آر ايس ايس فيڈ

انگریزی کے شیدائی

پاکستان میں حکومت کیا چاہتی ہے ، یہ ایک علیحدہ بات ہے۔ پاکستانی عوام یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے انگریزی بولنے کے قابل ہو جائیں۔ یہ صرف اس لیے نہیں کہ انگریزی ایک بین الاقوامی زبان ہے اور اعلا تعلیم کے لیے باہر جانے والوں کے لیے انگریزی جاننا ناگزیر ہے بلکہ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ملک میں انگریزی جانے بغیر ترقی نہیں ہوسکتی۔ یہ اعلا سماجی طبقے کی زبان ہے ، جو لوگ انگریزی بولتے ہیں ، ان کی بات پاکستان میں زیادہ سنی جاتی ہے۔

انگریزی بولنے والا شخص خواہ علمی اور ذہنی اعتبار سے احمق ہی کیوں نہ ہو ، انگریزی بولنے کی وجہ سے وہ تعلیم یافتہ اور مہذب تصور کیا جاتا ہے۔ یہ صرف اونچا طبقہ ہی نہیں ہےجو انگریزی کا دلدادہ ہے۔ عام پاکستانی بھی انگریزی کا شیدا ہے۔ لوگ انگریزی بولنے سے خوش ہوتے ہیں۔ لاہور کے پرانے شہر میں بے نظیر بھٹو کا ایک پوسٹر دیکھنے کے لیے میں رک گئی۔ ایک آدمی میرے پاس آیا اور بولا 

مائی ڈاٹر از مسٹر بھٹو   ( مسٹر بھٹو میری بیٹی ہے )  ۔

وہ غلط انگریزی بول رہا تھا لیکن خوش تھا کہ انگریزی میں بات کر رہا ہے

( ایما ڈنکن کی کتاب  "پاکستان کا سیاسی سفر نامہ"   سے اقتباس

بک مارک کریں
[Ask] [Bloglines] [Blogsvine] [del.icio.us] [Digg] [Facebook] [Feed Me Links] [Google] [MySpace] [Propeller] [Reddit] [StumbleUpon] [Technorati] [Windows Live]

نیکی

کچھ لوگ ہیں جو اس ملک کو برا کہہ کر ہی سکون پاتے ہیں ۔ ایسے لوگ صرف پاکستان میں ہی پائے جاتے ہیں۔ دنیا کی کوئی قوم بھی ایسی نہیں ہے جو ایسے لوگوں کو اپنے درمیان پائے اور انہیں برداشت کرتی رہے۔ جنہیں اس قوم پر غصہ آتا ہے ، ان کا احترام کرو ، ان کے سامنے محبت اور عقیدت سے گردنیں جھکاؤ مگر جو برائی کرنا اور پاکستان کی تحریک  کو طعنے دینا چاہتے ہیں ، انہیں نمک حرام اور غدار جانو کہ بروں کو برا کہنا اور سمجھنا بھی نیکی ہے۔   ( جون ایلیا )  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بک مارک کریں
[Ask] [Bloglines] [Blogsvine] [del.icio.us] [Digg] [Facebook] [Feed Me Links] [Google] [MySpace] [Propeller] [Reddit] [StumbleUpon] [Technorati] [Windows Live]

عرض خدمت

اورنگ زیب عالمگیر کی بیٹی زیب النسا مخفی ایک دن اپنے محل کے باغ میں ٹہلتے ہوئے یہ شعر پڑھ رہی تھی ۔

 

چہار چیزر دل برو کدام چہار

شراب و سبزہ وآبِ رواں اوروئے نگار

 

یعنی چار چیزیں دستیاب ہو جائیں تو دل سے غم کے سارے کانٹے نکل جاتے ہیں۔ شراب ، سبزہ ، بہتا ہوا شفاف پانی اور محبوب کا چہرہ ۔ اتفاق سے اورنگ زیب ادھر آ نکلا۔ اس نے کنواری بلکہ نکاح کی تارک انتہائی محبوب بیٹی کی زبان سے یہ شعر سنا تو سٹپٹا گیا۔ اس نے کڑک کے پوچھا۔

مخفی یہ کون سی چار چیزوں کے نام لے رہی ہو جن سے غم کافور ہو جاتا ہے

 

مخفی نے فورا شعر پڑھا۔

ابا جی ! میں عرض کر رہی تھی ۔

 

چہار چیزر دل برو کدام چہار

نماز ، روزہ ، تسبیح و توبہ استغفار

بک مارک کریں
[Ask] [Bloglines] [Blogsvine] [del.icio.us] [Digg] [Facebook] [Feed Me Links] [Google] [MySpace] [Propeller] [Reddit] [StumbleUpon] [Technorati] [Windows Live]

ایران نے توہین رسالت پر مبنی تصاویر کی دوبارہ اشاعت پر ڈنمارک کے سفیر کو طلب کرکے احتجاج کیا ۔تہران میں مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے حکام نے ڈنمارک کے بڑے اخبارات میں حضور ﷺ سے متعلق توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر احتجاج کیا گیا ۔ایران کی جانب سے ڈنمارک کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور ایسے واقعات کو بار بار ہونے سے روکا جائے۔ڈنمارک کے گیارہ بڑے اخبارات میں ایک بار پھر توہین رسالت پر مبنی خاکے شائع کیے گئے تھے ۔دو ہزار چھ میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر مشتعل افراد نے ایران میں ڈنمارک اور دیگر غیر ملکی سفارتخانوں پر حملے کیے تھے اور ڈنمارک کا پرچم نذر آتش کر دیا تھا ۔

 

2005 میں بھی یہ کارٹون شائع کیے گئے تھے اور بہت ہنگامہ ہوا تھا اور اب دوبارہ شائع کرکے کس کا امتحان لیا جا رہا ہے ؟

 

کیا اسی شرارت کا نام آزادی رائے ہے ؟

 

کیا شرانگیزی صرف مسلمانوں کے لیے ہی بچا کر رکھ لی گئی ہے اور باقی جو چاہیں کریں ؟

بک مارک کریں
[Ask] [Bloglines] [Blogsvine] [del.icio.us] [Digg] [Facebook] [Feed Me Links] [Google] [MySpace] [Propeller] [Reddit] [StumbleUpon] [Technorati] [Windows Live]

اردو زبان دنیا کی جدید ترین زبانوں میں سے ایک ہے اس لیے اس کا ادب بھی کم سنی کے دور سے گزر رہا ہے۔

Click to continue reading “اردو کی کہانی از مقبول انور داؤدی”

بک مارک کریں
[Ask] [Bloglines] [Blogsvine] [del.icio.us] [Digg] [Facebook] [Feed Me Links] [Google] [MySpace] [Propeller] [Reddit] [StumbleUpon] [Technorati] [Windows Live]

آج کا اخبار

29 جنوری کے اخبارات سے چند سیاسی و غیر سیاسی لطیفے 

دفتر خارجہ کے ترجمان ایم صادق نے کہا ہے کہ امریکہ میں عبدالستار ایدھی سے پاکستانی پاسپورٹ لئے جانے اور تفتیش کا سختی سے نوٹس لیا گیا ہے اور واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے امریکی حکام سے رابطہ بھی کیا ہے۔

یقینا اس رابطے کے بعد امریکی حکام کی نیندیں اڑ گئیں ہوگی اور وہ اس وقت کو کوستے ہوں گے جب انہوں نے امریکہ میں عبدالستار ایدھی کا پاسپورٹ لے کر انہیں ایک طرح سے قیدی بنا لیا تھا۔ فی الفور ہی معافی مانگ کر عبدالستار ایدھی کا پاسپورٹ عزت اور احترام کے ساتھ آئندہ ایسی گستاخی نہ کرنے کا وعدہ کرکے واپس  کر دیا جائے گا۔

امریکہ پاکستان میں کبھی کارروائی نہیں کرے گا، صدر مشرف

صدر جنرل پرویز مشرف نے لندن میں بیٹھ کر کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں کبھی کارروائی نہیں کرے گا اور یہ سب باتیں میڈیا کی پھیلائی ہوئی ہیں۔ میڈیا واقعی بہت دریدہ دہن اور گستاخ ہے اور بلاوجہ کبھی باجوڑ میں امریکی میزائل چلانے کی کبھی کوئی مدرسہ اڑانے کی خبر پھیلا دیتا ہے اور کبھی امریکی صدارت کی دوڑ میں شریک امیدواروں کے پاکستان پر حملے کے بیانات پھیلا دیتا ہے جو یقنیا ملک دشمنی کے مترادف ہیں بھلا ہمیں اپنے صدر پر یقین کرنا ہے یا جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے آزاد ہوئے میڈیا کی پھیلائی ہوئی باتوں کی جو سراسر حکومت کی مخالف میں اور انہیں حکومت سے خدا واسطے کا بیر ہے۔

صدر مشرف کا دورہ یورپ

یورپ کا میاب دورہ کرنے کے بعد صدر نے کہا کہ انہوں نے عالمی برادری کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے ( یہ درست سمت صرف صدر صاحب کو ہی معلوم ہے پوری قوم اس سمت کو ڈھونڈنے کی کوشش میں ہے) ۔

بعض قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی پر قابو پانے میں کامیابی ہورہی ہے اور ملک میں اقتصادی استحکام بھی برقرار ہے ۔ ( استحکام کے اصطلاحی معنوں کے لیے آپ کو مشرف لغت دیکھنی کی ضرورت ہوگی)

پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں ( ابھی انہیں کتنا کامیاب ہونا ہے )

۔ صدر نے کہا کہ ملک میں تمام ادارے ( جو صدر کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں ) معمول کے مطابق کام کررہے ہیں

۔ اٹھارہ فروری کو شفاف ، منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کرائے جائیں گے (شفاف ، منصفانہ اور آزادنہ کے معنی بھی آپ کو مشرف لغت سے ہی دیکھنے پڑیں گے) اور نئی حکومت کے قیام کا عمل کسی رکاوٹ کے بغیر مکمل ہوجائے گا۔

صدر پرویز مشرف نے امید ظاہر کی کہ آئندہ حکومت اعتدال پسند اور مستحکم ہوگی ۔ ( اگر اعتدال پسند نہ ہوئی تو صدر صاحب کو اعتدال پسند بنانے کے مجرب نسخے آتے ہیں اس لیے پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں)۔

صدر مشرف کی پیرس میں اسرائیلی وزیر دفاع سے اتفاقیہ ملاقات

دونوں رہنما ایک ہی ہوٹل میں ٹھہرے تھے اور ان میں اتفاقیہ طور پر آمنا سامنا ہوگیا اور جب آمنا سامنا ہو ہی گیا تو پھر رسما ایک دوسرے سے بات چیت کرنی پڑی اور اخلاقیات نبھانی پڑیں۔ اگلے روز صدر صاحب کو مزید اخلاقیات کا خیال آیا اور انہوں نے ایہود بارک کو ملاقات کی اتفاقی دعوت دے دی جو اتفاق سے انہوں نے قبول کر لی۔ یہ اتفاقیہ ملاقات جو دعوت میں بدل گئی وہ ایک گھنٹہ جاری رہی۔ اس اتفاقیہ ملاقات میں ایہود بارک نے اتفاقا ایران کے نیوکلئیر پروگرام کی بات چھیڑ دی اور اس پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اس کے بعد اتفاقیہ طور پر پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کے عدم تحفظ پر بھی مسلسل تشویش کا اظہار کرتے رہے جس پر صدر نے انہیں یقین دلایا کہ یہ ہتھیار اتفاقی طور پر بھی کسی کے ہاتھ نہیں لگ سکتے جس پر دونوں نے اتفاق کا اظہار کیا کم از کم صدر صاحب نے تو کیا۔

صدارتی ترجمان نے بتایا ہے کہ صدر مشرف اور اسرائیلی وزیر دفاع میں نہ تو کوئی ملاقات ہوئی اور نہ کوئی اتفاق اور نہ کوئی اتفاقیہ بس دونوں نے کھڑے کھڑے سلام دعا کیا اور اپنی اپنی راہ لی البتہ برا ہو میڈیا کا جس نے یہ سب باتیں پھیلا دی ہیں۔

نصیبو لال نے کہا ہے کہ عوام اس بات کو سمجھیں کہ غیر اخلاقی گانے گانا میری مجبوری ہے۔

عوام کو سمجھنا چاہیے کہ نصیبو لال اپنی خوشی سے یہ گانے نہیں گاتی بلکہ یہ مجبوری کا سودا ہے بالکل ویسے ہی جیسے صائمہ خان اور دوسری سٹیج کی رقاصائیں باامر مجبوری غیر اخلاقی رقص پیش کرتی ہیں یقینا وہ بھی پروڈیوسر صاحبان کی فرمائش پر ہے اور فنی مجبوریوں کو پیش نظر رکھنا پڑتا ہے مگر عوام کی بھی کوئی کل سیدھی نہیں وہ غیر اخلاقی چیزیں بھی چاہتے ہیں اور مجبوریاں بھی نہیں سمجھنا چاہتے۔

 

بک مارک کریں
[Ask] [Bloglines] [Blogsvine] [del.icio.us] [Digg] [Facebook] [Feed Me Links] [Google] [MySpace] [Propeller] [Reddit] [StumbleUpon] [Technorati] [Windows Live]

محسن حجازی کی یہ دردمندانہ اپیل ابھی ابھی نظر سے گزری ہے اور سخت تشویش لاحق ہو گئی ہے۔ اس لیے جو محسن نے لکھا ہے وہ من و عن ہی شائع کر رہا ہوں اور سب اردو سے محبت کرنے والوں سے درخواست ہے کہ وہ بڑھ چڑھ کر گلوبل سائنس کی مدد کریں۔

monthly Global Science,
139-Sunny Plaza,
Hasrat Mohani Road, Karachi.
Voice: 021-2625545

اردو میں سائنس پر بہت کم کام ہوا ہے۔ گلوبل سائنس ایک ایسا ہی سائنسی ماہنامہ ہے جو گذشتہ دس سال سے اردو کی خدمت کر رہا ہے۔ خاص طور پر اردو سائنسی اصطلاحات سازی میں اس رسالے کے مدیران نے جو کردار ادا کیاہے وہ تمام بڑے بڑے نام نہاد قومی ادارے بھی نہیں کر سکے۔ اس رسالے کی تعداد اشاعت بھی کچھ خاص نہیں اور مشتہرین بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔
میں خود اس رسالے کا بہت عرصے تک قاری رہا ہوں۔ جنوری کا شمارہ نظر سے گزرا توا معلوم ہوا کہ اس ادارے کے مالی حالات بے حد نازک ہیں اور نوبت یہاں تک جا پہنچی ہے کہ ادارہ فقط اگلے تین ماہ تک ہی رسالے کا اجرا کر سکتا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے رسالے میں صاحب حیثیت و مخلص حضرات سے تعاون کی اپیل بھی شائع کی ہے۔ علاوہ ازیں اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کے بارے میں اداریہ بھی لکھاہے جسے پڑھ کر میں اشک بار ہوگیا۔
میرے لیے ممکن نہیں ہے کہ میں اس ادارے کی دس سالہ شاندار خدمات کا احاطہ کر سکوں۔ میں خود ایک ایسے ادارے کے اندر رہ کر آیا ہوں جہاں عوام کا کروڑوں روپیہ محض ذاتی تشہیر و تعیش کے لیے اردو کے نام پر ضائع کیا جا رہا ہے اور نہ صرف یہ بلکہ مزید ضائع کرنے کے منصوبے بھی بنائے جا رہے ہیں۔ اس کے بارے میں تفصیلات پھر کبھی۔ بہرطور اتنا ضرور کہوں گا کہ ریاضی، طبعیات، ما بعد الطبعیات، کیمیا، فلکیات، عمرانیات، حیاتیات اور کمپیوٹر سائنس تک تمام موضوعات پر سینکڑوں مضامین ترجمہ و تحریر کیے جا چکے ہیں۔ اگر اردو سائنسی صحافت کا یہ اکلوتا بالغ و روشن چراغ گل ہو گیا تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک ایسا المیہ ہوگا جسے کم سے کم میں ذاتی طور پر نہ سہہ پاؤں گا۔ اس کے مقابلے میں ایک انگریزی جریدہ جو پاکستان میں کثیر تعداد میں چھپتا ہے، صرف کمپیوٹر سائنس سے متعلق ہے اور مجھے اس رسالے میں محدود مصنفین کی محدود تر ذاتی آرا سے اٹے ہوئے مضامین سے بڑھ کر کبھی کچھ نظر نہیں آیا۔ اسے قارئین کی بڑی تعداد محض اشتہاروں کے لیے خریدتی ہے تاکہ بدلتی مارکیٹ پر نظر رکھی جا سکے اور اس بات کا اندازہ اس انگریزی رسالے کی انتظامیہ کو بھی خوب ہے۔ گلوبل سائنس کو اردو میں ہونے کی وجہ سے ملٹی نیشنل تو کیا نیشنل کمپنیاں بھی اشتہار دینے سے کتراتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس شدید مہنگائی کے دور میں اس ادارےکے لیے اپنے وجود کو برقرار رکھنا بے حد کٹھن ہو گیا ہے۔ خاص طور پر عہد زریں المعروف بہ عہد مشرفیہ شریف میں کاغذ کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ تاہم فلمیں اور بے ہودہ گانے اور رقص سستے ہیں۔
اس سلسلے میں ایک تو گزارش یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس جنوری کا شمارہ ہے تو براہ کرم وہ اداریہ اور وہ نوٹ یہاں چسپاں کر دیں۔
دوم یہ کہ اس ادارے سے تعاون کا طریقہ کار یہ ہے کہ آپ اس کے سالانہ خریدار بن جائیں جس کے لیے صرف 500 روپے درکار ہیں۔
اگر یہ پیغام کسی غلط دھاگے میں ارسال کر دیا ہے یا فورم کی پالیسی کے خلاف ہے تو پیشگی معذرت۔
نوٹ:- میرا گلوبل سائنس سے کوئی تعلق نہیں نہ ہی اس کے منتظمین سے کوئی ذاتی تعلق یا کسی قسم مراسلت و خط و کتابت ہے نہ کبھی رہی ہے، یہ پیغام خالصتا نیک نیتی کے جذبے سے ارسال کیا جا رہا ہے۔
والسلام،
محسن۔

پتہ ایک بار پھر لکھ رہا ہوں

monthly Global Science,
139-Sunny Plaza,
Hasrat Mohani Road, Karachi.
Voice: 021-2625545

بک مارک کریں
[Ask] [Bloglines] [Blogsvine] [del.icio.us] [Digg] [Facebook] [Feed Me Links] [Google] [MySpace] [Propeller] [Reddit] [StumbleUpon] [Technorati] [Windows Live]

وراثتی رازوں کا حل

ٹائم میگزین کی کہانی

 

ٹائم (20 مارچ 1989 ) کی کور کہانی ڈی این اے (DNA) کے بارے میں تھی جس کا عنوان تھا ۔ وراثتی رازوں کا حل کرنے کی کوشش۔

 

Solving the mysteries of heredity

 

 

مضمون سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈی این اے کے بارے میں تحقیقات ہوئ ہیں وہ ارتقائے حیات کے قدیم تصور سے مطابق نہیں رکھتیں۔ اس مضمون کے بارے میں کچھ خطوط ٹائم (10 اپریل 1989 ) میں شائع ہوئے۔ ٹائم کے ایک قاری مسٹر بیورلی کرو ( Beverely Chorro ) نے اپنے خط میں لکھا کہ جو شخص ان مضامین کو پڑھے اور اب بھی اس کی یہ خواہش ہو کہ وہ تخلیق کا کریڈٹ خدا کی بجائے ارتقاء کو دینا چاہے تو یا تو وہ بے عقل ہے یا اتنا زیادہ مغرور ہے کہ اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرنا چاہتا ؛

 

Whoever reads these articles and still has the gall to credit evolution rather than God, for our remarkable DNA is an idiot or too proud to admit he is wrong. ( 1989-90)

 

 

مولانا وحید الدین خان کی “ ڈائری “ سے انتخاب

بک مارک کریں
[Ask] [Bloglines] [Blogsvine] [del.icio.us] [Digg] [Facebook] [Feed Me Links] [Google] [MySpace] [Propeller] [Reddit] [StumbleUpon] [Technorati] [Windows Live]

یہ کالم فاطمہ بھٹو نے جنگ میں اپنی پھوپھو بینظیر بھٹو کے لیے لکھا ہے اور میرا خیال ہے بینظیر بھٹو پر لکھے جانے والے کالموں میں ایک بہترین کالم ہے۔

اپنی مرحومہ پھوپھی سے میرے تعلقات کی نوعیت کافی پیچیدہ تھی۔ یہ بہرطور ایک حقیقت ہے ایک افسوسناک حقیقت !!! یہ بھی ایک بدیہی حقیقت ہے کہ گزشتہ پندرہ برس کے دوران ہم نے دوستوں یا رشتے داروں کی طرح ایک دوسرے سے قطعاً کوئی سلوک نہیں کیا۔ یہ پندرہ برس کا عرصہ ہم نے ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہ کر بسر کیا تھا تاہم اس ہفتے میں نے بھی انہیں باندازِ دگر یاد کرنے کی کوشش کی اور خواہش کی ہے۔ میں انہیں ایک مختلف طریقے سے یاد کرنا چاہتی ہوں کیونکہ مجھے ایسا ہی کرنا ہو گا۔ یہ ملک جو میرا وطن ہے اور جس پر میرا ایمان غیر متزلزل ہے میں اس ایمان کو کبھی کھونا نہیں چاہوں گی۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ انہیں بغیر کسی سبب اور وجہ کے قتل کیا گیا ہے۔ تشدد اپنی خالص شکل میں کس قدر سفاک اور ناقابل معافی ہوتا ہے۔ میں اب بھی اس صورت حال کو ذہنی طور پر تسلیم کرنے سے قاصر ہوں۔ بہر صورت مجھے اپنی مرحومہ پھوپھی کو الوداع تو کہنا ہی ہو گا۔ ایک ایسا الوداعیہ جسے اشکوں سے تحریر کیا گیا ہے، جس میں شدید غم و غصہ بھی شامل ہے لیکن جو ایک ایسے مقام سے پیش کیا جا رہا ہے، جو بے حد دور افتادہ ہے اور جسے حافظے اور معذرت خواہی کے جذبے کے ساتھ خلط ملط بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ایسی جگہ ہے جہاں کسی اور وقت ہم سب محفوظ تصور کئے جا سکتے تھے۔ جب میں ننھی منی سی بچی تھی تو اپنی پھوپھی کو بڑی بوا ( سندھی زبان میں وڈی بوا ) کہہ کر مخاطب کیا کرتی تھی جو سندھی افراد اپنے والد کی بڑی بہن کو کہتے ہیں۔ جب مجھے یہ خبر ملی کہ میری بڑی بوا کو کچھ ہو گیا ہے تو مجھے بڑا تعجب ہوا کیونکہ یہ ایک ایسا تاثر تھا جو میں نے اس سے پہلے اتنی طویل مدت کے دوران کبھی نہیں سنا تھا چنانچہ ٹیلی ویژن پر جب میں نے یہ خبر سنی تو مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی اور کے بارے میں یہ خبر سن رہی ہوں۔ مجھے دفعتاً ایک ایک کر کے سب ہی واقعات یاد آنے لگے۔ ہم دونوں مل جل کر بچوں کی کتابیں پڑھا کرتے تھے۔ ہمیں ایک ہی طرح کی مٹھائیاں بھی پسند تھیں۔ خشک میوہ اور پھل بھی ہمیں ایک جیسے ہی پسند تھے۔ ہم دونوں کے کان میں تکلیف کی نوعیت بھی مشترک تھی جس کے نتیجے میں ہم دونوں کئی برس تک شدید اذیت میں مبتلا رہے۔ بہرطور اس سے قبل میں نے ایسا مضمون نہیں لکھا جسے تحریر کرنا مجھے تقریباً نا ممکن سا لگ رہا ہو۔ اس کے باوجود ہم ایک دوسرے سے کافی مختلف تھیں۔ لوگ ہمیں ایک دوسرے سے ملانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں غالباً وہ جبلی طور پر ایسا کرتے ہیں اور کر سکتے ہیں لیکن میرے لئے یہ بے حد دشوار ہے کہ میں بیک وقت دو ایسے افراد کے بارے میں لکھ سکوں جن میں سے ایک کے لئے مجھے صیغہٴ ماضی اور دوسرے کے لئے صیغہٴ حال استعمال کرنا پڑے۔ بالخصوص اس وقت جب ایک فرد کی شخصیت دوسرے کو حیرت زدہ ہو کر یہ سوچنے پر مجبور کر دے کہ واقعی زمانہٴ حال یا زمانہ ماضی کا کوئی حقیقی وجود ہے بھی یا نہیں ؟؟؟ مجھے اپنی مرحومہ پھوپھی کی سیاست سے کبھی اتفاق نہیں رہا۔ جی ہاں۔ کبھی نہیں، مجھے ان لوگوں سے بھی قطعاً کوئی اتفاق نہ تھا، جو انہیں ہر وقت گھیرے رہتے تھے۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر مجھے کراہت محسوس ہوتی تھی۔ واقعات اور حالات کی جو تعبیر اور تفسیر وہ بیان کرتی تھیں اس سے بھی مجھے کوئی اتفاق نہیں رہا۔ تاہم یہ باتیں اور اختلافات ان کی زندگی تک تھے لیکن اب وہ ہمارے درمیان موجود نہیں رہیں۔ موت ہمیں سکون اور اطمینان کے ساتھ سوچنے کا پیغام دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے، جو ہمیں ٹھنڈے دل کے ساتھ چیزوں پر غور کرنے کا موقع دیتا ہے۔ موت ہمیں بتاتی ہے کہ بس !!! بہت ہو چکا۔ ہم آپس میں کافی لڑ بِھڑ چکے اب ہم مزید پاگل پن کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ میں اپنے خاندان کے ساتھ ہونے والے المناک واقعات کا سوگ منا رہی ہوں۔ میرا دل بلاول، بختاور اور آصفہ کے لئے رو رہا ہے۔ میں ان کے رنج و غم میں برابر کی شریک ہوں کیونکہ وہ میرے مرحوم والد کی حقیقی بہن تھیں۔ انہیں بھی میں اپنے والدین جیسا ہی سمجھتی تھی۔ میں ایسے تجربے سے گزر چکی ہوں، جب کوئی سمندر کی لہروں میں گم ہوتا ہوا محسوس کرتا ہے جہاں صرف خوف اور بے بسی ہی اس کے ساتھ ہوتے ہیں مجھے اس جانکاہ صدمے کا بڑا تلخ تجربہ ہو چکا ہے۔ میں پارٹی کے کارکنوں کے لئے بھی افسردہ ہوں جو اس المناک حادثے میں اپنے پیاروں سے محروم ہو چکے ہیں۔ جب کوئی اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اس کے عزیز، رشتے دار اور احباب سب ہی مساجد، گرجا گھروں اور مندروں میں جمع ہو کر اس کے لئے دعائے خیر کرتے ہیں اور رنج و امید سے بھرے حمدیہ کلمات ادا کرتے ہیں۔ ابھی تک کوئی ایسی حمد نہیں لکھی گئی جو غم و غصے یا احساس محرومی کو ظاہر کرتی ہو۔ یہ لمحات بھی بالآخر بیت جائیں گے۔ وقت بہت بڑا مرہم ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب ہمیں کیسی حمد گانا ہو گی؟؟ ایک ایسی حمد جس میں اداسی اور افسردگی کے بعد سورج نمودار ہوتا ہے۔ ہر رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کس چیز کے لئے پُر امید ہو سکتے ہیں؟؟ صبح کو بیدار کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہو گا؟ میں اپنے قارئین کے ساتھ ہمیشہ نہایت دیانتدار رہی ہوں۔ میں نے ان سے کبھی اپنے دل کی بات نہیں چھپائی۔ اس کا اظہار میں نے شروع ہی میں ان سے کر دیا تھا۔ میں پوری ایمانداری اور سچائی سے اس بات کا اظہار کرنا چاہتی ہوں کہ میرا نقصان کم نہیں ہوا۔ میں اب تک صدمے کی حالت سے باہر نہیں آ سکی۔ میں صدمے کی حالت میں ہوں کیوں کہ اب تک میں نے اپنے جتنے پیاروں کو مٹی میں دفن ہوتے دیکھا ہے ان سب کی ہلاکت غیر قدرتی طریقوں سے ہوئی تھی۔ ان میں سے کوئی بھی اپنی قدرتی موت نہیں مَرا۔ میرے چار انتہائی قریبی اور نزدیکی عزیز رشتے دار، جنہیں مٹی کے سپرد کیا گیا ، سب کے سب وحشیانہ اور سفاکانہ قتل کا نشانہ بنے ہیں۔ میں اپنے دادا ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کے پانچ برس بعد پیدا ہوئی تھی۔ میں نے اپنے دادا کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والے خلاء میں جنم لیا تھا چنانچہ اپنے مرحوم والد میر مرتضیٰ علی بھٹو کے نزدیک میں ان کے لئے نئی زندگی کی نوید تھی۔ میں اپنے مرحوم دادا کی تقاریر سن کر بڑی ہوئی اور ان کے ویڈیو کیسٹ بھی میں نے دیکھے ہیں۔ جب میرے دادا کو شہید کیا گیا تھا تو میرے والد ابھی نوجوان ہی تھے اور یہ صدمہ ان کے آخری سانس تک، ان کے ساتھ ہی رہا تھا۔ وہ اپنے والد کی جدائی کے غم سے کبھی آزاد نہ ہو سکے تھے۔ جب میرے چچا شاہ نواز بھٹو کا پیرس میں قتل ہوا تو میں فقط تین برس کی تھی۔ مجھے یاد ہے اس موقع پر میری بڑی بوا نے میرے ساتھ بیٹھ کر مجھے کہانیاں سنائی تھیں۔ خاندان کے دیگر افراد اس سانحے کے بارے میں پولیس سے گفت و شنید میں مصروف تھے۔ چودہ برس کی عمر کو پہنچی تو یوں سمجھ لیں میری زندگی کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ میں اپنے قلب اور اپنی روح سے محروم ہو چکی تھی۔ میرے پیارے والد میر مرتضیٰ علی بھٹو کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔ اس لمحے کے بعد سے میں صرف اور محض اپنی شخصیت اور وجود کا ایک سایہ بن کر رہ گئی ہوں اور اب جب میری عمر پچیس برس ہے تو میری بڑی بوا کو مجھ سے چھین لیا گیا۔ بہرحال یہ مضمون میری ذات کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کی یاد میں لکھا گیا ہے جو مجھ سے بچھڑ چکے ہیں۔ یہ ہمارے آبائی قبرستان گڑھی خدا بخش کے بارے میں ہے جو لمحہ بہ لمحہ قبروں سے بھرتا چلا جا رہا ہے۔ میری دعا ہے کہ کاش یہ آخری میت ہو اور ہمیں آئندہ کسی کو اتنی جلد الوداع نہ کہنا پڑے۔ الوداع بڑی بوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الوداع

بک مارک کریں
[Ask] [Bloglines] [Blogsvine] [del.icio.us] [Digg] [Facebook] [Feed Me Links] [Google] [MySpace] [Propeller] [Reddit] [StumbleUpon] [Technorati] [Windows Live]

اوہ وی خوب دیہاڑے سن

 

اوہ وی خوب دیہاڑے سن

بھوک لگدی سی منگ لیندے سن

مل جاندا سی کھا لیندے سن

نئیں ملدا سی رو پیندے سن

روندے روندے سو جاندے سن

ایوی خوب دیہاڑے آں

بھوک لگدی اے منگ نئیں سکدے

ملدا اے تے کھا نئیں سکدے

نئیں ملدا تے رو نئیں سکدے

نہ روئیے تے سو نئیں سکدے

 

 

یہ نظم Daewoo سے سفر کرتے ہوئے منو بھائی سے سنی تھی اور اتنی عمدہ تھی کہ فورا ہی دل میں اتر گئی

بک مارک کریں
[Ask] [Bloglines] [Blogsvine] [del.icio.us] [Digg] [Facebook] [Feed Me Links] [Google] [MySpace] [Propeller] [Reddit] [StumbleUpon] [Technorati] [Windows Live]

« نئي تحارير - پراني تحارير »

AJAXed with AWP