آر ايس ايس فيڈ

محفوظات برائے 'کتابوں پر تبصرے' زمرہ

The Phanton of the Opera
یہ ناول  Gaston Leroux نے 1909 میں لکھا اور بطور ایک سیریل کے شائع کیا تھا۔ یہ ناول مصنف کے تخیل کی پیداوار ہے اور تعارف لکھتے ہوئے مصنف نے فرض کرتے ہوئے اپنے ناول کا ابتدائیہ اس طرح لکھا کہ اس نے 1880 میں پراسرار واقعات کی تحقیق کی جو کہ مشہور اوپیرا ہاؤس میں پیش آئے۔ مصنف نے یہ بھی لکھا کہ اس نے وہ بہت بڑی جھیل بھی دیکھی جہاں فینٹم چھپا رہا جہاں بہت سے لوگوں کے لاشے بھی تھے جنہیں بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ یہ کتاب بیسٹ سیلر تو نہیں بنی مگر  1925 میں اس پر ایک فلم ضرور بن گئی جو کہ مشہور بھی ہو گئی۔
Andrew Lloyd Webber نے ایک میوزیکل کہانی لکھی جو کہ   لندن میں  1986 اور پھر 1988 نیویارک میں پیش کی گئی۔  2006 تک Broadway Productions میں یہ شو Cats سے بھی زیادہ چلنے والا شو بن گیا ہے اور Broadway تاریخ میں سب سے زیادہ چلنے والا شو بن گیا ہے۔
اب تک اس میں
9100 پرفارمنس ہو چکی ہیں
10 کروڑ سے زائد لوگ اسے دیکھ چکے ہیں
25 ملکوں کے  124 شہروں میں یہ شو دیکھا جا چکا ہے اور بلاشبہ اسے تاریخ انسانی کی اعلی ترین تفریحی پڑاڈکشن کہا جا سکتا ہے

اسلام آباد میں میں نے بھی یہ شو اسلام آباد کلب میں شاہ شرابیل کی ڈائریکشن میں دیکھا تھا اور بہت لطف اندوز ہوا تھا۔

مکمل تحرير پڑھيے »

Cover of A Briefer History of TimeImage via Wikipedia

A Briefer history of Time

سن اشاعت 2005

یہ کتاب A Brief History of Time in1988 (وقت کی مختصر تاریخ) ہی کا نیا ورژن بلکہ دوبارہ لکھا گیا ہے نسخہ ہے جسے اسٹیفن ہاکنگ (  Stephen Hawking) نے امریکی سائنسدان لیونارڈ ملادینو ( Leonard Mlodinow) کے ساتھ مل کر لکھا ہے ۔ اس نئی کتاب میں کوانٹم میکانیات ، سٹرنگ تھیوری اور دیگر سائنسی نظریات کو عام فہم زبان میں عوام کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایک سائنسی کلاسک ہے جسے زیادہ جامع، قابل رسائی ، واضح آسان اور نئی ریسرچ کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

مصنفین نے اس میں زمان و مکان کی فطرت ، تخلیق میں خدا کے کردار اور کائنات کے ماضی اور مستقبل کے بارے میں بحث کی ہے۔

Enhanced by Zemanta

مکمل تحرير پڑھيے »

اس پوسٹ کو میں فاتح کے نام کرنا چاہوں گا جن کی بدولت اس کتاب ‘اے عشق جنوں پیشہ’ سے ایسی الفت ہوگئی ہے کہ شاید کم ہی کسی اور کتاب سے ہو سکے۔ قصہ کچھ یوں شروع ہوا کہ میں نے یہ کتاب خریدی اور پچھلے ہفتہ 21 تاریخ بروز ہفتہ گفٹ میں دے دی گو کہ کتاب مجھے کافی پسند آئی تھی اور فراز کی شاعری کی کتاب خریدنے کا پہلا موقع بھی تھا۔ کسی اور کو بھی یہ کتاب بہت پسند تھی اور میں نے سوچا کہ اپنی ہی کتاب دینے سے بہتر اور کیا ہوگا دوسرا اسی بہانے انتخاب کی ہوئی شاعری بھی پڑھنے کو ملتی رہے گی اور کچھ دیر بعد میں بھی دوبارہ لے لوں گا یہ کتاب۔ یہ تو میں سوچ رہا تھا مگر قدرت کچھ اور سوچ رہی تھی اور اس کتاب کو دوبارہ مجھ تک پہنچانے کے لیے اس کے اپنے ہی ارادے جو میری سوچ سے بڑھ کر خوبصورت اور دلفریب نکلے۔
محفل پر امید اور محبت اس کتاب سے ایک غزل منتخب کرکے پوسٹ کرتی ہیں اور اس داد دینے فاتح پہنچ جاتے ہیں اپنے شگفتہ اور خوبصورت اسلوب کے ساتھ۔ چونکہ میں بھی تازہ تازہ بچھڑا تھا اس کتاب سے اس لیے لپک کر پہنچا اس دھاگے پر اور غزل کی داد کے ساتھ فاتح کو بھی داد دی تعریف کرنے پر۔ فاتح کی لاعلمی کہیے یا میری خوش قسمتی کہ فاتح کو معلوم نہ تھا کہ یہ غزل فراز کی نئی کتاب سے لر کر پوسٹ کی گئی ہے۔ میں نے کتاب سے اپنی واقفیت کے اظہار کے طور پر فورا فاتح کو مطلع کر دیا کہ یہ غزل فراز کی نئی کتاب اے عشق جنوں پیشہ ہے اور اس کا مقدمہ بھی دلچسپ لکھا گیا ہے۔ میرے مطابق یہ عام سی معلومات تھی مگر فاتح کے لیے خاص ثابت ہوئی اور یوں کسی کی لاعلمی کسی کی خوش قسمتی بنتے آنکھوں سے دیکھ لی۔ ہوا یوں کہ فاتح کی نصف بہتر پاکستان یاترا پر آئی ہوئی تھیں اور دو دن بعد ان کی فاتح کے دیس واپسی تھی ۔ شوہر نامدار کے لیے کیا تحفہ لے جانا چاہیے کا ‘لاینجل‘ مسئلہ ابھی تک حل طلب تھا جو اس معلومات سے حل ہوگیا اور فاتح نے رات دو بجے اس کتاب کے لانے کی فرمائش وقت کی قید سے آزاد ہو کر کر ڈالی اور ساتھ ہی میرا شکریہ بھی ادا کر ڈالا۔ میں نے مذاق میں کہا کہ میری بات اتنا کام آئے گی اس کی مجھے امید نہ تھی اب جبکہ مسئلہ حل ہوگیا ہے تو کوئی انعام میرے لیے بھی ہے آپ کے پاس۔ پہلا روایتی جواب تو یہی آئا کہ کیوں نہیں جیسے ہی کتاب آئے گی اس میں سے غزلیں شئیر کروں گا۔ اس پر مزاح کے رنگ میں میں نے ان سے کہا کہ یہ تو آپ کا فرض ہوگا انعام اس سے آگے کی کوئی چیز ہونی چاہیے۔ یہ لکھتے ہوئے میرے ذہن میں لائبریری اور محفل کے دوسرے پراجیکٹس پر مدد کا وعدہ بطور انعام لینے کا تھا مگر فاتح نے جس محبت اور خلوص سے کتاب انعام میں دینے اور بغیر عذر رقم کیے ڈاک کا پتہ رقم کرنے کا کہا اس کے بعد انکار کرنا ممکن نہ رہا۔ اس لمحہ میں مجھے لگا کہ اس پرخلوص پیشکش کو رسما رد کرنا مناسب نہ ہوگا اور شاید اس خلوص سے منہ موڑ کر میں ایک محبت بھرے تعلق سے محروم ہو جاؤں اور زندگی میں اس زیاں پر افسوس کے لیے مجھے مہلت بھی نہ مل سکے۔ ہماری زندگیوں میں سب سے بڑا زیاں یہ نہیں کہ ہم کوئی چیز کھو بیٹھتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ہمارے دل میں احساس زیاں اول تو پیدا ہی کم ہوتا ہے اور اگر ہوتا بھی ہے تو جلد جاتا رہتا ہے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس تعلق کے لیے در بند نہیں بلکہ وا کر دوں گا اور میں نے یہ پرخلوص پیشکش قبول کر لی۔ فاتح تو شاید جلد از جلد اس وعدے کو پورا کرنے کے لیے بے تاب تھے دو دن کے اندر نہ صرف کتاب مجھ تک پہنچا دی بلکہ اس کے ساتھ محبت سے معمور ایک کارڈ بھی۔
امید اور محبت کے شروع کیے ہوئے دھاگے کو میں نے اور فاتح نے بقول فاتح کھینچ کر ‘گڈی‘ بنا دیا اور اس پر جی بھر کر دوستی کی پینگیں بڑھائیں۔ مذاق برطرف مگر فاتح نے کتب بینی کے فروغ کے لیے جس تحریک کی بنیاد رکھی ہے اس پر وہ خصوصی مبارکباد کے مستحق ہیں اور یقینا یہ کاوش مستقبل میں انٹر نیٹ پر اردو کتب کے مطالعہ کے فروغ کے سلسلے میں سنہرے حروف سے لکھی جائے گی اور مجھے امید ہے اس سے اور لوگوں میں بھی کتب تحفے میں دینے کی روایت مضبوط ہوگی ( اور کسی کی ہو نہ ہو میری اور فاتح کی تو ہو گئی )۔
امید اور محبت کا بھی میں تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان کے توسط سے ایسا اچھا تعلق بن پایا اور محبتوں کے تحفے کے طور پر کتاب اور کارڈ بھی خلوص کی ہوا کے ساتھ ساتھ میرے گھر پہنچ گیا۔ جانے کس نیک گھڑی میں میں نے یہ کتاب تحفہ میں دی تھی کہ سات دن کے اندر اندر ٹھیک جس روز ( 21 جولائی)یہ کتاب دی تھی اس دن ( 28 جولائی) یہ کتاب واپس میرے پاس پہنچ گئی۔
جس دھاگے سے یہ سلسلہ شروع ہوا اس کا ربط یہ ہے

مکمل تحرير پڑھيے »