آر ايس ايس فيڈ

محفوظات برائے 'عالمی حالات' زمرہ

حیرت ہے اردو بلاگران نے بش کے جوتے پر کوئی بلاگ نہیں لکھا یا شاید میری نظر سے نہیں گزرا حالانکہ ایسا تاریخی واقعہ میری نظر سے تو کم از کم نہیں گزرا اگر کسی کی نظر سے گزرا ہو تو مجھے ضرور مطلع کرے۔ سب سے پہلے تو اس دلچسپ واقعہ کی ویڈیو ملاحظہ کر لیں کیونکہ اس کے بغیر گفتگو کا لطف ادھورا رہے گا۔

 

اس کے علاوہ یوٹیوب پر جا کر شو اٹیک ٹائپ کریں اور بے شمار ویڈیو بمع ری مکس کے ملاحظہ کریں اور بش کے الوداعی عراقی دورے کا آنکھوں دیکھا عبرت ناک حال دیکھیں۔ جیو نے اس پر ایک کارٹون شو منتر بنایا ہے جس میں نور المالکی کی جگہ مشرف ہے اور کہتا ہے کہ

 

کوئی جوتے سے نہ مارے مرے دیوانے کو

 

بش پر جوتے برسانے والے البغدادیہ ٹی وی کے عراقی صحافی کا نام منتظر الزیدی ہے جسے عرب دنیا میں نئے ہیرو اور مجاہد کا درجہ دیا جا رہا ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ منتظر نے ہزار خودکش حملہ آوروں سے بڑھ کر کام کیا ہے اور عراقی عوام کی نفرت اور غصہ کی ترجمانی کی ہے۔ جوتا پھینکنے سے پہلے منتظر نے کیمرہ مین سے کہا تھا کہ غلامی کی زندگی سے شہادت کی موت کہیں بہتر ہے۔ صدر بش پر اپنا جوتا پھینکتے ہوئےکہا:

’ کتے، عراقی عوام کی جانب سے الوداع۔‘

بش نے کمال مہارت سے جھک کر خود کو جوتا لگنے سے بچا لیا مگر منتظر نے بھی دوسرا جوتا تیار رکھا ہوا تھا اور عرب بلاغت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے  دوسرا جوتا بش کی طرف پھینکا اور کہا 

’یہ عراقی بیواؤں، یتیموں اور عراق کے تمام ہلاک شدگان کی طرف سے ہے۔‘

شومئی قسمت کہ دوسرا جوتا بھی بش کو نہیں لگا گو کہ دوسری دفعہ بش جھکا نہیں، شاید اسی دن کے لیے بش  نے بیس بال سیکھی تھی۔ دوسری دفعہ بش نے ہاتھ آگے کیا اور نور المالکی نے بھی بے دلی سے ایک ہاتھ آگے کرکے جوتا روکنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد سیکورٹی گارڈز نے صحافی کو قبضہ میں لے لیا اور تا حال کسی سے ملنے نہیں دیا اور متضاد خبروں کے مطابق صحافی کی پسلیاں اور ہاتھ کی ہڈی توڑی گئی ہے۔ عراقی انتظامیہ کے مطابق صحافی بالکل ٹھیک  ہے اور اس کا مقدمہ عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔

بش کی ڈھٹائی دیکھیے کہ اس واقعہ کے فورا بعد فرمایا

 

’میں اتنا بتا سکتا ہوں کہ جوتے کا سائز دس تھا۔‘

واقعی دس نمبری جوتا ہی ہوگا جو دو کوششوں میں بھی نہیں لگا۔

سی این این ، ایم ایس این بی سی اور دوسرے کئی ممتاز امریکی نیوز چینلز نے بھی اس واقعہ کو خصوصی کوریج دی اور بار بار جوتا پھینکے جانے کا کلپ دکھایا۔ سی این این کی سائٹ پر اس لنک میں چند ویڈیوز ہیں جن میں بش کا انٹر ویو ہے اور جوتا پھینکے جانے کے متعلق چند سوالات بھی جن میں بش نے کہا کہ میرے پاس زیادہ وقت نہیں تھا کسی بھی چیز پر رد عمل کے لیے میں جھک کر جوتے کو جھانسہ دے رہا تھا۔ بش کا یہ بھی کہنا تھا کہ انتظامیہ کو بہت زیادہ رد عمل نہیں دکھانا چاہیے اور یہ میری صدارت  کا عجیب ترین واقعہ ہے ساتھ ہی اسے بھی اپنا کارنامہ بتایا اور مزید کہا کہ آزاد معاشرہ جنم لے رہا ہے اور آزاد معاشرہ ہماری سیکوریٹی اور امن کے لیے ضروری ہے۔ ایک بہت ہی دلچسپ ویڈیو اسی لنک پر ہے جس میں امریکہ میں اس واقعہ کے بارے میں لوگوں کے تاثرات ہیں اور ساتھ کچھ ویڈیو کاریگری بھی ہے۔ ویڈیو کا نام ہے

shoe-icide attack  ویڈیو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

ونیزویلا کے صدر ہیوگو شاویز نے منتظر کو بہادر شخص قرار دیا ہے اور یہ کہتے ہوئے ہنسی چھپائے نہیں چھپتی تھی۔ سعودی عرب کے ایک باشندے نے جوتے کی قیمت ایک کروڑ ڈالر رکھی ہے۔ تحریک انصاف نے بھی دس لاکھ کی بولی دی ہے۔بش کی صدارت پر بہت تبصرے اور تجزیے ہوں گے مگر جو مکمل اور بھرپور تجزیہ اور تبصرہ منتظر الزیدی نے جوتوں کی شکل میں کر دیا ہے وہ شاید کوئی اور نہ کرسکے۔

جاتے جاتے بش کو اپنی صدارت پر مکمل اور جاندار تاثرات مل گئے ہیں دو جوتوں کی شکل میں جسے پوری دنیا میں سراہا گیا ہے کہ بش اسی لائق تھا۔

مکمل تحرير پڑھيے »

جاپان کی عملی صورت حال اور یہاں کی جامعات اور علمی تحقیقی اداروں میں ہونے علمی کاموں اور تحقیقات اور مطالعات کے بارے میں بیرون جاپان خصوصا اردو دنیا اور برعظیم پاک و ہند کے باشندوں  کو بہت علم ہوتا ہے اور وہ زبان و ادب کے تعلق سے یہاں جو سرگرمیاں مختلف صورتوں میں دیکھنے آتی ہیں اور جن کی ایک دیرینہ اور مستقل روایت کم بیش سو سالوں سے یہاں موجود ہے۔ زیر نظر سطور میں "زبان و ادب" اور پاکستان اور جنوبی ایشیا کے بارے میں یہاں ہونے والے علمی و تحقیقی مطالعات سے قطع نظر ، اسلام اور اسلامی دنیا کے تعلق سے ہونے والے تازہ مطالعات اور تحقیقی و علمی سرگرمیوں کا ایک سرسری سا جائزہ مقصود ہے۔

اگرچہ زیر نظر جائزے کا دائرہ گزشتہ چھ سات سال کی تحقیقات اور مطالعات پر مشتمل پے لیکن سرسری طور پر شاید یہ تذکرہ بے محل نہ ہوگا کہ یہاں اسلامی دنیا یا مسلمانوں سے جاپانیوں کا رابطہ ایک تواتر کے ساتھ انیسویں صدی کے آخر میں استوار نظر آتا ہے لیکن اسلام کے بارے میں سوچنے اور سمجھنے کی علمی سط پر کوششیں بیسویں صدی کی تیسری چوتھی دہائی سے نمایاں ہونے لگتی ہے ۔ اس عرصے میں ہمارے نقطہ نظر سے مشہور انقلابی رہنما مولوی برکت اللہ بھوپالی کا قیام جاپان بھی جو اگرچہ زیادہ طویل نہیں تھا لیکن پھر بھی یوں اہم ہے کہ انہوں نے یہاں رہ کر بھی اپنی انقلابی سرگرمیاں جاری رکھیں۔  Islamic  Fetternity

یہ آرٹیکل شاید جنگ میں پڑھا تھا مگر پورا نہیں لکھ سکا ، سوچا جتنا لکھا ہے اتنا تو بانٹ لوں ہو سکتا ہے کوئی اس پر تفصیلی روشنی ڈال سکے۔

مکمل تحرير پڑھيے »

بینظیر نے اپنی روایات کو قائم رکھتے ہوئے ایک اور انتہائی خودغرضانہ اور اقتدار کی ہوس میں پاگل ہو جانے والی ایک عورت کا ثبوت دیا ہے۔ یہ بات اب کسی سے چھپی ہوئی نہیں کہ بینظیر کس قدر پست اور گر چکی ہے اور اپنے ڈیڑھ سو ارب ڈالر کے کرپشن کے کیسوں کو ختم کرنے کے لیے مشرف سے کس طرح ڈیل کے لیے مری جا رہی ہیں اور امریکہ بیٹھ کر اسرائیل اور تمام مغربی ممالک کو یہ یقین دلا رہی ہیں کہ ان کا ایجنڈا پورا کرنے کے لیے وہ سب سے زیادہ موزوں ہیں۔ نام نہاد دہشت گردی کے خلاف وہ سخت سے سخت رویہ دکھانے کی کوشش میں ہیں اور اب تازہ بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ میں عالمی انرجی کمیشن کی رسائی ڈاکٹر عبدالقدیر تک کروا دوں گی۔ بینظیر اس حد تک گر جائے گی مجھے امید نہ تھی مگر اس عورت نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور ہر شے داؤ پر لگا رکھی ہے۔ اپنے باپ کے نام پر تمام عمر سیاست کرنے والی یہ عورت اپنے بل بوتے پر ایک سیٹ بھی نہ جیت پاتی اور سیاست میں بینظیر کا کریڈٹ مسٹر ٹین پرسنٹ زرداری ، سرے محل اور کرپشن کے لمبے چوڑے کیسسز ہیں۔

اللہ ہمیں اس ہوس پرست اور انتہا سے زیادہ کرپٹ عورت سے بچائے۔ آمین۔

مکمل تحرير پڑھيے »

آج کل اردو ویب پر ایک محترم دوست نظامی درخت اگانے کی مہم چلا رہے ہیں اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی رپورٹس پڑھ کر ڈرا بھی رہے ہیں کہ بے خبروں اب بھی درخت نہ لگائے تو کتنا نقصان ہو جائے گا اور کس پیمانے پر۔ وہ اس سلسلے میں اتنے پرجوش ہیں کہ اپنے دستخط میں بھی درخت اگاتے دکھائی دیتے ہیں۔ پہلے پہل تو میں سمجھ نہیں سکا کہ یہ کیا دستخط ہے جس میں دو ہاتھ ایک ننھے پودے کو تھامے ہوئے ہیں ، سوچا شاید پودوں کی کسی نایاب نسل سے تعلق ہے یا کوئی نیا پودا ہے جس کی مفت تشہیر نظامی نے اپنے ذمہ رضاکارانہ طور پر لے لی ہے۔ اب ان کی مسلسل پوسٹس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے پیغام میں کتنے مخلص ہیں۔ کچھ اقوام متحدہ کی رپورٹس سے اقتباسات جو نظامی نے پیش کیے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق صرف پچھلے دس سالوں میں انسان اسقدر درخت کاٹ چکا ہے کہ دس سال تک مسلسل چودہ ارب درخت سالانہ لگائے جائیں تب کہیں جا کر ان کا بدل ہو سکے گا۔

پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایکم سٹائنر کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایک ارب درخت لگانے کی یہ مہم ایک چھوٹا سا قدم ہے لیکن اس سے یہ ظاہر ہوگا کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے لوگ اس دنیا کو بچانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کو تیار ہیں۔
خت لگانے کی اس مہم میں نہ صرف حکومتوں بلکہ غیر سرکاری تنظیموں، کارپوریشنوں، مقامی تنظیموں، کاشت کاروں، نوجوانوں اور بچوں تک سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس سال درخت لگانے کی کوشش کریں اور زیادہ نہیں تو کم از کم ایک درخت ضرور لگائیں۔
یہ مہم نومبر میں کینیا کے شہر نیروبی میں اقوام متحدہ کی ماحول پر ہونے والی کانفرنس کے موقع پر شروع کی گئی تھی اور آج اس سلسلے میں پیرس میں دوسری اپیل کی گئی ہے۔ اب تک اس سلسلے میں پندرہ کروڑ ستر لاکھ درخت لگانے کے وعدے کیے جا چکے ہیں۔
درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ نامی نقصان دہ گیس کو ہوا میں سے جذب کر کے اس کے بدلے آکسیجن خارج کرتے ہیں جو انسانوں کے سانس لینے کے لیے ضروری ہے۔

پگھلتی برف

ماحولیاتی آلودگی کو اکیسویں صدی کے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اس پر فوری طور پر قابو پانے کی کوشش نہ کی گئی تو جلد ہی دنیا کے ماحول کو انسانوں کے ہاتھوں پہنچنے والا نقصان ناقابل تلافی حدوں کو چھو سکتا ہے۔

آلودہ ما�ول

ماحولیاتی تبدیلیوں کا عالمی پینل، آئی پی سی سی کی چوتھی جائزہ رپورٹ کے مطابق زمین کا اوسط درجۂ حرارت یقینی طور پر دو سے چار اعشاریہ پانچ سینٹی گریڈ یا تین اعشاریہ چھ سے آٹھ اعشاریہ ایک فارن ہائٹ تک بڑھے گا۔
بھلا ہو زمین کے ماحولیاتی نظام سے ملنے والے ان مثبت پیغامات کا جو یہ بتاتے ہیں کہ یہ اضافہ چھ درجے سینٹی گریڈ تک بھی پہنچ سکتا ہے اور اگر درجۂ حرارت میں یہ اضافہ اس پیمانے کے نصف تک بھی پہنچ گیا تو بھی اس کا مطلب ہو گا ایک ہولناک تباہی۔
اِس کے نتیجے میں سمندروں کی سطح بلند ہو جائے گی اور سیلابوں، سمندری طوفانوں اور خشک سالیوں کے نتیجہ میں سینکڑوں ملین لوگ بے گھر ہو جائیں گے اور یہ کرۂ ارض ایک ایسا حیاتی تغیر اور خاتمہ دیکھے گا جو اِس نے پینسٹھ ملین سال قبل اس وقت دیکھا تھا جب اس دھرتی سے ڈینوساروں کا صفایا ہو گیا تھا۔

یونیورسٹی آف برسٹل سے تعلق رکھنے والے مارکو شولز کا کہنا ہے کہ تحقیق میں کرہ ارض کے بڑھتے درجہ حرارت اور قدرت نظام زندگی کی تباہ کاری میں براہ راست تعلق پایا گیا ہے۔

بی بی سی اردو حوالہ

اگر آپ بھی اردو ویب پر جاری اس درخت اگاؤ میں حصہ ڈالنا چاہتے ہیں تو یہاں سے جا سکتے ہیں۔
درخت اگائیں

مکمل تحرير پڑھيے »