ہفتہ کتب جو آدھا رمضان سے پہلے ہے اور آدھا رمضان کے بعد ، آج کے دن اختتام پذیر ہو رہا ہے عید کی خوشیوں کے ساتھ دوبارہ طلوع سے پہلے تو سوچا کہ کچھ نہ کچھ مجھے بھی لکھ لینا چاہے آخر ایک موضوع کی تجویز میں ذوق و شوق سے دے چکا ہوں اور انصاف تو یہی تھا کہ اسی موضوع پر لکھتا بھی ، موضوع ہے
کتابوں کا آپ کی زندگی میں کردار
مگر اس پر لکھنے کے لیے یکسوئی اور کسی قدر فرصت کی ضرورت ہے اور دوسرا میں موضوع کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش میں بھی ہوں اس لیے آج کتب کے حوالے سے ایک نظر انداز شدہ مگر انتہائی اہم لائبریری قسم پر اپنے تاثرات سب سے بانٹنا چاہتا ہوں۔ لائبریری کا لفظ ذہن میں آتے ہی عموما ایک پختہ انتہائی چوکور، وسیع و عریض اور خستہ حال سی عمارت ذہن میں آتی ہے ( کم از کم میرے ذہن میں اکثر یہی تصویر آتی ہے ) اور یہ حقیقت سے اتنا دور بھی نہیں کہ عموما لائبریریاں پرانی عمارتوں پر مشتمل ہوتی ہیں یا ان کا تاثر سنجیدہ دینے کے چکر میں اسے غمگین اور اداس سا ضرور بنا دیا جاتا ہے۔ ایسا صرف پاکستان میں ہی نہیں ہے دوسرے ممالک میں بھی ایسا نظر آتا ہے مگر پاکستان میں تو خصوصیت سے میرا یہ مشاہدہ ہے۔ پنجاب پبلک لائبریری ہو ، بڑی یونیورسٹیوں کی لائبریریاں جیسے ایف سی کالج ، گورنمنٹ کالج سب ایسا ہی نقشہ پیش کرتی ہیں جس کی ایک وجہ ان کا سو سال پہلے قائم ہونا بھی ہے۔ لارنس گارڈن لاہور میں قائم قائد اعظم لائبریری دیکھ کر البتہ پہلی بار مجھے احساس ہوا تھا کہ لائبریری کی عمارت خوبصورت اور دلکش بھی ہو سکتی ہے خاص طور پر لائبریری کا اندرون تو بہت ہی دل موہ لینے والا ہے اور وہاں کتابیں پڑھنے سے زیادہ وقت بتانے کا زیادہ لطف آتا ہے۔ کچھ پوچھ گچھ پر اس عمارت کی خوبصورتی کا راز اس طرح سے کھلا کہ پاکستان بننے سے پہلے یہ ایک بال روم ( ناچنے مع گانے کی جگہ ) تھا اور یہاں ہمارے پرانے آقا تفریح کے مواقع ڈھونڈنے نہیں بلکہ منعقد
کروایا کرتے تھے جسے کسی عالی دماغ نے بعد میں ایک لائبریری میں بدل دیا اور بلا شبہ یہ پاکستان کی خوبصورت ترین لائبریری ہے اور شاید دنیا میں کم ہی ایسی دلکش اور تاریخی لائبریریاں ایسے تاریخی پس منظر کے ساتھ موجود ہوں۔ ایک انتہائی ظالمانہ نظام جو اس لائبریری میں نافذ ہے وہ وہی ہے جس کا رونا ہمارا میڈیا کئی مہینوں سے رو رہا ہے یعنی گریجویٹ ہونا اور اس کے لیے سچی اور اصلی ڈگری کا ہونا شرط لازم ہے ( میرے خیال میں بی اے کی اصلی ڈگری کے فساد کی جڑ اسی لائبریری سے جڑی ہے ) ۔ میں جب پہلی بار اسے لائبریری میں گیا اس وقت میں شاید ایف ایس سی میں تھا یا ابھی بیچلر کے اوائل دن تھے اس لیے ڈگری نہ ہونے کے باعث میں ممبر نہ بن سکا بعد میں بھی نہ بن سکا کیونکہ جس پرائیوٹ انسٹیٹوٹ سے میں نے ڈگری لی وہ اس وقت تک چارٹر شدہ نہ تھا ، یوں قائد اعظم لائبریری کا ممبر بننا ایک خواب تھا اور خواب ہی رہا۔
اس اثنا میں البتہ میں نے کوشش کی کہ پنجاب پبلک لائبریری (پنجاب یونیورسٹی کی لائبریری گو زیادہ بڑی ہے شاید مگر وہ صرف طالب علموں کے لیے ہے ) کا ممبر بن جاؤں جو کہ عوام الناس کے لیے ایک عدد فارم اور شاید کم تر تصدیق سے ممبر بنانے کی طرف مائل تھی مگر جانے کیوں فارم بھرنے اور فیس جمع کرنے کے باوجود میں پنجاب پبلک لائبریری کا ممبر بھی نہیں بن سکا یا بنا تو بہت ہی کم استفادہ کر سکا ( صحیح سے یاد نہیں اب ) حالانکہ وہاں اس وقت ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں کتابیں میسر تھیں اور میں نے گورمکھی اور سنسکرت کی کتابوں والے سیکشن میں کتابوں پر جالے یا مٹے مٹے حروف والی کئی کتابیں کسی لائبریری میرے خیال سے میں نے دو دفعہ فارم بھر تھا اور دوسری بار ممبر بننے کے بعد میں نے شاید کچھ کتابیں مستعار لی تھیں اور پہلی دفعہ مجھے بہت خوشی ہوئی تھی کہ آپ پورا ایک مہینہ کسی کتاب کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اور وہ بھی بالکل مفت اور زائد رکھنے پر بھی بہت ہی کم جرمانہ ہوتا ہے۔ میرا دھیان اس وقت تک کچھ خاص ادبی، سچی ، حقیقی یا خشک کتابوں کی طرف نہیں ہوا تھا اور میں کاروباری لائبریریوں سے غیر ادبی کتب سے ہی لطف اٹھانے میں مشغول تھا۔
پبلک لائبریری میں میری دلچسپی کی دو بڑی وجوحات تھیں ایک تو کتاب ایک مہینہ تک آپ کے پاس اور وہ بھی مفت ورنہ میں جو اب تک کرائے کی لائبریریوں سے روزانہ کی بنیاد پر کرایہ ادا کرکے کتابیں پڑھتا تھا اور سارا جیب خرچ اس کی ہی نظر ہو جاتا تھا اس کے لیے یہ ایک بمپر آفر تھی۔ دوسری وجہ کتابوں کی اتنی بڑی تعداد تھی جو میں کسی جگہ آج تک ایک ساتھ اپنے ذہن میں نہیں لا سکا۔ کتابوں کی زیادتی گو بظاہر تو بہت مفید معلوم ہوتی ہے مگر شاید یہی چیز میرے لیے ایک مسئلہ بن گئی ( شاید عمر بھی کم تھی اور لائبریری کا صحیح تجربہ بھی نہیں تھا) ۔ جتنی بار بھی پنجاب پبلک لائبریری ( Punjab Public Library ) جانے کا اتفاق ہوا ، کیٹلاگ ڈھونڈتے اور کتابوں کے نام پڑھنے میں اتنی دیر گزر جاتی کہ اس میں با آسانی ایک عدد کتاب پڑھی جا سکتی ۔ طویل وقت گزار کر میگزین یا کسی رسالے کی ورق گردانی کرکے چند اچھی اور ناموں سے دلچسپ محسوس ہونے والی کتابوں کے نام زہن نشین کر لینے کے بعد اکثر میں کتاب ایشو کروائے بغیر ہی آجاتا کہ اگلی بار جن کتابوں کو ذہن میں پذیرائی بخشی ہے ان میں سے کوئی کتاب لے لوں گا مگر اس اگلی بار میں پرانی غلطی دہراتا البتہ کبھی کبھی آخری لمحوں میں دو تین بھاری بھرکم کتابیں ایشو کروا لیتا جو اکثر بغیر پڑھے یا سرسری طور پر جائزہ لے کر ہی واپس بھی کر آتا۔ ایسا میں نے کبھی کرائے پر لی ہوئی خشک سے خشک یا مشکل سے مشکل کتاب کے ساتھ بھی نہ کیا سوائے ایک معرکتہ الارا کتاب
ذلتوں کے مارے لوگ از دوستو ؤ سکی
گو کہ یہ کتاب ایک ہفتہ کے لیے ایشو ہوئی تھی مگر ایک تو پہلے دن میں چند دوستوں سے ملنے گیا جو سارے ادب شناس تھے ان میں سے ایک نے جو تعریفیں کرنی شروع کی اس کتاب کی اور فورا مانگ لی میں نے ذرہ برابر تامل نہ کیا کہ چند صفحات کی ورق گردانی میں کر چکا تھا۔ اگلے دن کتاب واپس کرتے ہوئے اس نے پھر اس کے بہت قصیدے پڑھے اورمیرے ذوق کی وہ تعریفیں کی کہ آج تک کلیجہ ٹھنڈا ہے۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ میں اتنا ہی کہہ سکوں کہ ابھی میں نے کتاب پوری نہیں پڑھی مگر اس کی تعریفوں کے سیلاب کے سامنے بند نہ باندھا گیا مجھ سے۔ بعد میں کئی دن کی لگاتار کوشش کے باوجود میں فقط پچاس صفحات کی پڑھ سکا کہ پڑھتے ہوئے اتنی مایوسی اور اندھیرے کا احساس ہوتا تھا کہ پڑھنا دوبھر ہو جاتا تھا ، آج سوچتا ہوں کہ مترجم نے کمال کا ترجمہ کیا تھا کہ واقعی ناقابل یقین اور ناقابل مطالعہ بنا دیا تھا کتاب کو ، شاید یہی کتاب کی خوبی تھی۔ یہ کتاب ڈیفنس کی ایک تنگ سی کرائے کی لائبریری سے لی تھی جو اس وقت فی کتاب سات یا دس روپے ہفتہ پر کتاب دیتے تھے مگر ان کے پاس انگریزی کے ناول زیادہ یا ابن صفی مرحوم کی کتابیں زیادہ تھیں جن میں سے دونوں سے مجھے دلچسپی نہ تھی کیونکہ میں اس وقت سے اب تک اشتیاق احمد کا معتقد تھا میں نے خود سے عہد کیا تھا کہ ہمیشہ اشتیاق احمد سے وفادار رہوں گا جس پر آج بھی قائم ہوں دوسرا مظہر کلیم ایم اے نے مجھے عمران سیریز سے متنفر کر دیا تھا اور میں ابن صفی کا لطف نہیں اٹھا سکا ویسے میں نے ابن صفی کو پڑھا بھی بہت ہی کم، یہی کوئی دو چار ناول جو کہ اوسطا میں نے ہر لکھاری کے پڑھے ہیں جس کسی کے بھی پڑھے۔
کرائے کی لائبریریاں جو کہ کاروبار کی شکل ہوا کرتی تھیں یقینا اب بھی ہیں مگر پہلے کافی زیادہ تعداد میں ہوا کرتی تھیں اور ان سے بچے خصوصا اور یقینا بڑے بھی کتابیں کرائے پر لے کر پڑھنے کی ہوس پوری کر لیا کرتے تھے اب بہت کم ہو گئی ہیں۔ پہلے تو ہر گلی نکڑ اور جنرل سٹور تک میں لوگ کتابوں کا چھوٹا سا سیٹ لے کر اسے کرائے پر دینا شروع کر دیتے تھے جس سے ایک تو گاہک بھی بڑھتے تھے اور دوسرا کچھ آمدنی بھی شروع ہو جاتی تھی ۔
گڈ لک بک سنٹر نے تو میری دانست میں مجھ جیسے اندھا دھند جاسوسی ناولوں کے سائقین سے پیسے کما کر دوکان بڑھائی مگر ایسی کہ ناول اور کہانیاں کرائے پر دینی ہی بند کر دی مگر شاید وقت کے ساتھ ساتھ طلب کم ہو گئی یا لکھنے والوں نے لکھنا کم کر دیا بہرحال وجہ کچھ بھی ہو اب مجھے جا بجا کاروباری لائبریریاں نظر نہیں آتی جو کسی زمانے میں غریب اور متوسط طبقے کے بچوں اور بوڑھوں کی کتابیں پڑھنے کی عیاشی کا سامان کر دیتی تھیں۔
پوسٹ خاصی طویل ہو گئی ہے اور میرا خیال ہے جذبات کی رو بلکہ ماضی کی سمندر میں بہہ کر میں نے عنوان پر کم اور بلا عنوان زیادہ تقریر کی ہے جس کے لیے پڑھنے والوں سے قطعا کوئی معذرت نہیں کہ کسی نے انہیں مجبور تھوڑی کیا تھا یہ سب پڑھنے کے لیے۔ بلاگستان میں صوبائیت افروز پوسٹس پڑھ دل تو میرا بھی کر رہا تھا کہ کوئی مصالحہ دار اور تڑکے والی صوبائیت پرور یا قوم پرست پوسٹ کروں اور ڈھیروں تبصرے پاؤں مگر شازل کی تازہ تحریر پڑھ کر شگفتہ کے طے کیے ہوئے ہفتہ کو ہی منانے کو ترجحیح دی ویسے بھی تعصب کے لیے تو عمر پڑی ہے ابھی ، کونسا کہیں جانے والا ہے۔
انشاءللہ آئندہ کبھی کتابوں کے سفر پر اور لائبریریوں پر مزید روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا مگر اس ماہ میں ارادہ ہے کہ کوشش کرکے سیلاب ، رمضان اور مثبت موضوع پر کچھ پوسٹ کر سکوں۔
