کچھ تحریک نسواں کی علمبردار خواتین کی خدمت میں
زمرہ(جات): تاریخ، خواتین اور تحریک نسواں، مذہب اور اخلاقیات | (64) آراء »
کافی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ اس موضوع پر لکھوں کیونکہ جب بھی بہت زیادہ پڑھی لکھی محترمہ کا بلاگ پڑھتا ہوں ضرور اس میں کچھ نہ کچھ ایسا لکھا ہوتا جو مندرجہ ذیل چیزوں میں سے کسی ایک پر لازما مشتمل ہوتا ہے
مردوں کے خلاف بالعموم اور پاکستانی مردوں کے خلاف بالخصوص
پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف
کبرائی بڑائی اور انا
صحیح بات بھی اگر غلط طریقے سے کی جائے تو اثر کھو دیتی ہے اور بری لگتی ہے۔ کئی باتیں بذات خود ٹھیک ہوتی ہیں مگر اس طور سی کی جاتی ہیں کہ نتیجہ میں انتشار اور کدرورتیں ہی پیدا ہوتی ہیں۔
عورت اور مرد دونوں رب ذاولجلال کی تخلیق ہیں اور دونوں بحیثیت انسان ایک جیسی قدر و منزلت رکھتے ہیں اللہ کی نظر میں۔ مرد و عورت کی فضیلیت اور برتری رشتوں اور تعلق کی بنیاد پر مقرر کی گئی ہے۔ عورت کو سب سے بلند رتبہ بحیثیت ماں دیا گیا ہے اور مرد کو بحیثیت شوہر۔ اگر تعصب اور مغربی پروپیگنڈا کو ایک طرف رکھ کر انصاف کیا جائے تو مرد و عورت کو جس رشتہ میں سب سے زیادہ تقدس دیا گیا ہے وہاں اس کی بڑی مضبوط وجوہات ہیں ، دل و دماغ دونوں اس چیز کو نہ صرف مانتے ہیں بلکہ تقاضہ بھی کرتے ہیں۔
مرد و عورت برابر نہیں ہیں ، نہ تھے اور نہ کبھی ہوں گے ۔
یہ دونوں ملتےجلتے ضرور ہیں مگر ایک جیسے نہیں۔ دونوں میں جسمانی ، ذہنی ، نفسیاتی اور روحانی فرق موجود ہیں۔ دونوں کے اپنے اپنے دائرہ کار ہیں اور دونوں کے لیے پروردگار نے فرائض اور حقوق مقرر کر دیے ہیں جن پر اگر عمل ہو تو مرد اور عورت کا جھگڑا ہی نہ اٹھے۔ نہ تو دنیا مردوں کے لیے پیدا کی گئی نہ عورتوں کے لیے دنیا کی تخلیق کا اصل راز تو اللہ کو ہی پتہ ہے البتہ جو اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے اس کے مفہوم کے مطابق اللہ نے انسان کو دنیا میں اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے تاکہ وہ اس کی عبادت کر سکے۔
اس میں کہیں بھی مرد اور عورت کا ذکر نہیں ہے بلکہ انسان کا ذکر کیا ہے اور اشرف المخلوقات بھی ہمیشہ انسان کو ہی بتایا گیا ہے مرد و عورت کا ذکر نہیں کیا گیا۔ عورتوں کو نبوت کا اعزاز نہیں ملا جس کی بڑی سادہ اور واضح وجہ ہے کہ نبی کو زندگی میں بہت زیادہ مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہے حتی کہ بہت سے نبیوں کو لوگوں نے شہید بھی کر دیا۔ نبی کے منصب کا تقاضہ تھا کہ وہ لوگوں میں گھلے ملیں اور ہر جگہ اور ہر قسم کے لوگوں کو تبلیغ کریں ظاہر ہے یہ کام ایک عورت کے لیے ناممکن نہیں تو انتہائی کٹھن ضرور تھے اور دوسرا عورت اگر نبی ہوتی تو بحیثیت بیوی وہ اپنے شوہر کے تابع ہو جاتی اور یوں ایک اور مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔ اس کے باوجود ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں بڑی ہی جلیل القدر اور عزت مآب عورتوں کی مثالیں ملتی ہیں جو روحانیت کی بلندیوں پر فائز ہیں اور تمام مردوں اور عورتوں کے لیے مینارہ نور ہیں۔
حضرت آسیہ فرعون کی بیوی اور حضرت موسی کو پالنے والی اور موسی کے دین پر قربان ہو جانے والی۔ کوئی عورت اس زمانے میں اس سے زیادہ کیا چاہ سکتی تھی جو حضرت آسیہ کو میسر تھا مگر انہوں نے حق پر شاہانہ جاہ و جلال اور مادی آسائشیں قربان کر دیں۔ غیر مصدقہ تاریخ کے مطابق ان کو ایمان سے ہٹانے کے لیے فرعون نے انہیں تختہ دار پر کھینچ ڈالا اور انہوں نے تختہ دار پر اپنے بیٹے کے دین حق پر جان دے دی مگر شوہر کی فرعونیت پر سر تسلیم خم نہ کیا۔
حضرت مریم سے زیادہ شاید ہی کسی عورت نے دکھ سہا ہو اور میرے خیال میں اللہ نے عورتوں کی تشفی قلب کے لیے تاریخ انسانی میں ولادت انسان کا دوسرا معجزہ دکھاتے ہوئے بغیر مرد کے ایک عورت کو ماں کا تقدس بخش دیا اور عورتوں کو بھی دلیل قاطعہ دے دی کہ اگر مائی حوا بغیر ماں کے صرف ایک مرد کے بطن سے پیدا ہوئی تھی تو حضرت مریم نے بھی اللہ کے حکم سے حضرت عیسی کو جنم دیا کسی مرد سے بیاہے بغیر۔ یہ چیز عقل انسانی ہضم نہیں کر سکتی تھی اس لیے ان پر جاہلوں نے بہت الزام لگائے باوجود اس کے کہ حضرت مریم کی گود میں ایک بولتا ہوا بچہ تھا جو خود بول کر اپنی ماں کے تقدس کی گواہی دے رہا تھا مگر جب کسی کے دل میں بیماری اور نقص ہو تو وہ زندہ و جاوید معجزوں کو بھی نہیں مانتا۔ حضرت مریم اللہ کو کتنی محبوب تھیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن جسے الہامی کتابوں میں سب سے اونچا درجہ حاصل ہے جس کی عظمت اور پاکیزگی کی قسم سب مسلمان کھاتے ہیں اس میں اللہ نے اپنی محبوب بندی حضرت مریم کے درد زہ کا تذکرہ اس طرح سے کیا ہے کہ رہتی دنیا تک وہ تذکرہ سامعین اور قارئین کے لیے باعث ثواب و نجات بن گیا ہے۔ وہی درد زہ جس کا تذکرہ عام حالات میں لوگ باعث شرم سمجھتے ہیں اسے اللہ نے قرآن کا حصہ بنا دیا ہے۔
حضرت عائشہ کا تذکرہ کرکے اس پوسٹ کو ختم کروں گا کہ تاریخ انسانی میں اللہ کی محبوب بہت سی بندیاں گزری ہیں جن کا ذکر تمام عمر کرتے بھی عمر کم لگے گی۔ حضرت عائشہ کی فضیلیت اور برتری کو کون مسلمان ہے جو نہیں جانتا اور مانتا ہو گا سوائے ان کے جن کے دل میں کھوٹ اور بیماری ہو۔ حضرت عائشہ ایک سفر میں ہار گرنے اور پھر اسے ڈھونڈنے کی وجہ سے قافلے سےپیچھے رہ گئیں۔ وہ جب واپس قافلے سے ملیں تو چار لوگوں نے جنہیں رئیس المنافقین کی پشت پناہی حاصل تھی حضرت عائشہ پر الزام لگایا اور پورے شہر میں اس بات کو مشہور کر دیا جس پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت رنج اور تکلیف پہنچی۔ اس کے ساتھ ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی علیہ کو اور ان کے گھر والوں کو بھی بہت تکلیف اور رنج اٹھانا پڑا۔ یہ معاملہ اللہ کی قدرت سے بغیر وحی اتارے بھی سلجھ سکتا تھا اور حضرت عائشہ کی بے گناہی بہت سے طریقوں سے ظاہر ہو سکتی تھی مگر اللہ نے اپنی محبوب بندی کی پاک دامنی کی گواہی اور بے گناہی ثابت کرنے کے لیے قرآن کی اٹھارہ آیتیں اتاریں جو کہ ایسا اعزاز ہے جو کسی اور عورت کو حاصل نہیں ہوا۔
قرآن میں بہت سی عورتوں کا تذکرہ ہے جو اللہ کی اپنی بندیوں سے محبت اور کرم کا اظہار ہے۔ مسلمانوں کو مغرب سے عورتوں کے حقوق کا سبق پڑھنے کی نہ تو حاجت ہے اور شوق۔ اللہ کے فضل سے مسلمان عورتوں کے علم و فضل اور کارہائے نمایاں سے تاریخ بھری پڑی ہے اس کے لیے کسی تحریک نسواں یا نسائیت کی علمبردار گمراہ اور جدید جاہلیت کی پیروکار کے لیکچر کی ضرورت نہیں۔
مسلمان مردوں اور عورتوں کو لیے اسلام ہی مکمل ضابطہ حیات ہے۔
![Reblog this post [with Zemanta]](http://img.zemanta.com/reblog_b.png?x-id=d5f39246-e55b-4f9d-a5d8-214a3a8c0eb0)