آر ايس ايس فيڈ

محفوظات برائے 'سائنس' زمرہ

Cover of A Briefer History of TimeImage via Wikipedia

A Briefer history of Time

سن اشاعت 2005

یہ کتاب A Brief History of Time in1988 (وقت کی مختصر تاریخ) ہی کا نیا ورژن بلکہ دوبارہ لکھا گیا ہے نسخہ ہے جسے اسٹیفن ہاکنگ (  Stephen Hawking) نے امریکی سائنسدان لیونارڈ ملادینو ( Leonard Mlodinow) کے ساتھ مل کر لکھا ہے ۔ اس نئی کتاب میں کوانٹم میکانیات ، سٹرنگ تھیوری اور دیگر سائنسی نظریات کو عام فہم زبان میں عوام کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایک سائنسی کلاسک ہے جسے زیادہ جامع، قابل رسائی ، واضح آسان اور نئی ریسرچ کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

مصنفین نے اس میں زمان و مکان کی فطرت ، تخلیق میں خدا کے کردار اور کائنات کے ماضی اور مستقبل کے بارے میں بحث کی ہے۔

Enhanced by Zemanta

مکمل تحرير پڑھيے »

کائنات کا مکمل ترین نظریہ

یہ مضمون میں نے وکیپڈیا کے لیے لکھا تھا اب سوچا شیئر کر لوں تاکہ کوئی اس میں اضافہ کرنا چاہے تو کر سکے۔

یہ کتاب اسٹیفن ہاکنگ کے لیکچروں کا مجموعہ ہے جسے گلوبل سائنس کے مدیر علیم احمد نے ترجمہ کیا ہے۔ ان لیکچروں کے ذریعے مصنف نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ بگ بینگ (Big Bang) سے لے کر بلیک ہولز تک ، کائنات کی تاریخ کے بارے میں ہم کیا سوچتے ہیں اور کیا سوچتے چلے آ رہے ہیں۔

کائنات کے بارے میں تصورات

 پہلے لیکچر میں کائنات کے متعلق گزشتہ نظریات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ کائنات کی موجودہ تصویر تک ہماری رسائی کیسے ہوئی۔ اسے تاریخِ کائنات کی تاریخ کہا جا سکتا ہے۔

پھیلتی کائنات

 دوسرے لیکچر میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ نیوٹن اور آئن سٹائن ، دونوں کے نظریاتِ ثقل کس طرح ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتے ہیں کہ کائنات ساکن نہیں ہو سکتی۔ یعنی یہ نتیجہ کہ کائنات کو لازما پھیلنا یا سکڑنا چاہیے۔ اسی تصور سے یہ خیال اخذ کیا گیا ہے کہ ماضی بعید میں ، آج سے دس یا بیس ارب سال قبل ، ایک موقع ایسا بھی تھا جب کائنات کی کثافت (density) لامتناہی تھی۔

بلیک ہول

 تیسرے لیکچر میں بلیک ہولز کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ یہ تب بنتے ہیں جب کمیت والا کوئی ستارہ یا اس سے بڑا کوئی جسم ، اپنی ہی قوت ثقل کے زیر اثر ، اپنے ہی وجود میں منہدم (collapse ) ہوتا ہے۔ آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کے مطابق ، بلیک ہول میں جا گرنے والا کوئی احمق ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا؛ وہ بلیک ہول سے باہر آنے کے کے قابل نہیں رہے گا۔ اس کے برعکس ، بلیک ہول میں گرنے والے کسی شخص کے لیے تاریخ کا خاتمہ ایک ایسے مقام پر ہوگا جسے وحدانیت کہتے ہیں لیکن عمومی نظریہ اضافیت ایک کلاسیکی نظریہ ہے یعنی اس میں کوانٹم آلاتیات کے اصول عدم یقین کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

بلیک ہولز اتنے بھی سیاہ نہیں

 چوتھا لیکچر یہ واضح کرتا ہے کہ کوانٹم آلانیات کس طرح توانائی کو یہ اجازت دیتی ہے کہ وہ رس رس کر بلیک ہول سے باہر نکلتی رہے یعنی بلیک ہولز ایسے سیاہ و تاریک نہیں جیسے کہ ان کی تصویر کشی کی جاتی ہے۔

کائنات کا آغاز اور انجام

 پانچواں لیکچر اس پہلو کا احاطہ کرے گا کہ بگ بینگ اور ابتدائے کائنات جیسے مواقع پر میکانیاتی تصورات کا اطلاق کیسے کیا جاتا ہے۔ اسی اطلاق کی وجہ سے یہ خیال سامنے آتا ہے کہ زمان و مکان اس انداز سے متناہی finite ہو سکتے ہیں کہ ان کا کوئی سرا یا کنارہ نہ ہو ۔ یہ ( زمان و مکان ) زمین کی سطح جیسے ہوں گے مگر ان میں دو اضافی جہتیں (dimensions) ہوں گی۔

وقت کی سمت

 چھٹے لیکچر میں بتایا گیا ہے کہ حد بندی والا یہ نیا تصور کس طرح اس امر کی وضاحت کر سکتا ہے کہ قوانین طبیعات ، وقت کے اعتبار سے متشاکل (symmetric) ہی کیوں نہ ہو لیکن پھر بھی ماضی اور مستقل ایک دوسرے سے کس طرح مختلف ہوں گے۔

حتمی کائناتی نظریہ

 ساتویں لیکچر میں اس بابت گفتگو ہے کہ کیونکر کائنات کا مکمل ترین ، حتمی اور متحد نظریہ کھوجنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ایک ایسا نظریہ جس میں کوانٹم آلاتیات ، ثقل اور طبیعات کے دیگر عوامل کا احاطہ کیا جائے گا۔ اگر یہ نظریہ حاصل ہو گیا تو ہم واقعتا کائنات کو سمجھ لیں گے اور یہ بھی جان لیں گے کہ کائنات میں ہمارا مقام کیا ہے۔

 کوشش کروں گا کہ اس سلسلے میں آئندہ بھی پوسٹ کروں

مکمل تحرير پڑھيے »

دنیا میں ہر ہزار میں سے ایک بچہ آٹزم کا شکار ہے۔ آٹزم ایک غیر معمولی اور پیچیدہ ذہنی بیماری ہے جس کا علاج توجہ اور تھیراپی اور ٹریٹمنٹ ہے۔ اب ہزار میں سے ایک بچہ سے بڑھ کر یہ اوسط ١٥٠ بچوں میں سے ایک میں آ گئی ہے یعنی ہر ڈیڑھ سو بچوں میں سے ایک بچہ آٹزم کا شکار ہے اور اس کی وجہ اب تک دریافت نہیں کی جا سکی اور نہ ہی اس کا علاج۔

ماضی اور حال

١٩٧٠ میں دس ہزار میں سے ایک بچہ اس کا شکار تھا
١٩٩٠ میں ١٠٠٠ میں سے ایک بچہ
اب ١٥٠ میں سے ایک بچہ اس کا شکار ہے لڑکوں میں یہ اوسط ٩٤ میں ایک کے تناسب سے ہے۔
اور خطرہ ہے کہ یہ ریٹ اور بڑھے گا اور ذیابیطس ، کینسر ، ایڈز تینوں بیماریوں سے زیادہ پھیلے گا بچوں میں
لڑکوں میں اس بیماری کے پھیلنے کا خطرہ چار گنا زیادہ ہے
اس کے لیے کوئی میڈیکل علاج یا ٹیسٹ نہیں ہیں مگر جلد تشخیص اور مداخلت سے بہت بہتری آ سکتی ہے۔
آٹزم کسی خاص علاقے ، کلاس اور قومیت سے مخصوص نہیں ہے۔

علامات

بات نہ کرنا یا بہت کم بات کرنا
اپنی دنیا میں مگن رہنا
ڈر اور خطرے کی سمجھ نہ رکھنا
بے مقصد رونا یا ہنسنا
روزمرہ کی زندگی میں تبدیلی برداشت نہ کرنا
کھلونوں سے عام بچوں کی طرح نہ کھیلنا
بہت آہستہ یا بہت اونچا سننا
بے چین رہنا یا حرکت کرنے کی خواہش نہ کرنا
متوجہ شخص کی طرف دیکھے بغیر بات کرنا
بے مقصد چیزوں سے کھیلنے کی خواہش کرنا
کسی کے چھونے سے الجھن ظاہر کرنا

اس سال قطر میں اس کی بیداری کے حوالے سے دن منایا گیا ہے اور امید ہے کہ اب اس کے بارے میں شعور بڑھے گا۔

میرا بیٹا بھی اس کا شکار ہے اور ساڑھے تین سال کی عمر تک پہنچنے کے باوجود نہیں بول پاتا ہے۔ اس وقت وہ بھی speech therapy کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور امید ہے کہ اس پیچیدہ نفسیاتی بیماری پر قابو پا لے گا۔

مکمل تحرير پڑھيے »

ورلڈ وائیڈ ویب کا آغاز

1988 میں انٹرنیٹ پر کم و بیش ساٹھ ہزار مشینیں تھیں جبکہ اب کروڑوں میں ہیں۔ 1991 میں CERN میں ورلڈ وائیڈ ویب کا آغاز ہوا اور 1993 میں پہلا تصویری براؤزر Mosaic منظر عام پر آیا۔ اس زمانے میں انٹر نیٹ پر ٹریفک عموما تحریری تھی۔ Usenet نیوز گروپ نے پیغاماتی سسٹم مہیا کیا جس کی مدد سے ہم خیال گروہ ایک دوسرے سے ہم آہنگ رہ سکتے تھے۔ ای میل کم و بیش اسی طرح سے تھی جیسے اب ہے یعنی زیادہ تر تحریری ۔ فائلوں کی ترسیل اور دورپار لاگ ان نے نیٹ کے استعمال کو آسان بنا دیا۔

پرل کا آغاز (PERL)

جنوری 1988 میں لیری وال Larry Wall نے اعلان کیا کہ اس نے awk اور sed کا متبادل یونیکس کے لیے لکھا لیا ہے جسے اس نے پرل (PERL) کا نام دیا۔ پرل کے اصلی دستاویزات میں پرل کو اس طرح سے بیان کیا گیا تھا

 
پرل کا بیانیہ مسودہ PERL

پرل ایک ترجمہ شدہ (interpreted) زبان ہے جو کسی بھی قسم کی تحریری فائلوں کو پڑھنے ، ان سے معلومات اخذ کرنے اور اس کی بنیاد پر رپورٹ شائع کرنے کے لیے خاص طور پر بنائی گئی ہے۔ یہ اتنظام نطام ( system management) کے لیے بھی ایک اچھی زبان ہے۔ زبان کو خوبصورت ، محدود اور نفیس رکھنے کی بجائے عملی ، استعمال میں آسان ، ہمہ جہت اور مکمل رکھا گیا ہے ۔ اس میں C, sed, awk , sh کی بہترین خصوصیات کو مجمتمع کیا گیا ہے تاکہ ان زبانوں میں کام کرنے والوں کو کسی قسم کی کوئی مشکل درپیش نہ ہو۔ اظہار صرف ( expression syntax ) بہت حد تک C سے ملتا جلتا ہے ۔ اگر کسی مسئلہ کو حل کرنے کے لیے آپ عموما sed, awk sh کا استعمال کرتے ہیں مگر چاہتے ہیں کہ وہ بہتر اور تیز رفتار ہو اور اس کے لیے اسے C میں نہیں لکھنا چاہتے تو شاید پرل آپ کے مسئلہ کا بہتر حل ہے۔

پرل کا دوسرا ورژن

پرل کا دوسرا ورژن جون 1988 میں اور یہ جدید پرل سے بہت ملتا جلتا تھا۔ یہ زرخیز اور پوری طرح سے صلاحیتیوں سے لیس ایک پروگرامنگ زبان تھی۔ پرل کی خصوصیات کا رجحان زیادہ تر تحریر کی عمل کاری اور سسٹم پروگرامنگ کی طرف رہا۔ پرل کی مستند ترین کتاب 1991 میں Programming Perl by Larry Wall and Randal Schwartz شائع ہوئی ، یہ کتاب اب تک پرل زبان پر مستند ترین حوالہ ہے ۔ اس کے سرورق پر ایک اونٹ کی تصویر تھی جو پرل کا سرکاری نشان (mascot ) ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کے ساتھ ہی پرل کا چوتھا ورژن منظر عام پر آیا جو کثیر الاستعمال اور سب سے زیادہ پھیلنے والا ورژن ہے جس کی باقیات اب بھی نیٹ پر موجود ہیں گو کہ اس کا آخری ٹانکہ ١٩٩٢ میں آیا تھا۔

پرل کا ورژن 5

1994 میں پرل کا ورژن 5 سامنے آیا جس میں نجی متغیر ( private variables) ، حوالہ جات (references) ، مفعول (objects) اور modules جیسی خصوصیات کو متعارف کروایا گیا۔ اکتوبر 1996 میں Programming Perl(The Blue Camel) کا دوسرا مسودہ منطر عام پر آیا۔

آزاد مصدر اور پرل  ( Open Source) 

پرل کی کامیابی کے اہم ترین نکات میں ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ پرل کیسے بنائی گئی اور کیسے پھیلائی گئی۔ پرل کا مترجم ( interpreter) آزاد مصدر سافٹ وئیر کا حصہ ہے۔ آزاد مصدر ایک نئی اصطلاح ہے جو ایک پرانے تعقل جو سافٹ وئیر پروگرامران میں رائج تھا کو دی گئی ہے یعنی مفت بانٹنے جا سکنے والا سافٹ وئیر۔ یہ سافٹ وئیر مفت میں بانٹا جا سکتا ہے اور اس سافٹ وئیر کا ماخذ کوڈ (code ) کوئی بھی دیکھ سکتا ہے ، بدل سکتا ہے اور بہتر کر سکتا ہے ۔

مثالیں

اسی ماڈل کے پیروئے کار سافٹ وئیر لینکس Linux، اپاچی ویب سرور Apache web server اور فائر فاکس FireFox نامی ویب براؤزر ہیں۔

پرل کے فوائد

پرل کو شروع میں رپورٹ بنانے کے عمل کو آسان کرنے کے لیے استعمال کیا گیا مگر آہستہ آہستہ اس کے استعمال کا دائرہ کار بڑھنے لگا اور یہ مندرجہ ذیل کاموں کے لیے بھی استعمال ہونے لگی

خود کار انتظام نظام ( automating system administration ) مختلف کمپیوٹر نظاموں کے بیچ گوند کا کردار ویب پر CGI پروگرامنگ کے لیے سب سے مقبول زبان

پرل کے اس قدر مقبول ہونے کی دو بنیادی وجوہات ہیں ۔ پہلی تو یہ ہے کہ ویب پر جو چیز سب سے زیادہ استعمال اور دکھائی دیتی ہے وہ تحریر ہے اور تحریر پر عملیات اسی زبان میں بہترین رہتی ہیں جو اسی مقصد تحریری عملیات ( text processing ) کے لیے بنی ہو جیسا کہ پرل ہے ۔ پرل کی دوسری بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ دوسرے متبادل ذرائع کے مقابلے میں زیادہ بہتر اور تیزی سے کام کرتی ہے۔ اس کے مقابلے میں سی (C) پیچیدہ اور سیکوریٹی کے مسائل لیے ہیں ، python کو لوگ زیادہ جانتے نہیں اور Tcl مقابلتہ کافی غیر مانوس ہے ۔ پرل ایک دوستانہ زبان ہے اور اس کا نعرہ ہے کہ

کسی بھی چیز کو کرنے کے ایک سے زیادہ طریقے ہوتے ہیں

مکمل تحرير پڑھيے »

محسن حجازی کی یہ دردمندانہ اپیل ابھی ابھی نظر سے گزری ہے اور سخت تشویش لاحق ہو گئی ہے۔ اس لیے جو محسن نے لکھا ہے وہ من و عن ہی شائع کر رہا ہوں اور سب اردو سے محبت کرنے والوں سے درخواست ہے کہ وہ بڑھ چڑھ کر گلوبل سائنس کی مدد کریں۔

monthly Global Science,
139-Sunny Plaza,
Hasrat Mohani Road, Karachi.
Voice: 021-2625545

اردو میں سائنس پر بہت کم کام ہوا ہے۔ گلوبل سائنس ایک ایسا ہی سائنسی ماہنامہ ہے جو گذشتہ دس سال سے اردو کی خدمت کر رہا ہے۔ خاص طور پر اردو سائنسی اصطلاحات سازی میں اس رسالے کے مدیران نے جو کردار ادا کیاہے وہ تمام بڑے بڑے نام نہاد قومی ادارے بھی نہیں کر سکے۔ اس رسالے کی تعداد اشاعت بھی کچھ خاص نہیں اور مشتہرین بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔
میں خود اس رسالے کا بہت عرصے تک قاری رہا ہوں۔ جنوری کا شمارہ نظر سے گزرا توا معلوم ہوا کہ اس ادارے کے مالی حالات بے حد نازک ہیں اور نوبت یہاں تک جا پہنچی ہے کہ ادارہ فقط اگلے تین ماہ تک ہی رسالے کا اجرا کر سکتا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے رسالے میں صاحب حیثیت و مخلص حضرات سے تعاون کی اپیل بھی شائع کی ہے۔ علاوہ ازیں اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کے بارے میں اداریہ بھی لکھاہے جسے پڑھ کر میں اشک بار ہوگیا۔
میرے لیے ممکن نہیں ہے کہ میں اس ادارے کی دس سالہ شاندار خدمات کا احاطہ کر سکوں۔ میں خود ایک ایسے ادارے کے اندر رہ کر آیا ہوں جہاں عوام کا کروڑوں روپیہ محض ذاتی تشہیر و تعیش کے لیے اردو کے نام پر ضائع کیا جا رہا ہے اور نہ صرف یہ بلکہ مزید ضائع کرنے کے منصوبے بھی بنائے جا رہے ہیں۔ اس کے بارے میں تفصیلات پھر کبھی۔ بہرطور اتنا ضرور کہوں گا کہ ریاضی، طبعیات، ما بعد الطبعیات، کیمیا، فلکیات، عمرانیات، حیاتیات اور کمپیوٹر سائنس تک تمام موضوعات پر سینکڑوں مضامین ترجمہ و تحریر کیے جا چکے ہیں۔ اگر اردو سائنسی صحافت کا یہ اکلوتا بالغ و روشن چراغ گل ہو گیا تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک ایسا المیہ ہوگا جسے کم سے کم میں ذاتی طور پر نہ سہہ پاؤں گا۔ اس کے مقابلے میں ایک انگریزی جریدہ جو پاکستان میں کثیر تعداد میں چھپتا ہے، صرف کمپیوٹر سائنس سے متعلق ہے اور مجھے اس رسالے میں محدود مصنفین کی محدود تر ذاتی آرا سے اٹے ہوئے مضامین سے بڑھ کر کبھی کچھ نظر نہیں آیا۔ اسے قارئین کی بڑی تعداد محض اشتہاروں کے لیے خریدتی ہے تاکہ بدلتی مارکیٹ پر نظر رکھی جا سکے اور اس بات کا اندازہ اس انگریزی رسالے کی انتظامیہ کو بھی خوب ہے۔ گلوبل سائنس کو اردو میں ہونے کی وجہ سے ملٹی نیشنل تو کیا نیشنل کمپنیاں بھی اشتہار دینے سے کتراتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس شدید مہنگائی کے دور میں اس ادارےکے لیے اپنے وجود کو برقرار رکھنا بے حد کٹھن ہو گیا ہے۔ خاص طور پر عہد زریں المعروف بہ عہد مشرفیہ شریف میں کاغذ کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ تاہم فلمیں اور بے ہودہ گانے اور رقص سستے ہیں۔
اس سلسلے میں ایک تو گزارش یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس جنوری کا شمارہ ہے تو براہ کرم وہ اداریہ اور وہ نوٹ یہاں چسپاں کر دیں۔
دوم یہ کہ اس ادارے سے تعاون کا طریقہ کار یہ ہے کہ آپ اس کے سالانہ خریدار بن جائیں جس کے لیے صرف 500 روپے درکار ہیں۔
اگر یہ پیغام کسی غلط دھاگے میں ارسال کر دیا ہے یا فورم کی پالیسی کے خلاف ہے تو پیشگی معذرت۔
نوٹ:- میرا گلوبل سائنس سے کوئی تعلق نہیں نہ ہی اس کے منتظمین سے کوئی ذاتی تعلق یا کسی قسم مراسلت و خط و کتابت ہے نہ کبھی رہی ہے، یہ پیغام خالصتا نیک نیتی کے جذبے سے ارسال کیا جا رہا ہے۔
والسلام،
محسن۔

پتہ ایک بار پھر لکھ رہا ہوں

monthly Global Science,
139-Sunny Plaza,
Hasrat Mohani Road, Karachi.
Voice: 021-2625545

مکمل تحرير پڑھيے »

ٹائم میگزین کی کہانی

 

ٹائم (20 مارچ 1989 ) کی کور کہانی ڈی این اے (DNA) کے بارے میں تھی جس کا عنوان تھا ۔ وراثتی رازوں کا حل کرنے کی کوشش۔

 

Solving the mysteries of heredity

 

 

مضمون سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈی این اے کے بارے میں تحقیقات ہوئ ہیں وہ ارتقائے حیات کے قدیم تصور سے مطابق نہیں رکھتیں۔ اس مضمون کے بارے میں کچھ خطوط ٹائم (10 اپریل 1989 ) میں شائع ہوئے۔ ٹائم کے ایک قاری مسٹر بیورلی کرو ( Beverely Chorro ) نے اپنے خط میں لکھا کہ جو شخص ان مضامین کو پڑھے اور اب بھی اس کی یہ خواہش ہو کہ وہ تخلیق کا کریڈٹ خدا کی بجائے ارتقاء کو دینا چاہے تو یا تو وہ بے عقل ہے یا اتنا زیادہ مغرور ہے کہ اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرنا چاہتا ؛

 

Whoever reads these articles and still has the gall to credit evolution rather than God, for our remarkable DNA is an idiot or too proud to admit he is wrong. ( 1989-90)

 

 

مولانا وحید الدین خان کی “ ڈائری “ سے انتخاب

مکمل تحرير پڑھيے »