالے ہوا ہے۔ عبدل قدیر احمد رانا  اور بدتمیز  کی صلح صفائی کی برکات سے پہلے اردو بلاگنگ سروس تعطل کا شکار ہوئی اور پھر فورم بھی اس کی نظر ہو گیا۔ میں بھی مصروف رہا اور امریکہ آنے کے بعد اسے بالکل نہ دیکھ سکا۔
اب انشاءللہ نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ اسے پھر سے شروع کرنا ہے اور اس دفعہ جس جوان کا انتخاب کیا ہے وہ اردو بلاگنگ کی دنیا کا جانا پہچانا اور نامی گرامی بندہ ہے۔ سندھ کے اس سپوت کو آپ سب راشد کامران کے نام سے جانتے ہیں اور پچھلے سال کے بہترین بلاگر کا اعزاز بھی اس سندھ کے سپوت کے پاس ہے۔ سندھ کے اس سپوت کی میں بڑی قدر کرتا ہوں کیونکہ سندھ کے اس جیسے سپوتوں سے ہی سندھ کا نام روشن ہے ورنہ جانے کتنے زردار ،  مرزا اور بھٹو سندھ کا نام بدنام کرنے کو کافی ہیں۔ ابو شامل یقینا ایک اور قابل تعریف نام ہے سندھی سپوتوں میں اور اگر مکی کا تعلق بھی بنیادی طور پر سندھ سے ہے تو پھر آپ لوگ خود سمجھدار ہیں۔
خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا ، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ راشد کے ساتھ یہ طے ہو گیا ہے کہ ہم لوگ مل کر یہ فورم جلد از جلد شروع کریں اور اردو بلاگران کو اس پر اکٹھا کریں اور ساتھ میں ورڈ پریس پر مفت اردو سروس دینا شروع کریں۔ سعود ابن سعید بھی ہاں نہ کے درمیان ہیں مگر امید کی جانی چاہیے کہ وقت پڑنے پر آگے ہی ہو گا پیچھے نہیں۔

یہ تو ہے اردو  بلاگنگ کے فورم اور سروس کے متعلق ایک منصوبہ۔ اس کے علاوہ ایک عدد سافٹ ویئر ہاؤس اور اپنی کمپنی کی سائٹ بھی جلد ہی بنانی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان جا کر خوب آرام اور لطف اٹھانے کے منصوبے ہیں جو وہاں پہنچ کر ہی بتاؤں گا۔

اس کے علاوہ راشد کے ساتھ ہی مل کر ایک عدد عمدہ رومن ٹو اردو کنورٹر بھی لکھنا ہے جو کہ اصل میں تو راشد نے ہی لکھنا ہے میں نے ساتھ مدد دینی ہے۔

PHP  اور  JAVA   سیکھنے کا بھی ارادہ ہے اسپانوی اور فرنچ سیکھنے کے ساتھ ساتھ۔

اب دیکھتے ہیں کتنے ارادے پایہ تکمیل تک پہنچتے ہیں اور کتنے نہیں۔

اور ہاں اگلے سال بہترین بلاگر کا اعزاز جیتنا بھی منصوبہ جات میں شامل کر لیا ہے جب سے سنا ہے کہ سرکاری سطح پر بھی کسی اردو بلاگر کو اعزاز ملنے کا امکان ہے۔

پراني تحارير »

WordPress Loves AJAX