آر ايس ايس فيڈ

محفوظات برائے 'مذہب اور اخلاقیات' زمرہ

کافی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ اس موضوع پر لکھوں کیونکہ جب بھی بہت زیادہ پڑھی لکھی محترمہ کا بلاگ پڑھتا ہوں ضرور اس میں کچھ نہ کچھ ایسا لکھا ہوتا جو مندرجہ ذیل چیزوں میں سے کسی ایک پر لازما مشتمل ہوتا ہے

 

مردوں کے خلاف بالعموم اور پاکستانی مردوں کے خلاف بالخصوص

پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف

کبرائی بڑائی اور انا

صحیح بات بھی اگر غلط طریقے سے کی جائے تو اثر کھو دیتی ہے اور بری لگتی ہے۔ کئی باتیں بذات خود ٹھیک ہوتی ہیں مگر اس طور سی کی جاتی ہیں کہ نتیجہ میں انتشار اور کدرورتیں ہی پیدا ہوتی ہیں۔

 

عورت اور مرد دونوں رب ذاولجلال کی تخلیق ہیں اور دونوں بحیثیت انسان ایک جیسی قدر و منزلت رکھتے ہیں اللہ کی نظر میں۔ مرد و عورت کی فضیلیت اور برتری رشتوں اور تعلق کی بنیاد پر مقرر کی گئی ہے۔ عورت کو سب سے بلند رتبہ بحیثیت ماں دیا گیا ہے اور مرد کو بحیثیت شوہر۔  اگر تعصب اور مغربی پروپیگنڈا کو ایک طرف رکھ کر انصاف کیا جائے تو مرد و عورت کو جس رشتہ میں سب سے زیادہ تقدس دیا گیا ہے وہاں اس کی بڑی مضبوط وجوہات ہیں ، دل و دماغ دونوں اس چیز کو نہ صرف مانتے ہیں بلکہ تقاضہ بھی کرتے ہیں۔

 

مرد و عورت برابر نہیں ہیں ، نہ تھے اور نہ کبھی ہوں گے ۔

یہ دونوں ملتےجلتے ضرور ہیں مگر ایک جیسے نہیں۔ دونوں میں جسمانی ، ذہنی ، نفسیاتی اور روحانی فرق موجود ہیں۔ دونوں کے اپنے اپنے دائرہ کار ہیں اور دونوں کے لیے پروردگار نے فرائض اور حقوق مقرر کر دیے ہیں جن پر اگر عمل ہو تو مرد اور عورت کا جھگڑا ہی نہ اٹھے۔ نہ تو دنیا مردوں کے  لیے پیدا کی گئی نہ عورتوں کے لیے دنیا کی تخلیق کا اصل راز تو اللہ کو ہی پتہ ہے البتہ جو اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے اس کے مفہوم کے مطابق اللہ نے انسان کو دنیا میں اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے تاکہ وہ اس کی عبادت کر سکے۔

اس میں کہیں بھی مرد اور عورت کا ذکر نہیں ہے بلکہ انسان کا ذکر کیا ہے اور اشرف المخلوقات بھی ہمیشہ انسان کو ہی بتایا گیا ہے مرد و عورت کا ذکر نہیں کیا گیا۔ عورتوں کو نبوت کا اعزاز نہیں ملا جس کی بڑی سادہ اور واضح وجہ ہے کہ نبی کو زندگی میں بہت زیادہ مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہے حتی کہ بہت سے نبیوں کو لوگوں نے شہید بھی کر دیا۔ نبی کے منصب کا تقاضہ تھا کہ وہ لوگوں میں گھلے ملیں اور ہر جگہ اور ہر قسم کے لوگوں کو تبلیغ کریں ظاہر ہے یہ کام ایک عورت کے لیے ناممکن نہیں تو انتہائی کٹھن ضرور تھے اور دوسرا عورت اگر نبی ہوتی تو بحیثیت بیوی وہ اپنے شوہر کے تابع ہو جاتی اور یوں ایک اور مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔ اس کے باوجود ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں بڑی ہی جلیل القدر اور عزت مآب عورتوں کی مثالیں ملتی ہیں جو روحانیت کی بلندیوں پر فائز ہیں اور تمام مردوں اور عورتوں کے لیے مینارہ نور ہیں۔

حضرت آسیہ فرعون کی بیوی اور حضرت موسی کو پالنے والی اور موسی کے دین پر قربان ہو جانے والی۔ کوئی عورت اس زمانے میں اس سے زیادہ کیا چاہ سکتی تھی جو حضرت آسیہ کو میسر تھا مگر انہوں نے حق پر شاہانہ جاہ و جلال اور مادی آسائشیں قربان کر دیں۔ غیر مصدقہ تاریخ کے مطابق ان کو ایمان سے ہٹانے کے لیے فرعون نے انہیں تختہ دار پر کھینچ ڈالا اور انہوں نے تختہ دار پر اپنے بیٹے کے دین حق پر جان دے دی مگر شوہر کی فرعونیت پر سر تسلیم خم نہ کیا۔

حضرت مریم سے زیادہ شاید ہی کسی عورت نے دکھ سہا ہو اور میرے خیال میں اللہ نے عورتوں کی تشفی قلب کے لیے تاریخ انسانی میں ولادت انسان کا دوسرا معجزہ دکھاتے ہوئے بغیر مرد کے ایک عورت کو ماں کا تقدس بخش دیا اور عورتوں کو بھی دلیل قاطعہ دے دی کہ اگر مائی حوا بغیر ماں کے صرف ایک مرد کے بطن سے پیدا ہوئی تھی تو حضرت مریم نے بھی اللہ کے حکم سے حضرت عیسی کو جنم دیا کسی مرد سے بیاہے بغیر۔ یہ چیز عقل انسانی ہضم نہیں کر سکتی تھی اس لیے ان پر جاہلوں نے بہت الزام لگائے باوجود اس کے کہ حضرت مریم کی گود میں ایک بولتا ہوا بچہ تھا جو خود بول کر اپنی ماں کے تقدس کی گواہی دے رہا تھا مگر جب کسی کے دل میں بیماری اور نقص ہو تو وہ زندہ و جاوید معجزوں کو بھی نہیں مانتا۔ حضرت مریم اللہ کو کتنی محبوب تھیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن جسے الہامی کتابوں میں سب سے اونچا درجہ حاصل ہے جس کی عظمت اور پاکیزگی کی قسم سب مسلمان کھاتے ہیں اس میں اللہ نے اپنی محبوب بندی حضرت مریم کے درد زہ کا تذکرہ اس طرح سے کیا ہے کہ رہتی دنیا تک وہ تذکرہ سامعین اور قارئین کے لیے باعث ثواب و نجات بن گیا ہے۔ وہی درد زہ جس کا تذکرہ عام حالات میں لوگ باعث شرم سمجھتے ہیں اسے اللہ نے قرآن کا حصہ بنا دیا ہے۔

حضرت عائشہ کا تذکرہ کرکے اس پوسٹ کو ختم کروں گا کہ تاریخ انسانی میں اللہ کی محبوب بہت سی بندیاں گزری ہیں جن کا ذکر تمام عمر کرتے بھی عمر کم لگے گی۔ حضرت عائشہ کی فضیلیت اور برتری کو کون مسلمان ہے جو نہیں جانتا اور مانتا ہو گا سوائے ان کے جن کے دل میں کھوٹ اور بیماری ہو۔ حضرت عائشہ ایک سفر میں ہار گرنے اور پھر اسے ڈھونڈنے کی وجہ سے قافلے سےپیچھے رہ گئیں۔ وہ جب واپس قافلے سے ملیں تو چار لوگوں نے جنہیں رئیس المنافقین کی پشت پناہی حاصل تھی حضرت عائشہ پر الزام لگایا اور پورے شہر میں اس بات کو مشہور کر دیا جس پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت رنج اور تکلیف پہنچی۔ اس کے ساتھ ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی علیہ کو اور ان کے گھر والوں کو بھی بہت تکلیف اور رنج اٹھانا پڑا۔ یہ معاملہ اللہ کی قدرت سے بغیر وحی اتارے بھی سلجھ سکتا تھا اور حضرت عائشہ کی بے گناہی بہت سے طریقوں سے ظاہر ہو سکتی تھی مگر اللہ نے اپنی محبوب بندی کی پاک دامنی کی گواہی اور بے گناہی ثابت کرنے کے لیے قرآن کی اٹھارہ آیتیں اتاریں جو کہ ایسا اعزاز ہے جو کسی اور عورت کو حاصل نہیں ہوا۔

قرآن میں بہت سی عورتوں کا تذکرہ ہے جو اللہ کی اپنی بندیوں سے محبت اور کرم کا اظہار ہے۔ مسلمانوں کو مغرب سے عورتوں کے حقوق کا سبق پڑھنے کی نہ تو حاجت ہے اور شوق۔ اللہ کے فضل سے مسلمان عورتوں کے علم و فضل اور کارہائے نمایاں سے تاریخ بھری پڑی ہے اس کے لیے کسی تحریک نسواں یا نسائیت کی علمبردار گمراہ اور جدید جاہلیت کی پیروکار کے لیکچر کی ضرورت نہیں۔

 

مسلمان مردوں اور عورتوں کو لیے اسلام ہی مکمل ضابطہ حیات ہے۔ 

مکمل تحرير پڑھيے »

آج غصہ کی کیفیت طاری ہوئی اور کافی ضبط کرنے کے باوجود جب نہ گئی تو میں نے سوچا کہ گوگل سے تلاش کرکے غصہ دور کرنے اور قابو پانے کے طریقے ہی ڈھونڈے جائیں۔ درج ذیل اقتباسات مختلف ویب سائٹس سے ہیں۔ پہلا اقتباس ہے اردو مجلس سے جو عبدالرحمن نے بنائی ہے اور انہوں نے ہی اردو ویب محفل کو وی بلیٹن کا اردو ترجمہ دیا تھا۔

دورِحاضر کا ذکر ہے کہ ایک بچہ بہت بدتمیز اور غصے کا تیز تھا۔اسے بات بے بات فوراً غصہ آجاتا ، والدین نے اسے کنٹرول کرنے کی بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے۔ایک روز اسکے والد کو ایک ترکیب سوجھی۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو کیلوں کا ایک ڈبا لا کے دیا اور گھر کے پچھلے حصے کی دیوار کے پاس لے جا کر کہنے لگے، “ بیٹا جب بھی تمہیں غصہ آئے ۔اس میں سے ایک کیل نکال کر یہاں دیوار میں ٹھونک دینا۔پہلے دن لڑکے نے دیوار میں 37  کیلیں ٹھونکیں۔ایک دو ہفتے گزرنے کے بعد بچہ سمجھ گیا کہ غصہ کنٹرول کرنا آسان ہے لیکن دیوار میں کیل ٹھونکنا خاصا مشکل کام ہے۔اس نے یہ بات اپنے والد کو بتائی۔والد نے مشورہ دیا کہ اب جب تمھیں غصہ آئے اور تم اسے کنٹرول کر لو تو ایک کیل دیوار میں سے نکال دینا۔لڑکے نے ایسا ہی کیا اور بہت جلد دیوار سے ساری کیلیں نکال لیں۔
باپ نے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور اس دیوار کے پاس لے جا کر کہنے لگے،بیٹا تم نے اپنے غصے کو کنٹرول کرکے بہت اچھا کیا لیکن ذرا اس دیوار کو غور سے دیکھو ! یہ پہلے جیسی نہیں‌رہی۔ اس میں یہ سوراخ کتنے برے لگ رہے ہیں۔جب تم غصے سے چیختے چلاتے ہو اور الٹی سیدھی باتیں‌کرتے ہو تو اس دیوار کی مانند تمھاری شخصیت پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے۔تم انسان کے دل میں‌چاقو گھونپ کر اسے باہر نکال سکتے ہو لیکن چاقو باہر نکالنے کے بعد تم ہزار بار بھی معذرت کرو ، معافی مانگو ، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔وہ زخم اپنی جگہ باقی رہے گا۔

یاد رکھو زبان کا زخم ،چاقو سے کہیں‌بد تر اور دردناک ہے !

اس کے بعد بھی گوگل پر تلاش جاری رکھی اور مسرت اللہ جان کا آرٹیکل  کیا آپ کو غصہ آتا ہے اچھا لگا جس میں سے ایک اقتباس یہ ہے

مجھے بھی آتا ہے اور البرٹ پینٹو کو بھی آتا ہے۔ لیکن کب اور کیوں آتا ہے اور یہ کہ کن لوگوں کو کم اور کن کو زیادہ آتا ہے۔ مجھے غصہ کیوں آتا ہے اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اپنی زندگی تلخیوں سے عبارت ہے بلکہ ایسی بات پر بھی آتا ہے جنہیں لوگ نظرانداز کردیتے ہیں۔ بات بات پر غصہ آتا ہے اور چونکہ ایک عدد ملازم رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہوں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اپنا یہ غصہ ہمیشہ قہر درویش بر جان درویش ثابت ہوا اسی غصہ اور بے بسی کے باعث ایک سے زائد مرتبہ ذہنی دباؤ میں بھی مبتلا ہوا اور اس طرح جسم اور ذہن کے ساتھ ساتھ پیسے کا بھی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

روح کا ناسور نامی عنوان سے یہ مفید باتیں پتہ چلیں

حضرت امام جعفر صادق(علیہ السلام) سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے پدر بزرگوار حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے سنا۔کہ ایک بدّو رسول خدا کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں ریگستان میں رہتا ہوں۔ مجھے عقل اور دانش کی باتیں بتائیں۔ جواب میں جناب رسول اللہ نے فرمایا۔ ”میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ غصّہ نہ کیا کرنا۔“
اسی سوال کو ۳ دفعہ دہرانے اور رسول خدا سے ایک ہی جواب پانے پر بدّو نے اپنے دل میں کہا کہ اس کے بعد میں پیغمبر خدا سے اور کوئی سوال نہیں کروں گا اس لئے کہ وہ نیکی کے علاوہ اور کسی چیز کا حکم نہیں دیں گے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کہتے تھے کہ میرے والد ماجد فرمایا کرتے تھے :
”کیا غضب سے بڑھ کر اور کوئی شدید شئے ہوسکتی ہے؟ ایک شخص کو غصّہ آجاتا ہے اور وہ کسی ایسے آدمی کا قتل کردیتا ہے۔ جس کا خون اللہ کی طرف سے حرام کردیا گیا ہے یا ایک شادی شدہ عورت پر تہمت اور الزام لگا بیٹھتا ہے۔“
(الکلینی الکافی، جلد ۲، صفحہ ۳۰۳، حدیث ۴)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السّلام نے فرمایا:
’اپنے آپ کو غصّہ سے بچاؤ اس لئے کہ اس کی ابتداء دیوانگی ہے اور انتہا اس کی ندامت اور پشیمانی۔‘

فیض رضا سے یہ کام کی چیزیں ملی۔

حدیث شریف میں ہے جو شخص اپنے غصے کو روک لے گا، اللہ عزوجل بروز قیامت اس سے اپنا عذاب روک لے گا۔ ( مشکٰوۃ شریف )
ابوداؤد کی حدیث میں ہے جس نے غصے کو ضبط کر لیا حالانکہ ہ اسے نافذ کرنے پر قادر تھا تو اللہ تعالٰی بروز قیامت اس کو تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا اور اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے لے لے ( اس کے بعد مرد حضرات پر تو غصہ حرام ہونا حقیقی معنوں میں سمجھ آ جاتا ہے کیونکہ غصہ کرکے حور گنوانا گویا لاٹری جیت کر ٹکٹ گنوانے کے مترادف ہے )۔

غصہ معاشرے کی ان بڑی برائیوں میں سے ہے جس سے انسان کی شخصی اور تعمیری بلندی کو زوال آتا ہے انسان ہمیشہ ان حالات سے دوچار رہتا ہے جس کی وجہ سے اعصاب اور حواس کھینچے رہتے ہیں اس کی یادداشت بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی غصہ زہر کا اثر رکھتا ہے اور خون میں ایک زہریلا مادہ پیدا کرتا ہے جس سے چہرے پر رونق ختم ہو جاتی ہے آنکھوں اور ہونٹوں میں تازگی ختم ہو جاتی ہے غصہ معدے اور اعصابی نظام کو بری طرح متاثر کرتا ہے اور کردار میں منفی اور تخریبی اثرات پیدا کرتا ہے ماہرین عمرانیات ( سوشیالوجی ) کا کہنا ہے کہ خاوند غصیلا ہو یا بیوی ان کے گھر میں سکون اور اطمینان نہیں رہتا ا سکے اثرات بچوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں بچے آپس میں پیار و محبت میں رہنے کے بجائے لڑتے جھگڑتے ہیں پھر غصہ پورے معاشرے میں بد امنی کرتا ہے۔  ( سنتیں اور انکی برکتیں )

غصہ پر قابو پانے کے لیے مندرجہ ذیل علاج بتائے جاتے ہیں ، آپ بھی آزما کر دیکھیں

اعوذ  باللہ من الشیطن الرجیم پڑھنا
لاحول ولا قوتہ الا باللہ پڑھنا
وضو کر لینا
کھڑے ہو تو بیٹھ جانا اور بیٹھے ہوں تو لیٹ جانا
جس پر غصہ آ رہا ہو اس کے سامنے سے ہٹ جانا
پانی پینا
خاموش ہو جانا

ڈیوک یونیورسٹی امریکہ کے ایک سائنسدان ڈاکٹر ریڈ فورڈ بی ولیمز کے مطابق غصے اور بغض رکھنے والے افراد جلد مر جاتے ہیں ان کے مطابق اس سے انسانی قلب کو وہی نقصان پہنچتا ہے جو تمباکونوشی اور ہائی بلڈ پریشر سے پہنچتا ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے سائنسی ادیبوں کے سیمینار میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بہت سے لوگ وقت سے پہلے محض بغض اور کینے کے جذبات کی شدت کی وجہ سے چل بستے ہیں غصہ اور بغض قلبی دردوں کے اہم اسباب میں سے ایک ہیں اس طرح حرص و طمع میں مبتلا بے چین و بے صبر افراد بھی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی تمناؤں اور آرزؤں کے ہاتھوں اپنی شمع زندگی کو گل کر لیتے ہیں۔
ماہرین نے غصیلے اعصاب زدہ، بے چین اور ضرورت سے زیادہ آرزو مند افراد کو زمرہ “ الف “ اور بردبار، حلیم اور صابر و شاکر لوگوں کو زمرہ “ ب “ میں تقسیم کیا ہے وہ اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زمرہ الف سے تعلق رکھنے والے افراد بالعموم امراض قلب کی زد میں رہتے ہیں اور انہیں کولیسٹرول کی زیادتی، سگریٹ نوشی اور ہائی بلڈ پریشر ہی کی طرح دورہ قلب کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ ( سنت نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور جدید سائنس )

یہ سب پڑھ کر میرا غصہ تو اتر گیا ہے آپ بھی غصہ آنے کی صورت میں پورا آرٹیکل پڑھ لیں امید واثق ہے اتنا لمبا مضمون پڑھ کر غصہ کا باقی رہ جانا امر محال ہے۔

Reblog this post [with Zemanta]

مکمل تحرير پڑھيے »