Realtime hit counterweb stats
آر ايس ايس فيڈ

محفوظات برائے 'قدرتی آفات' زمرہ

بہت سی اداس اور پریشان کن دنوں اور خبروں کے بعد آج فرحت کیانی کی پوسٹ امید ابھی کچھ باقی ہے دیکھ کر اداسی کم ہوئی اور پوری پڑھنے کے بعد امید کی بجھتی ہوئی کرنیں پھر سے جلنے لگیں۔ خاص طور پر یہ جملے  پڑھ کر

 

متاثرینِ سیلاب کے لئے لگائے گئے جس کیمپ  سے گزرتے ہوئے مجھے کبھی دو چار لوگوں اور آٹھ دس تھیلوں کے سوا کچھ نہیں دکھائی دیتا تھا وہا ں سے ہر شام 3 ٹرک امدادی سامان لیکر متاثرینِ سیلاب کی اور نکلتے ہیں۔

اس کے بعد عمران خان کی پکار پر قوم کی مدد ، ایدھی صاحب کی ایپل پر لوگوں کی کروڑوں کی امداد ، یہ سب پڑھ کر بہت اچھا لگا اور وہ اداسی، پریشانی کم ہونے لگی جو مسلسل پریشان کن اور مصائب پر مبنی خبروں سے بڑھتی جا رہی تھی۔

اس کے بعد جعفر کی پوسٹ   آیئے پڑھی جسے بہت اچھے انداز میں جعفر نے لکھا اور فیشن کے مطابق چند مخصوص گروہوں کو کوسنے ، چند طبقات کو ذمہ دار ٹھہرانے اور ملک اور قوم کا نوحہ پڑھنے کی بجائے جس چیز کی اشد ضرورت ہے وہ ہے جذبہ ہمدردی اور ایثار ان آف زدوں اور مصیبت زدوں کے لیے جو اس آفت ناگہانی کا شکار ہوئے ہیں۔ کچھ دیر کے لیے اگر سوچا جائے کہ ایک رات کو سوتے ہوئے ان لوگوں کے پاس گھر  ، سامان ، اناج اور مال مویشی تھے اور اگلے دن نہ ان کے پاؤں تلے زمین تھی اور نہ سر پر چھت۔ نہ سر چھپانے کو جگہ نہ تن ڈھانپنے کے لیے پورے کپڑے ، کھانا ایک طرف پینے کے لیے صاف پینے تک کو ترس گئے ہیں۔ جو گندا اور بدبودار پانی جانور پی رہے ہیں وہی پینے پر مجبور ہیں اور اس کے ہاتھوں بیمار بھی ہو رہے ہیں اور مر بھی رہے ہیں۔ امداد کم اور ضرورت مند زیادہ ہیں جس سے امداد آتی بھی ہے تو اسے لینے میں جو کشمکش اور چھینا جھپٹی ہوتی ہے وہ ایک اور ہی دل خراش داستان ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ لوگ جو اب تک گومگو کی کیفیت میں تھے اور امداد دینے میں یا تو کشمکش کا شکار تھے یا اس سانحے کی سنگینی کا اندازہ نہیں کر پا رہے تھے اب میدان میں نکل کھڑے ہوئے ہیں اور بڑھ چڑھ کر مدد کر رہے ہیں۔

طلعت اور کاشف عباسی کے اکاؤنٹ میں بیس جولائی تک چار کروڑ سے اوپر رقم جمع ہو چکی ہے اور یہ صرف چند دن میں بغیر زیادہ ترویج اور چندہ مہم کی مسلسل اپیل کے بغیر۔ طلعت اور کاشف نے اس امدادی کام کو شفاف رکھنے کے لیے ویب سائٹ اور اس پر اکاؤنٹ کی تفصیل دے رکھی ہے جو یہاں پر دیکھی جا سکتی ہے۔

ریلیف آج ویب سائٹ

اس سائٹ پر کال کرنے اور ایس ایم ایس کرنے کے لیے نمبر موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ سائٹ پر بینک اسٹیٹمنٹ اور آئندہ خرچ ہونے والی رقم اور منصوبہ جات بھی ہوں گے۔

عمران خان فلڈ ریلیف  اور میر خلیل الرحمن فاؤنڈیشن کی پہلی ٹیلی تھون میں ہی تقریبا سات کروڑ جمع ہو گئے اور عمران کا کہنا ہے کہ وہ اتوار کے روز کم از کم پانچ سو ٹرکوں کا امید کارواں لے کر  خیبر پختونخواہ کی طرف روانہ ہوگا تاکہ ناکافی امداد کا سلسلہ ختم ہو اور لوگوں کو حوصلہ ملے کہ منظم انداز میں ان کی مدد ہو رہی ہے ۔ اس کے بعد یہ ٹرکوں کا کارواں جنوبی پنجاب ، سندھ اور بلوچستان کی طرف روانہ ہوگا دو ہفتوں کے دوران۔ اس کے بعد لوگوں کی بحالی اور انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے لگاتار کوشش جاری رہے گی۔ اس ٹیلی تھون کو پکار کا نام دیا گیا اور اندرون ملک اور بیرون ملک پاکستانیوں نے اس پکار پر لبیک کہا اور پانچ کروڑ کے ہدف کو با آسانی پورا کرتے ہوئے تقریبا سات کروڑ جمع کروا دیے۔ جذبوں کو جواں رکھنے اور اپنا حصہ ڈالتے رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے وہ بہن بھائی اور بزرگ جو اس افتاد سے بے گھر ہوئے ہیں وہ اپنے گھروں میں بس سکیں۔ کاش لوگ جس طرح عمران کو پیسے دیتے ہیں اس طرح ووٹ بھی دے دیں۔ اس سیلاب نے بھی لوگوں کی آنکھیں نام نہاد سیاستدانوں کی طرف سے نہ کھولی تو کونسی آفت کھلوائے گی۔

پکار ٹیلی تھون میں میزبان ساحر نے اقبال کے سحر انگیز تین اشعار پر پروگرام کا اختتام کیا جس کے ایک مصرعہ پر فرحت نے بھی اپنی پوسٹ کا اختتام کیا۔

 

دگرگوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی

دل ہر ذرہ میں غوغائے رستا خیز ہے ساقی

متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی

یہ کس کافر ادا کا غمزۂ خوں ریز ہے ساقی

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

مکمل تحرير پڑھيے »

 

ملک کا پانچواں حصہ زیر آب اقوام متحدہ کے مطابق ، ملک کی آبادی کا ایک تہائی  حصہ سیلاب سے متاثر ہو چکا ہے ۔

اعداد میں بات کی جائے تو ڈیڑھ سے دو کروڑ پاکستانی اس سیلاب سے براہ راست متاثر ہو چکے ہیں جن میں سے ساٹھ لاکھ کے قریب بچے ہیں۔ اموات کی تعداد تقریبا پندرہ سو، دو ہزار  سے چار ہزار کے قریب  بتائی جا رہی ہے۔

پانچ لاکھ ٹن سے زائد گندم اور دو لاکھ ٹن سے زائد کپاس کی گانٹھیں بہہ گئی ہیں اور مجموعی طور پر اسی فیصد فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔

ایک لاکھ سے زائد مویشی ہلاک ہو کر پانی میں بہہ چکےہیں اور اب ان کی وجہ سے تعفن اور بیماریاں پھیل رہی ہیں جس میں خصوصی طور پر سانس کی ، ہیضی کی اور جلد کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

اس تمام قیامت خیز ہنگامے اور طوفان میں اگر خاموشی ہے تو بین الاقوامی اداروں کے طرف سے امداد کی جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے اور گذشتہ قدرتی آفات کے مقابلے میں انتہائی کم۔

 

اس سے پہلے پاکستان میں زلزلے کے دوران تقریبا 247 ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا گیا تھا

میانمیر برما میں تقریبا 110 ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ ہوا تھا

ہیٹی میں تقریبا 742 ملین ڈالر

اور اس دفعہ سیلاب کے لیے  45 ملین ڈالر سے بھی کم اور صرف پانچ ممالک کی امداد پانچ ملین ڈالر سے زائد ہے جس میں امریکہ ، آسٹریلیا ، اٹلی ، یوکے اور کویت شامل ہیں۔  اقوام متحدہ کی طرف سے ہنگامی امداد کے 450 ملین ڈالر کی اپیل کی گئی ہے جس کے نیتجے میں امداد کے وعدے بڑھ کر 150 ملین ڈالر تک پہنچی ہے جس میں جانےکتنی حقیقی طور پر پاکستان پہنچے گی کیونکہ ماضی میں بھی امداد کے وعدے تو کافی ہو جاتے ہیں مگر امداد کم ہی پہنچتی ہے۔

 

زلزلے کے مقابلے میں اس دفعہ ملک میں اور بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے بھی امداد بہت ہی کم ہے اور لوگ شش و پنج میں مبتلا ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں۔ جن میں سے ایک بڑی وجہ تو یہ ہےکہ زلزلے میں بہت زیادہ اموات ہو گئی تھیں اور میڈیا نے اس پر بہت بروقت اور تیزی سے کام کیا تھا جس سے اس سانحے کی سنگینی بہت جلد واضح ہو گئی تھی۔ دوسرا وہ سانحہ ایک مخصوص علاقہ میں تھا جس پر تمام ملک کی توجہ مرکوز ہو گئی تھی اور بیرون ملک پاکستانی تک بھی بڑے موثر انداز میں امداد کی اپیل کی گئی تھی اور انہیں متحرک کیا گیا تھا۔ تیسرا لوگوں کی معاشی حالت بہتر تھی اور ان میں مدد کرنے کی سکت بھی  آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی ۔ چوتھی اور سب سے اہم وجہ لوگوں کی بد اعتمادی اتنی ہمہ گیر اور بے حسی کی حد تک بڑھی ہوئی نہیں تھی جیسی کہ اس دفعہ ہے۔

اس بے حسی کو دیکھ کر جی بہت کڑھ رہا تھا مگر چند دنوں سے اس میں تبدیلی نظر آنا شروع ہوئی جس میں ایک اچھی خبر عبدالستار ایدھی کا متحرک ہونا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ دو کروڑ سے متاثرین کی امداد کی ہے اور مزید چھ کروڑ سے آئندہ چند روز میں مدد کی جائے گی۔ اس کے علاوہ شہزاد رائے ، فخر عالم بھی ٹی وی پر نظر آ رہے ہیں اور وہ امدادی کاروائیوں میں اپنے ماضی کی طرح سرگرم ہیں۔ فخر عالم کے مطابق پی آئی اے نے ملک اور بیرون ملک سے مفت کارگو کی سہولت فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔ اس کے علاوہ مشہور صحافی اور ٹی اینکر کاشف عباسی اور طلعت حسین نےملک کر ایک سیلاب زدگان کی مدد کے لیے ایک ریلیف اکاؤنٹ قائم کیا ہے جہاں پیسے جمع کروائے جا سکتے ہیں ملک اور بیرون سے۔ یہ اکاؤنٹ شفاف ہوگا اور اس کی شفافیت کے لیے ایک ویب سائٹ بھی بنائی جائے گی جہاں سے رقوم کی ترسیل اور ان کی فراہمی کو دیکھا جا سکے گا۔ یہ اکاؤنٹ اس لیے قائم کیا گیا ہے تاکہ جو لوگ اعتماد کے فقدان کا شکار ہیں وہ اس میں پیسےجمع کروا سکیں تاکہ لوگوں کی مدد جاری رہ سکے۔ تفصیلات کچھ یوں ہیں

 

Account Details for Flood Relief
Title of Account: Syed Talat Hussain/ Kashif Abbasi
Account No: 0516616341000689
Bank: Muslim Commercial Bank
Branch: Stock Exchange Branch, Blue Area, Islamabad
Branch Code: 1390
Swift Code: MUCBPKKAA

اس کے علاوہ مندرجہ بالا فون پر کال کرکے معلومات حاصل کی جا سکتی ہے

 

Tel: +92-51-111010010

اور نیچے دیے گئے کاشف عباسی اور طلعت حسین کے نمبروں پر ایس ایم ایس کرکے رقوم عطیہ کی جا سکتی ہیں۔

 

SMS: +92-347-5023842, +92-301–54735

 

اس کے علاوہ عمران خان کو بھی میں نے جاوید چودھری کے پروگرام میں کہتے سنا ہے کہ اس نے چند لاکھ ڈالر سیلاب زدگان کے لیے اکٹھا کیے ہیں اور مزید کے لیے وہ اپنی ٹیم کے ساتھ کوشش کریں گے۔ ان میں سے جس پر بھی اعتماد ہو اس ادارے یا شخص کو جتنی توفیق ہو اتنی مدد ضرور کرنی چاہے اور خود نہ زیادہ کر سکیں تو اس کے لیے دوسروں کو متحرک کریں یا مل کر کوشش کریں۔

 

مکمل تحرير پڑھيے »

ہیٹی (Haiti)میں ایک قیامت برپا ہے، انتہائی خوفناک زلزلے کے بعد اور ایک انتہائی غریب ملک اس وقت گلوبل وارمنگ کا نشانہ بن گیا ہے ، وہی گلوبل وارمنگ جس سے نظریں چرا کر ہم سب اپنی اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں جو ہر سال ہزاروں لوگوں کی ہلاکتوں کا سبب بن رہا ہے، سونامی ہو ، کٹرینہ ہو ، پاکستان کا زلزلہ ہو یا اب تازہ ترین ہیٹی کا زلزلہ ہو۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں یہ تباہی اور بربریت کا مظاہرہ کر رہا ہے اور انسانوں کو کرہ ارض کو تباہ کرنے سے روکنے سے خبردار کرنے کی کوشش کر رہا ہے مگر انسان اب تک غافل ہے اور غافل ہی رہنا چاہتا ہے۔

پچھلے سال گلوبل وارمنگ پر ہونے والی کانفرنس بے نتیجہ رہی اور سوائِے وعدے وعید کے کچھ خاص کام نہ ہوا کیونکہ دنیا پر قابض ضمیر اور انسانیت سے عاری سرمایہ داروں کا گروہ پیسوں کے لیے سب کچھ کرنے کو ہمہ وقت تیار ہے پر انسانیت کے لیے کچھ بھی کرنے کا سوچ کر ہی انہیں موت محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق تقریبا ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگ اس جان لیوا زلزلے میں زندگیاں گنوا بیٹھے ہیں اور تیس لاکھ سے زائد لوگ اپنے گھر بار گنوا بیٹھے ہیں اور انہیں مدد کی سخت ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ہیلپنگ ہینڈز یو ایس اے  (Helping Hand USA) مدد کے لیے اپیل بھی کر رہی ہے اور مدد کے لیے شہرت بھی رکھتی ہے۔ ویب سائٹ ایڈریس اور نمبر مندرجہ ذیل ہیں

 

www.hhrd.org

1-888-808-4357

 

جس قدر ہو سکے اور جتنی استطاعت ہے ہیٹی کے زلزلہ زدگان کی مدد کرنی چاہیے

مکمل تحرير پڑھيے »

9 visitors online now
9 guests, 0 members
Max visitors today: 9 at 07:07 pm MST
This month: 9 at 09-02-2010 07:07 pm MST
This year: 20 at 08-31-2010 03:14 am MST
All time: 20 at 08-31-2010 03:14 am MST

محب اور محبت is using WP-Gravatar