گلابو اور فیضو کے الفت بھرے خط
زمرہ(جات): اردو محفل، خط کتابت، طنز و مزاح | (14) آراء »
یہ خطوط اردو ویب محفل پر میرے اور حجاب کے درمیان ایک دھاگے میں لکھے گئے تھے جو خاصہ مشہور ہوا تھا مگر اس میں اور بھی بہت سے لوگوں کے خطوط تھے ۔ حجاب سے مشورے کے بعد فیصلہ کیا ہے اسے بلاگ پر باری باری شائع کیا جائے۔ خطوط میں گلابو حجاب ہے اور فیضو محب۔ اس دھاگے میں دو خط میں نے خود کلامی کے انداز میں لکھے تھے جن کا موضوع سخن کسی کی طرف نہیں تھا اس لیے وہ اتنے دلچسپ بھی ثابت نہیں ہوئے۔ حجاب نے ایک خط کو فرض کرتے ہوئے پہلا خط لکھا جس سے یہ دلچسپ سلسلہ شروع ہوا۔
پہلا خط گلابو کا فیضو کے نام
تمہارا خط اب کی بار کیا ملا سمجھو قیامت آ گئی طبیعت پہلے ہی ناساز تھی اب ساز و آواز بن گئی، تم خط پھینکتے ہوئے خط کے ساتھ چھوٹا سا پتھر باندھا کرو اس بار تمہارا خط امّاں کے سر پر لگا وہ تو شُکر تھا کہ امّاں اپنی چیخ و پکار میں یہ بھول گئیں کہ کیا چیز لگی ہے سر پر ورنہ دن میں تارے نظر آ جاتے مجھے
میں تمہاری شاعری سمجھنے کی کوشش کروں ، تمہارے خط سنبھالوں یا تمہاری حرکتوں پر پردے ڈالوں ایک ننھی سی معصوم میری جان اور اُس پر اتنے ظلم
اور غزل ہی بھیجنا تم کبھی تحفے بھی بھیج دیا کرو ایسے تو کافی خبریں ملتی ہیں اڑتی اڑتی انار کلی میں گھوم رہے ہوتے ہو وہ تو شکر کرو اکیلے ہوتے ہو اس لیئے کبھی پوچھا نہیں اور یاد رکھو آئندہ بھی اکیلے گھومنا ورنہ وہ غزل ابّا کو بھجواؤں گی تمہارے جو تم نے مجھے لکھی ہے پھر تم پر دیوان لکھیں گے ابّا تمہارے
اور ہاں یہ تمہارے خط لکھنے کا شوق اور اُس سے زیادہ جواب مانگنے کا شوق کچھ زیادہ نہیں ہو گیا کہیں منشی لگنے کا ارادہ تو نہیں رکھتے اگر ایسا ہے تو ذرا قلم کو قابو میں رکھنا میں تمہارے مزاج سے خوب واقف ہوں
اچھا اب اجازت دو تمہاری نئی رپورٹ ملے گی تو خط لکھوں گی۔