فیضو اور گلابو کے خطوط ۔۔۔ چوتھا حصہ
زمرہ(جات): خط کتابت، طنز و مزاح | (3) آراء »
فیضو اور گلابو خطوط
۔۔۔۔پہلا خط
دوسرا خط
تیسرا خط
فیضو کا خط گلابو کے دوسرے خط کے جواب میں
وعلیکم آداب ،
خط ملتے ہی حسین خیال آیا نہ ، گملے کا خیال شاید تمہیں پھول کو سجا کر رکھنے کے لیے آیا ہوگا فکر نہ کرو صرف پھول ہی مارنا گملے بہت ہیں میرے پاس۔ اب سچا عاشق بننے کے لیے تم سے تربیت لینے پڑے گی کیا مجھے ، عشق کا کوئی مکتب کھولنے کا ارادہ تو نہیں ؟ ویسے تم نے سنا نہیں شاید کہ عشق آتا ہے آتے آتے اور عاشقوں کے ایک نہایت باریک بین تجزیہ نگار کہہ گئے ہیں
کھیلنے دو انہیں عشق کی بازی کھیلیں گے تو سیکھیں گے
اب مجنوں و فرہاد کے لیے کھولیں ہم اسکول کیا
ویسے تم نے عاشقوں کی کوئی فہرست بنا رکھی ہے کیا جس میں سچے ، جھوٹے ، کچے پکے عاشقوں کے زمرے بناتی رہتی ہو۔ میں تو تمہیں معصوم و سادہ سمجھ کر مائل ہو گیا اور تم نے عشق کو بھی جھوٹ سچ کے ترازو میں ناپنا شروع کر دیا ستم گر۔ طبعیت تمہاری ناساز تھی تو پیار سے بتاتی میں حال احوال میں ہی سارا خط لکھ ڈالتا مگر تم نے تو آہ و زاریوں کے ساتھ قیامت کا رونا شروع کر دیا ، لے کر بیٹھ گئیں پھر سے اپنی اماں کے رونے اور دن میں تارے۔ میں جو ہفتہ بھر سے دل کے ارمانوں کو خط میں سمو کر تمہارے آنگن تک جان پر کھیل کر پہنچا کر گیا تھا تمہارا جواب پڑھ کر دل کلس کر رہ گیا ، کیا کیا نہ سوچا تھا دلِ خوش امید نے ،
میرے خط کے انتظار میں راہ تکتی ہوگی ، پہروں میرے خیال میں ڈوبی رہتی ہوگی ، رات کو کسی پل نیند نہ آتی ہوگی ، کروٹیں بدل بدل خود ہی تھک جاتی ہوگی۔ ہر صبح میرے خیال سے آنکھ کھلتی ہوگی ، ہر رات میرے ہی سپنے دیکھتی ہوگی ، ہر پہر مجھے ہی سوچتی ہوگی ، سکھیوں سے میری ہی باتیں کرتی ہوگی ، سوچ کر مجھے خود ہی شرما جاتی ہوگی ، گلابی آنچل دانتوں میں دبا کر میرے خیالوں میں کھو جایا کرتی ہوگی۔ پر تم نے سوچا تو گھر کو کاموں کا ،سودا سلف کا اور تحفوں کا ، کتنی خود غرض اور تحفہ پرست ہو تم۔
خط پھینک کر کیا تمہارے گھر کے سامنے برگد کا پیڑ بن کر کھڑا ہو جاتا ، تمہارے ابا کے ہاتھ لگ جاتا تو برگ و گل بھی جھڑ جاتے اور اب تک کے عشق کا ثمر بھی ملتا ، انتہائی میٹھا اور ڈھیر سارا۔
آئے ہائے لگتا ہے اماں اٹھ گئی ہیں ، خط یہیں ختم کر رہا ہوں ورنہ ان کے ہاتھ لگ گیا تو یہ نو عمر عاشق رہے گا نہ عشق (جھوٹ سچ کا تو سوال ہی کیا) فقط عشق کے آثار رہ جائیں گے۔
تمہارا اپنا
فیضو


