شمشاد کو پچیس ہزار خطوط پر مبارکباد
زمرہ(جات): اردو محفل | رائے ديں »
ایک عرصہ کے بعد پھر سے خطوط میں ایک گہما گہمی پائی جارہی ہے ۔ کچھ خطوط ٹولیوں کی صورت میں بیٹھے مناجات میں مصروف ہیں ، کچھ خطوط سجدہ ریز ہو کر گریہ و زاری کر رہے ہیں اور کچھ خطوط پر وجد طاری ہے اور مجذوب بنے بیٹھے ہیں۔ ان سے ہٹ کر کچھ خطوط بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں اور آنے جانے والے خطوط سے دریافت کر رہے ہیں کہ کیا وہ دن آ گیا جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا، جواب نفی میں پا کر ان کا اضطراب اور بڑھ جاتا ہے اور وہ بے چینی سے ٹہلنے لگتے ہیں کچھ دیر اور گزرتی ہے تو یہی سوال مکرر پوچھتے ہیں اور وہی جواب پا کر اور بے چین ہو جاتے ہیں۔ کچھ عمر رسیدہ خطوط نو عمر خطوط کو تسلی دیتے ہیں کہ صبر اور حوصلے سے کام لو جس دن کی بشارت دی جاتی تھی وہ بس آیا ہی چاہتا ہے۔ اتنے میں ایک خط جھومتا ناچتا ، خوشی کے گیت گاتا چلا آتا ہے۔ تمام خطوط تیزی سے اس کی طرف لپکتے ہیں اورپوچھتے ہیں کہ کہو اے نامہ بر خط کیا خبر لائے ہو کچھ خدائے خطوط کا حال سناؤ تو جی کو قرار آئے۔ وہ کہتا ہے کہ پہلے منہ تو میٹھا کرواؤ وہ خبر لایا ہوں کہ سب کے سینے خوشی سے بھر جائیں گے اور سجدے، دعائیں ، مناجات سب قبول ٹھہریں گی۔ اس پر خطوط نامہ بر کا منہ شیرینی سے بھر دیتے ہیں اور کہتے ہیں اب بتا دو کہ ہماری جان لوگے۔ نامہ بر خط گویا ہوتا ہے
خدائے خطوط بلا رفتار نے ٢٥٠٠٠ خظوط کی تخلیق فرما کر ہم عاجز خطوط کو اشرف الخطوط کے مقام پر سرفراز کر دیا ہے ۔
یہ خبر سنتے ہی تمام خطوط سر بسجود ہو جاتے ہیں اور فضا یا خدائے خطوط بلا رفتار سے گونج اٹھتی ہے۔