آر ايس ايس فيڈ

محفوظات برائے 'متفرق' زمرہ

نئے سال پر ایک روایت مجھے اچھی لگتی ہے کہ کچھ لوگ نیو  ایئر  ریزولوشن پاس کرتے ہیں  اور نئے سال میں اپنے لیے کچھ اہداف مقرر کرتے ہیں۔ میں نے سوچا میں جو ہر وقت خواب غفلت ، خواب خرگوش اور میٹھے خوابوں میں مست رہتا ہوں کچھ جاگتی آنکھوں کے خواب قلمبند کر دوں تاکہ یار لوگ مجھے یاد بھی دلا سکیں اور مجھ میں بھی اپنا ہی لکھا  پڑھ کر عقابی روح بیدار ہو سکے۔

پہلا منصوبہ جو کہ جنوری میں ہی انشاءللہ پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے وہ ہے اردو بلاگنگ فورم کا دوبارہ اجرا ایک نئے نام سے۔ پچھلی دفعہ یہ کام اردو ٹیک کے نام سے کیا گیا تھا جس میں عبدل قدیر احمد رانا اور بدتمیز شامل تھے۔ بدتمیز نے ویب ہوسٹنگ کی سہولت مہیا کی تھی اور اردو ٹیک کی ڈومین بھی اسی کے نام سے رجسٹر تھی جو اب بھی ہے۔عبدل قدیر احمد رانا نے ایس ایم ایف فورم کا اردو ترجمہ کیا تھا اور یوں اردو بلاگنگ فورم اور بلاگنگ سروس شروع ہو گئی تھی۔  اس زمانے کی یادگاریں اردو ٹیک کے بلاگران آج بھی ہیں اور انشاءللہ رہیں گے۔ بدتمیز نے اردو ٹیک وینس کو سنبھال لیا تھا اور اب بھی سنبھالے ہوا ہے۔ عبدل قدیر احمد رانا  اور بدتمیز  کی صلح صفائی کی برکات سے پہلے اردو بلاگنگ سروس تعطل کا شکار ہوئی اور پھر فورم بھی اس کی نظر ہو گیا۔ میں بھی مصروف رہا اور امریکہ آنے کے بعد اسے بالکل نہ دیکھ سکا۔
اب انشاءللہ نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ اسے پھر سے شروع کرنا ہے اور اس دفعہ جس جوان کا انتخاب کیا ہے وہ اردو بلاگنگ کی دنیا کا جانا پہچانا اور نامی گرامی بندہ ہے۔ سندھ کے اس سپوت کو آپ سب راشد کامران کے نام سے جانتے ہیں اور پچھلے سال کے بہترین بلاگر کا اعزاز بھی اس سندھ کے سپوت کے پاس ہے۔ سندھ کے اس سپوت کی میں بڑی قدر کرتا ہوں کیونکہ سندھ کے اس جیسے سپوتوں سے ہی سندھ کا نام روشن ہے ورنہ جانے کتنے زردار ،  مرزا اور بھٹو سندھ کا نام بدنام کرنے کو کافی ہیں۔ ابو شامل یقینا ایک اور قابل تعریف نام ہے سندھی سپوتوں میں اور اگر مکی کا تعلق بھی بنیادی طور پر سندھ سے ہے تو پھر آپ لوگ خود سمجھدار ہیں۔
خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا ، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ راشد کے ساتھ یہ طے ہو گیا ہے کہ ہم لوگ مل کر یہ فورم جلد از جلد شروع کریں اور اردو بلاگران کو اس پر اکٹھا کریں اور ساتھ میں ورڈ پریس پر مفت اردو سروس دینا شروع کریں۔ سعود ابن سعید بھی ہاں نہ کے درمیان ہیں مگر امید کی جانی چاہیے کہ وقت پڑنے پر آگے ہی ہو گا پیچھے نہیں۔

یہ تو ہے اردو  بلاگنگ کے فورم اور سروس کے متعلق ایک منصوبہ۔ اس کے علاوہ ایک عدد سافٹ ویئر ہاؤس اور اپنی کمپنی کی سائٹ بھی جلد ہی بنانی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان جا کر خوب آرام اور لطف اٹھانے کے منصوبے ہیں جو وہاں پہنچ کر ہی بتاؤں گا۔

اس کے علاوہ راشد کے ساتھ ہی مل کر ایک عدد عمدہ رومن ٹو اردو کنورٹر بھی لکھنا ہے جو کہ اصل میں تو راشد نے ہی لکھنا ہے میں نے ساتھ مدد دینی ہے۔

PHP  اور  JAVA   سیکھنے کا بھی ارادہ ہے اسپانوی اور فرنچ سیکھنے کے ساتھ ساتھ۔

اب دیکھتے ہیں کتنے ارادے پایہ تکمیل تک پہنچتے ہیں اور کتنے نہیں۔

اور ہاں اگلے سال بہترین بلاگر کا اعزاز جیتنا بھی منصوبہ جات میں شامل کر لیا ہے جب سے سنا ہے کہ سرکاری سطح پر بھی کسی اردو بلاگر کو اعزاز ملنے کا امکان ہے۔

مکمل تحرير پڑھيے »

نئے سال پر ایک روایت مجھے اچھی لگتی ہے کہ کچھ لوگ نیو  ایئر  ریزولوشن پاس کرتے ہیں  اور نئے سال میں اپنے لیے کچھ اہداف مقرر کرتے ہیں۔ میں نے سوچا میں جو ہر وقت خواب غفلت ، خواب خرگوش اور میٹھے خوابوں میں مست رہتا ہوں کچھ جاگتی آنکھوں کے خواب قلمبند کر دوں تاکہ یار لوگ مجھے یاد بھی دلا سکیں اور مجھ میں بھی اپنا ہی لکھا  پڑھ کر عقابی روح بیدار ہو سکے۔

پہلا منصوبہ جو کہ جنوری میں ہی انشاءللہ پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے وہ ہے اردو بلاگنگ فورم کا دوبارہ اجرا ایک نئے نام سے۔ پچھلی دفعہ یہ کام اردو ٹیک کے نام سے کیا گیا تھا جس میں عبدل قدیر احمد رانا اور بدتمیز شامل تھے۔ بدتمیز نے ویب ہوسٹنگ کی سہولت مہیا کی تھی اور اردو ٹیک کی ڈومین بھی اسی کے نام سے رجسٹر تھی جو اب بھی ہے۔عبدل قدیر احمد رانا نے ایس ایم ایف فورم کا اردو ترجمہ کیا تھا اور یوں اردو بلاگنگ فورم اور بلاگنگ سروس شروع ہو گئی تھی۔  اس زمانے کی یادگاریں اردو ٹیک کے بلاگران آج بھی ہیں اور انشاءللہ رہیں گے۔ بدتمیز نے اردو ٹیک وینس کو سنبھال لیا تھا اور اب بھی سنبھالے ہوا ہے۔ عبدل قدیر احمد رانا  اور بدتمیز  کی صلح صفائی کی برکات سے پہلے اردو بلاگنگ سروس تعطل کا شکار ہوئی اور پھر فورم بھی اس کی نظر ہو گیا۔ میں بھی مصروف رہا اور امریکہ آنے کے بعد اسے بالکل نہ دیکھ سکا۔
اب انشاءللہ نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ اسے پھر سے شروع کرنا ہے اور اس دفعہ جس جوان کا انتخاب کیا ہے وہ اردو بلاگنگ کی دنیا کا جانا پہچانا اور نامی گرامی بندہ ہے۔ سندھ کے اس سپوت کو آپ سب راشد کامران کے نام سے جانتے ہیں اور پچھلے سال کے بہترین بلاگر کا اعزاز بھی اس سندھ کے سپوت کے پاس ہے۔ سندھ کے اس سپوت کی میں بڑی قدر کرتا ہوں کیونکہ سندھ کے اس جیسے سپوتوں سے ہی سندھ کا نام روشن ہے ورنہ جانے کتنے زردار ،  مرزا اور بھٹو سندھ کا نام بدنام کرنے کو کافی ہیں۔ ابو شامل یقینا ایک اور قابل تعریف نام ہے سندھی سپوتوں میں اور اگر مکی کا تعلق بھی بنیادی طور پر سندھ سے ہے تو پھر آپ لوگ خود سمجھدار ہیں۔
خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا ، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ راشد کے ساتھ یہ طے ہو گیا ہے کہ ہم لوگ مل کر یہ فورم جلد از جلد شروع کریں اور اردو بلاگران کو اس پر اکٹھا کریں اور ساتھ میں ورڈ پریس پر مفت اردو سروس دینا شروع کریں۔ سعود ابن سعید بھی ہاں نہ کے درمیان ہیں مگر امید کی جانی چاہیے کہ وقت پڑنے پر آگے ہی ہو گا پیچھے نہیں۔

یہ تو ہے اردو  بلاگنگ کے فورم اور سروس کے متعلق ایک منصوبہ۔ اس کے علاوہ ایک عدد سافٹ ویئر ہاؤس اور اپنی کمپنی کی سائٹ بھی جلد ہی بنانی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان جا کر خوب آرام اور لطف اٹھانے کے منصوبے ہیں جو وہاں پہنچ کر ہی بتاؤں گا۔

اس کے علاوہ راشد کے ساتھ ہی مل کر ایک عدد عمدہ رومن ٹو اردو کنورٹر بھی لکھنا ہے جو کہ اصل میں تو راشد نے ہی لکھنا ہے میں نے ساتھ مدد دینی ہے۔

PHP  اور  JAVA   سیکھنے کا بھی ارادہ ہے اسپانوی اور فرنچ سیکھنے کے ساتھ ساتھ۔

اب دیکھتے ہیں کتنے ارادے پایہ تکمیل تک پہنچتے ہیں اور کتنے نہیں۔

اور ہاں اگلے سال بہترین بلاگر کا اعزاز جیتنا بھی منصوبہ جات میں شامل کر لیا ہے جب سے سنا ہے کہ سرکاری سطح پر بھی کسی اردو بلاگر کو اعزاز ملنے کا امکان ہے۔

مکمل تحرير پڑھيے »

Flight over Manhattan, New York City
Image by meironke via Flickr

چوٹی کے بلاگران نے وسط نیویارک ( New York) المعروف مین ہیٹن (Manhattan)  میں عہد ساز مجلس برپا کر کے اردو بلاگنگ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے جس کی رقم البتہ ابھی اہل مجلس کے تخیل سے باہر نہیں آ سکی ہے
چوٹی کے بلاگران کی حد درجہ تاخیری عید ملن پارٹی و مجلس اردو بلاگنگ مستقبلیات  اختتام کو پہنچی جس میں چوٹی کے تین بلاگر اور دو بلا چوٹی بلاگران نے حصہ لیا۔ ایک چوٹی کے بلاگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر شامل نہ ہو سکے بلکہ تلاش و بسیار کے باوجود ان کا سراغ نہ لگایا جا سکا ۔ اس پوسٹ کے توسط سے ان کے سرچ وارنٹ جاری کیے جاتے ہیں ، جس شخص کو جہاں ملے وہیں چوٹی سے پکڑ لے۔
بیشتر کاروائی ریکارڈ کی گئی ہے جس کی محتاط ایڈیٹنگ جاری ہے اور تمام کام کی باتیں حذف کرکے اسے مفاد عامہ کے لیے پیش کر دیا جائے گا

Enhanced by Zemanta

مکمل تحرير پڑھيے »

Screenshot of the main page of Wikipedia Urdu
Image via Wikipedia

ہائے ہفتہ بلاگستان

سب سے پہلے تو میں شگفتہ کو بہت بہت مبارکباد پیش کروں گا کہ جنہوں نے اس خوبصورت کو پیش کیا اور موضوعات بھی پیش کیے اور میری اور راشد کامران کی تجویز پر اس کا دورانیہ بڑھا کر ایک ہفتہ سے دو ہفتہ کر دیا ، یہ الگ بات کہ بقول رضوان محب ایک بار پھر چکنا گھڑا ثابت ہوا اور دوسروں کے لیے وقت بڑھوا کر خود وقت گزار ہی گیا مگر اگر آپ لوگ تھوڑا ٹھنڈے دل سے سوچیں تو یہی میرا طریقہ واردات ہے کہ میں دوسروں کو کام پر لگا جاتا ہوں اور خود بس ابھی آیا کہہ کر پتلی گلی سے نکل جاتا ہوں۔ یار لوگ کافی محنتی ، سچے اور اچھے لوگ ہیں میرے کہے کو ہر بار سچ مان کر جی جان سے محنت کرتے رہتے ہیں اور عین کام کے ختم ہونے سے پہلے میں حسب معمول دوبارہ واپس آ کر ان کے حصے کا کریڈٹ لے کر الٹا ان پر احسان کر دیتا ہوں کہ دیکھا میرے کہے پر عمل سے کتنا فائدہ ہو گیا ہے اور کتنی ترقی ہو رہی ہے اردو کی ، بس ایسے ہی ہمتیں قائم اور عزم جواں رکھنے ہیں۔ دوست احباب کی مروت، انکساری اور محبت شاید ایسے ہی موقعوں کے لیے انہوں نے بچا رکھی ہوتی ہے اس لیے خوب خوب لٹاتے ہیں اور سارا کام کرکے مجھے مفت میں پذیرائی بخش دیتے ہیں۔

آمدم برسر مطلب ، بہت جی خوش ہوا ہے کہ ہفتہ بلاگستان کی بے مثال کامیابی اور اردو بلاگران کا جوش و خروش دیکھ کر۔ ایک وقت تھا کہ میں اور کئی دوست سوچا کرتے تھے کہ اردو بلاگر کب انگریزی بلاگران کی طرح متحرک ہوں گے اور کب ہم اردو بلاگنگ کو انگریزی بلاگنگ کے مقابل لا سکیں گے۔ مقام شکر ہے کہ اب یہ وقت قریب قریب نظر آ رہا ہے اور انشاءللہ جس طرح اردو بلاگران نے مل جل کر اور جوش و خروش سے ہفتہ بلاگستان منایا ہے اس سے اردو بلاگران کے اس چھوٹے مگر متحرک گروہ کی ذہنی پختگی اور ترقی کا اظہار ہوتا ہے۔ ماورا کو نہ سراہنا بہت زیادتی ہوگی جس نے عمار کے ساتھ مل کر منظر نامہ کو نہ صرف قائم کیا بلکہ عمدگی سے چلایا اور اردو بلاگران میں مشترکہ موضوع پر لکھنے کی روایت ڈالی اور شناسائی کا سلسلہ تو قابل صد تحسین ہے ہی ، میں البتہ اپنی ازلی اور روایتی سستی کی وجہ سے اب تک منظرنامہ پر انٹر ویو نہیں دے سکا ہوں مگر میں سمجھتا ہوں کہ باقی اہم لوگوں کی شناسائی کا جو سلسلہ جاری ہے وہ زیادہ اہم ہے۔

اب آمدم برسر مطلب میں بھی جو مطلب کی بات ہے اس کی طرف آتا ہوں۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ میں ٹھہرا سدا کا تاخیر پسند ، ہر کام کو ٹھہر کر اور وقت گزار کر کرنے کا عادی اس لیے یہ وقت و حدود کی قیود میں کم کم ہی پورا اترتا ہوں ۔ اسی وجہ سے ہفتہ بلاگستان کا دورانیہ ایک ہفتہ سے بڑھا کر دو ہفتہ بڑھا کر بھی میں ایک عدد پوسٹ بھی نہ کر سکا ۔ میں نے کوشش کی کہ ایک اور پوسٹ لکھ کر ایک ہفتہ اور بڑھا لوں پر یہ کام وقت پر کر لیتا تو پھر تاخیر پسندی سے جھگڑا مول لینا پڑتا اس لیے دیرینہ دوست سے حق دوستی نبھایا اور وقت گزار کر یہ پوسٹ کر رہا ہوں کہ اب میں ہفتہ بلاگستان کے حساب سے جو پوسٹس کرنی تھیں وہ میں اب کروں گا۔ مجھے علم بھی ہے اور یقین بھی کہ کچھ میرے بھائی بندے ایسے بھی ہیں جو میری ہی طرح سوچتے رہ گئے ہیں مگر پوسٹس نہ کر سکے تو ان تمام راہ تاخیر کے مجاہدو کو پیغام ہے میرا کہ جاگ اٹھو جوانو اور اپنے حصہ کی پوسٹس دیر سے ہی سہی مگر کر ڈالو۔

خصوصیت سے پروفیسر ظفری اور علامہ ابو شامل سے درخواست ہے کہ وہ اس بہتی گنگا میں میرے ساتھ ہاتھ دھو لیں التبہ باتھ سوپ ذاتی ہوگا۔

باقی دوستوں کے لیے بھی صلائے عام ہے

Enhanced by Zemanta

مکمل تحرير پڑھيے »

Brooklyn Borough Hall.
Image via Wikipedia


اے وطن زلزلوں کی دسترس نہ پہنچے تیری استقامت تک
ہم پہ گزریں قیامتیں لیکن تو سلامت رہے قیامت تک


خواتین و حضرات
آزادی پاکستان کا جشن اس اتوار سولہ اگست کو ہم منا رہے ہیں لٹل پاکستان کونیاایونیو  آئی لینڈ پر
بروکلین  میلہ چیرمین کی حیثیت سے نہیں ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے آپ سے اپیل کر رہا ہوں کہ اپنے دوستوں اپنی فیملی کے ساتھ تشریف لائیے
بروکلین میلہ کو کامیاب کیجیے ،
یہ آپ کا فرض بھی ہے اور آپ کی مٹی کا آپ پر قرض بھی ہے

اپنی ہی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے

یہ اشتہار ٹی وی پر دیکھ دیکھ کر میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں تو جا رہا ہوں اس میلہ کو کامیاب کرنے اور دیکھنے کے کیا ہوتا ہے
مزید معلومات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں     0707 692
718

بروکلین میلہ کی سائٹ کا ایڈریس ہے

http://www.brooklynmela.com/

Enhanced by Zemanta

مکمل تحرير پڑھيے »

Cover of A Briefer History of TimeImage via Wikipedia

A Briefer history of Time

سن اشاعت 2005

یہ کتاب A Brief History of Time in1988 (وقت کی مختصر تاریخ) ہی کا نیا ورژن بلکہ دوبارہ لکھا گیا ہے نسخہ ہے جسے اسٹیفن ہاکنگ (  Stephen Hawking) نے امریکی سائنسدان لیونارڈ ملادینو ( Leonard Mlodinow) کے ساتھ مل کر لکھا ہے ۔ اس نئی کتاب میں کوانٹم میکانیات ، سٹرنگ تھیوری اور دیگر سائنسی نظریات کو عام فہم زبان میں عوام کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایک سائنسی کلاسک ہے جسے زیادہ جامع، قابل رسائی ، واضح آسان اور نئی ریسرچ کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

مصنفین نے اس میں زمان و مکان کی فطرت ، تخلیق میں خدا کے کردار اور کائنات کے ماضی اور مستقبل کے بارے میں بحث کی ہے۔

Enhanced by Zemanta

مکمل تحرير پڑھيے »

کیلیفورنیا (امریکہ) میں ایک خاتون نے ایک ساتھ آٹھ بچوں کو جنم دیا ہے۔ اس طرح وہ ریکارڈ کے مطابق دنیا میں دوسری خاتون ہیں جنہوں نے آٹھ زندہ بچوں کو ایک ساتھ جنم دیا۔ان میں چھ لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں اور سبھی خیریت سے ہیں۔ڈاکٹروں کے اندازے کے مطابق سات بچے پیدا ہونے تھے مگر آٹھویں بچے نے پیدا ہو کر انہیں حیرت میں مبتلا کر دیا۔ ڈاکٹر کیرن کے مطابق میری آنکھیں کھلی رہ گئی جب آٹھویں بچے کی پیدائش ہوئی۔

سب سے پہلے آٹھ بچے نیو میکسیکو سٹی میں پیدا ہوئے تھے مگر وہ سب چودہ گھنٹوں کے اندر ہی مر گئے تھے۔

1998 میں ٹیکساس کے علاقے ہیوسٹن پہلی مرتبہ آٹھ بچے ایک ساتھ پیدا ہوا تھے جو زندہ بھی رہے۔ایک ہفتے کے بعد ایک بچے کی موت واقع ہو گئی تھی لیکن باقی سات اپنی دسویں سالگرہ منا چکے ہیں۔

مکمل تحرير پڑھيے »

اوبامہ کا حلف جو کہ محض ایک رسمی کاروائی اور ڈھائی لائنوں پر مشتمل تھا اس وقت دلچسپ ہو گیا جب چیف جسٹس جان رابرٹس اور باراک حسین اوبامہ دونوں نے اسے غلط ترتیب سے پڑھا۔ قرین قیاس تو یہ ہے کہ دونوں صاحبان نے اسے یاد کرنے کی اچھی مشق کی ہو گی اور خاص طور پر چیف جسٹس جان رابرٹس نے جنہوں نے اوبامہ سے یہ حلف لینا تھا مگر عین وقت پر وہ اسے بھول گئے اور یقینا ان کے پاس کوئی نوٹس بھی نہ تھے جن سے وہ اسے درست کر سکتے مگر بہرحال اپنی سی کوشش کی جان رابرٹس نے جسے آپ مندرجہ ذیل وڈیو میں دیکھ سکتے ہیں۔ کچھ کا خیال یہ بھی ہے کہ اوبامہ سے تھوڑی سی جلدی کی مگر میرا خیال ہے کہ اوبامہ نے توقف کرکے جان رابرٹس کو دستگی کا موقع دیا اور اس کے بعد خود بھی غلط پڑھ دیا۔ اوبامہ اور جان رابرٹس کے درمیان حلف اس طرح اٹھایا گیا۔

 

ROBERTS: I, Barack Hussein Obama

OBAMA: I, Barack

ROBERTS: … do solemnly swear

OBAMA: I, Barack Hussein Obama, do solemnly swear

ROBERTS: … that I will execute the office of president to the United States faithfully

OBAMA: … that I will execute

ROBERTS: … faithfully the office of president of the United States

OBAMA: … the office of president of the United States faithfully

ROBERTS: … and will to the best of my ability

OBAMA: … and will to the best of my ability

ROBERTS: … preserve, protect and defend the Constitution of the United States.

OBAMA: … preserve, protect and defend the Constitution of the United States.

ROBERTS: So help you God?

OBAMA: So help me God.

اوبامہ کے حلف اٹھانے کی ویڈیو آپ خود دیکھ لیں۔

http://www.youtube.com/watch?v=m1Yff-_9MZs

 

ویسے خدا سے مدد مانگنے کی ضرورت صرف اوبامہ کو ہی نہیں رابرٹس کو بھی تھی شاید اس لیے تقریبا ڈیڑھ میل چل کر دوبارہ اوبامہ سے حلف اٹھوایا گیا وہائٹ ہاؤس میں حالانکہ آئینی طور پر بیس جنوری بارہ بج کر ایک منٹ پر اوبامہ صدر بن چکے تھے۔

دوسری دفعہ حلف لیتے ہوئے  رابرٹس اور اوبامہ میں یوں مکالمہ ہوا۔

 

رابرٹس : کیا آپ حلف لینے کے لیے تیار ہیں ؟

اوبامہ: ہاں میں ہوں اور اس دفعہ ہم اسے بہت آرام سے کریں گے۔

oath-obama in white house

اور دوسری دفعہ بغیر غلطی کے حلف اٹھا لیا گیا۔ اس سے پہلے دو اور صدر بھی اس قسم کی صورتحال سے دوچار ہو چکے ہیں جن کے نام کیلون کولج اور چیسٹر آرتھر۔

مکمل تحرير پڑھيے »

بی بی سی اردو پر وسعت اللہ کا یہ بلاگ پڑھ کر سوچا کہ اسے ضرور شیئر کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ کسی قوم پر ماضی میں ہوا ظلم کیسے اسے مستقبل میں طاقت ہاتھ آنے پر وہی ظلم کرنے پر اکسا دیتا ہے اور ماضی کا خیال صرف اپنی مظلومیت کے حوالے سے ہی آتا ہے ۔

 

جب ستمبر انیس سو انتالیس میں ہٹلر کی نازی افواج نے پولینڈ کے دارلحکومت وارسا پر قبضہ کیا تو ایک کام یہ کیا گیا کہ وارسا کے لگ بھگ ساڑھے تین لاکھ یہودیوں کو باقی شہر سے علیحدہ رکھنے کے لئے انکی آبادی کے گرد ایک بلند چاردیواری بنادی گئی۔ holocaust.jpg

اسکے سبب اس آبادی کو ایک ڈبل روٹی اور سوئی تک باہر سے لانے کے لئے نازی پہرے داروں کی خوشامد کرنی پڑتی تھی۔ محصور یہودیوں میں سے ہزاروں بھوک اور دوائیں نہ ملنے کے سبب مر گئے۔ ڈھائی لاکھ یہودیوں کو مزدوری دینے کے بہانے تربیلانکا کنسنٹریشن کیمپ بھجوا دیا گیا۔لیکن جب اس یہودی محلے میں باقی رہ جانے والے پچاس ہزار کے لگ بھگ لوگوں پر یہ بات پوری طرح آشکار ہوگئی کہ جرمنوں نے انکے لاکھوں پیاروں کو روزگار کے نہیں بلکہ موت کے سفر پر روانہ کیا ہے تو اپریل انیس سو تینتالیس میں ایک دن اس محصور محلے میں ٹھوں ٹھاں شروع ہوگئی۔

مزاحمتی بغاوت کرنے والے سات سو سے ایک ہزار کے لگ بھگ یہودی نوجوان چند اسمگل شدہ پرانی بندوقوں، کچھ زنگ آلود پستولوں، بوتل بموں، خنجروں، چاقوؤں، ڈنڈوں اور اینٹوں سے لیس تھے۔جبکہ انکے مدِ مقابل چھ ہزار جرمن فوجیوں کو ٹینکوں اور طیاروں کی مدد حاصل تھی۔ اسکے باوجود جرمن فوج کو یہ بغاوت کچلنے میں ایک ماہ لگ گیا۔ سولہ جرمن فوجی مرے جبکہ تیرہ ہزار یہودی جاں بحق ہوئے ۔جن میں سے چھ ہزار جلتی ہوئی عمارتوں میں پھنس کر ہلاک ہوگئے۔جرمنوں نے یہودیوں کی بچی کھچی عبادت گاہیں، سکول اور ڈسپنسریاں زمین سے ملادیں ۔معذوروں کو وہیل چیرز سمیت اوپر سے پھینک دیا گیا۔اور بیماروں کو علیحدہ کرکے گولی مار دی گئی۔باقی رہ جانے والوں کو مال گاڑیوں کے ڈبوں میں بند کرکے کنسنٹریشن کیمپوں کی جانب روانہ کردیا گیا۔
آج مشرق و مغرب کا ہر باضمیر نازی مظالم پر تھو تھو کرتا ہے۔اور وارسا مزاحمت کا دن اسرائیل میں نہائیت عقیدت و احترام سے یاد رکھا جاتا ہے۔

گذشتہ برس اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف جنرل گیبی اشکنازی نے خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے اعلی فوجی افسروں سمیت وارسا کے اس علاقے کا دورہ کیا جہاں یہ مزاحمت ہوئی تھی۔
یہ واقعہ بس میں نے یوں ہی لکھ دیا۔اس کا غزہ کی تازہ صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ۔ویسے بھی مجھے خود پر اینٹی سمیٹک کا ٹھپہ لگوانے کا کوئی شوق نہیں۔

مکمل تحرير پڑھيے »

آج ایک مدت بعد اپنا بلاگ دیکھا تو آخری پوسٹ پر ایک اور تبصرہ ہوا تھا ، تبصرہ نگار کو دل ہی دل میں دعائیں دیتے ہوئے تبصرہ پڑھا تو گمشدہ رضوان کا پیغام تھا کہ سرکار ٹیگ کھیلنے میرے بلاگ پر تشریف لائیں۔ ان کے بلاگ پر گیا تو دیکھا کہ پتہ چلا کہ آگے جہانزیب کے بلاگ تک جانا بھی لازم ہے کہ وہاں سے ہی اس گتھی کا سرا ہاتھ آئے گا۔ وہاں جا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ سارا سلسلہ اردو کے خوابیدہ بلاگران کو جگانے کے لیے جہانزیب کی عمدہ کاوش ہے گو ٹیگ ٹیگ کھیل کر سب پھر سے لمبی تان کر سو جائیں گے معدودے چند کے سوا۔

 

کھیل کے قوانین

کھیل کے قوانین مندرجہ ذیل ہیں ۔
ا) کھیل کے قوانین جوابات دیتے وقت ارسال کرنا ہوں گے ۔
ب) جِس نے آپ کو اس کھیل سے منسلک کیا ہے، اُسکی تحریر کا حوالہ دینا لازمی ہے ۔
ج) سوالات کے اخیر میں آپ مزید پانچ لوگوں کو اِس کھیل سے منسلک کریں گے، اور اس کی اطلاع متعلقہ بلاگ پر نئی تحریر میں تبصرہ کر کے دیں گے ۔

 

1) اِس وقت آپ نے کِس رنگ کی جرابیں پہنی ہوئی ہیں؟

گرمی میں جرابیں                 پہنتے ہیں لوگ مگر میں نے نہیں پہنی ہوئیں۔

2) کیا آپ اس وقت کچھ سُن رہے ہیں؟ اگر ہاں تو کیا؟

پنکھے کا شور سن رہا ہوں جو بھلا معلوم ہو رہا ہے کیونکہ اس کے شور سے بجلی کی موجودگی کا پتہ چل رہا ہے۔

3) سب سے آخری چیز جو آپ نے کھائی تھی کیا تھی؟

بھنڈیاں ، آملیٹ اور روٹیاں

4) سب سے آخری فلم کونسی دیکھی ہے؟

منگول جس میں چنگیز خان کو خاصا اچھا دکھایا گیا ہے۔

5) آپ کا پسندیدہ قول کیا ہے؟

میں یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا مگر تم یہ نہیں جانتے کہ تم بھی کچھ نہیں جانتے ( سقراط)

6) کل رات بارہ بجے آپ کیا کر رہے تھے؟

گلوبل سائنس پڑھ رہا تھا جس میں مستقبل کے کمپیوٹروں کے بارے میں معلومات تھی۔

7) کِس مشہور شخصیت زندہ یا مردہ سے آپ مِلنا چاہیں گے؟

مامون الرشید سے

8) غصہ میں اپنے آپ کو پرسکون کِس طرح کرتے ہیں؟

ضبط کرتے ہوئے خود کو خاموش کرکے

 
9) فون پر سب سے آخر میں کِس سے بات ہوئی؟

بھائی سے ، موبائل کا  بیلنس ڈلوانے کے لیے۔

10) آپ کا پسندیدہ تہوار کونسا ہے؟

عید ( کھانے کے ساتھ چھٹی اور جینے کو کیا چاہیے)

 

میں ان لوگوں کو ٹیگ کر رہا ہوں

حیدرآبادی ، بول کہ لب آزاد ہیں تیرے  ، افتخار اجمل ، امید ، امید بہار

مکمل تحرير پڑھيے »

اگلي تحارير »