آج زیک سے اردو بلاگنگ پر بات ہو رہی تھی اور بات چیت سے یہ اندازہ ہوا کہ اردو بلاگرز ابھی بھی بلاگنگ کو سنجیدہ نہیں لے رہے مجھ سمیت۔ یہ ایک تشویشناک امر ہے کیونکہ بلاگنگ اب ایک بہت مضبوط اور اہم میڈیم ہے دور جدید کا اور جو قوم اسے استعمال نہ کرے گی وہ یقینا ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گی۔ بلاگنگ لوگوں کو آزادی اظہار کی بہترین شکل بھی فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے کوئی بھی شخص اپنے خیالات اپنی مرضی کے اسلوب میں اپنے من پسند طریقے سے پیش کر سکتا ہے اور اپنے خیالات پر دوسروں کے تبصروں کو بھی مکمل طور پر کنٹرول کر سکتا ہے ۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جو پہلے میسر نہ تھیں اور اب بھی بلاگنگ کے علاوہ اور کہیں میسر نہیں ہیں۔ بلاگنگ کو جدید صحافت میں بھی ایک اہم مقام حاصل ہے اور اکثر بیشتر عوامی رائے جاننے کے لیے بلاگران کی رائے معلوم کی جاتی ہے کیونکہ وہ بے لاگ اور لگی لپٹی رکھے بغیر ہوتی ہے۔
چند اہم سوالات جو زیک نے اٹھائے اور جن کا جواب تلاش کرنے کی اشد ضرورت ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں
اردو بلاگران کی تعداد ایک خاص تعداد سے آگے کیوں نہیں بڑھ رہی ( زیک کے مطابق یہ تعداد پچاس ساٹھ ہے ) میرے اندازے کے مطابق یہ تعداد ڈیڑھ سو کے لگ بھگ ہے مگر دونوں صورتوں میں کافی کم ہے۔
اردو بلاگ پڑھنے والوں کی تعداد بھی بہت کم ہے اور اردو بلاگ پڑھنے والے تقریبا وہی لوگ ہیں جو خود بھی بلاگ لکھتے ہیں اس لیے گھوم پھر کر یہ تعداد بھی چند سو سے زیادہ نہیں ہے جب کہ اس تعداد کو کم از کم اس وقت ہزاروں میں ہونا چاہیے۔
اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اردو بلاگران کی تعداد بڑھ کیوں نہیں رہی ہے اور اردو بلاگ پڑھنے والوں کی تعداد جو یقینی طور پر بڑھنی چاہیے وہ کیوں نہیں بڑھ رہی اس رفتار سے جس کی توقع تھی۔ زیک کے مطابق یہ تعداد طوفانی رفتار سے بڑھنی چاہیے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ ابھی تک اردو بلاگز کی مناسب تشہیر نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے اردو بلاگ بنانے اور پڑھنے والوں کی تعداد کافی کم ہے ۔ اس کے علاوہ اردو بلاگران کی سستی اور تسلسل سے بلاگ نہ لکھنے کی وجہ سے بھی مستقل قارئین کی تعداد کم ہوتی ہے جبکہ اردو اخبارات پڑھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں لازما ہے جو آئندہ چند سالوںمیں کروڑوں تک پہنچ جائے گی۔
اگر آپ کے ذہن میں بھی ایسے سوالات یا ان سوالات کے جوابات یا مفید تجاویز ہیں تو اپنی رائے کا اظہار کریں اور اردو بلاگنگ کو مقبول و معروف بنانے میں ہاتھ بٹائیں۔