امید کی شمعیں جلتی ہوئی
زمرہ(جات): قدرتی آفات، پاکستان کے اہم واقعات | (8) آراء »
بہت سی اداس اور پریشان کن دنوں اور خبروں کے بعد آج فرحت کیانی کی پوسٹ امید ابھی کچھ باقی ہے دیکھ کر اداسی کم ہوئی اور پوری پڑھنے کے بعد امید کی بجھتی ہوئی کرنیں پھر سے جلنے لگیں۔ خاص طور پر یہ جملے پڑھ کر
متاثرینِ سیلاب کے لئے لگائے گئے جس کیمپ سے گزرتے ہوئے مجھے کبھی دو چار لوگوں اور آٹھ دس تھیلوں کے سوا کچھ نہیں دکھائی دیتا تھا وہا ں سے ہر شام 3 ٹرک امدادی سامان لیکر متاثرینِ سیلاب کی اور نکلتے ہیں۔
اس کے بعد عمران خان کی پکار پر قوم کی مدد ، ایدھی صاحب کی ایپل پر لوگوں کی کروڑوں کی امداد ، یہ سب پڑھ کر بہت اچھا لگا اور وہ اداسی، پریشانی کم ہونے لگی جو مسلسل پریشان کن اور مصائب پر مبنی خبروں سے بڑھتی جا رہی تھی۔
اس کے بعد جعفر کی پوسٹ آیئے پڑھی جسے بہت اچھے انداز میں جعفر نے لکھا اور فیشن کے مطابق چند مخصوص گروہوں کو کوسنے ، چند طبقات کو ذمہ دار ٹھہرانے اور ملک اور قوم کا نوحہ پڑھنے کی بجائے جس چیز کی اشد ضرورت ہے وہ ہے جذبہ ہمدردی اور ایثار ان آف زدوں اور مصیبت زدوں کے لیے جو اس آفت ناگہانی کا شکار ہوئے ہیں۔ کچھ دیر کے لیے اگر سوچا جائے کہ ایک رات کو سوتے ہوئے ان لوگوں کے پاس گھر ، سامان ، اناج اور مال مویشی تھے اور اگلے دن نہ ان کے پاؤں تلے زمین تھی اور نہ سر پر چھت۔ نہ سر چھپانے کو جگہ نہ تن ڈھانپنے کے لیے پورے کپڑے ، کھانا ایک طرف پینے کے لیے صاف پینے تک کو ترس گئے ہیں۔ جو گندا اور بدبودار پانی جانور پی رہے ہیں وہی پینے پر مجبور ہیں اور اس کے ہاتھوں بیمار بھی ہو رہے ہیں اور مر بھی رہے ہیں۔ امداد کم اور ضرورت مند زیادہ ہیں جس سے امداد آتی بھی ہے تو اسے لینے میں جو کشمکش اور چھینا جھپٹی ہوتی ہے وہ ایک اور ہی دل خراش داستان ہے۔
اچھی خبر یہ ہے کہ لوگ جو اب تک گومگو کی کیفیت میں تھے اور امداد دینے میں یا تو کشمکش کا شکار تھے یا اس سانحے کی سنگینی کا اندازہ نہیں کر پا رہے تھے اب میدان میں نکل کھڑے ہوئے ہیں اور بڑھ چڑھ کر مدد کر رہے ہیں۔
طلعت اور کاشف عباسی کے اکاؤنٹ میں بیس جولائی تک چار کروڑ سے اوپر رقم جمع ہو چکی ہے اور یہ صرف چند دن میں بغیر زیادہ ترویج اور چندہ مہم کی مسلسل اپیل کے بغیر۔ طلعت اور کاشف نے اس امدادی کام کو شفاف رکھنے کے لیے ویب سائٹ اور اس پر اکاؤنٹ کی تفصیل دے رکھی ہے جو یہاں پر دیکھی جا سکتی ہے۔
اس سائٹ پر کال کرنے اور ایس ایم ایس کرنے کے لیے نمبر موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ سائٹ پر بینک اسٹیٹمنٹ اور آئندہ خرچ ہونے والی رقم اور منصوبہ جات بھی ہوں گے۔
عمران خان فلڈ ریلیف اور میر خلیل الرحمن فاؤنڈیشن کی پہلی ٹیلی تھون میں ہی تقریبا سات کروڑ جمع ہو گئے اور عمران کا کہنا ہے کہ وہ اتوار کے روز کم از کم پانچ سو ٹرکوں کا امید کارواں لے کر خیبر پختونخواہ کی طرف روانہ ہوگا تاکہ ناکافی امداد کا سلسلہ ختم ہو اور لوگوں کو حوصلہ ملے کہ منظم انداز میں ان کی مدد ہو رہی ہے ۔ اس کے بعد یہ ٹرکوں کا کارواں جنوبی پنجاب ، سندھ اور بلوچستان کی طرف روانہ ہوگا دو ہفتوں کے دوران۔ اس کے بعد لوگوں کی بحالی اور انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے لگاتار کوشش جاری رہے گی۔ اس ٹیلی تھون کو پکار کا نام دیا گیا اور اندرون ملک اور بیرون ملک پاکستانیوں نے اس پکار پر لبیک کہا اور پانچ کروڑ کے ہدف کو با آسانی پورا کرتے ہوئے تقریبا سات کروڑ جمع کروا دیے۔ جذبوں کو جواں رکھنے اور اپنا حصہ ڈالتے رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے وہ بہن بھائی اور بزرگ جو اس افتاد سے بے گھر ہوئے ہیں وہ اپنے گھروں میں بس سکیں۔ کاش لوگ جس طرح عمران کو پیسے دیتے ہیں اس طرح ووٹ بھی دے دیں۔ اس سیلاب نے بھی لوگوں کی آنکھیں نام نہاد سیاستدانوں کی طرف سے نہ کھولی تو کونسی آفت کھلوائے گی۔
پکار ٹیلی تھون میں میزبان ساحر نے اقبال کے سحر انگیز تین اشعار پر پروگرام کا اختتام کیا جس کے ایک مصرعہ پر فرحت نے بھی اپنی پوسٹ کا اختتام کیا۔
دگرگوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی
دل ہر ذرہ میں غوغائے رستا خیز ہے ساقی
متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی
یہ کس کافر ادا کا غمزۂ خوں ریز ہے ساقی
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی



