آر ايس ايس فيڈ

محفوظات برائے 'طنز و مزاح' زمرہ

فیضو اور گلابو خطوط
۔۔۔۔پہلا  خط
دوسرا خط
تیسرا خط

فیضو کا خط گلابو کے دوسرے خط کے جواب میں

وعلیکم آداب ،

خط ملتے ہی حسین خیال آیا نہ ، گملے کا خیال شاید تمہیں پھول کو سجا کر رکھنے کے لیے آیا ہوگا فکر نہ کرو صرف پھول ہی مارنا گملے بہت ہیں میرے پاس۔ اب سچا عاشق بننے کے لیے تم سے تربیت لینے پڑے گی کیا مجھے  ، عشق کا کوئی مکتب کھولنے کا ارادہ تو نہیں ؟ ویسے تم نے سنا نہیں شاید کہ عشق آتا ہے آتے آتے اور عاشقوں کے ایک نہایت باریک بین تجزیہ نگار کہہ گئے ہیں

کھیلنے دو انہیں عشق کی بازی کھیلیں گے تو سیکھیں گے

اب مجنوں و فرہاد کے لیے کھولیں ہم اسکول کیا

ویسے تم نے عاشقوں کی کوئی فہرست بنا رکھی ہے کیا جس میں سچے ، جھوٹے ، کچے پکے عاشقوں کے زمرے بناتی رہتی ہو۔ میں تو تمہیں معصوم و سادہ سمجھ کر مائل ہو گیا اور تم نے عشق کو بھی جھوٹ سچ کے ترازو میں ناپنا شروع کر دیا ستم گر۔ طبعیت تمہاری ناساز تھی تو پیار سے بتاتی میں حال احوال میں ہی سارا خط لکھ ڈالتا مگر تم نے تو آہ و زاریوں کے ساتھ قیامت کا رونا شروع کر دیا ، لے کر بیٹھ گئیں پھر سے اپنی اماں کے رونے اور دن میں تارے۔  میں جو ہفتہ بھر سے دل کے ارمانوں کو خط میں سمو کر تمہارے آنگن تک جان پر کھیل کر پہنچا کر گیا تھا تمہارا جواب پڑھ کر دل کلس کر رہ گیا ، کیا کیا نہ سوچا تھا دلِ خوش امید نے ،

میرے خط کے انتظار میں راہ تکتی ہوگی ، پہروں میرے خیال میں ڈوبی رہتی ہوگی ، رات کو کسی پل نیند نہ آتی ہوگی ، کروٹیں بدل بدل خود ہی تھک جاتی ہوگی۔ ہر صبح میرے خیال سے آنکھ کھلتی ہوگی ، ہر رات میرے ہی سپنے دیکھتی ہوگی ، ہر پہر مجھے ہی سوچتی ہوگی ، سکھیوں سے میری ہی باتیں کرتی ہوگی ، سوچ کر مجھے خود ہی شرما جاتی ہوگی ، گلابی آنچل دانتوں میں دبا کر میرے خیالوں میں کھو جایا کرتی ہوگی۔ پر تم نے سوچا تو گھر کو کاموں کا ،سودا سلف کا اور تحفوں کا ، کتنی خود غرض اور تحفہ پرست ہو تم۔

خط پھینک کر کیا تمہارے گھر کے سامنے برگد کا پیڑ بن کر کھڑا ہو جاتا ، تمہارے ابا کے ہاتھ لگ جاتا تو برگ و گل بھی جھڑ جاتے اور اب تک کے عشق کا ثمر بھی ملتا ، انتہائی میٹھا اور ڈھیر سارا۔

آئے ہائے لگتا ہے اماں اٹھ گئی ہیں ، خط یہیں ختم کر رہا ہوں ورنہ ان کے ہاتھ لگ گیا تو یہ نو عمر عاشق رہے گا  نہ عشق (جھوٹ سچ کا تو سوال ہی کیا) فقط عشق کے آثار رہ جائیں گے۔

تمہارا  اپنا

فیضو

مکمل تحرير پڑھيے »

گلابو اور فیضو کے خطوط کے سلسلے میں پہلا خط آپ نے پچھلی پوسٹ میں پڑھا اب دوسرا خط پیش خدمت ہے۔

 

کیا زمانہ آ گیا کہ خط کا ملنا قیامت ٹھہرا اور طبیعت ناساز سے آہ و فریاد بن گئی۔ پہلے خط آنے پر بہار چھا جایا کرتی تھی جلترنگ سے بجنے لگتے تھے ، ہوائیں گنگنانے لگتی تھیں اور طبیعت پر نکھار آ جایا کرتا تھا اور اب قیامت ، ساری نا شکری کی باتیں ہیں ، گھر بیٹھے خط جو مل جاتے ہیں خود لکھ کر اس طرح پھینکنے پڑیں تو قدر بھی ہو۔ خط کے ساتھ چھوٹا پتھر باندھا کروں ، کیا خط لکھوانے کے ساتھ ساتھ پتھر مارنے کا کام بھی مجھ سے لیا کرو گی۔ گھر والوں سے نہیں بنتی تو یہ غضب تو نہ ڈھاؤ ، کچھ تو خیال کرو ان کا آخر تمہارے گھر والے ہیں ، میں اتنا خیال رکھتا ہوں کہ صرف آدھ پاؤ کے ٹماٹر میں لپیٹ کر خط پھینکتا ہوں اس پر بھی تمہاری اماں کا واویلا آدھا شہر سنتا ہے۔ ویسے تمہیں دن میں تارے نظر آنے بھی چاہیے رات بھر جو تارے گنواتی رہتی ہو مجھے۔

شاعری سمجھنے کی کوشش نہ کیا کرو بس پڑھا کرو ، سمجھ لی تو خود بھی لکھنے لگو گی اور پھر تمہارے لکھے کو کون پڑھے گا ، خط سنبھالنے کے لیے نہیں پڑھنے کے لیے بھیجتا ہوں اور حرکتیں تمہارے گھر سے باہر ہوتی ہیں تم ان سے آنکھیں بند رکھا کرو اور جتنی معصوم تمہاری جان ہے وہ میں جانتا ہوں یا تمہاری اماں۔

غزل تو خط کو سجانے کے لیے بھیجتا ہوں اور تحفے کی خوب کہی ، ابھی پچھلے ماہ ہی تو نقلی چاندی کی قیمتی انگوٹھی بھیجی تھی تمہیں۔ اب میں نواب تو ہوں نہیں کہ ہر خط کے ساتھ ایک عدد جڑاؤ ہار بھی بھیجا کروں اور بالفرض نواب ہوتا تو پھر ان عشق کے بکھیڑوں میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا تھی ، اب میں تو خدا لگتی کہتا ہوں چاہے کسی کے دل پر جا کر لگے۔

انار کلی میں گھومتا ہوں مگر انار اور کلی دونوں سے دور دور ہی رہتا ہوں گو کھینچتے دونوں ہیں مگر تمہارا خیال ہے وگرنہ کب کا اکیلا پن ختم ہو چکا ہوتا۔ دھمکیاں مت دو غزلوں اور ابا کی اور دینی ہے تو ایک ایک کرکے دو ، اکھٹی دونوں تو نہ دو ویسے غزل میں نے وزن میں لکھی تھی اس لیے تمہارے ابا نہیں مانیں گے کہ میری ہے اور تمہارے لیے تو قطعا نہیں مانیں گے جتنے استعارے اور تشبہیات اس غزل میں ہیں اس کے بعد کسی کا خیال کسی الپسرا سے کم پر نہیں ٹھہرے گا، بھولے سے بھی تمہارا خیال نہیں آئے گا انہیں ، اک عمر گزری ہے ان کی اس دشت میں ، سمجھ جائیں گے کہ کسی نے کسی کو فردوسِ بریں دکھائی ہے۔

بھولے سے خط کا جواب دیتی ہو اور پھر یہ تاکید کہ میں جواب کا اصرار بھی نہ کروں ، منشی لگ جاتا کہیں تو تم خود پہروں بیٹھ کر خط لکھا کرتی مجھے ، تمہاری طبیعت سے اتنی واقفیت تو مجھے بھی ہے ۔

اجازت کی کتنی جلدی ہے اور جیسے سب کام میری اجازت سے کرتی ہو ، نئی رپورٹ سے پہلے ذرا اپنے گھر کی رپورٹ لکھ بھیجنا اور ہاں خط کے لیے کسی قاصد کا بندوبست کرلو اب مجھے سے ہر بار خط پھینکا نہیں جاتا۔

مکمل تحرير پڑھيے »

یہ خطوط  اردو ویب محفل پر میرے اور حجاب کے درمیان ایک دھاگے میں لکھے گئے تھے جو خاصہ مشہور ہوا تھا مگر اس میں اور بھی بہت سے لوگوں کے خطوط تھے ۔ حجاب سے مشورے کے بعد فیصلہ کیا ہے اسے بلاگ پر باری باری شائع کیا جائے۔ خطوط میں گلابو حجاب ہے اور فیضو محب۔  اس دھاگے میں دو خط میں نے خود کلامی کے انداز میں لکھے تھے جن کا موضوع سخن کسی کی طرف نہیں تھا اس لیے وہ اتنے دلچسپ بھی ثابت نہیں ہوئے۔  حجاب نے ایک خط کو فرض کرتے ہوئے پہلا خط لکھا جس سے یہ دلچسپ سلسلہ شروع ہوا۔

پہلا خط گلابو کا فیضو کے نام

تمہارا  خط  اب کی بار کیا ملا سمجھو قیامت آ گئی طبیعت پہلے ہی ناساز تھی اب ساز و آواز بن گئی، تم خط پھینکتے ہوئے خط کے ساتھ چھوٹا سا پتھر باندھا کرو اس بار تمہارا خط امّاں کے سر پر لگا وہ تو شُکر تھا کہ امّاں اپنی چیخ و پکار میں یہ بھول گئیں کہ کیا چیز لگی ہے سر پر ورنہ دن میں تارے نظر آ جاتے مجھے

میں تمہاری شاعری سمجھنے کی کوشش کروں ، تمہارے خط سنبھالوں یا تمہاری حرکتوں پر پردے ڈالوں ایک ننھی سی معصوم میری جان اور اُس پر اتنے ظلم

اور غزل ہی بھیجنا تم کبھی تحفے بھی بھیج دیا کرو ایسے تو کافی خبریں ملتی ہیں اڑتی اڑتی انار کلی میں گھوم رہے ہوتے ہو وہ تو شکر کرو اکیلے ہوتے ہو اس لیئے کبھی پوچھا نہیں اور یاد رکھو آئندہ بھی اکیلے گھومنا ورنہ وہ غزل ابّا کو بھجواؤں گی تمہارے جو تم نے مجھے لکھی ہے پھر تم پر دیوان لکھیں گے ابّا تمہارے

اور ہاں یہ تمہارے خط لکھنے کا شوق اور اُس سے زیادہ جواب مانگنے کا شوق کچھ زیادہ نہیں ہو گیا کہیں منشی لگنے کا ارادہ تو نہیں رکھتے اگر ایسا ہے تو ذرا قلم کو قابو میں رکھنا میں تمہارے مزاج سے خوب واقف ہوں

اچھا اب اجازت دو تمہاری نئی رپورٹ ملے گی تو خط لکھوں گی۔

مکمل تحرير پڑھيے »

Flight over Manhattan, New York City
Image by meironke via Flickr

چوٹی کے بلاگران نے وسط نیویارک ( New York) المعروف مین ہیٹن (Manhattan)  میں عہد ساز مجلس برپا کر کے اردو بلاگنگ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے جس کی رقم البتہ ابھی اہل مجلس کے تخیل سے باہر نہیں آ سکی ہے
چوٹی کے بلاگران کی حد درجہ تاخیری عید ملن پارٹی و مجلس اردو بلاگنگ مستقبلیات  اختتام کو پہنچی جس میں چوٹی کے تین بلاگر اور دو بلا چوٹی بلاگران نے حصہ لیا۔ ایک چوٹی کے بلاگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر شامل نہ ہو سکے بلکہ تلاش و بسیار کے باوجود ان کا سراغ نہ لگایا جا سکا ۔ اس پوسٹ کے توسط سے ان کے سرچ وارنٹ جاری کیے جاتے ہیں ، جس شخص کو جہاں ملے وہیں چوٹی سے پکڑ لے۔
بیشتر کاروائی ریکارڈ کی گئی ہے جس کی محتاط ایڈیٹنگ جاری ہے اور تمام کام کی باتیں حذف کرکے اسے مفاد عامہ کے لیے پیش کر دیا جائے گا

Enhanced by Zemanta

مکمل تحرير پڑھيے »

نغمہ و شعر کی سوغات کسے پیش کروں
یہ چھلکتے ہوئے جذبات کسے پیش کروں

یہ گانا میں نے پہلی دفعہ فرزانہ نیناں کی فیس بک پر پیش کردہ ویڈیوز شعر و نغمہ میں سنا اور پہلا شعر ہی اتنا اچھا لگا کہ میں نے سوچا کہ اسے ڈھونڈ کر سننا چاہیے اور جب  ڈھونڈ کر سنا تو واقعی بے حد لطف آیا۔ فرزانہ کا اپنا پروگرام نغمہ و شعر بھی بہت خوب اور فیس بک پر اس کی بہت سی ویڈیوز میسر ہیں جن میں کمال درجہ کے گرافکس ہیں اور پس منظر میں فرزانہ کی خوبصورت آواز اور گانوں کا عمدہ انتخاب۔ یوکے میں رہنے والوں کی تو آسانی ہے کہ وہ براہ راست سن سکتے ہیں البتہ یوکے سے باہر رہنے والوں کے لیے ویڈیوز اور پوڈ کاسٹ کی سہولت پیش کی گئی ہے جس سے یو کے سے بارہ رہنے والے لطف اندوز ہ ہو سکتے ہیں۔ نغمہ و شعر کی پاڈ کاسٹ کا لنک یہ ہے

نغمہ و شعر پاڈ کاسٹ ( Podcast)

اس لنک (نغمہ و شعر ٨ پارٹ ١) پر جو پروگرام کیا ہے فرازنہ نے وہ بہت عمدہ ہے اور اس میں سے ایک اقتباس لکھ رہا ہوں جسے پڑھ کر اندازہ ہوگا کہ کتنا خوبصورت پروگرام ہے۔

لگتا تھا جیسے اندر سے وہ لڑکی بھی اس کے دوست کا انتظار کر رہی ہے۔ ڈرائنگ روم سے نکل کر جب وہ بیڈ روم کے سامنے سے گزرے تو سامنے پلنگ کے قریب رکھے جوتے دیکھ کر لڑکی نے پوچھا یہ تمہارے دوست کے جوتے ہیں اور پھر اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر کہنے لگی
لگتا ہے یہ کسی بے سفر آدمی کے جوتے ہیں۔
نہیں نہیں اس نے جلدی سے وضاحت کی وہ بے سفر نہیں بلکہ میں اسے اکثر کہتا ہوں  تمہارے پاؤں میں  چکر ہے  وہ بہت زیادہ سفر  کرتا ہے ۔
دیکھو نہ آج بھی وہ سفر سے واپس آ رہا ہے۔
لڑکی نے اس کی بات ان سنی کرکے وارڈ روب کی جانب رخ کیا اور اسے کھول کر تھوڑا سا پیچھے ہٹی اور بولی
اس کے کپڑوں کا رنگ دیکھ کر تو لگتا ہے جیسے  وہ بے محبت آدمی ہے۔
پتہ نہیں بے محبت سے تمہاری کیا مراد ہے
اگر تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ اس سے کبھی کسی نے محبت نہیں کی تو یہ درست ہے مگر خود وہ  بے حد محبت کرنے والا ہے
کبھی کبھی میں اس سے کہا کرتا ہوں کہ تم گاؤں کی اس عورت کی طرح ہو جو کئی سالوں سے دل کی چاٹی میں وہی رڑک رہی ہے
مگر مکھن کی ایک پھٹکی بھی نہیں نکلی
مگر میری بات سن کر وہ ہمیشہ ہنس پڑتا ہے اس وقت اس کی ہنسی سے کچے دودھ کی مہک آتی ہے
وہ ابھی تک پیار کی ڈولی میں نہیں بیٹھا
وہ ایسی بات ہے جو ابھی تک بیاہی نہیں گئی
لڑکی اس کی قمیض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی
میں نے سنا ہے ایسی شکنیں عام طور پر ہٹ دھرم لوگوں کی قمیضوں پر ہوتی ہیں
ہو سکتا ہے وہ ہٹ دھرم ہی ہو
مگر اس کی قمیض پر جو شکنیں تمہیں نظر آ رہی ہیں وہ اداسی کی ہیں
اس کی زندگی بھی اس کی قمیض کی طرح شکنوں سے بھری ہوئی  ہے
جب بھی کوئی لڑکی اس سے ملتی ہے اس کی زندگی پر ایک نئی شکن ڈال دیتی ہے
وہ ایک ایسی کشتی کی طرح ہے جس کے بادبان میں نے کئی لڑکیوں کی آنکھوں میں کھلے دیکھے ہیں
مگر پانی کی لہریں جنہیں تم شکنیں کہہ سکتے ہو اسے دکھیل کر لڑکیوں سے دور لے جاتی ہیں
وہ بہت زیادہ انا پرست ہے اپنے آپ کو سزا دیتا رہتا ہے میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں
ہم دونوں بچپن سے پڑھتے اور کھیلتے رہے ہیں۔
آج میں نے اس کی سالگرہ منانے کا پروگرام اسی لیے بنایا ہے اور تمہیں بھی اسی لیے بلایا ہے کہ شاید ہم دونوں مل کر اس کی شکنوں سے بھری زندگی پر سے ایک ہی شکن کم کر سکیں

ویسے نغمہ و شعر والا گانا تو رہ ہی گیا ، اچھا اگلی پوسٹ میں اسے پیش کرتا ہوں.

Powered by ScribeFire.

Enhanced by Zemanta

مکمل تحرير پڑھيے »

ساس بہو کا جھگڑا جب ویمن تھانے میں آیا ہے

تفتیشی افسر نے بس دو فقروں میں نمٹایا ہے


اللہ ایسی نائس میچنگ تم نے کس سے سیکھی ہے؟

اللہ! یہ جوڑا تم نے کس ٹیلر سے سلوایا ہے؟

Powered by ScribeFire.

مکمل تحرير پڑھيے »

حیرت ہے اردو بلاگران نے بش کے جوتے پر کوئی بلاگ نہیں لکھا یا شاید میری نظر سے نہیں گزرا حالانکہ ایسا تاریخی واقعہ میری نظر سے تو کم از کم نہیں گزرا اگر کسی کی نظر سے گزرا ہو تو مجھے ضرور مطلع کرے۔ سب سے پہلے تو اس دلچسپ واقعہ کی ویڈیو ملاحظہ کر لیں کیونکہ اس کے بغیر گفتگو کا لطف ادھورا رہے گا۔

 

اس کے علاوہ یوٹیوب پر جا کر شو اٹیک ٹائپ کریں اور بے شمار ویڈیو بمع ری مکس کے ملاحظہ کریں اور بش کے الوداعی عراقی دورے کا آنکھوں دیکھا عبرت ناک حال دیکھیں۔ جیو نے اس پر ایک کارٹون شو منتر بنایا ہے جس میں نور المالکی کی جگہ مشرف ہے اور کہتا ہے کہ

 

کوئی جوتے سے نہ مارے مرے دیوانے کو

 

بش پر جوتے برسانے والے البغدادیہ ٹی وی کے عراقی صحافی کا نام منتظر الزیدی ہے جسے عرب دنیا میں نئے ہیرو اور مجاہد کا درجہ دیا جا رہا ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ منتظر نے ہزار خودکش حملہ آوروں سے بڑھ کر کام کیا ہے اور عراقی عوام کی نفرت اور غصہ کی ترجمانی کی ہے۔ جوتا پھینکنے سے پہلے منتظر نے کیمرہ مین سے کہا تھا کہ غلامی کی زندگی سے شہادت کی موت کہیں بہتر ہے۔ صدر بش پر اپنا جوتا پھینکتے ہوئےکہا:

’ کتے، عراقی عوام کی جانب سے الوداع۔‘

بش نے کمال مہارت سے جھک کر خود کو جوتا لگنے سے بچا لیا مگر منتظر نے بھی دوسرا جوتا تیار رکھا ہوا تھا اور عرب بلاغت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے  دوسرا جوتا بش کی طرف پھینکا اور کہا 

’یہ عراقی بیواؤں، یتیموں اور عراق کے تمام ہلاک شدگان کی طرف سے ہے۔‘

شومئی قسمت کہ دوسرا جوتا بھی بش کو نہیں لگا گو کہ دوسری دفعہ بش جھکا نہیں، شاید اسی دن کے لیے بش  نے بیس بال سیکھی تھی۔ دوسری دفعہ بش نے ہاتھ آگے کیا اور نور المالکی نے بھی بے دلی سے ایک ہاتھ آگے کرکے جوتا روکنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد سیکورٹی گارڈز نے صحافی کو قبضہ میں لے لیا اور تا حال کسی سے ملنے نہیں دیا اور متضاد خبروں کے مطابق صحافی کی پسلیاں اور ہاتھ کی ہڈی توڑی گئی ہے۔ عراقی انتظامیہ کے مطابق صحافی بالکل ٹھیک  ہے اور اس کا مقدمہ عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔

بش کی ڈھٹائی دیکھیے کہ اس واقعہ کے فورا بعد فرمایا

 

’میں اتنا بتا سکتا ہوں کہ جوتے کا سائز دس تھا۔‘

واقعی دس نمبری جوتا ہی ہوگا جو دو کوششوں میں بھی نہیں لگا۔

سی این این ، ایم ایس این بی سی اور دوسرے کئی ممتاز امریکی نیوز چینلز نے بھی اس واقعہ کو خصوصی کوریج دی اور بار بار جوتا پھینکے جانے کا کلپ دکھایا۔ سی این این کی سائٹ پر اس لنک میں چند ویڈیوز ہیں جن میں بش کا انٹر ویو ہے اور جوتا پھینکے جانے کے متعلق چند سوالات بھی جن میں بش نے کہا کہ میرے پاس زیادہ وقت نہیں تھا کسی بھی چیز پر رد عمل کے لیے میں جھک کر جوتے کو جھانسہ دے رہا تھا۔ بش کا یہ بھی کہنا تھا کہ انتظامیہ کو بہت زیادہ رد عمل نہیں دکھانا چاہیے اور یہ میری صدارت  کا عجیب ترین واقعہ ہے ساتھ ہی اسے بھی اپنا کارنامہ بتایا اور مزید کہا کہ آزاد معاشرہ جنم لے رہا ہے اور آزاد معاشرہ ہماری سیکوریٹی اور امن کے لیے ضروری ہے۔ ایک بہت ہی دلچسپ ویڈیو اسی لنک پر ہے جس میں امریکہ میں اس واقعہ کے بارے میں لوگوں کے تاثرات ہیں اور ساتھ کچھ ویڈیو کاریگری بھی ہے۔ ویڈیو کا نام ہے

shoe-icide attack  ویڈیو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

ونیزویلا کے صدر ہیوگو شاویز نے منتظر کو بہادر شخص قرار دیا ہے اور یہ کہتے ہوئے ہنسی چھپائے نہیں چھپتی تھی۔ سعودی عرب کے ایک باشندے نے جوتے کی قیمت ایک کروڑ ڈالر رکھی ہے۔ تحریک انصاف نے بھی دس لاکھ کی بولی دی ہے۔بش کی صدارت پر بہت تبصرے اور تجزیے ہوں گے مگر جو مکمل اور بھرپور تجزیہ اور تبصرہ منتظر الزیدی نے جوتوں کی شکل میں کر دیا ہے وہ شاید کوئی اور نہ کرسکے۔

جاتے جاتے بش کو اپنی صدارت پر مکمل اور جاندار تاثرات مل گئے ہیں دو جوتوں کی شکل میں جسے پوری دنیا میں سراہا گیا ہے کہ بش اسی لائق تھا۔

مکمل تحرير پڑھيے »

بڑے دنوں سے سوچ رہا تھا کہ اس اہم اور حساس موضوع پر لکھا جائے  مگر یہ سوچ کر رک جاتا تھا کہ شاید قوم ابھی اس کے لیے تیار نہیں ہے  مگر الیکشن میں قوم نے جتنی بالغ نظری کا ثبوت دیا ہے اس کے بعد میں امید کرتا ہوں کہ عوام اب مسائل کو  سمجھنے اور سچائی تک پہنچنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں اور پیچیدہ مسائل کے لیے اگر انہیں تحقیق کی بھی ضرورت پڑے تو اس سے چنداں نہ گھبرائیں گے۔ فلرٹ اور فلرٹنگ پر عموما نجی محفلوں اور چیٹ پر یا ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں تو بات ہوتی رہتی ہے مگر اسے صحیح معنوں میں سمجھنے اور اس پر تحقیق کی ضرورت کم ہی کسی نے محسوس کی ہے۔ میں نے سوچا بھڑوں کے اس چھتے میں ہاتھ ڈال کر دیکھا جائے اور اس کے لغوی اور اصطلاحی مفہوم کو تاریخی پس منظر کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس سلسلے میں میں چند پوسٹس کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں جو کچھ سنجیدہ اور کچھ مزاح کا رنگ لیے ہوئے ہوں گی تاکہ نہ تو اسے پڑھ کر لوگ بے زار ہوں اور نہ اس سے خوفزدہ ہوں بلکہ اپنے مشاہدات ، محسوسات اور تجربات سے اسے سمجھ اور سمجھا سکیں۔  اس سلسلے میں آپ لوگوں کی آرا اور تبصروں کی روشنی میں پہلی پوسٹ کروں گا اور اس کے بعد دو تین پوسٹس اس سلسلے میں چلیں گی جس سے اس موضوع پر گپ شپ اور تبادلہ خیال ممکن ہو سکے گا جس کی خواہش کئی پردہ نشینوں اور گمنام مجاہدین  کو ہے۔ اگر یہ سلسلہ مبلغین ، ناصحین اور ناقدین کی تاب لا کر بھی نہ رکا تو آخر میں اسے اقبال کی شاعری کی روشنی میں بھی دیکھا جائے جس پر اب تک کوئی تحقیق نہیں ہوئی۔ اقبال کا صرف یہ مصرعہ ہی اس پورے موضوع پر دلیل قاطع ہے جسے لوگ کوزہ میں دریا بند کرنا کہتے ہیں۔ ستاروں کو نوجوانوں کی بلند ہمتی سے جوڑ کر جس طرح کمند کا عمدہ استعمال کیا ہے وہ اردو شاعری کی تاریخ میں نہ اقبال سے پہلے کہیں ملتا ہے نہ بعد میں اور نہ ہی کوئی اب ایسا بلیغ استعمال کر سکے گا۔ مزید تبصرہ پھر سہی ابھی شعر ملاحظہ فرمائیں

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے            ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں یہ آرٹ تھا اب خیر سے سائنس بن گئی ہے ۔

مکمل تحرير پڑھيے »

ہے! یہ قتل جس میں کوئی ملزم نہ وکیل
نہ عدالت، نہ وکالت، نہ ضمانت، نہ اپیل

Click to continue reading “گدھے کا قتل”

مکمل تحرير پڑھيے »

پاکستان میں حکومت کیا چاہتی ہے ، یہ ایک علیحدہ بات ہے۔ پاکستانی عوام یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے انگریزی بولنے کے قابل ہو جائیں۔ یہ صرف اس لیے نہیں کہ انگریزی ایک بین الاقوامی زبان ہے اور اعلا تعلیم کے لیے باہر جانے والوں کے لیے انگریزی جاننا ناگزیر ہے بلکہ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ملک میں انگریزی جانے بغیر ترقی نہیں ہوسکتی۔ یہ اعلا سماجی طبقے کی زبان ہے ، جو لوگ انگریزی بولتے ہیں ، ان کی بات پاکستان میں زیادہ سنی جاتی ہے۔

انگریزی بولنے والا شخص خواہ علمی اور ذہنی اعتبار سے احمق ہی کیوں نہ ہو ، انگریزی بولنے کی وجہ سے وہ تعلیم یافتہ اور مہذب تصور کیا جاتا ہے۔ یہ صرف اونچا طبقہ ہی نہیں ہےجو انگریزی کا دلدادہ ہے۔ عام پاکستانی بھی انگریزی کا شیدا ہے۔ لوگ انگریزی بولنے سے خوش ہوتے ہیں۔ لاہور کے پرانے شہر میں بے نظیر بھٹو کا ایک پوسٹر دیکھنے کے لیے میں رک گئی۔ ایک آدمی میرے پاس آیا اور بولا 

مائی ڈاٹر از مسٹر بھٹو   ( مسٹر بھٹو میری بیٹی ہے )  ۔

وہ غلط انگریزی بول رہا تھا لیکن خوش تھا کہ انگریزی میں بات کر رہا ہے

( ایما ڈنکن کی کتاب  "پاکستان کا سیاسی سفر نامہ"   سے اقتباس

مکمل تحرير پڑھيے »

اگلي تحارير »