ہائے ہفتہ بلاگستان
سب سے پہلے تو میں شگفتہ کو بہت بہت مبارکباد پیش کروں گا کہ جنہوں نے اس خوبصورت کو پیش کیا اور موضوعات بھی پیش کیے اور میری اور راشد کامران کی تجویز پر اس کا دورانیہ بڑھا کر ایک ہفتہ سے دو ہفتہ کر دیا ، یہ الگ بات کہ بقول رضوان محب ایک بار پھر چکنا گھڑا ثابت ہوا اور دوسروں کے لیے وقت بڑھوا کر خود وقت گزار ہی گیا مگر اگر آپ لوگ تھوڑا ٹھنڈے دل سے سوچیں تو یہی میرا طریقہ واردات ہے کہ میں دوسروں کو کام پر لگا جاتا ہوں اور خود بس ابھی آیا کہہ کر پتلی گلی سے نکل جاتا ہوں۔ یار لوگ کافی محنتی ، سچے اور اچھے لوگ ہیں میرے کہے کو ہر بار سچ مان کر جی جان سے محنت کرتے رہتے ہیں اور عین کام کے ختم ہونے سے پہلے میں حسب معمول دوبارہ واپس آ کر ان کے حصے کا کریڈٹ لے کر الٹا ان پر احسان کر دیتا ہوں کہ دیکھا میرے کہے پر عمل سے کتنا فائدہ ہو گیا ہے اور کتنی ترقی ہو رہی ہے اردو کی ، بس ایسے ہی ہمتیں قائم اور عزم جواں رکھنے ہیں۔ دوست احباب کی مروت، انکساری اور محبت شاید ایسے ہی موقعوں کے لیے انہوں نے بچا رکھی ہوتی ہے اس لیے خوب خوب لٹاتے ہیں اور سارا کام کرکے مجھے مفت میں پذیرائی بخش دیتے ہیں۔
آمدم برسر مطلب ، بہت جی خوش ہوا ہے کہ ہفتہ بلاگستان کی بے مثال کامیابی اور اردو بلاگران کا جوش و خروش دیکھ کر۔ ایک وقت تھا کہ میں اور کئی دوست سوچا کرتے تھے کہ اردو بلاگر کب انگریزی بلاگران کی طرح متحرک ہوں گے اور کب ہم اردو بلاگنگ کو انگریزی بلاگنگ کے مقابل لا سکیں گے۔ مقام شکر ہے کہ اب یہ وقت قریب قریب نظر آ رہا ہے اور انشاءللہ جس طرح اردو بلاگران نے مل جل کر اور جوش و خروش سے ہفتہ بلاگستان منایا ہے اس سے اردو بلاگران کے اس چھوٹے مگر متحرک گروہ کی ذہنی پختگی اور ترقی کا اظہار ہوتا ہے۔ ماورا کو نہ سراہنا بہت زیادتی ہوگی جس نے عمار کے ساتھ مل کر منظر نامہ کو نہ صرف قائم کیا بلکہ عمدگی سے چلایا اور اردو بلاگران میں مشترکہ موضوع پر لکھنے کی روایت ڈالی اور شناسائی کا سلسلہ تو قابل صد تحسین ہے ہی ، میں البتہ اپنی ازلی اور روایتی سستی کی وجہ سے اب تک منظرنامہ پر انٹر ویو نہیں دے سکا ہوں مگر میں سمجھتا ہوں کہ باقی اہم لوگوں کی شناسائی کا جو سلسلہ جاری ہے وہ زیادہ اہم ہے۔
اب آمدم برسر مطلب میں بھی جو مطلب کی بات ہے اس کی طرف آتا ہوں۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ میں ٹھہرا سدا کا تاخیر پسند ، ہر کام کو ٹھہر کر اور وقت گزار کر کرنے کا عادی اس لیے یہ وقت و حدود کی قیود میں کم کم ہی پورا اترتا ہوں ۔ اسی وجہ سے ہفتہ بلاگستان کا دورانیہ ایک ہفتہ سے بڑھا کر دو ہفتہ بڑھا کر بھی میں ایک عدد پوسٹ بھی نہ کر سکا ۔ میں نے کوشش کی کہ ایک اور پوسٹ لکھ کر ایک ہفتہ اور بڑھا لوں پر یہ کام وقت پر کر لیتا تو پھر تاخیر پسندی سے جھگڑا مول لینا پڑتا اس لیے دیرینہ دوست سے حق دوستی نبھایا اور وقت گزار کر یہ پوسٹ کر رہا ہوں کہ اب میں ہفتہ بلاگستان کے حساب سے جو پوسٹس کرنی تھیں وہ میں اب کروں گا۔ مجھے علم بھی ہے اور یقین بھی کہ کچھ میرے بھائی بندے ایسے بھی ہیں جو میری ہی طرح سوچتے رہ گئے ہیں مگر پوسٹس نہ کر سکے تو ان تمام راہ تاخیر کے مجاہدو کو پیغام ہے میرا کہ جاگ اٹھو جوانو اور اپنے حصہ کی پوسٹس دیر سے ہی سہی مگر کر ڈالو۔
خصوصیت سے پروفیسر ظفری اور علامہ ابو شامل سے درخواست ہے کہ وہ اس بہتی گنگا میں میرے ساتھ ہاتھ دھو لیں التبہ باتھ سوپ ذاتی ہوگا۔
باقی دوستوں کے لیے بھی صلائے عام ہے