آر ايس ايس فيڈ

محفوظات برائے 'گانے اور فلمیں' زمرہ

اے جذبہ دل گر میں چاہوں
ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کے لیے دو گام چلوں
اور سامنے منزل آ جائے

ہاں یاد مجھے تم کر لینا
آواز مجھے تم دے لینا
اس راہ محبت میں کوئی
درپیش جو مشکل آ جائے
اس راہ محبت میں کوئی
درپیش جو مشکل آ جائے

اے جذبہ دل گر میں چاہوں

اے دل کی خلش چل یوں ہی سہی
چلتا تو ہوں ان کی محفل میں
اس وقت مجھے چونکا دینا
جب رنگ پہ محفل آ جائے

اے راہبر کامل چلنے کو
تیار تو ہوں پر یاد رہے
اس وقت مجھے بھٹکا دینا
جب سامنے منزل آ جائے

آتا ہے جو طوفان آ نے دو
کشتی کا  خدا خود حافظ ہے
مشکل تو نہیں ان موجوں میں
بہتا ہوا ساحل آ جائے

مکمل تحرير پڑھيے »

نغمہ و شعر کی سوغات کسے پیش کروں
یہ چھلکتے ہوئے جذبات کسے پیش کروں

یہ گانا میں نے پہلی دفعہ فرزانہ نیناں کی فیس بک پر پیش کردہ ویڈیوز شعر و نغمہ میں سنا اور پہلا شعر ہی اتنا اچھا لگا کہ میں نے سوچا کہ اسے ڈھونڈ کر سننا چاہیے اور جب  ڈھونڈ کر سنا تو واقعی بے حد لطف آیا۔ فرزانہ کا اپنا پروگرام نغمہ و شعر بھی بہت خوب اور فیس بک پر اس کی بہت سی ویڈیوز میسر ہیں جن میں کمال درجہ کے گرافکس ہیں اور پس منظر میں فرزانہ کی خوبصورت آواز اور گانوں کا عمدہ انتخاب۔ یوکے میں رہنے والوں کی تو آسانی ہے کہ وہ براہ راست سن سکتے ہیں البتہ یوکے سے باہر رہنے والوں کے لیے ویڈیوز اور پوڈ کاسٹ کی سہولت پیش کی گئی ہے جس سے یو کے سے بارہ رہنے والے لطف اندوز ہ ہو سکتے ہیں۔ نغمہ و شعر کی پاڈ کاسٹ کا لنک یہ ہے

نغمہ و شعر پاڈ کاسٹ ( Podcast)

اس لنک (نغمہ و شعر ٨ پارٹ ١) پر جو پروگرام کیا ہے فرازنہ نے وہ بہت عمدہ ہے اور اس میں سے ایک اقتباس لکھ رہا ہوں جسے پڑھ کر اندازہ ہوگا کہ کتنا خوبصورت پروگرام ہے۔

لگتا تھا جیسے اندر سے وہ لڑکی بھی اس کے دوست کا انتظار کر رہی ہے۔ ڈرائنگ روم سے نکل کر جب وہ بیڈ روم کے سامنے سے گزرے تو سامنے پلنگ کے قریب رکھے جوتے دیکھ کر لڑکی نے پوچھا یہ تمہارے دوست کے جوتے ہیں اور پھر اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر کہنے لگی
لگتا ہے یہ کسی بے سفر آدمی کے جوتے ہیں۔
نہیں نہیں اس نے جلدی سے وضاحت کی وہ بے سفر نہیں بلکہ میں اسے اکثر کہتا ہوں  تمہارے پاؤں میں  چکر ہے  وہ بہت زیادہ سفر  کرتا ہے ۔
دیکھو نہ آج بھی وہ سفر سے واپس آ رہا ہے۔
لڑکی نے اس کی بات ان سنی کرکے وارڈ روب کی جانب رخ کیا اور اسے کھول کر تھوڑا سا پیچھے ہٹی اور بولی
اس کے کپڑوں کا رنگ دیکھ کر تو لگتا ہے جیسے  وہ بے محبت آدمی ہے۔
پتہ نہیں بے محبت سے تمہاری کیا مراد ہے
اگر تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ اس سے کبھی کسی نے محبت نہیں کی تو یہ درست ہے مگر خود وہ  بے حد محبت کرنے والا ہے
کبھی کبھی میں اس سے کہا کرتا ہوں کہ تم گاؤں کی اس عورت کی طرح ہو جو کئی سالوں سے دل کی چاٹی میں وہی رڑک رہی ہے
مگر مکھن کی ایک پھٹکی بھی نہیں نکلی
مگر میری بات سن کر وہ ہمیشہ ہنس پڑتا ہے اس وقت اس کی ہنسی سے کچے دودھ کی مہک آتی ہے
وہ ابھی تک پیار کی ڈولی میں نہیں بیٹھا
وہ ایسی بات ہے جو ابھی تک بیاہی نہیں گئی
لڑکی اس کی قمیض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی
میں نے سنا ہے ایسی شکنیں عام طور پر ہٹ دھرم لوگوں کی قمیضوں پر ہوتی ہیں
ہو سکتا ہے وہ ہٹ دھرم ہی ہو
مگر اس کی قمیض پر جو شکنیں تمہیں نظر آ رہی ہیں وہ اداسی کی ہیں
اس کی زندگی بھی اس کی قمیض کی طرح شکنوں سے بھری ہوئی  ہے
جب بھی کوئی لڑکی اس سے ملتی ہے اس کی زندگی پر ایک نئی شکن ڈال دیتی ہے
وہ ایک ایسی کشتی کی طرح ہے جس کے بادبان میں نے کئی لڑکیوں کی آنکھوں میں کھلے دیکھے ہیں
مگر پانی کی لہریں جنہیں تم شکنیں کہہ سکتے ہو اسے دکھیل کر لڑکیوں سے دور لے جاتی ہیں
وہ بہت زیادہ انا پرست ہے اپنے آپ کو سزا دیتا رہتا ہے میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں
ہم دونوں بچپن سے پڑھتے اور کھیلتے رہے ہیں۔
آج میں نے اس کی سالگرہ منانے کا پروگرام اسی لیے بنایا ہے اور تمہیں بھی اسی لیے بلایا ہے کہ شاید ہم دونوں مل کر اس کی شکنوں سے بھری زندگی پر سے ایک ہی شکن کم کر سکیں

ویسے نغمہ و شعر والا گانا تو رہ ہی گیا ، اچھا اگلی پوسٹ میں اسے پیش کرتا ہوں.

Powered by ScribeFire.

Enhanced by Zemanta

مکمل تحرير پڑھيے »


تم کو بھی ہے خبر
مجھ کو بھی ہے پتہ
ہو رہا ہے جدا دونوں کا راستہ
دور جا کے بھی مجھ سے
تم میری یادوں میں رہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا

تم کو بھی ہے خبر
مجھ کو بھی ہے پتہ
ہو رہا ہے جدا دونوں کا راستہ
دور جا کے بھی مجھ سے
تم میری یادوں میں رہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا

جتنی تھی خوشیاں
سب کھو چکی ہیں
بس ایک غم ہے کہ جاتا نہیں
سمجھا کے دیکھا
بہلا کے دیکھا
دل ہے کہ چین اس کو آتا نہیں
آتا نہیں
آنسو ہیں کہ ہیں انگاریں
آگ ہے اب آنکھوں سے بہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
رت آ رہی ہے رت جا رہی ہے
درد کا موسم بدلا نہیں
رنگ یہ غم کا اتنا ہے گہرا
صدیوں بھی ہوگا ہلکا نہیں
ہلکا نہیں
کون جانے کیا ہونا ہے
ہم کو ہے اب کیا کیا سہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا

تم کو بھی ہے خبر
مجھ کو بھی ہے پتہ
ہو رہا ہے جدا دونوں کا راستہ
دور جا کے بھی مجھ سے
تم میری یادوں میں رہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا

مکمل تحرير پڑھيے »