آر ايس ايس فيڈ

نیا سال اچھا ہو

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
نئے وعدوں کا جو ڈالا ہے وہ جال اچھا ہے

ظلم کی رات بہت جلد ڈھلے گی
آگ چولہوں میں ہر ا ک روز جلے گی

بھوک کے مارے کوئی بچہ نہیں روئے گا
چین کی نیند ہر ا ک شخص یہاں سوئے گا

آندھی نفرت کی چلے گی نہ کہیں اب کے برس
پیار کی فصل اگائے گی زمیں اب کے برس

ہے یقیں اب نہ کوئی شور شرابہ ہو گا
ظلم ہو گا نہ کہیں ، خون خرابہ ہو گا

اوس اور دھوپ کے صدمے نہ سہے گا
کوئی اب میرے دیس میں بے گھر نہ رہے گا

را ہنماؤں نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
دل کے بہلانے کوغالب یہ خیال اچھا ہو

حسین اور کاروبار یزید

کیا ستم ہے کہ آج پیروئے یزید بھی
ماتم کناں ہیں لے کر نام حسین ہی
وہ جو دست یزید پر بیعت کیے ہیں ظلم کی
وہ جو کھیلتے ہیں جسم و جاں سے سادہ دلوں کی
وہ بھی روتے ہیں لے کر نام حسین ہی

میں دس بہ دست گزارش ہے ساہوکاروں ، سرمایہ داروں ، سیاستدانوں ، حکمرانوں اور علمائے سو سے عرض کر رہا ہوں کہ آیتیں ، حدیثیں اور جانے کتنی مقدس چیزیں بیچ کر بھی ان کا دل نہیں بھرا تو فریب و ریا کے لیے کوئی اور شے ڈھونڈ لیں مگر خون حسین فروخت کرنا بند کر دیں۔ کسی کو تو چھوڑ دیں، خون حسین پر تو اپنی دکانیں نہ سجاؤ ، حسین کے لہو کی سبیلیں تو نہ لگاؤ ، حسین کی قربانی کی تجارت تو نہ کرو۔ حسین کا نام لے کر اپنے قد اونچے کرنے کی ناکام کوشش تو نہ کرو ، حسین کی اعلی ظرفیوں میں تو اپنی کم ظرفی نہ چھپاؤ ، حسین کو جذبات کی بھینٹ نہ چڑھاؤ۔

حسین میراث ہے بنی نوع انسان کی
حسین پہ تسلط نہ جماؤ
وہ جس نے خون حق دیا ہے امت کے لیے
اسے امت کے لیے وجہ تنازع نہ بناؤ
حسین سب کے ہیں
انہیں فقط اپنا نہ بناؤ

کنور سنگھ بیدی کی نظم کا یہ حصہ بہت اچھا لگا

زندہ اسلام کو کیا تُو نے   
حق و باطل کو دکھا دیا تُو نے
جی کے مرنا تو سب کو آتا ہے
مر کے جینا سکھا دیا تُو نے

سقوط ڈھاکہ سے سقوط کرپشن تک

سولہ دسمبر تمام  پاکستانیوں کے لیے یوم سوگ ہوتا ہے۔ اس دن ہمارا ایک بازو ہم سے کٹ گیا تھا اور ہمارے بڑوں نے کمال سنگدلی اور بے حسی سے اس بازو کا نہ صرف کٹنا گوارا کر لیا بلکہ اسے جوڑنے کی کوئی کوشش بھی نہ کی۔

وہ جو کبھی “ہم“  تھے  آج  “میں“ اور “تم“  کیسے ہوگئے

چونکہ صوبائیت کا  زہر ہر طرف کار فرما ہے اور اچھے خاصے باعلم  پڑھے لکھے غیر جانب دار لوگ بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے اب ہر شخص کے ساتھ اس کی قومیت ضرور لکھوں گا تاکہ پڑھنے والے کو قوم کا پتہ چل سکے۔

ابھی بھی فقط ادھورے سچ کا ذکر جاری ہے ابھی بھی سارا قصور پنجابیوں کا نکالا جا رہا ہے جس میں سب سے زیادہ سیاہ کردار پٹھان ایوب کا تھا جس نے کتا کتا کہلوا کر بھی جاتے جاتے اقتدار اپنے ہی بنائے ہوئے آئین کی بجائے پنجابی چیف آف آرمی سٹاف یحیی کو دے گیا۔ تین کرداروں میں ایک کا تعلق سندھ سے ایک کا پنجاب سے اور ایک کا بنگلہ دیش سے تھا۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے یحیی کا نام تو سیاہ حروف سے لکھا جاتا ہے اور لکھا جانا بھی چاہیے مگر سندھی بھٹو اور بنگالی مجیب کا سیاہ کردار، روشن اور ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اس پر کب احساس ہوگا ہمیں اور کب لکھا جائے۔ بنگالیوں کو ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے ان سے زیادہ دنیا کی کوئی قوم مظلوم تھی نہ ہے جب کہ ان کی اپنی حرکات بھی بہت سیاہ تھی اگر ان پر ظلم ہوا تو انہوں نے بھی ظلم کی انتہا کر رکھی تھی اور مظالم کے لیے وہ سب سے زیادہ خود ذمہ دار ہیں۔ پہلا مارشل لا اسکندر مرزا نے لگوایا ایوب کو بلوا کر ۔ ایوب مرزا پٹھان تھا اور اسکندر مرزا بنگالی اور جس وزیر اعظم کو برطرف کیا گیا وہ پنجابی۔ اصولا تو یہ پنجاب کے ساتھ پٹھان اور بنگالی قوم کی زیادتی تھی مگر کمال خوبی سے یہ پنجاب کے حصہ میں ڈالی جاتی ہے۔ پھر جاتے جاتے پٹھان ایوب  اقتدار  پنجابی یحیی کو دے کر گیا ، اس لحاظ سے بھی پٹھان ایوب کا کردار پاکستان میں سب سے سیاہ ہے۔ پھر بنگالی مجیب اور سندھی بھٹو کی اقتدار کے لیے خونی کشمکش اور دونوں کا انجام ساری دنیا کے سامنے ہیں فقط ہمارے سوا۔ ایک کو اسی کی قوم نے گولیوں سے بھون ڈالا دوسرے کے اسی کی قوم نے پھانسی دے ڈالی۔ پنجابی یحیی تو اپنی زندگی میں ہی مر گیا تھا اور گمنامی کی زندگی گزاری ، افسوس کہ سندھی بھٹو نے اسے عزت سے دفن ہونے دیا حالانکہ پوری قوم کو اس کے سیاہ کارنامے بتانے چاہیے تھے اور عدالت سے اس کے گناہ کو ثابت کرنا چاہیے تھا مگر یہ تو تب ہوتا اگر سندھی بھٹو مخلص ہوتا۔

سولہ دسمبر کو اس سال سقوط ڈھاکہ  کے  38 سال بعد سقوط  کرپشن ہوا ہے جو قوم کی مشترکہ جدوجہد اور قربانیوں  کا ثمر ہے۔ قدرت نے اپنا فیصلہ دے بھی دیا اور سمجھا بھی دیا ہے ۔

کیا ہم اب بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مشیت  ایزدی کیا  ہے  !!!!!

 

جن آنکھوں کو
خواب محبت کی پہلی من موہنی دستک سے کھلنا تھا
وہ آنکھیں اک وحشت ناک دھماکے
کے خونی جھٹکے سے…بند ہوئی ہیں
بھورے بھورے بال الجھے ہیں… اک جھاڑی سے
تن کی دھجی دھجی رستوں پر بکھری ہے
مارنے اور مرجانے کی اندھی خواہش میں
کس بدلے کی بھاونا… اک شعلے کی صورت
اس نازک تن میں جلتی تھی
دشمن کو بن پہچانے ہی
بیس برس کے اس سینے میں
کیوں اتنی نفرت پلتی تھی؟
بیس برس کی عمرتو ماں کی سبز دعاؤں سے اُگتی ہے
بیس برس کی آنکھوں کے محمل میں تو لیلیٰ رہتی ہے
بیس برس کا دل تو عشق کی اونچی لَو سے
سرخ چراغ بنا رہتا ہے
اپنے انجانے جذبوں کا
خود ہی سراغ بنا رہتا ہے
کس نے تمہارے روشن دل کو نفرت کرنا سکھلایا تھا
لمبی عمر کی… سبز دعاؤں والی رُت میں
کس ظالم نے موت کا سپنا دکھلایا تھا؟
کس نے کہا، اس آگ میں جل کر تم کو شہادت مل جائے گی
کس نے بتایا، موت کی کالی راہ پہ جنت مل جائے گی
بیس برس کے کم سنِ دل کو
پہلی چاہت مل جائے گی؟
~~~
( ثمینہ راجہ )

ملک وقوم کو آپ کے قلم کی ضرورت ہے۔ ان بے گناہ اور معصوم لوگوں کو آپ کے قلم کی ضرورت ہے جوشب وروز  بلا وجہ اور بے قصور، تاریک راہوں میں مارے جا رہے ہیں ۔

محب علوی فانٹ

سب سے پہلے تو محترمی و مکرمی جناب شاکر القادری صاحب کا میں دل کی گہرائیوں سے مشکور ہوں کہ آدھی زبان سے کی گئی فرمائش کا اس قدر جلد پورا کر دینا بلاشبہ خصوصی محبت اور الفت اور تعلق کا آئینہ دار ہے۔ اس کے بعد میں اشتیاق صاحب کا دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے اتنی محبت اور لگن سے یہ دل کش اور خوبصورت فونٹ بنایا۔ میں فونٹ کی خوبیوں اور باریکیوں پر تو روشنی نہیں ڈال سکتا کہ میں اس فن میں درسگاہ کے باہر کھڑے ان طالب علموں کی طرح ہوں جو پڑھنا تو چاہتے ہیں مگر کم علمی سے شرمندہ تو ہیں مگر خود پسندی اور نفس امارہ انہیں اقبال کم علمی سے مانع بھی رکھتا ہے۔
فانٹ سے زیادہ خوشی مجھےشاکر صاحب کے خراج تحسین سے ہوئی ہے۔

اس فانٹ کو ار دو بلاگنگ کے مشہور نام جناب محب علوی سے منسوب کیا گیا ہے

مدت سے آرزو تھی کہ ہم بھی مشہور ہوں کسی بہانے۔ داغ  کے کہنے کےمطابق بدنامی کے داغ بھی  اٹھائے پر  وائے افسوس کہ شہرت  ملی نہ نام   ۔ جب بھی ٹی وی ، رسالوں ، میگزین ، کتابوں میں مشہور لوگوں کے قصے پڑھتا ، سنتا اور دیکھتا تو اللہ سے دل ہی دل میں شکوہ ضرور کرتا تھا کہ

یااللہ مجھے کب مشہور کرے گا ایسے ایسے کو شہرت دیتا ہے مجھے بھی تو دے دے تو تیرے خزانے میں کون سی کمی ہو جائے گا ، آج اللہ نے میری ایک دیرینہ خواہش بھی پوری کردی۔ شاکر صاحب میں آپ کو بتا نہیں سکتا کہ میں آپ کا یہ جملہ پڑھ کر کتنا مسرور ہوں۔ شکر ہے آج میں بھی اکتیس سال کی دن رات محنت کے بعد مشہور ہو ہی گیا۔

محب علوی فانٹ

القلم فانٹ

اے جذبہ دل گر میں چاہوں

اے جذبہ دل گر میں چاہوں
ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کے لیے دو گام چلوں
اور سامنے منزل آ جائے

ہاں یاد مجھے تم کر لینا
آواز مجھے تم دے لینا
اس راہ محبت میں کوئی
درپیش جو مشکل آ جائے
اس راہ محبت میں کوئی
درپیش جو مشکل آ جائے

اے جذبہ دل گر میں چاہوں

اے دل کی خلش چل یوں ہی سہی
چلتا تو ہوں ان کی محفل میں
اس وقت مجھے چونکا دینا
جب رنگ پہ محفل آ جائے

اے راہبر کامل چلنے کو
تیار تو ہوں پر یاد رہے
اس وقت مجھے بھٹکا دینا
جب سامنے منزل آ جائے

آتا ہے جو طوفان آ نے دو
کشتی کا  خدا خود حافظ ہے
مشکل تو نہیں ان موجوں میں
بہتا ہوا ساحل آ جائے

Flight over Manhattan, New York City
Image by meironke via Flickr

چوٹی کے بلاگران نے وسط نیویارک ( New York) المعروف مین ہیٹن (Manhattan)  میں عہد ساز مجلس برپا کر کے اردو بلاگنگ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے جس کی رقم البتہ ابھی اہل مجلس کے تخیل سے باہر نہیں آ سکی ہے
چوٹی کے بلاگران کی حد درجہ تاخیری عید ملن پارٹی و مجلس اردو بلاگنگ مستقبلیات  اختتام کو پہنچی جس میں چوٹی کے تین بلاگر اور دو بلا چوٹی بلاگران نے حصہ لیا۔ ایک چوٹی کے بلاگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر شامل نہ ہو سکے بلکہ تلاش و بسیار کے باوجود ان کا سراغ نہ لگایا جا سکا ۔ اس پوسٹ کے توسط سے ان کے سرچ وارنٹ جاری کیے جاتے ہیں ، جس شخص کو جہاں ملے وہیں چوٹی سے پکڑ لے۔
بیشتر کاروائی ریکارڈ کی گئی ہے جس کی محتاط ایڈیٹنگ جاری ہے اور تمام کام کی باتیں حذف کرکے اسے مفاد عامہ کے لیے پیش کر دیا جائے گا

Enhanced by Zemanta

دھڑکتے دلوں کے ساتھ تمام اردو بلاگران کو نوید سنائی جاتی ہے کہ چوٹی کے بلاگران نے ایک اور ملن پارٹی اگلے ایک دو دن میں رکھنے پر اصول طور پر اتفاق کر لیا ہے ضرورت ہے اب چند جزئیات طے کرنی کی جو کہ دو چوٹی کے بلاگران جو کہ وسط نیویارک المعروف مین ہیٹن میں پائے جاتے ہیں اور اکثر فون بند رکھنے پر قابل دشنام طرازی ٹھہرتے ہیں۔ چونکہ ملن پارٹی نیویارک کے کے دل مین ہیٹن میں ہو رہی ہے جو کہ ٹیکنالوجی کا بھی گھڑ ہے اس لیے سوچا گیا ہے کہ یہ پارٹی سادہ پارٹی نہ ہو بلکہ جدید ہتھیاروں میرا مطلب ٹیکنالوجی سے لیس ہو اور اسے شہر نیویارک ہی نہیں بلکہ امریکہ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بین البراعظمی عید ملن پارٹی کا روپ دے دیا جائے۔

تو انتظار کیجیے چوٹی کے بلاگران کی اس عید ملن پارٹی کا جس کی گواہی انٹر نیٹ کے صفحات ویسے ہی دے رہے ہیں جیسے پاکستان بھارت کے میچ سے پہلے بھارت کی بادشاہت کی گواہی بھارتی ٹیم کے کھلاڑی دے رہے تھے.

 

چوٹی کے دو بلاگران کی تجویز پر ملن پارٹی کو اگلے ہفتہ میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس دوران انتہائی کوشش ہے کہ کوئی نہ کوئی ایجنڈا بھی طے کر لیا جائے جس پر دوران ملاقات سیر حاصل گفتگو ہو سکے۔ اگر ایجنڈا عین وقت سے پہلے ترتیب پا جاتا ہے تو قوی امکان ہے کہ اس ایجنڈے پر گفتگو کے بعد چند مفید اور اہم نکات کو تحریری شکل دے کر عالمی اردو بلاگ تنظیم (جس کا خاکہ فی الوقت میرے ہی ذہن میں ہے   کے ابتدائی مسودہ کے لیے بنیادی ماخذ قرار دیا جا سکے۔

آپ سب سے مفید اور عمدہ عمدہ تجاویز کی درخواست ہے تاکہ ہم لوگوں کو کم سے  کم  محنت کرنی پڑے اور اردو کی ترقی میں ہم اپنا کلیدی کردار ادا کر سکیں

ہائے ہفتہ بلاگستان

Screenshot of the main page of Wikipedia Urdu
Image via Wikipedia

ہائے ہفتہ بلاگستان

سب سے پہلے تو میں شگفتہ کو بہت بہت مبارکباد پیش کروں گا کہ جنہوں نے اس خوبصورت کو پیش کیا اور موضوعات بھی پیش کیے اور میری اور راشد کامران کی تجویز پر اس کا دورانیہ بڑھا کر ایک ہفتہ سے دو ہفتہ کر دیا ، یہ الگ بات کہ بقول رضوان محب ایک بار پھر چکنا گھڑا ثابت ہوا اور دوسروں کے لیے وقت بڑھوا کر خود وقت گزار ہی گیا مگر اگر آپ لوگ تھوڑا ٹھنڈے دل سے سوچیں تو یہی میرا طریقہ واردات ہے کہ میں دوسروں کو کام پر لگا جاتا ہوں اور خود بس ابھی آیا کہہ کر پتلی گلی سے نکل جاتا ہوں۔ یار لوگ کافی محنتی ، سچے اور اچھے لوگ ہیں میرے کہے کو ہر بار سچ مان کر جی جان سے محنت کرتے رہتے ہیں اور عین کام کے ختم ہونے سے پہلے میں حسب معمول دوبارہ واپس آ کر ان کے حصے کا کریڈٹ لے کر الٹا ان پر احسان کر دیتا ہوں کہ دیکھا میرے کہے پر عمل سے کتنا فائدہ ہو گیا ہے اور کتنی ترقی ہو رہی ہے اردو کی ، بس ایسے ہی ہمتیں قائم اور عزم جواں رکھنے ہیں۔ دوست احباب کی مروت، انکساری اور محبت شاید ایسے ہی موقعوں کے لیے انہوں نے بچا رکھی ہوتی ہے اس لیے خوب خوب لٹاتے ہیں اور سارا کام کرکے مجھے مفت میں پذیرائی بخش دیتے ہیں۔

آمدم برسر مطلب ، بہت جی خوش ہوا ہے کہ ہفتہ بلاگستان کی بے مثال کامیابی اور اردو بلاگران کا جوش و خروش دیکھ کر۔ ایک وقت تھا کہ میں اور کئی دوست سوچا کرتے تھے کہ اردو بلاگر کب انگریزی بلاگران کی طرح متحرک ہوں گے اور کب ہم اردو بلاگنگ کو انگریزی بلاگنگ کے مقابل لا سکیں گے۔ مقام شکر ہے کہ اب یہ وقت قریب قریب نظر آ رہا ہے اور انشاءللہ جس طرح اردو بلاگران نے مل جل کر اور جوش و خروش سے ہفتہ بلاگستان منایا ہے اس سے اردو بلاگران کے اس چھوٹے مگر متحرک گروہ کی ذہنی پختگی اور ترقی کا اظہار ہوتا ہے۔ ماورا کو نہ سراہنا بہت زیادتی ہوگی جس نے عمار کے ساتھ مل کر منظر نامہ کو نہ صرف قائم کیا بلکہ عمدگی سے چلایا اور اردو بلاگران میں مشترکہ موضوع پر لکھنے کی روایت ڈالی اور شناسائی کا سلسلہ تو قابل صد تحسین ہے ہی ، میں البتہ اپنی ازلی اور روایتی سستی کی وجہ سے اب تک منظرنامہ پر انٹر ویو نہیں دے سکا ہوں مگر میں سمجھتا ہوں کہ باقی اہم لوگوں کی شناسائی کا جو سلسلہ جاری ہے وہ زیادہ اہم ہے۔

اب آمدم برسر مطلب میں بھی جو مطلب کی بات ہے اس کی طرف آتا ہوں۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ میں ٹھہرا سدا کا تاخیر پسند ، ہر کام کو ٹھہر کر اور وقت گزار کر کرنے کا عادی اس لیے یہ وقت و حدود کی قیود میں کم کم ہی پورا اترتا ہوں ۔ اسی وجہ سے ہفتہ بلاگستان کا دورانیہ ایک ہفتہ سے بڑھا کر دو ہفتہ بڑھا کر بھی میں ایک عدد پوسٹ بھی نہ کر سکا ۔ میں نے کوشش کی کہ ایک اور پوسٹ لکھ کر ایک ہفتہ اور بڑھا لوں پر یہ کام وقت پر کر لیتا تو پھر تاخیر پسندی سے جھگڑا مول لینا پڑتا اس لیے دیرینہ دوست سے حق دوستی نبھایا اور وقت گزار کر یہ پوسٹ کر رہا ہوں کہ اب میں ہفتہ بلاگستان کے حساب سے جو پوسٹس کرنی تھیں وہ میں اب کروں گا۔ مجھے علم بھی ہے اور یقین بھی کہ کچھ میرے بھائی بندے ایسے بھی ہیں جو میری ہی طرح سوچتے رہ گئے ہیں مگر پوسٹس نہ کر سکے تو ان تمام راہ تاخیر کے مجاہدو کو پیغام ہے میرا کہ جاگ اٹھو جوانو اور اپنے حصہ کی پوسٹس دیر سے ہی سہی مگر کر ڈالو۔

خصوصیت سے پروفیسر ظفری اور علامہ ابو شامل سے درخواست ہے کہ وہ اس بہتی گنگا میں میرے ساتھ ہاتھ دھو لیں التبہ باتھ سوپ ذاتی ہوگا۔

باقی دوستوں کے لیے بھی صلائے عام ہے

Enhanced by Zemanta
خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویشِ ماہ و سال نہ ہو

ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

« نئي تحارير - پراني تحارير »

WordPress Loves AJAX