آر ايس ايس فيڈ

محفوظات برائے 'آپ بیتیاں' زمرہ

نئے سال پر ایک روایت مجھے اچھی لگتی ہے کہ کچھ لوگ نیو  ایئر  ریزولوشن پاس کرتے ہیں  اور نئے سال میں اپنے لیے کچھ اہداف مقرر کرتے ہیں۔ میں نے سوچا میں جو ہر وقت خواب غفلت ، خواب خرگوش اور میٹھے خوابوں میں مست رہتا ہوں کچھ جاگتی آنکھوں کے خواب قلمبند کر دوں تاکہ یار لوگ مجھے یاد بھی دلا سکیں اور مجھ میں بھی اپنا ہی لکھا  پڑھ کر عقابی روح بیدار ہو سکے۔

پہلا منصوبہ جو کہ جنوری میں ہی انشاءللہ پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے وہ ہے اردو بلاگنگ فورم کا دوبارہ اجرا ایک نئے نام سے۔ پچھلی دفعہ یہ کام اردو ٹیک کے نام سے کیا گیا تھا جس میں عبدل قدیر احمد رانا اور بدتمیز شامل تھے۔ بدتمیز نے ویب ہوسٹنگ کی سہولت مہیا کی تھی اور اردو ٹیک کی ڈومین بھی اسی کے نام سے رجسٹر تھی جو اب بھی ہے۔عبدل قدیر احمد رانا نے ایس ایم ایف فورم کا اردو ترجمہ کیا تھا اور یوں اردو بلاگنگ فورم اور بلاگنگ سروس شروع ہو گئی تھی۔  اس زمانے کی یادگاریں اردو ٹیک کے بلاگران آج بھی ہیں اور انشاءللہ رہیں گے۔ بدتمیز نے اردو ٹیک وینس کو سنبھال لیا تھا اور اب بھی سنبھالے ہوا ہے۔ عبدل قدیر احمد رانا  اور بدتمیز  کی صلح صفائی کی برکات سے پہلے اردو بلاگنگ سروس تعطل کا شکار ہوئی اور پھر فورم بھی اس کی نظر ہو گیا۔ میں بھی مصروف رہا اور امریکہ آنے کے بعد اسے بالکل نہ دیکھ سکا۔
اب انشاءللہ نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ اسے پھر سے شروع کرنا ہے اور اس دفعہ جس جوان کا انتخاب کیا ہے وہ اردو بلاگنگ کی دنیا کا جانا پہچانا اور نامی گرامی بندہ ہے۔ سندھ کے اس سپوت کو آپ سب راشد کامران کے نام سے جانتے ہیں اور پچھلے سال کے بہترین بلاگر کا اعزاز بھی اس سندھ کے سپوت کے پاس ہے۔ سندھ کے اس سپوت کی میں بڑی قدر کرتا ہوں کیونکہ سندھ کے اس جیسے سپوتوں سے ہی سندھ کا نام روشن ہے ورنہ جانے کتنے زردار ،  مرزا اور بھٹو سندھ کا نام بدنام کرنے کو کافی ہیں۔ ابو شامل یقینا ایک اور قابل تعریف نام ہے سندھی سپوتوں میں اور اگر مکی کا تعلق بھی بنیادی طور پر سندھ سے ہے تو پھر آپ لوگ خود سمجھدار ہیں۔
خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا ، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ راشد کے ساتھ یہ طے ہو گیا ہے کہ ہم لوگ مل کر یہ فورم جلد از جلد شروع کریں اور اردو بلاگران کو اس پر اکٹھا کریں اور ساتھ میں ورڈ پریس پر مفت اردو سروس دینا شروع کریں۔ سعود ابن سعید بھی ہاں نہ کے درمیان ہیں مگر امید کی جانی چاہیے کہ وقت پڑنے پر آگے ہی ہو گا پیچھے نہیں۔

یہ تو ہے اردو  بلاگنگ کے فورم اور سروس کے متعلق ایک منصوبہ۔ اس کے علاوہ ایک عدد سافٹ ویئر ہاؤس اور اپنی کمپنی کی سائٹ بھی جلد ہی بنانی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان جا کر خوب آرام اور لطف اٹھانے کے منصوبے ہیں جو وہاں پہنچ کر ہی بتاؤں گا۔

اس کے علاوہ راشد کے ساتھ ہی مل کر ایک عدد عمدہ رومن ٹو اردو کنورٹر بھی لکھنا ہے جو کہ اصل میں تو راشد نے ہی لکھنا ہے میں نے ساتھ مدد دینی ہے۔

PHP  اور  JAVA   سیکھنے کا بھی ارادہ ہے اسپانوی اور فرنچ سیکھنے کے ساتھ ساتھ۔

اب دیکھتے ہیں کتنے ارادے پایہ تکمیل تک پہنچتے ہیں اور کتنے نہیں۔

اور ہاں اگلے سال بہترین بلاگر کا اعزاز جیتنا بھی منصوبہ جات میں شامل کر لیا ہے جب سے سنا ہے کہ سرکاری سطح پر بھی کسی اردو بلاگر کو اعزاز ملنے کا امکان ہے۔

مکمل تحرير پڑھيے »

نئے سال پر ایک روایت مجھے اچھی لگتی ہے کہ کچھ لوگ نیو  ایئر  ریزولوشن پاس کرتے ہیں  اور نئے سال میں اپنے لیے کچھ اہداف مقرر کرتے ہیں۔ میں نے سوچا میں جو ہر وقت خواب غفلت ، خواب خرگوش اور میٹھے خوابوں میں مست رہتا ہوں کچھ جاگتی آنکھوں کے خواب قلمبند کر دوں تاکہ یار لوگ مجھے یاد بھی دلا سکیں اور مجھ میں بھی اپنا ہی لکھا  پڑھ کر عقابی روح بیدار ہو سکے۔

پہلا منصوبہ جو کہ جنوری میں ہی انشاءللہ پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے وہ ہے اردو بلاگنگ فورم کا دوبارہ اجرا ایک نئے نام سے۔ پچھلی دفعہ یہ کام اردو ٹیک کے نام سے کیا گیا تھا جس میں عبدل قدیر احمد رانا اور بدتمیز شامل تھے۔ بدتمیز نے ویب ہوسٹنگ کی سہولت مہیا کی تھی اور اردو ٹیک کی ڈومین بھی اسی کے نام سے رجسٹر تھی جو اب بھی ہے۔عبدل قدیر احمد رانا نے ایس ایم ایف فورم کا اردو ترجمہ کیا تھا اور یوں اردو بلاگنگ فورم اور بلاگنگ سروس شروع ہو گئی تھی۔  اس زمانے کی یادگاریں اردو ٹیک کے بلاگران آج بھی ہیں اور انشاءللہ رہیں گے۔ بدتمیز نے اردو ٹیک وینس کو سنبھال لیا تھا اور اب بھی سنبھالے ہوا ہے۔ عبدل قدیر احمد رانا  اور بدتمیز  کی صلح صفائی کی برکات سے پہلے اردو بلاگنگ سروس تعطل کا شکار ہوئی اور پھر فورم بھی اس کی نظر ہو گیا۔ میں بھی مصروف رہا اور امریکہ آنے کے بعد اسے بالکل نہ دیکھ سکا۔
اب انشاءللہ نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ اسے پھر سے شروع کرنا ہے اور اس دفعہ جس جوان کا انتخاب کیا ہے وہ اردو بلاگنگ کی دنیا کا جانا پہچانا اور نامی گرامی بندہ ہے۔ سندھ کے اس سپوت کو آپ سب راشد کامران کے نام سے جانتے ہیں اور پچھلے سال کے بہترین بلاگر کا اعزاز بھی اس سندھ کے سپوت کے پاس ہے۔ سندھ کے اس سپوت کی میں بڑی قدر کرتا ہوں کیونکہ سندھ کے اس جیسے سپوتوں سے ہی سندھ کا نام روشن ہے ورنہ جانے کتنے زردار ،  مرزا اور بھٹو سندھ کا نام بدنام کرنے کو کافی ہیں۔ ابو شامل یقینا ایک اور قابل تعریف نام ہے سندھی سپوتوں میں اور اگر مکی کا تعلق بھی بنیادی طور پر سندھ سے ہے تو پھر آپ لوگ خود سمجھدار ہیں۔
خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا ، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ راشد کے ساتھ یہ طے ہو گیا ہے کہ ہم لوگ مل کر یہ فورم جلد از جلد شروع کریں اور اردو بلاگران کو اس پر اکٹھا کریں اور ساتھ میں ورڈ پریس پر مفت اردو سروس دینا شروع کریں۔ سعود ابن سعید بھی ہاں نہ کے درمیان ہیں مگر امید کی جانی چاہیے کہ وقت پڑنے پر آگے ہی ہو گا پیچھے نہیں۔

یہ تو ہے اردو  بلاگنگ کے فورم اور سروس کے متعلق ایک منصوبہ۔ اس کے علاوہ ایک عدد سافٹ ویئر ہاؤس اور اپنی کمپنی کی سائٹ بھی جلد ہی بنانی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان جا کر خوب آرام اور لطف اٹھانے کے منصوبے ہیں جو وہاں پہنچ کر ہی بتاؤں گا۔

اس کے علاوہ راشد کے ساتھ ہی مل کر ایک عدد عمدہ رومن ٹو اردو کنورٹر بھی لکھنا ہے جو کہ اصل میں تو راشد نے ہی لکھنا ہے میں نے ساتھ مدد دینی ہے۔

PHP  اور  JAVA   سیکھنے کا بھی ارادہ ہے اسپانوی اور فرنچ سیکھنے کے ساتھ ساتھ۔

اب دیکھتے ہیں کتنے ارادے پایہ تکمیل تک پہنچتے ہیں اور کتنے نہیں۔

اور ہاں اگلے سال بہترین بلاگر کا اعزاز جیتنا بھی منصوبہ جات میں شامل کر لیا ہے جب سے سنا ہے کہ سرکاری سطح پر بھی کسی اردو بلاگر کو اعزاز ملنے کا امکان ہے۔

مکمل تحرير پڑھيے »

نغمہ و شعر کی سوغات کسے پیش کروں
یہ چھلکتے ہوئے جذبات کسے پیش کروں

یہ گانا میں نے پہلی دفعہ فرزانہ نیناں کی فیس بک پر پیش کردہ ویڈیوز شعر و نغمہ میں سنا اور پہلا شعر ہی اتنا اچھا لگا کہ میں نے سوچا کہ اسے ڈھونڈ کر سننا چاہیے اور جب  ڈھونڈ کر سنا تو واقعی بے حد لطف آیا۔ فرزانہ کا اپنا پروگرام نغمہ و شعر بھی بہت خوب اور فیس بک پر اس کی بہت سی ویڈیوز میسر ہیں جن میں کمال درجہ کے گرافکس ہیں اور پس منظر میں فرزانہ کی خوبصورت آواز اور گانوں کا عمدہ انتخاب۔ یوکے میں رہنے والوں کی تو آسانی ہے کہ وہ براہ راست سن سکتے ہیں البتہ یوکے سے باہر رہنے والوں کے لیے ویڈیوز اور پوڈ کاسٹ کی سہولت پیش کی گئی ہے جس سے یو کے سے بارہ رہنے والے لطف اندوز ہ ہو سکتے ہیں۔ نغمہ و شعر کی پاڈ کاسٹ کا لنک یہ ہے

نغمہ و شعر پاڈ کاسٹ ( Podcast)

اس لنک (نغمہ و شعر ٨ پارٹ ١) پر جو پروگرام کیا ہے فرازنہ نے وہ بہت عمدہ ہے اور اس میں سے ایک اقتباس لکھ رہا ہوں جسے پڑھ کر اندازہ ہوگا کہ کتنا خوبصورت پروگرام ہے۔

لگتا تھا جیسے اندر سے وہ لڑکی بھی اس کے دوست کا انتظار کر رہی ہے۔ ڈرائنگ روم سے نکل کر جب وہ بیڈ روم کے سامنے سے گزرے تو سامنے پلنگ کے قریب رکھے جوتے دیکھ کر لڑکی نے پوچھا یہ تمہارے دوست کے جوتے ہیں اور پھر اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر کہنے لگی
لگتا ہے یہ کسی بے سفر آدمی کے جوتے ہیں۔
نہیں نہیں اس نے جلدی سے وضاحت کی وہ بے سفر نہیں بلکہ میں اسے اکثر کہتا ہوں  تمہارے پاؤں میں  چکر ہے  وہ بہت زیادہ سفر  کرتا ہے ۔
دیکھو نہ آج بھی وہ سفر سے واپس آ رہا ہے۔
لڑکی نے اس کی بات ان سنی کرکے وارڈ روب کی جانب رخ کیا اور اسے کھول کر تھوڑا سا پیچھے ہٹی اور بولی
اس کے کپڑوں کا رنگ دیکھ کر تو لگتا ہے جیسے  وہ بے محبت آدمی ہے۔
پتہ نہیں بے محبت سے تمہاری کیا مراد ہے
اگر تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ اس سے کبھی کسی نے محبت نہیں کی تو یہ درست ہے مگر خود وہ  بے حد محبت کرنے والا ہے
کبھی کبھی میں اس سے کہا کرتا ہوں کہ تم گاؤں کی اس عورت کی طرح ہو جو کئی سالوں سے دل کی چاٹی میں وہی رڑک رہی ہے
مگر مکھن کی ایک پھٹکی بھی نہیں نکلی
مگر میری بات سن کر وہ ہمیشہ ہنس پڑتا ہے اس وقت اس کی ہنسی سے کچے دودھ کی مہک آتی ہے
وہ ابھی تک پیار کی ڈولی میں نہیں بیٹھا
وہ ایسی بات ہے جو ابھی تک بیاہی نہیں گئی
لڑکی اس کی قمیض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی
میں نے سنا ہے ایسی شکنیں عام طور پر ہٹ دھرم لوگوں کی قمیضوں پر ہوتی ہیں
ہو سکتا ہے وہ ہٹ دھرم ہی ہو
مگر اس کی قمیض پر جو شکنیں تمہیں نظر آ رہی ہیں وہ اداسی کی ہیں
اس کی زندگی بھی اس کی قمیض کی طرح شکنوں سے بھری ہوئی  ہے
جب بھی کوئی لڑکی اس سے ملتی ہے اس کی زندگی پر ایک نئی شکن ڈال دیتی ہے
وہ ایک ایسی کشتی کی طرح ہے جس کے بادبان میں نے کئی لڑکیوں کی آنکھوں میں کھلے دیکھے ہیں
مگر پانی کی لہریں جنہیں تم شکنیں کہہ سکتے ہو اسے دکھیل کر لڑکیوں سے دور لے جاتی ہیں
وہ بہت زیادہ انا پرست ہے اپنے آپ کو سزا دیتا رہتا ہے میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں
ہم دونوں بچپن سے پڑھتے اور کھیلتے رہے ہیں۔
آج میں نے اس کی سالگرہ منانے کا پروگرام اسی لیے بنایا ہے اور تمہیں بھی اسی لیے بلایا ہے کہ شاید ہم دونوں مل کر اس کی شکنوں سے بھری زندگی پر سے ایک ہی شکن کم کر سکیں

ویسے نغمہ و شعر والا گانا تو رہ ہی گیا ، اچھا اگلی پوسٹ میں اسے پیش کرتا ہوں.

Powered by ScribeFire.

Enhanced by Zemanta

مکمل تحرير پڑھيے »

اگست کا دن گزرا اور ١٥ اگست کا آغاز ائیرپورٹ کی طرف روانگی سے ہوا۔

صبح ساڑھے چار بجے کی فلائیٹ تھی اور دوبئی کے مقامی وقت کے مطابق ساڑھے پانچ بجے پہنچا۔ کسی نئے ٹرمینل کی تعمیر کی وجہ سے بس سروس کے ذریعے ٹرمینل تک پہنچے۔ دوبتئی ائیر پورٹ چپر بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو بے تکلفی سے زمین پر بیٹھے اور دنیا مافی سے بے خبر سوتے بھی دیکھا شاید کچھ لوگوں کی دوسری فلائیٹ میں کافی گھنٹے باقی تھے۔ مجھے تو ایک سیٹ مل گئی اور میری فلائیٹ بھی ڈھائی گھنٹے بعد تھی اس لیے زمین پر بیٹھنے اور لیٹنے کی  نوبت نہ آئی۔

اس دفعہ مانچسٹر پر اچھی خاصی پوچھ گچھ ہوئی اور یہ بھی سننے کو ملا کہ میرا ویزہ کام کا ہے یوں سیر و تفریح کا نہیں ، آئندہ اگر سیر و تفریح کرنے آنا ہے تو وزٹ ویزہ لے کر آؤں ورنہ کام کے لیے آ سکتا ہوں۔ بندہ کر بھی کیا سکتا تھا جی کہنے کے سوا سو اقرار کرکے آگے بڑھا تو پھر ایک آفیسر نے روک لیا اور پھر سے یہی تفتیش شروع ہو گئی اور کچھ دیر تک میرا پاسپورٹ لے جا کر چیک کرتے رہے میں تو سمجھا کہ آج یوکے میں داخلہ نہیں ہو پائے گا مگر خیریت گزری کہ بالآخر مجھے جانے کی اجازت مل ہی گئی۔
کچھ دیر مانچسٹر ائیر پورٹ پر گھوم پھر کر حسن علوی کو ڈھونڈتا رہا پھر پانچ پاؤنڈ کا چینج لے کر حسن کو فون کیا اور وہ جلدی ہی پہنچ گیا  تین عدد دوستوں کے ساتھ ۔ شکر ہے چار دوستوں کے ساتھ نہیں آ گیا ورنہ میری بھی گنجائش نہ ہوتی گاڑی میں۔ گاڑی کی وجہ سے ہم آسانی سے گھر پہنچ گئے ورنہ بس یا ٹرین کے ذریعے آنے میں کافی دقت بھی ہوتی اور وقت بھی لگتا۔

مکمل تحرير پڑھيے »

اس پوسٹ کو میں فاتح کے نام کرنا چاہوں گا جن کی بدولت اس کتاب ‘اے عشق جنوں پیشہ’ سے ایسی الفت ہوگئی ہے کہ شاید کم ہی کسی اور کتاب سے ہو سکے۔ قصہ کچھ یوں شروع ہوا کہ میں نے یہ کتاب خریدی اور پچھلے ہفتہ 21 تاریخ بروز ہفتہ گفٹ میں دے دی گو کہ کتاب مجھے کافی پسند آئی تھی اور فراز کی شاعری کی کتاب خریدنے کا پہلا موقع بھی تھا۔ کسی اور کو بھی یہ کتاب بہت پسند تھی اور میں نے سوچا کہ اپنی ہی کتاب دینے سے بہتر اور کیا ہوگا دوسرا اسی بہانے انتخاب کی ہوئی شاعری بھی پڑھنے کو ملتی رہے گی اور کچھ دیر بعد میں بھی دوبارہ لے لوں گا یہ کتاب۔ یہ تو میں سوچ رہا تھا مگر قدرت کچھ اور سوچ رہی تھی اور اس کتاب کو دوبارہ مجھ تک پہنچانے کے لیے اس کے اپنے ہی ارادے جو میری سوچ سے بڑھ کر خوبصورت اور دلفریب نکلے۔
محفل پر امید اور محبت اس کتاب سے ایک غزل منتخب کرکے پوسٹ کرتی ہیں اور اس داد دینے فاتح پہنچ جاتے ہیں اپنے شگفتہ اور خوبصورت اسلوب کے ساتھ۔ چونکہ میں بھی تازہ تازہ بچھڑا تھا اس کتاب سے اس لیے لپک کر پہنچا اس دھاگے پر اور غزل کی داد کے ساتھ فاتح کو بھی داد دی تعریف کرنے پر۔ فاتح کی لاعلمی کہیے یا میری خوش قسمتی کہ فاتح کو معلوم نہ تھا کہ یہ غزل فراز کی نئی کتاب سے لر کر پوسٹ کی گئی ہے۔ میں نے کتاب سے اپنی واقفیت کے اظہار کے طور پر فورا فاتح کو مطلع کر دیا کہ یہ غزل فراز کی نئی کتاب اے عشق جنوں پیشہ ہے اور اس کا مقدمہ بھی دلچسپ لکھا گیا ہے۔ میرے مطابق یہ عام سی معلومات تھی مگر فاتح کے لیے خاص ثابت ہوئی اور یوں کسی کی لاعلمی کسی کی خوش قسمتی بنتے آنکھوں سے دیکھ لی۔ ہوا یوں کہ فاتح کی نصف بہتر پاکستان یاترا پر آئی ہوئی تھیں اور دو دن بعد ان کی فاتح کے دیس واپسی تھی ۔ شوہر نامدار کے لیے کیا تحفہ لے جانا چاہیے کا ‘لاینجل‘ مسئلہ ابھی تک حل طلب تھا جو اس معلومات سے حل ہوگیا اور فاتح نے رات دو بجے اس کتاب کے لانے کی فرمائش وقت کی قید سے آزاد ہو کر کر ڈالی اور ساتھ ہی میرا شکریہ بھی ادا کر ڈالا۔ میں نے مذاق میں کہا کہ میری بات اتنا کام آئے گی اس کی مجھے امید نہ تھی اب جبکہ مسئلہ حل ہوگیا ہے تو کوئی انعام میرے لیے بھی ہے آپ کے پاس۔ پہلا روایتی جواب تو یہی آئا کہ کیوں نہیں جیسے ہی کتاب آئے گی اس میں سے غزلیں شئیر کروں گا۔ اس پر مزاح کے رنگ میں میں نے ان سے کہا کہ یہ تو آپ کا فرض ہوگا انعام اس سے آگے کی کوئی چیز ہونی چاہیے۔ یہ لکھتے ہوئے میرے ذہن میں لائبریری اور محفل کے دوسرے پراجیکٹس پر مدد کا وعدہ بطور انعام لینے کا تھا مگر فاتح نے جس محبت اور خلوص سے کتاب انعام میں دینے اور بغیر عذر رقم کیے ڈاک کا پتہ رقم کرنے کا کہا اس کے بعد انکار کرنا ممکن نہ رہا۔ اس لمحہ میں مجھے لگا کہ اس پرخلوص پیشکش کو رسما رد کرنا مناسب نہ ہوگا اور شاید اس خلوص سے منہ موڑ کر میں ایک محبت بھرے تعلق سے محروم ہو جاؤں اور زندگی میں اس زیاں پر افسوس کے لیے مجھے مہلت بھی نہ مل سکے۔ ہماری زندگیوں میں سب سے بڑا زیاں یہ نہیں کہ ہم کوئی چیز کھو بیٹھتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ہمارے دل میں احساس زیاں اول تو پیدا ہی کم ہوتا ہے اور اگر ہوتا بھی ہے تو جلد جاتا رہتا ہے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس تعلق کے لیے در بند نہیں بلکہ وا کر دوں گا اور میں نے یہ پرخلوص پیشکش قبول کر لی۔ فاتح تو شاید جلد از جلد اس وعدے کو پورا کرنے کے لیے بے تاب تھے دو دن کے اندر نہ صرف کتاب مجھ تک پہنچا دی بلکہ اس کے ساتھ محبت سے معمور ایک کارڈ بھی۔
امید اور محبت کے شروع کیے ہوئے دھاگے کو میں نے اور فاتح نے بقول فاتح کھینچ کر ‘گڈی‘ بنا دیا اور اس پر جی بھر کر دوستی کی پینگیں بڑھائیں۔ مذاق برطرف مگر فاتح نے کتب بینی کے فروغ کے لیے جس تحریک کی بنیاد رکھی ہے اس پر وہ خصوصی مبارکباد کے مستحق ہیں اور یقینا یہ کاوش مستقبل میں انٹر نیٹ پر اردو کتب کے مطالعہ کے فروغ کے سلسلے میں سنہرے حروف سے لکھی جائے گی اور مجھے امید ہے اس سے اور لوگوں میں بھی کتب تحفے میں دینے کی روایت مضبوط ہوگی ( اور کسی کی ہو نہ ہو میری اور فاتح کی تو ہو گئی )۔
امید اور محبت کا بھی میں تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان کے توسط سے ایسا اچھا تعلق بن پایا اور محبتوں کے تحفے کے طور پر کتاب اور کارڈ بھی خلوص کی ہوا کے ساتھ ساتھ میرے گھر پہنچ گیا۔ جانے کس نیک گھڑی میں میں نے یہ کتاب تحفہ میں دی تھی کہ سات دن کے اندر اندر ٹھیک جس روز ( 21 جولائی)یہ کتاب دی تھی اس دن ( 28 جولائی) یہ کتاب واپس میرے پاس پہنچ گئی۔
جس دھاگے سے یہ سلسلہ شروع ہوا اس کا ربط یہ ہے

مکمل تحرير پڑھيے »

\ایک دوست ہیں عبدالرحمان جو سعودی عرب میں رہائش پذیر ہیں اور جنہوں نے کچھ عرصہ قبل ہی اردو سیکھی ہے اور اپنی ایک سائٹ اردو وی بی www.urduvb.com بنا ڈالی جو اردو کی پہلی vb bulletin سائٹ ہے۔ میں نے بھی چند دن قبل وہاں شمولیت اختیار کی اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اوپر چلنے والی سٹرپ بار میں ہر دھاگے پر مجھے ہی بلایا جا رہا تھا۔

محب علوی آپ ادھر تشریف لائیں
محب علوی آپ یہاں اپنا تعارف پیش کریں
محب علوی آپ ایڈوب کا کونسا ورژن استعمال کرتے ہیں
آئیں محب علوی اپنی حاضری لگا جائیں

میں حیران کہ اتنی جلدی میرے لیے کس جن نے پوسٹس تیار کر لی ہیں اور میری اتنی ڈیمانڈ کہ ہر دھاگہ پر مجھے ہی پکارا جا رہا ہے ، یا الہی اتنی پذیرائی تو نہ کبھی سنی نہ دیکھی۔ مجھ سے پہلے اس سائٹ پر میرے فسانے تو نہیں پہنچ گئے۔ خیر تحقیق کی تو ایک دھاگہ ملا جس کا عنوان تھا

محب علوی آپ کے لیے ایک نیا آپشن ( NEW)

پڑھ کر پہلے تو میری ہنسی چھوٹ گئی کہ میں ایک نئی آپشن کب سے بن گیا اور وہ بھی نئی نویلی، حد ہے یعنی اب میں مارکیٹ بھی ہونے لگا ہوں۔ پھر ذرا بغور پڑھا کہ میں ایک نئی آپشن کیسے اور کب سے بنا ہوں اور کمال ہے کہ لوگوں کو تو پتہ ہے کہ میں ایک نئی آپشن ہوں اور مجھے خود کو ہی نہیں پتہ۔

معزز اراکین آج ہی اردو مجلس میں ایک نیا hack کا اضافہ کیا گیا ہے ۔۔۔
جس کا فائدہ یہ ہے کہ اگر آپ کوئی موضوع لکھ رہے ہیں تو اس میں‌
PHP کوڈ:
[you]
لکھیں‌گے تو جب موضوع پوسٹ ہوجائے گا تب ممبر کا نام اس جگہ لکھا نظر آئے گا۔
اگر میں ہوں‌تو مجھے رحمان نظر آئے گا اور اگر المسافر بھائی ہیں‌تو المسافر لکھا نظر آئے گا ۔۔۔ اس سے دیکھنے والا یہ سمجھے گا کہ مجھے مخاطب کیا گیا ہے۔۔
PHP کوڈ:
[you] ادھر آئیں ۔۔۔
محب علوی ادھر آئیں
اس کوڈ کا بھرپور استعمال کرکے انجوائے کریں ۔۔۔

دو تین ممبران کو تو سمجھ آگئی مگر کچھ کو پھر بھی نہ آئی جس پر عبدالرحمان نے باقاعدہ وڈیو ٹیوٹوریل لکھ ڈالا ان جملوں کے ساتھ

لگتا ہے آپ کو اب تک محب علوی آپشن کی سمجھ نہیں لگی ۔۔۔ اسی لیے ایک عدد وڈیو ٹٹوریل لیکر حاضر ہوا ہوں ۔۔۔۔
یاد رہے کہ “مہمان“ وہ کہلاتا ہے جو رجسٹرڈ نہیں یا پھر فورم میں ممبر ہونے کے باوجود لاگ اِن نہیں‌ہوا۔

یہاں‌سے رائٹ کلک کرکے محفوظ کریں ۔۔۔(یہ آپشن دھاگے کے پہلے صفحہ پر ہے )

اس کے بعد شاکر القادری صاحب کا کہنا تھا کہ

کیا بات ہے محب علوی کی

پاکستانی بھائی کے کلمات تھے

محب علوی ارے عبدالرحٰمن بھائی یہ تو زبردست تحفہ ہاتھ لگا ہے، میں بھی کہوں یہ ہر جگہ پاکستانی ہی کیوں لکھا نظر آ رہا ہے … بہرحال اچھا نسخہ ہے … شکریہ

راج کا کہنا تھا

کیا بات ہے میں بھی کوشش کرتا ہوں محب علوی صاحب -
امید ہے صحیح کیا میں نے دیکھتے ہیں

فہیم کے مطابق

محب علوی مزیدار چیز ہے

میں نے بھی عبدالرحمان کو سراہا اور کہا کہ
کیا بات ہے عبدالرحمان صاحب اور مفت میں میری اتنی تشہیر ہوگئی ہے کہ سنبھالی نہیں جا رہی . پہلے دن جب میں لاگ ان ہوا تو اوپر پٹی میں یوں لگا جیسے ہر دھاگے میں صرف مجھے ہی بلایا جا رہا ہے دل باغ باغ ہوگیا. اب راز کھلا ہے اور اب بھی محب علوی بار بار لکھا ہوا ہے. زبردست جی

جس پر ان کا کہنا تھا کہ

آپ دوستوں‌کو بھی تو خوش کرنا ہے ناں ۔۔۔
اب اور مزیدار آپشنز تیار کررہا ہوں ۔۔۔ وہ بھی آتے ہی ہوں گے ۔۔۔

دیکھتے ہیں کب ایسے مزیدار اور آپشن آتے ہیں۔

اس دھاگے کا ربط یہ ہے

مکمل تحرير پڑھيے »

ایک دفعہ کا ذکر ہے (اللہ کا شکر ہے ایک دفعہ کا ہی ہے) کہ میں ، میرا بھائی اور میرا کزن حسن علوی اکھٹے ہوئے اسلام آباد میں۔ پروگرام بنا کہ کرائے کی گاڑی ہے تو کیوں نہ مری کی سیر ہی کر لی جائے ویسے بھی گاڑی کونسا روز روز ہاتھ آتی ہے اور جب آتی ہے تو پیسے دے کر ۔ اس لیے طے ہوا کہ اس کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اس کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے اور ایک چکر مری کا لگا کر پیسے وصولے جائیں۔ مجھے تو ڈرائیونگ آتی نہیں تھی ، بھائی کو آتی تھی اور اس کے بعد کچی پکی ڈرائیونگ کزن کو آتی تھی ، اس لیے طے ہوا کہ گاڑی بھائی ہی چلائے گا۔ بھائی کا نام ادب سے لے رہا ہوں گو ہے مجھ سے چھوٹا وہ پڑھ لے تو خوشی سے دو دن بوکھلایا پھرے اور کہے کہ بہت اعلی بھائی صاحب یعنی ہم بھی صاحب عزت ہو گئے اب۔ بھائی صاحب کا نام مشکل ہے اس لیے بھائی ہی کہوں گا ورنہ نام ہی لکھتا۔ خیر قصہ کوتاہ کہ ہم گیارہ کے لگ بھگ گھر سے چلے اور مری کی چڑھائی باآسانی چڑھتے گئے اور بھائی نے بھی مسلسل اپنی ڈرائیونگ کی تعریف جاری رکھی کہ یوں کرتے ہیں ڈرائیونگ اور ہم بھی دل ہی دل میں سراہ رہے تھے مگر زبان سے ہنسی مذاق کر رہے تھے کہ ہاں بھائی مان گئے ڈرائیور تو ایک ہی ہے پورے شہر میں۔ ایک دو گھنٹے ٹھہرنے کے بعد ہم نے واپسی کی راہ لی اور مری سے اسلام آباد کا سفر شروع ہوا جو کہ اترائی کا سفر ہے اور اتنا آسان نہیں کیونکہ اس میں کئی خطرناک موڑ آتے ہیں اور ایک سائیڈ پر کافی گہری کھائیاں ہیں۔ نیچے اترتے ہوئے سپیڈ خود بخود تیز ہو جاتی ہے اور چڑھائی سے بھی کچھ جگہوں پر مشکل ڈرائیونگ ہو جاتی ہے۔ خیر اترائی کا سفر جاری تھا اور ساتھ ہی بھائی کی اپنی ڈرائیونگ پر خود کو خراج تحسین بھی۔ بھائی کی نرگسیت تو اترائی میں بھی چڑھائی ہی چڑھ رہی تھی ، ڈرائیونگ کے رموز و اوقاف پر بنا رکے تبصرے جاری تھے اور ساتھ ساتھ یہ فرمان بھی کہ ڈرائیونگ ایسے کرتے ہیں سیکھتے جاؤ پھر کہاں ایسا مشتاق استاد ملے گا۔ میں اور کزن اب کچھ سنبھل کر بیٹھ گئے تھے کیونکہ گاڑی کی سپیڈ اب ساٹھ سے بڑھ کر ستر ہو گئی تھی اور مری کی اترائی کے لیے کافی سے زیادہ تھی۔ بھائی نے ہمیں ڈرائیونگ کے بارے میں اپنی قابلیت کا ایک اور ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ جب سفر لمبا ہو تو چاہیے کہ کسی گاڑی کے پیچھے لگ جائیں اس سے سفر آسانی سے کٹ جاتا ہے اور آپ کو دقت بھی نہیں ہوتی ، یہ کہتے ہوئے اپنی کلٹس پراڈو کے پیچھے لگا دی ۔ پراڈو والے نے بھی ہمیں گھیرنے کے لیے سپیڈ کم رکھی ہوئی تھی اور اپنی اصل رفتار سے کہیں کم پر جا رہا تھا اور بھائی نے بھی اسے راہنما مقرر کر لیا تھا ۔ پراڈو والے نے تھوڑی سپیڈ بڑھائی تو بھائی نے بھی جذبات کی رو میں بہہ کر سپیڈ بڑھائی اور کہا کہ دیکھا مہارت ہو تو گاڑی اتنی سپیڈ سے بھی آسانی سے چلائی جا سکتی ہے اور ایک تیز کٹ لیا جس پر گاڑی تو جو گھومی سو گھومی ہمارے اوسان بھی خطا ہوتے ہوتے رہ گئے۔ اس کے بعد پراڈو والے نے کچھ اور دیدہ دلیری دکھائی شاید وہ ہمارے مسلسل پیچھا کرنے پر ہتک محسوس کر رہا تھا ( کہاں کلٹس اور کہاں پراڈو مگر جا رہی تھیں ساتھ ساتھ ) اور اکھٹے ہی تین گاڑیوں کو اوور ٹیک کر لیا ، بھائی صاحب نے پیچھے نہ رہنے کی قسم کھا رکھی تھی انہوں نے بھی ایک ہی ساتھ تینوں گاڑیوں کو اوور ٹیک کر لیا ، میرا اور کزن کا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ بھائی سے کہا کہ یار کوئی گاڑی سامنے سے آ جاتی تو کل ہمارے قل ہوتے۔ پھر پراڈو والے نے اور سپیڈ بڑھائی اور بھائی صاحب کا کہنا تھا کہ اور سپیڈ سے بھی گاڑی آسانی سے جا سکتی اور خود بھی سپیڈ بڑھا دی مزید ارشاد فرمایا کہ سو تک بھی آرام سے ڈرائیو ہو سکتی ہے فی الحال صرف اسی پر جا رہا ہوں۔ پھر آیا ایک خطرناک موڑ جسے پراڈو والا تو سپیڈ میں آسانی سے گزار گیا مگر ہماری کلٹس اتنی سپیڈ پر نہ مڑ سکی اور بڑی مشکل سے سنبھالتے سنبھالتے بھی سڑک سے اتر گئی اور ایک چار فٹ کے گڑھے میں سے ہوتی ہوئی اچھلی اور سامنے کے پتھروں کی وجہ سے رک گئی اور ساتھ ہی ہمارے سانس بھی۔ صد شکر کہ پیچھے سے کوئی گاڑی نہیں آرہی تھی اور ہماری گاڑی بھی بے قابو نہیں ہوئی اور نہ دائیں طرف کھائی میں گری معمولی نقصان ہوا اور بمپر ہی ٹوٹا۔ بھائی کو کچھ نہ کہا کہ آگے بھی ڈرائیونگ اس نے ہی کرنی تھی ۔ اس سے کہا کہ اب بالکل آرام سے جانا ہے اور اب جا کر گاڑی کی مرمت بھی کروانی ہے۔ ذہن میں یہ بھی تھا کہ کہیں راستے میں گاڑی خراب نہ ہو جائے اور مرمت کا پریشر بھی تھا مگر خیریت رہی اور گھر پہنچ گئے ۔ صبح مرمت کروا کر گاڑی واپس کروا دی اور آئیندہ تیز ڈرائیونگ سے بھائی کی بھی توبہ کروائی اور خود بھی کی۔

مکمل تحرير پڑھيے »