آر ايس ايس فيڈ

محفوظات برائے 'اردو محفل' زمرہ

یہ خطوط  اردو ویب محفل پر میرے اور حجاب کے درمیان ایک دھاگے میں لکھے گئے تھے جو خاصہ مشہور ہوا تھا مگر اس میں اور بھی بہت سے لوگوں کے خطوط تھے ۔ حجاب سے مشورے کے بعد فیصلہ کیا ہے اسے بلاگ پر باری باری شائع کیا جائے۔ خطوط میں گلابو حجاب ہے اور فیضو محب۔  اس دھاگے میں دو خط میں نے خود کلامی کے انداز میں لکھے تھے جن کا موضوع سخن کسی کی طرف نہیں تھا اس لیے وہ اتنے دلچسپ بھی ثابت نہیں ہوئے۔  حجاب نے ایک خط کو فرض کرتے ہوئے پہلا خط لکھا جس سے یہ دلچسپ سلسلہ شروع ہوا۔

پہلا خط گلابو کا فیضو کے نام

تمہارا  خط  اب کی بار کیا ملا سمجھو قیامت آ گئی طبیعت پہلے ہی ناساز تھی اب ساز و آواز بن گئی، تم خط پھینکتے ہوئے خط کے ساتھ چھوٹا سا پتھر باندھا کرو اس بار تمہارا خط امّاں کے سر پر لگا وہ تو شُکر تھا کہ امّاں اپنی چیخ و پکار میں یہ بھول گئیں کہ کیا چیز لگی ہے سر پر ورنہ دن میں تارے نظر آ جاتے مجھے

میں تمہاری شاعری سمجھنے کی کوشش کروں ، تمہارے خط سنبھالوں یا تمہاری حرکتوں پر پردے ڈالوں ایک ننھی سی معصوم میری جان اور اُس پر اتنے ظلم

اور غزل ہی بھیجنا تم کبھی تحفے بھی بھیج دیا کرو ایسے تو کافی خبریں ملتی ہیں اڑتی اڑتی انار کلی میں گھوم رہے ہوتے ہو وہ تو شکر کرو اکیلے ہوتے ہو اس لیئے کبھی پوچھا نہیں اور یاد رکھو آئندہ بھی اکیلے گھومنا ورنہ وہ غزل ابّا کو بھجواؤں گی تمہارے جو تم نے مجھے لکھی ہے پھر تم پر دیوان لکھیں گے ابّا تمہارے

اور ہاں یہ تمہارے خط لکھنے کا شوق اور اُس سے زیادہ جواب مانگنے کا شوق کچھ زیادہ نہیں ہو گیا کہیں منشی لگنے کا ارادہ تو نہیں رکھتے اگر ایسا ہے تو ذرا قلم کو قابو میں رکھنا میں تمہارے مزاج سے خوب واقف ہوں

اچھا اب اجازت دو تمہاری نئی رپورٹ ملے گی تو خط لکھوں گی۔

مکمل تحرير پڑھيے »

ایک عرصہ کے بعد پھر سے خطوط میں ایک گہما گہمی پائی جارہی ہے ۔ کچھ خطوط ٹولیوں کی صورت میں بیٹھے مناجات میں مصروف ہیں ، کچھ خطوط سجدہ ریز ہو کر گریہ و زاری کر رہے ہیں اور کچھ خطوط پر وجد طاری ہے اور مجذوب بنے بیٹھے ہیں۔ ان سے ہٹ کر کچھ خطوط بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں اور آنے جانے والے خطوط سے دریافت کر رہے ہیں کہ کیا وہ دن آ گیا جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا، جواب نفی میں پا کر ان کا اضطراب اور بڑھ جاتا ہے اور وہ بے چینی سے ٹہلنے لگتے ہیں کچھ دیر اور گزرتی ہے تو یہی سوال مکرر پوچھتے ہیں اور وہی جواب پا کر اور بے چین ہو جاتے ہیں۔ کچھ عمر رسیدہ خطوط نو عمر خطوط کو تسلی دیتے ہیں کہ صبر اور حوصلے سے کام لو جس دن کی بشارت دی جاتی تھی وہ بس آیا ہی چاہتا ہے۔ اتنے میں ایک خط جھومتا ناچتا ، خوشی کے گیت گاتا چلا آتا ہے۔ تمام خطوط تیزی سے اس کی طرف لپکتے ہیں اورپوچھتے ہیں کہ کہو اے نامہ بر خط کیا خبر لائے ہو کچھ خدائے خطوط کا حال سناؤ تو جی کو قرار آئے۔ وہ کہتا ہے کہ پہلے منہ تو میٹھا کرواؤ وہ خبر لایا ہوں کہ سب کے سینے خوشی سے بھر جائیں گے اور سجدے، دعائیں ، مناجات سب قبول ٹھہریں گی۔ اس پر خطوط نامہ بر کا منہ شیرینی سے بھر دیتے ہیں اور کہتے ہیں اب بتا دو کہ ہماری جان لوگے۔ نامہ بر خط گویا ہوتا ہے

خدائے خطوط بلا رفتار نے ٢٥٠٠٠ خظوط کی تخلیق فرما کر ہم عاجز خطوط کو اشرف الخطوط کے مقام پر سرفراز کر دیا ہے ۔

یہ خبر سنتے ہی تمام خطوط سر بسجود ہو جاتے ہیں اور فضا یا خدائے خطوط بلا رفتار سے گونج اٹھتی ہے۔

مکمل تحرير پڑھيے »

ایک عرصہ کے بعد پھر سے خطوط میں ایک گہما گہمی پائی جارہی ہے ۔ کچھ خطوط ٹولیوں کی صورت میں بیٹھے مناجات میں مصروف ہیں ، کچھ خطوط سجدہ ریز ہو کر گریہ و زاری کر رہے ہیں اور کچھ خطوط پر وجد طاری ہے اور مجذوب بنے بیٹھے ہیں۔ ان سے ہٹ کر کچھ خطوط بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں اور آنے جانے والے خطوط سے دریافت کر رہے ہیں کہ کیا وہ دن آ گیا جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا، جواب نفی میں پا کر ان کا اضطراب اور بڑھ جاتا ہے اور وہ بے چینی سے ٹہلنے لگتے ہیں کچھ دیر اور گزرتی ہے تو یہی سوال مکرر پوچھتے ہیں اور وہی جواب پا کر اور بے چین ہو جاتے ہیں۔ کچھ عمر رسیدہ خطوط نو عمر خطوط کو تسلی دیتے ہیں کہ صبر اور حوصلے سے کام لو جس دن کی بشارت دی جاتی تھی وہ بس آیا ہی چاہتا ہے۔ اتنے میں ایک خط جھومتا ناچتا ، خوشی کے گیت گاتا چلا آتا ہے۔ تمام خطوط تیزی سے اس کی طرف لپکتے ہیں اورپوچھتے ہیں کہ کہو اے نامہ بر خط کیا خبر لائے ہو کچھ خدائے خطوط کا حال سناؤ تو جی کو قرار آئے۔ وہ کہتا ہے کہ پہلے منہ تو میٹھا کرواؤ وہ خبر لایا ہوں کہ سب کے سینے خوشی سے بھر جائیں گے اور سجدے، دعائیں ، مناجات سب قبول ٹھہریں گی۔ اس پر خطوط نامہ بر کا منہ شیرینی سے بھر دیتے ہیں اور کہتے ہیں اب بتا دو کہ ہماری جان لوگے۔ نامہ بر خط گویا ہوتا ہے

خدائے خطوط بلا رفتار نے ٢٥٠٠٠ خظوط کی تخلیق فرما کر ہم عاجز خطوط کو اشرف الخطوط کے مقام پر سرفراز کر دیا ہے ۔

یہ خبر سنتے ہی تمام خطوط سر بسجود ہو جاتے ہیں اور فضا یا خدائے خطوط بلا رفتار سے گونج اٹھتی ہے۔

مکمل تحرير پڑھيے »

یہ پوسٹ اردو محفل کی سربراہ شگفتہ کو ماسٹرز میں گولڈ میڈل حاصل کرنے پر کی تھی

جیسا کہ سب دوستوں کو معلوم ہے ہماری لائبریری ٹیم کی سربراہ شگفتہ نے ماسٹرز میں گولڈ میڈل حاصل کرکے ہم سب کا بالعموم اور میرا بالخصوص سر فخر سے بلند کردیا ہے (‌میں تو اب اپنے سر کا کچھ کروں جو آئے دن بلند رہنے لگا ہے کہیں کسی اور طرح سے نہ بلند ہوجائے)۔ ہم سب کے لیے یہ بات باعث مسرت ہے کہ ہماری محنت رائیگاں نہیں گئی اور جتنی محنت ہم نے نصاب رٹانے میں لگائی تھی اس سے زیادہ محنت شگفتہ نے پرچے حل کرنے میں کرڈالی ۔ پرچہ جات میں رنگوں سے جانے کیا کیا نقش نگار بنائے کہ اصلی سونے کا میڈل ان کے نام ہوگیا ویسے ساری مشق یہیں کی تھی اور اب بھی رنگوں کا اور صفحات بھرنے میں جو ملکہ شگفتہ کو حاصل ہے کسی اور کو کہاں۔ عربی کے اسباق پر میں نے بہت محنت کی ( پڑھنے میں ) اور مجھے فخر ہے کہ شگفتہ نے میری محنت ضائع نہیں ہونے دی۔ اس کے علاوہ جانے ہم لوگ کتنی محنت کرتے رہے ہیں اس کا صحیح حساب تو شگفتہ ہی جانتی ہیں ہم لوگوں کے لیے قابل اطمینان بات یہ ہے محنت کا پھل مل گیا اور سچے سونے میں جس کا ریٹ آجکل 12000 (دس گرام) سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔

اب ایک ادبی پارٹی کا سوچا ہے اور سب کی تجاویز درکار ہیں۔ اس سلسلے میں اخراجات کی بالکل پرواہ نہیں کرنی ہے سارا خرچ

شگفتہ اپنی ذاتی جیب سے کریں گی ہم لوگ پارٹی لینے والوں میں سے ہوں گے۔

جامعہ کی ناانصافی ملاحظہ کیجیے کہ اور ناانصافی دیکھیے جو ہم لوگوں کے ساتھ ہوئی ہے ۔ اتنا بھی نہیں سوچا ان بے دردوں نے کہ اگر سربراہ کو سونے کا میڈل دیا ہے تو ٹیم کو چاندی کے سکے ہی دے دیں۔

اس پر ستم یہ کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ٹریٹ لینے کے لیے اپنی بھاری جیب خالی کریں۔ اب کون سمجھائے ان سادہ لوحوں کو کہ جس کے پاس سونا ہے جیب تو اسی کی بھاری ہے نہ اور یہ طبیعات کا مانا ہوا اصول ہے کہ بھاری جیبیں ہی خالی ہوتی ہیں یا نیوٹن کے تیسرے قانون کشش زر کے تحت

بھاری جییں اور خالی جیبیں ایک دوسرے پر ایک جیسی قوت سے طبع آزمائی کرتی ہیں

اور یوں کبھی کسی کی جیب بھاری اور کبھی کسی کی خالی ہوجاتی ہیں نیز بھاری جیبیں ہی خالی ہو کر دوسروں کی جیبیں بھرتی ہیں۔

اب طبیعات کے قانون کے بیچ میری اور آپ کی رائے چہ معنی دارد؟

مکمل تحرير پڑھيے »

یہ پوسٹ اردو محفل پر اپنے دوست شمشاد کو دس ہزار پوسٹ مکمل ہونے پر کی تھی۔

اے خدائے خط و تحریرِ بلا رفتار ،
تیری خدمتِ اقدس میں تیرے عاجز خط کی عاجزی پہنچے۔ حمد و ثنائے بے حساب کے بعد تیرا ادنی خط اپنے دوسرے بھائیوں ( خطوط ) کی نمائندگی کرتے ہوئے تیری نعمتوں اور رحمتوں کا شکر ادا کرنا چاہتا ہے۔ آج تیرے لکھے ہوئے خط دس ہزار سے زیادہ ہوگئے ہیں جو ہم خطوط کے لیے تیری بے پناہ محبت اور شفقت کا عملی ثبوت ہیں۔ ہم تیرا جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے کہ تو نہ صرف ہمارا خالق و مالک ہے بلکہ رحیم و مربی بھی ہے۔ آج تیرے کرم کے صدقے ہم اس مجازی دنیا میں سانس لے رہے ہیں اور رہتی دنیا (انٹر نیٹ ) تک تیری بندگی کا دم بھرتے رہیں گے۔ تو نے ہمیں صورت و روپ ہی نہیں دلکشی اور لطافت بھی بخشی ہے جو پڑھنے والوں کے دل میں مرتے دم تک برقرار رہے گی۔ ترے کرم کا سلسلہ تخلیق کے بعد رک نہیں گیا بلکہ اپنی تخلیقات کو سنوارنے سجانے کے لیے تخلیقات کی پھوار کرتا ہی چلا گیا ہے اور پوری محفل میں ہم خوشنما اور شوخ خط دوسرے خطوط سے الگ پہچانے جاتے ہیں کہ ہمارے ساتھ تیرا معتبر نام جڑا ہے ۔

تیری عطاؤں کا حساب کیا ، تیری بخشش کا شمار کیا

اپنے خطوں سے اردو محفل کو رونق جو بخشی سو بخشی ، ہماری عاقبت بھی سنوار دی اپنا نام دے کر ، بہترین انداز میں خلق کرکے ۔ تیری عنایتیں لا محدود ، میرے شکر کا پیمانہ محدود ، کیسے کروں میں تیری شکر کا حق ادا کہ چند سطریں کیا کر سکیں گی یہ فرض ادا۔ یہ زبان خط تیری نعمتوں کا شکر کرے تو کرے کیسے کہ وہ الفاظ ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے جو تعریف کی اس معراج پر پہنچ سکیں جس کا تو حقدار ہے۔

اپنی عاجزی اور لاچاری کے احساس سے اتنا عرض کروں گا کہ اگر انسان مخلوقات میں اشرف المخلوقات ہے تو ہم خطوط میں اشرف الخطوط ہیں

فقط تیرا ممنون
خط

مکمل تحرير پڑھيے »