آر ايس ايس فيڈ

محفوظات برائے 'اردو نامہ' زمرہ

اردو کی مجموعی صورتحال پر بات کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اردو کی خوش قسمتی ہے کہ اسے ہر دور میں نامساعد حالات میں کوئی نہ کوئی گوشہ عافیت مل ہی جاتا ہے جس میں محبان اردو اس کے گیسو سنوارتے رہتے ہیں۔ اب جب کہ حکومت اور پوری دنیا میں انگریزی کی حاکمیت اور اثر سے دوسری زبانوں کی اہمیت کم ہوتی جارہی ہے بالخصوص بر صغیر کی زبانوں کی۔ برصغیر میں تو یہ حالت ہے کہ انگریزی کو ہی علم سمجھ لیا گیا ہے اور جو انگریزی سے واقف نہیں وہ عالم ہی نہیں خواہ وہ اپنے شعبہ کا عبقری ہی کیوں نہ ہو۔ بہت سے لوگ جو اپنے مضامین پر مکمل دسترس رکھتے ہیں اور ہر لحاظ سے اپنے فن میں طاق ہیں اور انگریزی میں مشتاق نہیں ، صرف اسی ایک گناہ کی پاداش میں عالم کے درجے سے گرادیے جاتے ہیں اور جاہلوں کی قطار میں ٹھہرا دیے جاتے ہیں تاوقتیکہ وہ انگریزی کے دامن میں اردو کا خون نہ پیش کردیں ( اردو کے لواحقین سے صرف خون بخشوایا جاتا ہے خون بہا دینے کی روایت بھی نہیں ) ۔ اسی پر بس نہیں اردو سیکھ کر جو ناکردہ گناہ کیے تھے ان سے تائب ہو کر انگریزی کے دربار میں مغفرت کرتے رہنے کے بعد جا کر کہیں گناہ دھلتے ہیں۔ انگریزی سمجھنے پڑھنے اور لکھنے سے بھی کام نہیں چلتا ، جب تک بولنی نہ آجائے انگریزی کی سند عطا نہیں ہوتی بلکہ اگر صرف بولنی آجائے تو سند مل جاتی ہے اور آپ کو پڑھا لکھا تسلیم کر لیا جاتا ہے ورنہ آپ کی انگریزی چاہے پڑھنے لکھنے اور سمجھنے میں کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو آپ تعلیم یافتہ ہونے کا تمغہ نہیں سجا سکتے کندھے پر۔ ایسے میں کوئی پچھلی نشست سی دھیمی آواز میں بھی اردو کی بات معذرت خواہانہ لہجے میں بھی شروع کرے تو انگریزی خواہ طبقہ بہت چیں بچیں ہوتا ہے اور ان کا بس نہین چلتا کہ کس طرح وہ حلق ہی دبا دیں جس سے اردو کے حق میں سہمی ہوئی آواز نکلی ہے ۔ دبانے سے اگر کسی کا گلہ نہیں دبا تو وہ سخت جاں اردو کی سہل پسندی ، ترقی ، اہمیت پر ابھی کچھ روشنی ڈالنا شروع ہی کرے گا کہ انگریزی داں گروہ کے سینہ میں پھر درد اٹھنے لگتا ہے اور وہ ملک کی تعلیمی پسماندگی کی ساری ذمہ داری اردو کے کمزور کندھوں پر ڈالنا شروع کردیں گے ۔ ہوا میں نقشہ کھینچ کر بتائیں گے کہ اگر اردو کو ذریعہ تعلیم بنا دیا گیا تو ملک میں جہالت کے اندھیرے چھا جائیں گے ( کوئی پوچھے ان سے کہ پہلے انگریزی کی برکات سے کیا ملک جگمگ جگمگ کررہا ہے ) ۔ ملک کم از کم سو سال پیچھے چلا جائے گا (جیسے سو سال پہلے ملک میں اردو کا ہی راج تھا)۔ ترقی کی رفتار سست ہی نہیں رک جائے گی (جیسے پہلے اقوامِ عالم پیارے وطن کی ترقی کی رفتار کو دیکھ کر انگشتِ بدنداں ہیں )۔ علمی طور پر ملک مفلس ہو جائے گا ( انگریزی کے صدقے جیسےعلمی طور پر ملک مغنی و تونگر ہے ) ۔ الغرض زمینی حقائق کو یکسر نظر انداز کرکے قوم کو ذہنی طور پر بانجھ بنانے کے لیے انگریزی ان پر مسلط کی ہوئی ہے ، ایک زبان کے طور پر نہیں بلکہ سماجی تفریق قائم کرنے کے لیے ایک حدِ فاصل کے طور پر۔
کمپیوٹر کے آنے سے پہلے اردو کو اس کا جائز مقام ملنا کسی دیوانے کا خواب تو سمجھا جا سکتا تھا ، کسی ذی ہوش کا نہیں۔ کمپیوٹر کے آنے سے سرخ فیتہ اور دفتری دقیانوسیت سے جاں خلاصی کی امید پیدا ہوئی مگر قوم کو یہ کہہ کر ایک اور فریب میں مبتلا رکھا گیا کہ کمپیوٹر کی زبان ہی انگریزی ہے اور وہ اس کے سوا کچھ نہیں سمجھتا۔ اس فریب سے کئی سال اور قوم کو بہلایا جاتا رہا اور قوم کو تو چاہیے ہی بہلاوے ہوتے ہیں اس لیے سب نے آمنا صدقنا کہہ کر یقین بھی کر لیا۔ یونیکوڈ کے عام ہونے کے بعد یہ جب اس فریب کی قلعی کھلی تب بہت ہی سست رفتاری سے اردو پر کام ہونا شروع ہوا اور اب بھی اسی کچھوے کی رفتار سے جاری ہے ۔

اردو کا دکھڑا ابھی جاری ہے ………………

مکمل تحرير پڑھيے »

یہ تاثرات ایک نئی سائٹ ہماری اردو پیاری اردو کے اجرا پر تھے۔ اس سائٹ نے تھیم اور باقی چیزیں ہوبہو اردو ویب سے لی تھیں مگر اس کا ذکر صراحتا نہیں کیا تھا۔

یہ خوشی کی بات ہے کہ تحریری اردو کی سمت لوگوں نے سوچنا شروع کردیا ہے اور اس پر آہستہ آہستہ ہی سہی پر کام ہونا شروع ہو گیا ہے۔ میرے خیال میں اردو ویب کو اگر یہ اعزاز حاصل ہو رہا ہے کہ وہ اردو تحریری سائٹس کی مادر ویب سائٹ بن رہی ہے تو یہ ایک حوصلہ افزا بات ہے اور ہمیں اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے کیونکہ آج ہم ایک دو سائٹس کی پذیرائی کریں گے تو کل کو نہ جانے کتنی سائٹس ہم سے مدد مانگنے میں کوئی عار محسوس نہ کریں۔ الف سے ے تک بھی اگر کوئی نقل کر لے تب بھی کچھ نہ کچھ مختلف ضرور ہوگا اور وقت کے ساتھ ساتھ ہوتا جائے گا۔ چند نئے ممبران بنیں گے اور پھر وہ اردو تحریر سے آشنا ہوں گے اور یہ نہ ممکن ہے کہ وہ اردو ویب تک نہ پہنچے اور انہیں اس فورم کی جملہ خصوصیات کا پتہ نہ چلے۔ کوئی بھی ویب سائٹ اپنے ممبران کے زور پر ہی چلتی ہے اور اگر وہ کام جو ہم نے کیا ہے اور اس میں ابھی غلطیاں ہیں تو وہی کام کسی اور جگہ غلطیوں سے پاک ہو جائے تو یہ بھی ایک کامیابی ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں معاندانہ رویہ کی بجائے معاملے والا کام کرنا چاہیئے۔

مکمل تحرير پڑھيے »