آر ايس ايس فيڈ

ٹیگ ہی ٹیگ

آج ایک مدت بعد اپنا بلاگ دیکھا تو آخری پوسٹ پر ایک اور تبصرہ ہوا تھا ، تبصرہ نگار کو دل ہی دل میں دعائیں دیتے ہوئے تبصرہ پڑھا تو گمشدہ رضوان کا پیغام تھا کہ سرکار ٹیگ کھیلنے میرے بلاگ پر تشریف لائیں۔ ان کے بلاگ پر گیا تو دیکھا کہ پتہ چلا کہ آگے جہانزیب کے بلاگ تک جانا بھی لازم ہے کہ وہاں سے ہی اس گتھی کا سرا ہاتھ آئے گا۔ وہاں جا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ سارا سلسلہ اردو کے خوابیدہ بلاگران کو جگانے کے لیے جہانزیب کی عمدہ کاوش ہے گو ٹیگ ٹیگ کھیل کر سب پھر سے لمبی تان کر سو جائیں گے معدودے چند کے سوا۔

 

کھیل کے قوانین

کھیل کے قوانین مندرجہ ذیل ہیں ۔
ا) کھیل کے قوانین جوابات دیتے وقت ارسال کرنا ہوں گے ۔
ب) جِس نے آپ کو اس کھیل سے منسلک کیا ہے، اُسکی تحریر کا حوالہ دینا لازمی ہے ۔
ج) سوالات کے اخیر میں آپ مزید پانچ لوگوں کو اِس کھیل سے منسلک کریں گے، اور اس کی اطلاع متعلقہ بلاگ پر نئی تحریر میں تبصرہ کر کے دیں گے ۔

 

1) اِس وقت آپ نے کِس رنگ کی جرابیں پہنی ہوئی ہیں؟

گرمی میں جرابیں                 پہنتے ہیں لوگ مگر میں نے نہیں پہنی ہوئیں۔

2) کیا آپ اس وقت کچھ سُن رہے ہیں؟ اگر ہاں تو کیا؟

پنکھے کا شور سن رہا ہوں جو بھلا معلوم ہو رہا ہے کیونکہ اس کے شور سے بجلی کی موجودگی کا پتہ چل رہا ہے۔

3) سب سے آخری چیز جو آپ نے کھائی تھی کیا تھی؟

بھنڈیاں ، آملیٹ اور روٹیاں

4) سب سے آخری فلم کونسی دیکھی ہے؟

منگول جس میں چنگیز خان کو خاصا اچھا دکھایا گیا ہے۔

5) آپ کا پسندیدہ قول کیا ہے؟

میں یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا مگر تم یہ نہیں جانتے کہ تم بھی کچھ نہیں جانتے ( سقراط)

6) کل رات بارہ بجے آپ کیا کر رہے تھے؟

گلوبل سائنس پڑھ رہا تھا جس میں مستقبل کے کمپیوٹروں کے بارے میں معلومات تھی۔

7) کِس مشہور شخصیت زندہ یا مردہ سے آپ مِلنا چاہیں گے؟

مامون الرشید سے

8) غصہ میں اپنے آپ کو پرسکون کِس طرح کرتے ہیں؟

ضبط کرتے ہوئے خود کو خاموش کرکے

 
9) فون پر سب سے آخر میں کِس سے بات ہوئی؟

بھائی سے ، موبائل کا  بیلنس ڈلوانے کے لیے۔

10) آپ کا پسندیدہ تہوار کونسا ہے؟

عید ( کھانے کے ساتھ چھٹی اور جینے کو کیا چاہیے)

 

میں ان لوگوں کو ٹیگ کر رہا ہوں

حیدرآبادی ، بول کہ لب آزاد ہیں تیرے  ، افتخار اجمل ، امید ، امید بہار

بک مارک کریں
[Ask] [Bloglines] [Blogsvine] [del.icio.us] [Digg] [Facebook] [Feed Me Links] [Google] [MySpace] [Propeller] [Reddit] [StumbleUpon] [Technorati] [Windows Live]

چائنہ میں زلزلہ

بارہ مئی کو آنے والے خوفناک زلزلے سے چائنہ میں اب تک 68000 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ تخمینہ اسی ہزار سے بھی زائد ہو جائے گا۔

اس زلزلہ کی شدت رچٹر اسکیل پر 8.0  تھی جو کہ بہت شدید زلزلہ کے برابر ہوتی ہے، پاکستان میں دو ہزار پانچ میں آنے والا زلزلہ جس میں ایک لاکھ کے قریب ہلاکتیں ہوئی تھیں رچٹر اسکیل پر 7.0   سے کم تھا۔

ڈھائی لاکھ سے زائد لوگ زخمی ہیں اور چائنہ میں اس زلزلہ پر تین دن کا سوگ منایا گیا ۔ تا حال زلزلے سے مرنیوالے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور طرح طرح کی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

میری دعا ہے کہ چائنہ کے لوگ اس بدترین سانحہ سے جلد از جلد باہر نکل آئیں۔ 

 

china earthquake_nightsearch

 

china earthquake earth splitting 

 

 

 

 

 

 

 

 

بک مارک کریں
[Ask] [Bloglines] [Blogsvine] [del.icio.us] [Digg] [Facebook] [Feed Me Links] [Google] [MySpace] [Propeller] [Reddit] [StumbleUpon] [Technorati] [Windows Live]

AUTISM

دنیا میں ہر ہزار میں سے ایک بچہ آٹزم کا شکار ہے۔ آٹزم ایک غیر معمولی اور پیچیدہ ذہنی بیماری ہے جس کا علاج توجہ اور تھیراپی اور ٹریٹمنٹ ہے۔ اب ہزار میں سے ایک بچہ سے بڑھ کر یہ اوسط ١٥٠ بچوں میں سے ایک میں آ گئی ہے یعنی ہر ڈیڑھ سو بچوں میں سے ایک بچہ آٹزم کا شکار ہے اور اس کی وجہ اب تک دریافت نہیں کی جا سکی اور نہ ہی اس کا علاج۔

ماضی اور حال

١٩٧٠ میں دس ہزار میں سے ایک بچہ اس کا شکار تھا
١٩٩٠ میں ١٠٠٠ میں سے ایک بچہ
اب ١٥٠ میں سے ایک بچہ اس کا شکار ہے لڑکوں میں یہ اوسط ٩٤ میں ایک کے تناسب سے ہے۔
اور خطرہ ہے کہ یہ ریٹ اور بڑھے گا اور ذیابیطس ، کینسر ، ایڈز تینوں بیماریوں سے زیادہ پھیلے گا بچوں میں
لڑکوں میں اس بیماری کے پھیلنے کا خطرہ چار گنا زیادہ ہے
اس کے لیے کوئی میڈیکل علاج یا ٹیسٹ نہیں ہیں مگر جلد تشخیص اور مداخلت سے بہت بہتری آ سکتی ہے۔
آٹزم کسی خاص علاقے ، کلاس اور قومیت سے مخصوص نہیں ہے۔

علامات

بات نہ کرنا یا بہت کم بات کرنا
اپنی دنیا میں مگن رہنا
ڈر اور خطرے کی سمجھ نہ رکھنا
بے مقصد رونا یا ہنسنا
روزمرہ کی زندگی میں تبدیلی برداشت نہ کرنا
کھلونوں سے عام بچوں کی طرح نہ کھیلنا
بہت آہستہ یا بہت اونچا سننا
بے چین رہنا یا حرکت کرنے کی خواہش نہ کرنا
متوجہ شخص کی طرف دیکھے بغیر بات کرنا
بے مقصد چیزوں سے کھیلنے کی خواہش کرنا
کسی کے چھونے سے الجھن ظاہر کرنا

اس سال قطر میں اس کی بیداری کے حوالے سے دن منایا گیا ہے اور امید ہے کہ اب اس کے بارے میں شعور بڑھے گا۔

میرا بیٹا بھی اس کا شکار ہے اور ساڑھے تین سال کی عمر تک پہنچنے کے باوجود نہیں بول پاتا ہے۔ اس وقت وہ بھی speech therapy کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور امید ہے کہ اس پیچیدہ نفسیاتی بیماری پر قابو پا لے گا۔

بک مارک کریں
[Ask] [Bloglines] [Blogsvine] [del.icio.us] [Digg] [Facebook] [Feed Me Links] [Google] [MySpace] [Propeller] [Reddit] [StumbleUpon] [Technorati] [Windows Live]

چند بہترین یوٹیلیٹیز

پروسیس ایکسپلورر Process  Explorer

کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے پی سی پر کیا چل رہا ہے ؟ ونڈوز ٹاسک مینیجر سے آپ کو یہ تو پتہ چل جاتا ہے کہ کونسا پروگرام چل رہا ہے مگر اس سے زیادہ معلومات حاصل کرنے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ پروسیس ایکسپلورر (Process  Explorer) جو کہ ایک مفت یوٹیلٹی جو بہت تفصیل سے پی سی پر چلنے والے پروگرام اور سروس کے بارے میں بتاتی ہے۔ پروسیس ایکسپلورر (Process  Explorer ) اکثر پراسیس اور سروس کے ساتھ منسلک پروگرام کے بارے میں بھی بتاتا ہے تاکہ صارف کو اسے بند کرنے میں خطرات کا اندازہ ہو سکے۔ یہ ٹول اشارے بھی دیتا ہے جس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ آیا چلنے والا پروگرام کوئی سپائی وئیر ہے یا میل وئیر۔ ڈاؤن لوڈ لنک پروسیس ایکسپلورر (Process  Explorer)  سے کیجیے ۔ 

WinPatrol 2007

کیا آپ ایسے تمام پروگرام سے چھٹکارا چاہتے ہیں جو بلاوجہ سٹارٹ اپ میں چلتے ہیں اور جن میں کچھ سپائی وئیر اور میل وئیر بھی ہوتے ہیں۔کیا اس کے ساتھ آپ کوکی ریمور بھی چاہتے ہیں ؟ اس ٹول کی مدد سے آپ کسی بھی ایسے اطلاقیے کو شروع میں شامل ہونے سے روک سکتے ہیں کیونکہ یہ ٹول آپ کو ایک الرٹ کے ذریعے مطلع کرتا ہے کہ ایک پروگرام سٹارٹ اپ میں شامل ہونا چاہ رہا ہے اور اگر آپ اسے بلاک کرنا چاہتے ہیں کر سکتے ہیں۔

ہر سٹارٹ اپ پروگرام کے بنانے والے کی تفصیل ، جس تاریخ پر وہ سٹارٹ اپ میں شامل ہوئی اور جس فائل نے اسے شامل کیا یہ تمام تفصیل یہ مفید ٹول فراہم کرتا ہے۔ ایک دلچسپ فیچر تاخیر آغاز ( delayed start) کا ہے جو چند پروگرامز کو ونڈوز کے سٹارٹ ہونے کے ایک گھنٹے کے بعد شروع کرتا ہے۔ ڈاؤن لوڈ مندرجہ ذیل لنک سے کیجیے

WinPatrol 2007

Launchy

یہ ایک چھوٹا سا ، اوپن سورس پروگرام ہے جو پروگرام لانچ کرنے اور دستاویز کھولنے کے لیے بہت آسانی مہیا کرتا ہے اور کہیں سے بھی کوئی بھی پروگرام کھولا جا سکتا ہے۔ پروگرام انسٹال کیجیے اور لطف اندوز ہوں۔ لنک یہ ہے  Alt-space دبائے اورLaunchy

 

بک مارک کریں
[Ask] [Bloglines] [Blogsvine] [del.icio.us] [Digg] [Facebook] [Feed Me Links] [Google] [MySpace] [Propeller] [Reddit] [StumbleUpon] [Technorati] [Windows Live]

فلرٹنگ اور فلرٹ

بڑے دنوں سے سوچ رہا تھا کہ اس اہم اور حساس موضوع پر لکھا جائے  مگر یہ سوچ کر رک جاتا تھا کہ شاید قوم ابھی اس کے لیے تیار نہیں ہے  مگر الیکشن میں قوم نے جتنی بالغ نظری کا ثبوت دیا ہے اس کے بعد میں امید کرتا ہوں کہ عوام اب مسائل کو  سمجھنے اور سچائی تک پہنچنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں اور پیچیدہ مسائل کے لیے اگر انہیں تحقیق کی بھی ضرورت پڑے تو اس سے چنداں نہ گھبرائیں گے۔ فلرٹ اور فلرٹنگ پر عموما نجی محفلوں اور چیٹ پر یا ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں تو بات ہوتی رہتی ہے مگر اسے صحیح معنوں میں سمجھنے اور اس پر تحقیق کی ضرورت کم ہی کسی نے محسوس کی ہے۔ میں نے سوچا بھڑوں کے اس چھتے میں ہاتھ ڈال کر دیکھا جائے اور اس کے لغوی اور اصطلاحی مفہوم کو تاریخی پس منظر کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس سلسلے میں میں چند پوسٹس کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں جو کچھ سنجیدہ اور کچھ مزاح کا رنگ لیے ہوئے ہوں گی تاکہ نہ تو اسے پڑھ کر لوگ بے زار ہوں اور نہ اس سے خوفزدہ ہوں بلکہ اپنے مشاہدات ، محسوسات اور تجربات سے اسے سمجھ اور سمجھا سکیں۔  اس سلسلے میں آپ لوگوں کی آرا اور تبصروں کی روشنی میں پہلی پوسٹ کروں گا اور اس کے بعد دو تین پوسٹس اس سلسلے میں چلیں گی جس سے اس موضوع پر گپ شپ اور تبادلہ خیال ممکن ہو سکے گا جس کی خواہش کئی پردہ نشینوں اور گمنام مجاہدین  کو ہے۔ اگر یہ سلسلہ مبلغین ، ناصحین اور ناقدین کی تاب لا کر بھی نہ رکا تو آخر میں اسے اقبال کی شاعری کی روشنی میں بھی دیکھا جائے جس پر اب تک کوئی تحقیق نہیں ہوئی۔ اقبال کا صرف یہ مصرعہ ہی اس پورے موضوع پر دلیل قاطع ہے جسے لوگ کوزہ میں دریا بند کرنا کہتے ہیں۔ ستاروں کو نوجوانوں کی بلند ہمتی سے جوڑ کر جس طرح کمند کا عمدہ استعمال کیا ہے وہ اردو شاعری کی تاریخ میں نہ اقبال سے پہلے کہیں ملتا ہے نہ بعد میں اور نہ ہی کوئی اب ایسا بلیغ استعمال کر سکے گا۔ مزید تبصرہ پھر سہی ابھی شعر ملاحظہ فرمائیں

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے            ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں یہ آرٹ تھا اب خیر سے سائنس بن گئی ہے ۔

بک مارک کریں
[Ask] [Bloglines] [Blogsvine] [del.icio.us] [Digg] [Facebook] [Feed Me Links] [Google] [MySpace] [Propeller] [Reddit] [StumbleUpon] [Technorati] [Windows Live]

مومن خاں مومن

بھلے وقتوں میں شعور ادب نامی ایک کتاب خریدی تھی جو بی اے کے طلبا و طالبات کے لیے تھی۔ اس کی ورق گردانی کرتے ہوئے بہت سے اچھے مضامین پڑھے اور مومن خاں مومن جو میرا پسندیدہ شاعر ہے اس پر لکھنے کو دل کیا مگر خود سے لکھنے کی بجائے وہاں سے نقل کر لیا تاکہ بعد میں پر بھی ڈال سکوں۔ مومن نے نو عشق بھی کیے جس میں پہلا عشق نو سال کی عمر میں تھا مگر ان  کا تذکرہ پھر سہی ۔

مختصر حالات زندگی

مومن خاں مومن کی ولادت ۱۸۰۰ میں دلی ہوئی۔ ابتدا میں عربی کی متداول کتابیں شاہ عبدالقادر سے پڑھیں۔ علم نجوم ، رمل اور طب میں انہیں مہارت حاصل تھی۔ شطرنج کے بہت اچھے کھلاڑی تھے۔ شاعری کے ساتھ انہیں فطری مناسبت تھی۔ اس ضمن میں شاہ نصیر سے اصلاح لیتے رہے۔ مومن نے شاعری کو کبھی ذریعہ معاش نہیں بنایا اور نہ امرا کی مدح سرائی کی۔ کوٹھے سے گر کر پانچ ماہ بیمار رہنے کے بعد ۱۸۵۱ میں مومن نے انتقال کیا۔

خصوصیات کلام

مومن کے کلیات میں میں دیگر اصناف بھی ہیں لیکن مثنوی اور غزل کی صنف میں انہوں نے بطور خاص کمال فن کا اظہار کیا ہے ان کی غزل کو غالب جیسے استاد فن نے بھی سراہا ہے۔ مومن کو اپنے عہد میں خاصی عزت و توقیر تھی اور آج بھی وہ اپنے منفرد انداز کے باعث پسند کیے جاتے ہیں۔

مومن کی شاعری میں حسن پرستی کا رجحان نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ کہیں تو وہ محبوب "پردہ نشین " دکھائی دیتا ہے جو اس عہد کے سماجی حالات کا آئینہ دار ہے اور کہیں وہ محبوب بے حجاب ہو کر سامنے آتا ہے اور مومن محبوب کے حسن کو اجاگر کرنے کے لیے دراز اقامت ، سرمگیں آنکھ ، لب نازک ، خم کاکل اور خرام ناز وغیرہ کا ذکر کرتے ہیں لیکن مومن اکثر لکھنوی شعرا کی طرح خارجی مظاہر پر ہی توجہ نہیں دیتے بلکہ حسن کو دیکھ کر پیدا ہونے والی داخلی کیفیتوں کو بھی بیان کرتے ہیں دراصل مومن حسن کی تاثیر کے قائل ہیں۔

مومن حسن کا بھی ایک اعلی معیار پیش کرتے ہیں اور عشق کا بھی ایک ایسا تصور پیش کرتے ہیں جو جاں نثاری اور عجز و نیاز کا حامل ہے۔ ان کی غزلوں میں ایک ایسا عاشق دکھائی دیتا ہے جو جذب صادق کا حامل ہے وہ محبوب کی جفاؤں اور رقیب پر اس کی عنایتوں کے باوجود اس کی محبت سے سرشار ہے اور اس کے سامنے عاجزی کا پیکر بنا ہوا ہے۔ وہ محبوب سے گلہ کرنے سے بھی گریز کرتا ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ مومن کی غزل میں عاشق ، محبوب اور رقیب کی مثلث واضح اور نمایاں صورت میں موجود ہے۔

مومن کے ہاں ذاتی سطح پر پیش آنے والے تجربات بھی ہیں اور ان کی شاعری سماجی شعور کی بھی حامل ہے۔ وہ اپنے زمانے میں سیاسی و سماجی سطح پر رونما ہونے والے انقلابات سے آگاہ تھے اور اشاروں کنایوں میں ان کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ مومن کی غزل تغزل سے معمور ہے۔ اس میں تاثیر اور دلچسپی کے عناصر موجود ہیں۔ وہ حسن و عشق سے متعلق تصویریں بڑی عمدگی سے پیش کرتے ہیں اور ان کی غزل رمز و ایما کا اچھا نمونہ ہے۔ وہ غزل کے فنی اور جمالیاتی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے حسن و عشق سے متعلق معلومات کو رمز و ایما کے پیرائے میں بیان کرتے ہیں۔

مومن غزل کی زبان سے آگاہ تھے اور انہوں نے زبان و بیان پر قدرت کا ثبوت دیا ہے۔ وہ ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جس میں فطری پن ، برجستگی ، بے ساختگی ، سادگی اور روانی پائی جاتی ہے۔ مومن روزمرے اور محاورے کا استعمال بھی عمدگی سے کرتے ہیں لیکن ان کا میلان زیادہ تر فارسی تراکیب کی طرف ہے۔ انہوں نے خوبصورت تراکیب تراشی ہیں۔ تشبیہ و استعارہ کا استعال بھی ہے۔ کہیں کہیں مومن نے اپنے تخیل کو بالکل آزاد کر دیا ہے وہاں فطرت سے دوری پیدا ہوگئی ہے۔ مومن کے کلام میں ایک اور بات خاص طور سے نظر آتی ہے ، یہ ہے کہ انہوں نے اپنے تخلص " مومن  " بہت عمدگی سے برتا ہے اور نئی نئی معنویت پیدا کی ہے۔

مجموعی طور پر مومن اپنے عہد کے کامیاب شاعر ہیں۔ نمونے کے طور پر چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

 

ہم بھی کچھ خوش نہیں وفا کر کے
تم نے اچھا کیا نباہ نہ کی

تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانا کر لے
ہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہوں گے

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک
شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو

تیری نگاہ شرم سے کیا کچھ عیاں نہیں
میں اپنی چشم شوق کو الزام خاک دوں

کیا دل کو لے گیا کوئی بیگانہ آشنا
کیوں اپنے جی کو لگتے ہیں کچھ اجنبی سے ہم

جسے آپ گنتے تھے آشنا ، جسے آپ کہتے تھے باوفا
میں وہی ہوں مومنِ مبتلا ، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

بک مارک کریں
[Ask] [Bloglines] [Blogsvine] [del.icio.us] [Digg] [Facebook] [Feed Me Links] [Google] [MySpace] [Propeller] [Reddit] [StumbleUpon] [Technorati] [Windows Live]

گدھے کا قتل

ہے! یہ قتل جس میں کوئی ملزم نہ وکیل
نہ عدالت، نہ وکالت، نہ ضمانت، نہ اپیل

Click to continue reading “گدھے کا قتل”

بک مارک کریں
[Ask] [Bloglines] [Blogsvine] [del.icio.us] [Digg] [Facebook] [Feed Me Links] [Google] [MySpace] [Propeller] [Reddit] [StumbleUpon] [Technorati] [Windows Live]

جاپان کی عملی صورت حال اور یہاں کی جامعات اور علمی تحقیقی اداروں میں ہونے علمی کاموں اور تحقیقات اور مطالعات کے بارے میں بیرون جاپان خصوصا اردو دنیا اور برعظیم پاک و ہند کے باشندوں  کو بہت علم ہوتا ہے اور وہ زبان و ادب کے تعلق سے یہاں جو سرگرمیاں مختلف صورتوں میں دیکھنے آتی ہیں اور جن کی ایک دیرینہ اور مستقل روایت کم بیش سو سالوں سے یہاں موجود ہے۔ زیر نظر سطور میں "زبان و ادب" اور پاکستان اور جنوبی ایشیا کے بارے میں یہاں ہونے والے علمی و تحقیقی مطالعات سے قطع نظر ، اسلام اور اسلامی دنیا کے تعلق سے ہونے والے تازہ مطالعات اور تحقیقی و علمی سرگرمیوں کا ایک سرسری سا جائزہ مقصود ہے۔

اگرچہ زیر نظر جائزے کا دائرہ گزشتہ چھ سات سال کی تحقیقات اور مطالعات پر مشتمل پے لیکن سرسری طور پر شاید یہ تذکرہ بے محل نہ ہوگا کہ یہاں اسلامی دنیا یا مسلمانوں سے جاپانیوں کا رابطہ ایک تواتر کے ساتھ انیسویں صدی کے آخر میں استوار نظر آتا ہے لیکن اسلام کے بارے میں سوچنے اور سمجھنے کی علمی سط پر کوششیں بیسویں صدی کی تیسری چوتھی دہائی سے نمایاں ہونے لگتی ہے ۔ اس عرصے میں ہمارے نقطہ نظر سے مشہور انقلابی رہنما مولوی برکت اللہ بھوپالی کا قیام جاپان بھی جو اگرچہ زیادہ طویل نہیں تھا لیکن پھر بھی یوں اہم ہے کہ انہوں نے یہاں رہ کر بھی اپنی انقلابی سرگرمیاں جاری رکھیں۔  Islamic  Fetternity

یہ آرٹیکل شاید جنگ میں پڑھا تھا مگر پورا نہیں لکھ سکا ، سوچا جتنا لکھا ہے اتنا تو بانٹ لوں ہو سکتا ہے کوئی اس پر تفصیلی روشنی ڈال سکے۔

بک مارک کریں
[Ask] [Bloglines] [Blogsvine] [del.icio.us] [Digg] [Facebook] [Feed Me Links] [Google] [MySpace] [Propeller] [Reddit] [StumbleUpon] [Technorati] [Windows Live]

ورلڈ وائیڈ ویب کا آغاز

1988 میں انٹرنیٹ پر کم و بیش ساٹھ ہزار مشینیں تھیں جبکہ اب کروڑوں میں ہیں۔ 1991 میں CERN میں ورلڈ وائیڈ ویب کا آغاز ہوا اور 1993 میں پہلا تصویری براؤزر Mosaic منظر عام پر آیا۔ اس زمانے میں انٹر نیٹ پر ٹریفک عموما تحریری تھی۔ Usenet نیوز گروپ نے پیغاماتی سسٹم مہیا کیا جس کی مدد سے ہم خیال گروہ ایک دوسرے سے ہم آہنگ رہ سکتے تھے۔ ای میل کم و بیش اسی طرح سے تھی جیسے اب ہے یعنی زیادہ تر تحریری ۔ فائلوں کی ترسیل اور دورپار لاگ ان نے نیٹ کے استعمال کو آسان بنا دیا۔

پرل کا آغاز (PERL)

جنوری 1988 میں لیری وال Larry Wall نے اعلان کیا کہ اس نے awk اور sed کا متبادل یونیکس کے لیے لکھا لیا ہے جسے اس نے پرل (PERL) کا نام دیا۔ پرل کے اصلی دستاویزات میں پرل کو اس طرح سے بیان کیا گیا تھا

 
پرل کا بیانیہ مسودہ PERL

پرل ایک ترجمہ شدہ (interpreted) زبان ہے جو کسی بھی قسم کی تحریری فائلوں کو پڑھنے ، ان سے معلومات اخذ کرنے اور اس کی بنیاد پر رپورٹ شائع کرنے کے لیے خاص طور پر بنائی گئی ہے۔ یہ اتنظام نطام ( system management) کے لیے بھی ایک اچھی زبان ہے۔ زبان کو خوبصورت ، محدود اور نفیس رکھنے کی بجائے عملی ، استعمال میں آسان ، ہمہ جہت اور مکمل رکھا گیا ہے ۔ اس میں C, sed, awk , sh کی بہترین خصوصیات کو مجمتمع کیا گیا ہے تاکہ ان زبانوں میں کام کرنے والوں کو کسی قسم کی کوئی مشکل درپیش نہ ہو۔ اظہار صرف ( expression syntax ) بہت حد تک C سے ملتا جلتا ہے ۔ اگر کسی مسئلہ کو حل کرنے کے لیے آپ عموما sed, awk sh کا استعمال کرتے ہیں مگر چاہتے ہیں کہ وہ بہتر اور تیز رفتار ہو اور اس کے لیے اسے C میں نہیں لکھنا چاہتے تو شاید پرل آپ کے مسئلہ کا بہتر حل ہے۔

پرل کا دوسرا ورژن

پرل کا دوسرا ورژن جون 1988 میں اور یہ جدید پرل سے بہت ملتا جلتا تھا۔ یہ زرخیز اور پوری طرح سے صلاحیتیوں سے لیس ایک پروگرامنگ زبان تھی۔ پرل کی خصوصیات کا رجحان زیادہ تر تحریر کی عمل کاری اور سسٹم پروگرامنگ کی طرف رہا۔ پرل کی مستند ترین کتاب 1991 میں Programming Perl by Larry Wall and Randal Schwartz شائع ہوئی ، یہ کتاب اب تک پرل زبان پر مستند ترین حوالہ ہے ۔ اس کے سرورق پر ایک اونٹ کی تصویر تھی جو پرل کا سرکاری نشان (mascot ) ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کے ساتھ ہی پرل کا چوتھا ورژن منظر عام پر آیا جو کثیر الاستعمال اور سب سے زیادہ پھیلنے والا ورژن ہے جس کی باقیات اب بھی نیٹ پر موجود ہیں گو کہ اس کا آخری ٹانکہ ١٩٩٢ میں آیا تھا۔

پرل کا ورژن 5

1994 میں پرل کا ورژن 5 سامنے آیا جس میں نجی متغیر ( private variables) ، حوالہ جات (references) ، مفعول (objects) اور modules جیسی خصوصیات کو متعارف کروایا گیا۔ اکتوبر 1996 میں Programming Perl(The Blue Camel) کا دوسرا مسودہ منطر عام پر آیا۔

آزاد مصدر اور پرل  ( Open Source) 

پرل کی کامیابی کے اہم ترین نکات میں ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ پرل کیسے بنائی گئی اور کیسے پھیلائی گئی۔ پرل کا مترجم ( interpreter) آزاد مصدر سافٹ وئیر کا حصہ ہے۔ آزاد مصدر ایک نئی اصطلاح ہے جو ایک پرانے تعقل جو سافٹ وئیر پروگرامران میں رائج تھا کو دی گئی ہے یعنی مفت بانٹنے جا سکنے والا سافٹ وئیر۔ یہ سافٹ وئیر مفت میں بانٹا جا سکتا ہے اور اس سافٹ وئیر کا ماخذ کوڈ (code ) کوئی بھی دیکھ سکتا ہے ، بدل سکتا ہے اور بہتر کر سکتا ہے ۔

مثالیں

اسی ماڈل کے پیروئے کار سافٹ وئیر لینکس Linux، اپاچی ویب سرور Apache web server اور فائر فاکس FireFox نامی ویب براؤزر ہیں۔

پرل کے فوائد

پرل کو شروع میں رپورٹ بنانے کے عمل کو آسان کرنے کے لیے استعمال کیا گیا مگر آہستہ آہستہ اس کے استعمال کا دائرہ کار بڑھنے لگا اور یہ مندرجہ ذیل کاموں کے لیے بھی استعمال ہونے لگی

خود کار انتظام نظام ( automating system administration ) مختلف کمپیوٹر نظاموں کے بیچ گوند کا کردار ویب پر CGI پروگرامنگ کے لیے سب سے مقبول زبان

پرل کے اس قدر مقبول ہونے کی دو بنیادی وجوہات ہیں ۔ پہلی تو یہ ہے کہ ویب پر جو چیز سب سے زیادہ استعمال اور دکھائی دیتی ہے وہ تحریر ہے اور تحریر پر عملیات اسی زبان میں بہترین رہتی ہیں جو اسی مقصد تحریری عملیات ( text processing ) کے لیے بنی ہو جیسا کہ پرل ہے ۔ پرل کی دوسری بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ دوسرے متبادل ذرائع کے مقابلے میں زیادہ بہتر اور تیزی سے کام کرتی ہے۔ اس کے مقابلے میں سی (C) پیچیدہ اور سیکوریٹی کے مسائل لیے ہیں ، python کو لوگ زیادہ جانتے نہیں اور Tcl مقابلتہ کافی غیر مانوس ہے ۔ پرل ایک دوستانہ زبان ہے اور اس کا نعرہ ہے کہ

کسی بھی چیز کو کرنے کے ایک سے زیادہ طریقے ہوتے ہیں

بک مارک کریں
[Ask] [Bloglines] [Blogsvine] [del.icio.us] [Digg] [Facebook] [Feed Me Links] [Google] [MySpace] [Propeller] [Reddit] [StumbleUpon] [Technorati] [Windows Live]

انگریزی کے شیدائی

پاکستان میں حکومت کیا چاہتی ہے ، یہ ایک علیحدہ بات ہے۔ پاکستانی عوام یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے انگریزی بولنے کے قابل ہو جائیں۔ یہ صرف اس لیے نہیں کہ انگریزی ایک بین الاقوامی زبان ہے اور اعلا تعلیم کے لیے باہر جانے والوں کے لیے انگریزی جاننا ناگزیر ہے بلکہ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ملک میں انگریزی جانے بغیر ترقی نہیں ہوسکتی۔ یہ اعلا سماجی طبقے کی زبان ہے ، جو لوگ انگریزی بولتے ہیں ، ان کی بات پاکستان میں زیادہ سنی جاتی ہے۔

انگریزی بولنے والا شخص خواہ علمی اور ذہنی اعتبار سے احمق ہی کیوں نہ ہو ، انگریزی بولنے کی وجہ سے وہ تعلیم یافتہ اور مہذب تصور کیا جاتا ہے۔ یہ صرف اونچا طبقہ ہی نہیں ہےجو انگریزی کا دلدادہ ہے۔ عام پاکستانی بھی انگریزی کا شیدا ہے۔ لوگ انگریزی بولنے سے خوش ہوتے ہیں۔ لاہور کے پرانے شہر میں بے نظیر بھٹو کا ایک پوسٹر دیکھنے کے لیے میں رک گئی۔ ایک آدمی میرے پاس آیا اور بولا 

مائی ڈاٹر از مسٹر بھٹو   ( مسٹر بھٹو میری بیٹی ہے )  ۔

وہ غلط انگریزی بول رہا تھا لیکن خوش تھا کہ انگریزی میں بات کر رہا ہے

( ایما ڈنکن کی کتاب  "پاکستان کا سیاسی سفر نامہ"   سے اقتباس

بک مارک کریں
[Ask] [Bloglines] [Blogsvine] [del.icio.us] [Digg] [Facebook] [Feed Me Links] [Google] [MySpace] [Propeller] [Reddit] [StumbleUpon] [Technorati] [Windows Live]

پراني تحارير »

AJAXed with AWP