آر ايس ايس فيڈ

محفوظات برائے 'فلسفہ' زمرہ

کچھ لوگ ہیں جو اس ملک کو برا کہہ کر ہی سکون پاتے ہیں ۔ ایسے لوگ صرف پاکستان میں ہی پائے جاتے ہیں۔ دنیا کی کوئی قوم بھی ایسی نہیں ہے جو ایسے لوگوں کو اپنے درمیان پائے اور انہیں برداشت کرتی رہے۔ جنہیں اس قوم پر غصہ آتا ہے ، ان کا احترام کرو ، ان کے سامنے محبت اور عقیدت سے گردنیں جھکاؤ مگر جو برائی کرنا اور پاکستان کی تحریک  کو طعنے دینا چاہتے ہیں ، انہیں نمک حرام اور غدار جانو کہ بروں کو برا کہنا اور سمجھنا بھی نیکی ہے۔   ( جون ایلیا )  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مکمل تحرير پڑھيے »

ٹائم میگزین کی کہانی

 

ٹائم (20 مارچ 1989 ) کی کور کہانی ڈی این اے (DNA) کے بارے میں تھی جس کا عنوان تھا ۔ وراثتی رازوں کا حل کرنے کی کوشش۔

 

Solving the mysteries of heredity

 

 

مضمون سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈی این اے کے بارے میں تحقیقات ہوئ ہیں وہ ارتقائے حیات کے قدیم تصور سے مطابق نہیں رکھتیں۔ اس مضمون کے بارے میں کچھ خطوط ٹائم (10 اپریل 1989 ) میں شائع ہوئے۔ ٹائم کے ایک قاری مسٹر بیورلی کرو ( Beverely Chorro ) نے اپنے خط میں لکھا کہ جو شخص ان مضامین کو پڑھے اور اب بھی اس کی یہ خواہش ہو کہ وہ تخلیق کا کریڈٹ خدا کی بجائے ارتقاء کو دینا چاہے تو یا تو وہ بے عقل ہے یا اتنا زیادہ مغرور ہے کہ اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرنا چاہتا ؛

 

Whoever reads these articles and still has the gall to credit evolution rather than God, for our remarkable DNA is an idiot or too proud to admit he is wrong. ( 1989-90)

 

 

مولانا وحید الدین خان کی “ ڈائری “ سے انتخاب

مکمل تحرير پڑھيے »