Realtime hit counterweb stats
آر ايس ايس فيڈ

محفوظات برائے 'طنز و مزاح' زمرہ

فیضو اور گلابو خطوط
۔۔۔۔
پہلا  خط
دوسرا خط
تیسرا خط

چوتھا خط

پانچواں خط

 

 

بے وفا گلابو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے وفا ہی نکلی نہ

اب مجھ سے کاہے بولو اب بولنے کے لیے کوئی اور جو مل گیا تم کو اور گستاخ لڑکی تمہاری زبان کو کیا ہوا ، میری صحبت کا اثر اور لکھنوی زبان کا ذائقہ اتنی جلدی بدل لیا تم نے ۔ کس گنوار کے پلے پڑ گئی ہو تم ؟ اب تمہیں سارے جہان کے چاچے ، مامے اور ماسیاں یاد آنے لگی ہیں میرے جانے کے بعد اور سارا شہر مل کر میرے نکے پنڈ کی خبریں بھی دے رہا ہے تمہیں اور تم کسی ایف ایم ریڈیو کے ریسیور کی طرح ساری خبریں کیچ بھی کر رہی ہو اور بذریعہ خط نشر بھی ۔ گیا تو میں پنڈ ہی تھا جلدی میں مگر تمہارا خیال اپنے پسندیدہ جانور کے محاورے کی طرف ہی گیا حسب معمول ، کام سے گیا تھا ماموں کی فصلوں کی کٹائی کے لیے ۔ میں تو فصلوں کی کٹائی کے لیے گیا تھا کیا خبر تھی تم پیچھے سے میرا ہی پتا کاٹ دوگی ، وائے افسوس ترے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔

پینو سمیت اپنے چاچے ، ماسی ، مامے اور جملہ خاندان کے اول درجے کی پھپھے کٹنی ہے اور اس کی ماسی تو ماسی پھاتاں کے نام سے بچپن سے ہی مشہور ہے ، حیرت ہے تم اتنی انجان اور معصوم ہو تو نہیں مگر اس معاملے میں کیسے ہوگئی۔ خط تمہیں محنت سے نہیں محبت سے لکھتا تھا مگر تمہارے حسابی کتابی ذہن نے میری محبت کو بھی محنت ہی سمجھا اور انعام میں گوبھی کا پھول ، کیا سوچ ہے تمہاری بالکل کسی ہندو بنئے جیسی ، گھر کے آنگن میں کھلے گوبھی کے پھول سے ہی کام چلانے کا سوچ لیا۔ ایک تیر سے کتنے شکار کرنے کا سوچا ہوا تھا تم نے ، گوبھی کے پھول سے مجھے بھی خوش کرنے کا ارادہ تھا اور میری اماں کو بھی ، گوبھی کا پھول نہ ہوا تمناؤں کا پھل ہو گیا جسے پا کر میں اور میرے گھر والے خوشی سے جھوم اٹھتے اور تمہارے وارے نیارے جاتے۔

محبت کی باتیں تمہیں ہمیشہ بہکی بہکی ہی لگیں ، کبھی محبت کی ہوتی تمہیں تو پتہ ہوتا کہ محبت کیا ہوتی ہے اور محبت کی باتیں کیا ۔ میں ہی نادان تھا جو تمہاری اماں کے سودے سلف لا کر ہفتہ بھر کے کاموں کی فہرست سنتا اور سادہ لوحی کی انتہا تو دیکھو کہ تمہارے کہے کام کو بھی محبت کی ایک ادا سمجھتا مگر تمہیں کن سوئیاں لینے ، چغلیاں کھانے اور پینو کی زبانی محلے بھر کے قصے کہانیوں کی بارہ مصالحے کی چاٹ کے سوا اور کوئی کام کہاں تھا۔ بھول گئیں کیا وہ اصرار جو تمہیں اپنی تعریفیں سننے پر ہوا کرتا تھا اور میں کیسا سعادت مند تھا کہ آنکھیں بند کرکے تواتر سے سفید جھوٹ بولا کرتا تھا۔ تیل میں نچڑے تمہارے بالوں کی کسی ہوئی چٹیا کو میں زلفِ گرہ گیر کہا کرتا تھا ( کوئی حسن پرست شاعر سن لیتا تو مجھے زندہ دفن کر دیتا ) ، گھر بھر کی صفائی کے بعد گرد میں اٹی ہوتی تھی تم مگر میں چاند کو دیکھ کر تمہیں چاندنی کہا کرتا تھا جس کا کبھی تم نے بھولے سے بھی انکار نہیں کیا ، کبھی شرما کر بھی یہ نہیں کہا کہ اب ایسا بھی نہیں بلکہ حق سمجھ کر وصول کیا کرتی تھی ساری تعریفیں ڈھٹائی کے ساتھ ۔ اب سوچتا ہوں کہ محبت میں انسان کتنے جھوٹ بولتا ہے اور کتنے سنتا بھی ہے سچ سمجھ کر۔ خود تو تمہارے بال کبھی زلف کہلا نہ سکے میرے جھوٹ کے سوا ، اس لیے میرے بالوں کے پیچھے پڑی رہتی تھی کہ کٹوا دوں ، بالوں کی جگہ ان کی نشانی ہی رکھ ، اب خود ہی کہہ ڈالا کہ تمہیں محبوب گنجا گواراہ تھا یہ تو میں خوب جانتا تھا کہ تم کس محرومی کے زیر اثر یہ کہہ رہی ہو۔ خود نہیں رکھتی تو میرے بھی مٹانا چاہتی ہو خوبصورت بال

اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں

خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ

کہاں کی منگنی اور کس مامے کی بیٹی سے ، دو ہی بیٹیاں ہیں اور دونوں خیر سے اپنے گھر کی ہو چکی ہیں۔ یہ خبریں ہیں تمہیں ، صاف کیوں نہیں کہتی کہ تمہارا اپنا دل بے ایمان تھا کب سے اور بے وفائی کے بہانے تلاش کر رہی تھی۔ میں گاؤں کیا سدھارا تم پیا گھر سدھار گئیں ، آنا فانا منگنی کرلی جیسے اس گھڑی نہ ہوئی تو پھر کبھی نہ ہوگی۔ ابھی تو عید پر میری دی ہوئی مہندی کا رنگ بھی نہیں اترا ہو گا کہ تم نے پھر سے اپنے ہاتھ رنگ لیے کسی اور کے نام سے۔ جس طرح اور جتنی جلدی تم نے خط کے ذریعے مجھے محبوب کے عہدے سے معزول کیا ہے اتنی جلدی تو ہمارے ہاں حکومت بھی نہیں بدلتی ۔ ستم بالائے ستم تم نے بغیر عبوری دور کا اعلان کیے اور جذبات کے سرد ہونے کا انتظار کیے بغیر محبوب بھی ڈھونڈ لیا اور منگنی بھی کر لی اس سے تمہاری وفا کی ساکھ سخت مجروح ہوئی (پہلے ہی اس پر سوالیہ نشان تھا)، اتنی جلدی تو ہماری حکومت وزیر بھی نہیں بدلتی جتنی جلدی تم نے محبوب بدل لیا۔ ۔ فیکے نے کئی بار مجھے سمجھایا کہ گلابو کے تیور مجھے بدلے بدلے لگتے ہیں مگر میری آنکھوں پر تو پٹی بندھی تھی پیار کی ، تمہیں وفا کی مورت سمجھتا رہا اور تمہارے دل کے چور کو نہ سمجھ سکا۔ باتیں مجھ سے اور دل میں کسی اور بسائے رکھا ،گلابو  یہ کس طرح تو نے مجھے الجھائے رکھا۔

سانوں پتا تیرے دل وچ چور نی

گلاں ساڈے نال دل وچ کوئی ہور نی

جب تمہارا یہ پتر بے وفائی کا منہ بولتا ثبوت بن کر مجھ تک پہنچا ، نہ پوچھ کیا میرے دل پر بیتی اور کس طرح شب ہجر بن کر عذاب گزری۔ تمام رات کبھی ایک فلم لگا کر گزاری کبھی دوسری ، ‘کچھ کچھ ہوتا ہے‘ پوری دیکھی مگر کچھ نہ ہوا پھر ‘کبھی کبھی ‘ لگا کر دیکھی مگر میرے دل میں کوئی خیال نہ آیا۔ کسی اور کے ساجن کی سہیلی دیکھی تو جا کر صبح نیند آئی۔ اگلے دن فیکے نے میرے غم کی رات کو دیکھتے ہوئے دوپہر چڑھتے ہی گانے لگا دیے

رہا گردشوں میں ہر دم میرے عشق کا ستارہ تو مستقل لگا دیا بڑی مشکل سے بدلوایا تو ظالم نے لگا دیا

نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسمان کے لیے

تیرا وجود تو ہے بس اک داستاں کے لیے

پلٹ کر سوئے چمن دیکھنے سے کیا ہوگا

وہ شاخ ہی نہ رہی جو تھی آشیاں کے لیے

اس پر میں تڑپ کر اٹھا مگر میرے غصہ کرنے پر اس نے بدلا بھی تو کیا بدلا

میرے دوست قصہ یہ کیا ہوگیا

سنا ہے کہ تو بے وفا ہو گیا ہے

گزرے ہیں آج عشق میں اس امتحان سے

نفرت سے ہوگئی ہے محبت کے نام سے

غرض کونسا دکھی اور بے وفائی سے بھرا گانا تھا جو اس نے اس دن مجھے نہ سنایا ہو اور مجھے بھی یہ یقین دلا دیا کہ غرض پرست زمانے میں وفا ڈھونڈنے سے کیا حاصل ، یہ شے تو بنی ہے کسی دوسرے جہاں کے لیے۔ مجھے کب یہ گمان تھا کہ راہ وفا میں بہک جائیں گے تیرے قدم ، تم بھی ہو جاؤ گی کسی اور کے سنگ

تیری بے وفائیوں پر تیری کج ادائیوں پر

کبھی سر جھکا کر روئے کبھی منہ چھپا کر روئے

او بے وفا تیرا بھی یونہی ٹوٹ جائے دل تو بھی تڑپ تڑپ کر پکارے کہ ہائےےےےےےےے دل تیرا بھی سامنا ہو کبھی غم کی شام سے تو بھی واقف ہو رنج کے جام سے

میری دکھ اور ٹینشن کو چھوڑو تم تو خوش ہو نہ منگنی کروا کر۔ پینو کے بھائی نے تمہاری اماں کو کب سے بہلانا پھسلانا شروع کیا ہوا تھا اور اب تم بھی مان گئی ہو یہ سوچ کر اس کی اپنی کریانے کی دوکان ہے گھر کے سودے سلف گھر میں ہی مل جایا کریں گے۔تم نے کہا کہ مجھے آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا تو وہ تو مجھے اب بھی معلوم ہے

آٹا ہے 110 روپے کلو

دال ماش 88, دال چنا 40 ، دال مسور 56، دال مونگ 56 اور سبزیوں کا بھاؤ بھی معلوم کرنا تو بلا جھجھک پوچھ لینا تمہارے کافی کام آئے گا عنقریب۔ ویسے تمہیں مارکیٹ سے بھی کہیں زیادہ کم بھاؤ کا جلد پتہ چل جائے گا جب روز تمہیں اتوار بازار یا منڈی سے یہ چیزیں منگوانا پڑیں گی۔ تم نے محاوروں میں سنا ہوگا لفظ کفایت شعاری، کنجوسی اب شادی کے بعد جب تمہارے نصیب پھوٹیں گے پینو شیخنی کے شیخ بھائی سے تو تمہیں لگ پتہ جائے گا۔ چیزیں گھر ضرور آیا کریں گی مگر تمہیں ملیں گی ترس ترس کر ، اس پر فضول خرچی کے طعنے الگ ہوا کریں گے پھر تمہیں قدر ہوگی میری اور میرے بغیر حساب لائے سودا سلف کی ، کوسوں گی اپنے کچے کانوں کو جو پینو کی باتوں میں آجاتے تھے۔ سانسیں بھی گن کر لینے کی اجازت ہوگی تمہیں باقی چیزوں کا حساب خود ہی لگا لینا۔ پینو ویسے تو تمہاری دوست ہے مگر اب نند بننے کے بعد اس کے رنگ ڈھنگ دیکھنا۔ اماں کے پاس اس کی دونوں بڑی بھابھیاں آ کر اپنے دل کے پھپھولے پھوڑا کرتی ہیں ، پینو کی لگائی بجھائی اور گز بھر کی زبان کا رونا روتی ہیں۔ پینو خود بھی آ کر اماں کو فخر سے بتا کرتی ہے کہ وہ بھابھیوں کے مزاج ٹھکانے پر رکھنے کے لیے بھائیوں کے کان بھر کر آئے دن انہیں دو تین کرارے ہاتھ لگوا دیا کرتی ہے اور جس دن زیادہ جلی بیٹھی ہو تو خود بھائیوں کے ساتھ مل کر ان کی چٹیا کھینچ کر عقل ٹھکانے پر لے آتی ہے۔

خدا تمہارے حال پر رحم کرے مگر جب تمہیں خود نہ اپنے آپ پر رحم آیا تو خدا کیسے کرے گا۔ تمہاری تمام تر بے وفائیوں کے باوجود دل تمہاری حالت کا سوچ سوچ کر لرزتا ہے ، چلو اگر ہمارے ستارے نہیں ملے تو تمہارے نصیب تو کھل جاتے کہیں ۔

ایک خبر تو سنائی ہی نہیں تمہیں ، دل تھام کر ، گرے گی قیامت بن کر تم پر مگر اب تو تم عادی ہو جاؤ کہ زندگی اب اسی طور بسر ہوگی تمہاری۔ پینو نے میری اماں کی خدمتیں کرکے ، تمہارے کان بھر کر تمہیں اپنے بھائی کے پلے بندھوا کر میدان صاف کر لیا ہے اور مجھ سے کہا ہے کہ چھوڑ دے ساری دنیا کسی گلابو کے لیے یہ مناسب ہے فیضو کے لیے ۔ میں سوچ رہا ہوں کہ میں پینو کی بات مان تو لوں مگر پھر

تیرا کیا ہوگا کسی اور کی گلابو؟

———————————————

نوٹ:

اشیائے نرخ کم از کم تین سال پرانے ہیں اس لیے براہ مہربانی ان نرخوں کو پڑھ کر خریداری کے لیے نکلنے والا  ہنگامی طبی امداد والوں کو پیشگی فون اطلاع کردے

مکمل تحرير پڑھيے »

فیضو اور گلابو خطوط
۔۔۔۔
پہلا  خط
دوسرا خط
تیسرا خط

چوتھا خط

گلابوکا  خط  فیضو  کے دوسرے خط کے جواب میں

ہرجائی فیضو ۔۔۔۔۔ جا جا میں تو سے نا ہی بولوں ۔۔۔۔۔۔۔

یہ جو تم گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب تھے سُنا ہے پنڈ گئے تھے مامے کے گھر، اور مجھے کہہ گئے تھے کام سے جا رہا ہوں وہ تو بھلا ہو پینو کا اُس کے چاچے کی ماسی تمھارے مامے کے پنڈ کی ہے ساری خبریں مل گئیں مجھے اُس سے ، سوچا تو پہلے یہی تھا کہ تم جو اتنی محنت سے مجھے خط لکھتے ہو تو اب کی بار آؤ گے خط لے کے تو گلاب کا پھول نہ سہی گوبھی کا ہی دے دوں گی تاکہ تمہاری امّاں بھی خوش ہو جائیں کہ بیٹا کچھ لایا تو ، اور یہ تم بہکی بہکی باتیں جو کرنے لگے ہو پنڈ سے واپسی پر سب جانتی ہوں میں یہ خیال میں ڈوبے رہنا سپنے دیکھنے کی باتیں گلابی آنچل کی باتیں ، ہائے افسوس کاش تم پنڈ نہ جاتے برگد کا پیڑ ہی بن جاتے چاہے برگ و گُل جھڑ جاتے محبوب گنجا ہو یہ تو میں گوارہ کر لیتی مگر تم کسی پینڈو ہیر کے رانجھے بن جاؤ یہ مجھے گوارہ نہیں ۔پنڈ میں مامے کی بیٹی سے منگنی کروا لی اور یہاں آکے مجھے پریم پتّر لکھ رہے ہو ، ساری خبریں ہیں مجھے اب محبت کے ڈرامے کی آخری قسط سمجھنا اس خط کو دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے تم بے وفائی کرکے بھی پٹتے پٹتے رہ گئے ( پنڈ میں جو تھے )

کہاں گئیں وہ محبتیں ، قول و قرار ، ساتھ جینے مرنے کی قسمیں ، مجھے تو پہلے ہی تمہارے تیور ٹھیک نہیں لگتے تھے جب ہی تو تمہاری جاسوسی کرواتی تھی وہی ہوا جس کا ڈر تھا گرگٹ کی طرح رنگ بدل لیا بس خیال رکھنا رنگ بدلتے بدلتے پھیکا نہ پڑ جائے تمہارا کیونکہ پینڈو ہیر کو شوخ رنگ ہی بھاتے ہیں ۔

یہ آئے ہائے کرنے میں تو تمہارا جواب نہیں ، یہ آئے ہائے اب اُس وقت کرنا جب پینڈو بیوی چمٹا پھینک کر مارے گی چھپتے رہنا پھر امّاں کے پیچھے۔

اب تم ٹھکانے لگ ہی گئے ہو تو لگ پتہ جائے گا جلد ہی آٹے دال کا بھاؤ میری امّاں کے سودا سُلف لانے میں جان جاتی تھی تمہاری اب تم اُس پنساری کی دکان پر دن میں دس بار جاؤگے جس کی شکل تک تم نے کبھی پہلے نہیں دیکھی تھی تب یاد کرنا مجھے

رات میں تارے گننے کی عادت تو تمہیں پہلے ہی ہے اب دن میں تارے دیکھا کرنا

ہرجائی فیضو مجھے تم سے یہ اُمید پہلے ہی سے تھی کہ تم جو انارکلی کے چکر لگاتے ہوئے بار بار کبھی اُس کے کبھی اِس کے ساتھ پکڑے جاتے ہو کبھی مجھ سے وفا نہیں کروگے اس لیئے میں نے امّاں کے کہنے پر منگنی کروا لی ہے

ہرجائی فیضو کوئی بھی ٹینشن مت لینا کیونکہ ویسے بھی اب تمہارا سامنا ہائی ٹینشن سے ہونے والا ہے جو تمہیں کسی بھی وقت دھماکے سے اُڑا سکتی ہے اُس وقت اگر میں تم کو یاد آؤں تو مجھے بالکل یاد نہ کرنا اور یہ سوچ کر سب کچھ برداشت کرنا کہ یہ سب تو زندگی کا حصّہ ہے یہ ہے ہماری محبت کا ڈراپ سین۔

اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو

تمہارے لیئے دعا گو

کسی اور کی گلابو

مکمل تحرير پڑھيے »

فیضو اور گلابو خطوط
۔۔۔۔پہلا  خط
دوسرا خط
تیسرا خط

فیضو کا خط گلابو کے دوسرے خط کے جواب میں

وعلیکم آداب ،

خط ملتے ہی حسین خیال آیا نہ ، گملے کا خیال شاید تمہیں پھول کو سجا کر رکھنے کے لیے آیا ہوگا فکر نہ کرو صرف پھول ہی مارنا گملے بہت ہیں میرے پاس۔ اب سچا عاشق بننے کے لیے تم سے تربیت لینے پڑے گی کیا مجھے  ، عشق کا کوئی مکتب کھولنے کا ارادہ تو نہیں ؟ ویسے تم نے سنا نہیں شاید کہ عشق آتا ہے آتے آتے اور عاشقوں کے ایک نہایت باریک بین تجزیہ نگار کہہ گئے ہیں

کھیلنے دو انہیں عشق کی بازی کھیلیں گے تو سیکھیں گے

اب مجنوں و فرہاد کے لیے کھولیں ہم اسکول کیا

ویسے تم نے عاشقوں کی کوئی فہرست بنا رکھی ہے کیا جس میں سچے ، جھوٹے ، کچے پکے عاشقوں کے زمرے بناتی رہتی ہو۔ میں تو تمہیں معصوم و سادہ سمجھ کر مائل ہو گیا اور تم نے عشق کو بھی جھوٹ سچ کے ترازو میں ناپنا شروع کر دیا ستم گر۔ طبعیت تمہاری ناساز تھی تو پیار سے بتاتی میں حال احوال میں ہی سارا خط لکھ ڈالتا مگر تم نے تو آہ و زاریوں کے ساتھ قیامت کا رونا شروع کر دیا ، لے کر بیٹھ گئیں پھر سے اپنی اماں کے رونے اور دن میں تارے۔  میں جو ہفتہ بھر سے دل کے ارمانوں کو خط میں سمو کر تمہارے آنگن تک جان پر کھیل کر پہنچا کر گیا تھا تمہارا جواب پڑھ کر دل کلس کر رہ گیا ، کیا کیا نہ سوچا تھا دلِ خوش امید نے ،

میرے خط کے انتظار میں راہ تکتی ہوگی ، پہروں میرے خیال میں ڈوبی رہتی ہوگی ، رات کو کسی پل نیند نہ آتی ہوگی ، کروٹیں بدل بدل خود ہی تھک جاتی ہوگی۔ ہر صبح میرے خیال سے آنکھ کھلتی ہوگی ، ہر رات میرے ہی سپنے دیکھتی ہوگی ، ہر پہر مجھے ہی سوچتی ہوگی ، سکھیوں سے میری ہی باتیں کرتی ہوگی ، سوچ کر مجھے خود ہی شرما جاتی ہوگی ، گلابی آنچل دانتوں میں دبا کر میرے خیالوں میں کھو جایا کرتی ہوگی۔ پر تم نے سوچا تو گھر کو کاموں کا ،سودا سلف کا اور تحفوں کا ، کتنی خود غرض اور تحفہ پرست ہو تم۔

خط پھینک کر کیا تمہارے گھر کے سامنے برگد کا پیڑ بن کر کھڑا ہو جاتا ، تمہارے ابا کے ہاتھ لگ جاتا تو برگ و گل بھی جھڑ جاتے اور اب تک کے عشق کا ثمر بھی ملتا ، انتہائی میٹھا اور ڈھیر سارا۔

آئے ہائے لگتا ہے اماں اٹھ گئی ہیں ، خط یہیں ختم کر رہا ہوں ورنہ ان کے ہاتھ لگ گیا تو یہ نو عمر عاشق رہے گا  نہ عشق (جھوٹ سچ کا تو سوال ہی کیا) فقط عشق کے آثار رہ جائیں گے۔

تمہارا  اپنا

فیضو

مکمل تحرير پڑھيے »

گلابو اور فیضو کے خطوط کے سلسلے میں پہلا خط آپ نے پچھلی پوسٹ میں پڑھا اب دوسرا خط پیش خدمت ہے۔

 

کیا زمانہ آ گیا کہ خط کا ملنا قیامت ٹھہرا اور طبیعت ناساز سے آہ و فریاد بن گئی۔ پہلے خط آنے پر بہار چھا جایا کرتی تھی جلترنگ سے بجنے لگتے تھے ، ہوائیں گنگنانے لگتی تھیں اور طبیعت پر نکھار آ جایا کرتا تھا اور اب قیامت ، ساری نا شکری کی باتیں ہیں ، گھر بیٹھے خط جو مل جاتے ہیں خود لکھ کر اس طرح پھینکنے پڑیں تو قدر بھی ہو۔ خط کے ساتھ چھوٹا پتھر باندھا کروں ، کیا خط لکھوانے کے ساتھ ساتھ پتھر مارنے کا کام بھی مجھ سے لیا کرو گی۔ گھر والوں سے نہیں بنتی تو یہ غضب تو نہ ڈھاؤ ، کچھ تو خیال کرو ان کا آخر تمہارے گھر والے ہیں ، میں اتنا خیال رکھتا ہوں کہ صرف آدھ پاؤ کے ٹماٹر میں لپیٹ کر خط پھینکتا ہوں اس پر بھی تمہاری اماں کا واویلا آدھا شہر سنتا ہے۔ ویسے تمہیں دن میں تارے نظر آنے بھی چاہیے رات بھر جو تارے گنواتی رہتی ہو مجھے۔

شاعری سمجھنے کی کوشش نہ کیا کرو بس پڑھا کرو ، سمجھ لی تو خود بھی لکھنے لگو گی اور پھر تمہارے لکھے کو کون پڑھے گا ، خط سنبھالنے کے لیے نہیں پڑھنے کے لیے بھیجتا ہوں اور حرکتیں تمہارے گھر سے باہر ہوتی ہیں تم ان سے آنکھیں بند رکھا کرو اور جتنی معصوم تمہاری جان ہے وہ میں جانتا ہوں یا تمہاری اماں۔

غزل تو خط کو سجانے کے لیے بھیجتا ہوں اور تحفے کی خوب کہی ، ابھی پچھلے ماہ ہی تو نقلی چاندی کی قیمتی انگوٹھی بھیجی تھی تمہیں۔ اب میں نواب تو ہوں نہیں کہ ہر خط کے ساتھ ایک عدد جڑاؤ ہار بھی بھیجا کروں اور بالفرض نواب ہوتا تو پھر ان عشق کے بکھیڑوں میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا تھی ، اب میں تو خدا لگتی کہتا ہوں چاہے کسی کے دل پر جا کر لگے۔

انار کلی میں گھومتا ہوں مگر انار اور کلی دونوں سے دور دور ہی رہتا ہوں گو کھینچتے دونوں ہیں مگر تمہارا خیال ہے وگرنہ کب کا اکیلا پن ختم ہو چکا ہوتا۔ دھمکیاں مت دو غزلوں اور ابا کی اور دینی ہے تو ایک ایک کرکے دو ، اکھٹی دونوں تو نہ دو ویسے غزل میں نے وزن میں لکھی تھی اس لیے تمہارے ابا نہیں مانیں گے کہ میری ہے اور تمہارے لیے تو قطعا نہیں مانیں گے جتنے استعارے اور تشبہیات اس غزل میں ہیں اس کے بعد کسی کا خیال کسی الپسرا سے کم پر نہیں ٹھہرے گا، بھولے سے بھی تمہارا خیال نہیں آئے گا انہیں ، اک عمر گزری ہے ان کی اس دشت میں ، سمجھ جائیں گے کہ کسی نے کسی کو فردوسِ بریں دکھائی ہے۔

بھولے سے خط کا جواب دیتی ہو اور پھر یہ تاکید کہ میں جواب کا اصرار بھی نہ کروں ، منشی لگ جاتا کہیں تو تم خود پہروں بیٹھ کر خط لکھا کرتی مجھے ، تمہاری طبیعت سے اتنی واقفیت تو مجھے بھی ہے ۔

اجازت کی کتنی جلدی ہے اور جیسے سب کام میری اجازت سے کرتی ہو ، نئی رپورٹ سے پہلے ذرا اپنے گھر کی رپورٹ لکھ بھیجنا اور ہاں خط کے لیے کسی قاصد کا بندوبست کرلو اب مجھے سے ہر بار خط پھینکا نہیں جاتا۔

مکمل تحرير پڑھيے »

یہ خطوط  اردو ویب محفل پر میرے اور حجاب کے درمیان ایک دھاگے میں لکھے گئے تھے جو خاصہ مشہور ہوا تھا مگر اس میں اور بھی بہت سے لوگوں کے خطوط تھے ۔ حجاب سے مشورے کے بعد فیصلہ کیا ہے اسے بلاگ پر باری باری شائع کیا جائے۔ خطوط میں گلابو حجاب ہے اور فیضو محب۔  اس دھاگے میں دو خط میں نے خود کلامی کے انداز میں لکھے تھے جن کا موضوع سخن کسی کی طرف نہیں تھا اس لیے وہ اتنے دلچسپ بھی ثابت نہیں ہوئے۔  حجاب نے ایک خط کو فرض کرتے ہوئے پہلا خط لکھا جس سے یہ دلچسپ سلسلہ شروع ہوا۔

پہلا خط گلابو کا فیضو کے نام

تمہارا  خط  اب کی بار کیا ملا سمجھو قیامت آ گئی طبیعت پہلے ہی ناساز تھی اب ساز و آواز بن گئی، تم خط پھینکتے ہوئے خط کے ساتھ چھوٹا سا پتھر باندھا کرو اس بار تمہارا خط امّاں کے سر پر لگا وہ تو شُکر تھا کہ امّاں اپنی چیخ و پکار میں یہ بھول گئیں کہ کیا چیز لگی ہے سر پر ورنہ دن میں تارے نظر آ جاتے مجھے

میں تمہاری شاعری سمجھنے کی کوشش کروں ، تمہارے خط سنبھالوں یا تمہاری حرکتوں پر پردے ڈالوں ایک ننھی سی معصوم میری جان اور اُس پر اتنے ظلم

اور غزل ہی بھیجنا تم کبھی تحفے بھی بھیج دیا کرو ایسے تو کافی خبریں ملتی ہیں اڑتی اڑتی انار کلی میں گھوم رہے ہوتے ہو وہ تو شکر کرو اکیلے ہوتے ہو اس لیئے کبھی پوچھا نہیں اور یاد رکھو آئندہ بھی اکیلے گھومنا ورنہ وہ غزل ابّا کو بھجواؤں گی تمہارے جو تم نے مجھے لکھی ہے پھر تم پر دیوان لکھیں گے ابّا تمہارے

اور ہاں یہ تمہارے خط لکھنے کا شوق اور اُس سے زیادہ جواب مانگنے کا شوق کچھ زیادہ نہیں ہو گیا کہیں منشی لگنے کا ارادہ تو نہیں رکھتے اگر ایسا ہے تو ذرا قلم کو قابو میں رکھنا میں تمہارے مزاج سے خوب واقف ہوں

اچھا اب اجازت دو تمہاری نئی رپورٹ ملے گی تو خط لکھوں گی۔

مکمل تحرير پڑھيے »

Flight over Manhattan, New York City
Image by meironke via Flickr

چوٹی کے بلاگران نے وسط نیویارک ( New York) المعروف مین ہیٹن (Manhattan)  میں عہد ساز مجلس برپا کر کے اردو بلاگنگ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے جس کی رقم البتہ ابھی اہل مجلس کے تخیل سے باہر نہیں آ سکی ہے
چوٹی کے بلاگران کی حد درجہ تاخیری عید ملن پارٹی و مجلس اردو بلاگنگ مستقبلیات  اختتام کو پہنچی جس میں چوٹی کے تین بلاگر اور دو بلا چوٹی بلاگران نے حصہ لیا۔ ایک چوٹی کے بلاگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر شامل نہ ہو سکے بلکہ تلاش و بسیار کے باوجود ان کا سراغ نہ لگایا جا سکا ۔ اس پوسٹ کے توسط سے ان کے سرچ وارنٹ جاری کیے جاتے ہیں ، جس شخص کو جہاں ملے وہیں چوٹی سے پکڑ لے۔
بیشتر کاروائی ریکارڈ کی گئی ہے جس کی محتاط ایڈیٹنگ جاری ہے اور تمام کام کی باتیں حذف کرکے اسے مفاد عامہ کے لیے پیش کر دیا جائے گا

Enhanced by Zemanta

مکمل تحرير پڑھيے »

نغمہ و شعر کی سوغات کسے پیش کروں
یہ چھلکتے ہوئے جذبات کسے پیش کروں

یہ گانا میں نے پہلی دفعہ فرزانہ نیناں کی فیس بک پر پیش کردہ ویڈیوز شعر و نغمہ میں سنا اور پہلا شعر ہی اتنا اچھا لگا کہ میں نے سوچا کہ اسے ڈھونڈ کر سننا چاہیے اور جب  ڈھونڈ کر سنا تو واقعی بے حد لطف آیا۔ فرزانہ کا اپنا پروگرام نغمہ و شعر بھی بہت خوب اور فیس بک پر اس کی بہت سی ویڈیوز میسر ہیں جن میں کمال درجہ کے گرافکس ہیں اور پس منظر میں فرزانہ کی خوبصورت آواز اور گانوں کا عمدہ انتخاب۔ یوکے میں رہنے والوں کی تو آسانی ہے کہ وہ براہ راست سن سکتے ہیں البتہ یوکے سے باہر رہنے والوں کے لیے ویڈیوز اور پوڈ کاسٹ کی سہولت پیش کی گئی ہے جس سے یو کے سے بارہ رہنے والے لطف اندوز ہ ہو سکتے ہیں۔ نغمہ و شعر کی پاڈ کاسٹ کا لنک یہ ہے

نغمہ و شعر پاڈ کاسٹ ( Podcast)

اس لنک (نغمہ و شعر ٨ پارٹ ١) پر جو پروگرام کیا ہے فرازنہ نے وہ بہت عمدہ ہے اور اس میں سے ایک اقتباس لکھ رہا ہوں جسے پڑھ کر اندازہ ہوگا کہ کتنا خوبصورت پروگرام ہے۔

لگتا تھا جیسے اندر سے وہ لڑکی بھی اس کے دوست کا انتظار کر رہی ہے۔ ڈرائنگ روم سے نکل کر جب وہ بیڈ روم کے سامنے سے گزرے تو سامنے پلنگ کے قریب رکھے جوتے دیکھ کر لڑکی نے پوچھا یہ تمہارے دوست کے جوتے ہیں اور پھر اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر کہنے لگی
لگتا ہے یہ کسی بے سفر آدمی کے جوتے ہیں۔
نہیں نہیں اس نے جلدی سے وضاحت کی وہ بے سفر نہیں بلکہ میں اسے اکثر کہتا ہوں  تمہارے پاؤں میں  چکر ہے  وہ بہت زیادہ سفر  کرتا ہے ۔
دیکھو نہ آج بھی وہ سفر سے واپس آ رہا ہے۔
لڑکی نے اس کی بات ان سنی کرکے وارڈ روب کی جانب رخ کیا اور اسے کھول کر تھوڑا سا پیچھے ہٹی اور بولی
اس کے کپڑوں کا رنگ دیکھ کر تو لگتا ہے جیسے  وہ بے محبت آدمی ہے۔
پتہ نہیں بے محبت سے تمہاری کیا مراد ہے
اگر تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ اس سے کبھی کسی نے محبت نہیں کی تو یہ درست ہے مگر خود وہ  بے حد محبت کرنے والا ہے
کبھی کبھی میں اس سے کہا کرتا ہوں کہ تم گاؤں کی اس عورت کی طرح ہو جو کئی سالوں سے دل کی چاٹی میں وہی رڑک رہی ہے
مگر مکھن کی ایک پھٹکی بھی نہیں نکلی
مگر میری بات سن کر وہ ہمیشہ ہنس پڑتا ہے اس وقت اس کی ہنسی سے کچے دودھ کی مہک آتی ہے
وہ ابھی تک پیار کی ڈولی میں نہیں بیٹھا
وہ ایسی بات ہے جو ابھی تک بیاہی نہیں گئی
لڑکی اس کی قمیض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی
میں نے سنا ہے ایسی شکنیں عام طور پر ہٹ دھرم لوگوں کی قمیضوں پر ہوتی ہیں
ہو سکتا ہے وہ ہٹ دھرم ہی ہو
مگر اس کی قمیض پر جو شکنیں تمہیں نظر آ رہی ہیں وہ اداسی کی ہیں
اس کی زندگی بھی اس کی قمیض کی طرح شکنوں سے بھری ہوئی  ہے
جب بھی کوئی لڑکی اس سے ملتی ہے اس کی زندگی پر ایک نئی شکن ڈال دیتی ہے
وہ ایک ایسی کشتی کی طرح ہے جس کے بادبان میں نے کئی لڑکیوں کی آنکھوں میں کھلے دیکھے ہیں
مگر پانی کی لہریں جنہیں تم شکنیں کہہ سکتے ہو اسے دکھیل کر لڑکیوں سے دور لے جاتی ہیں
وہ بہت زیادہ انا پرست ہے اپنے آپ کو سزا دیتا رہتا ہے میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں
ہم دونوں بچپن سے پڑھتے اور کھیلتے رہے ہیں۔
آج میں نے اس کی سالگرہ منانے کا پروگرام اسی لیے بنایا ہے اور تمہیں بھی اسی لیے بلایا ہے کہ شاید ہم دونوں مل کر اس کی شکنوں سے بھری زندگی پر سے ایک ہی شکن کم کر سکیں

ویسے نغمہ و شعر والا گانا تو رہ ہی گیا ، اچھا اگلی پوسٹ میں اسے پیش کرتا ہوں.

Powered by ScribeFire.

Enhanced by Zemanta

مکمل تحرير پڑھيے »

ساس بہو کا جھگڑا جب ویمن تھانے میں آیا ہے

تفتیشی افسر نے بس دو فقروں میں نمٹایا ہے


اللہ ایسی نائس میچنگ تم نے کس سے سیکھی ہے؟

اللہ! یہ جوڑا تم نے کس ٹیلر سے سلوایا ہے؟

Powered by ScribeFire.

مکمل تحرير پڑھيے »

حیرت ہے اردو بلاگران نے بش کے جوتے پر کوئی بلاگ نہیں لکھا یا شاید میری نظر سے نہیں گزرا حالانکہ ایسا تاریخی واقعہ میری نظر سے تو کم از کم نہیں گزرا اگر کسی کی نظر سے گزرا ہو تو مجھے ضرور مطلع کرے۔ سب سے پہلے تو اس دلچسپ واقعہ کی ویڈیو ملاحظہ کر لیں کیونکہ اس کے بغیر گفتگو کا لطف ادھورا رہے گا۔

 

اس کے علاوہ یوٹیوب پر جا کر شو اٹیک ٹائپ کریں اور بے شمار ویڈیو بمع ری مکس کے ملاحظہ کریں اور بش کے الوداعی عراقی دورے کا آنکھوں دیکھا عبرت ناک حال دیکھیں۔ جیو نے اس پر ایک کارٹون شو منتر بنایا ہے جس میں نور المالکی کی جگہ مشرف ہے اور کہتا ہے کہ

 

کوئی جوتے سے نہ مارے مرے دیوانے کو

 

بش پر جوتے برسانے والے البغدادیہ ٹی وی کے عراقی صحافی کا نام منتظر الزیدی ہے جسے عرب دنیا میں نئے ہیرو اور مجاہد کا درجہ دیا جا رہا ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ منتظر نے ہزار خودکش حملہ آوروں سے بڑھ کر کام کیا ہے اور عراقی عوام کی نفرت اور غصہ کی ترجمانی کی ہے۔ جوتا پھینکنے سے پہلے منتظر نے کیمرہ مین سے کہا تھا کہ غلامی کی زندگی سے شہادت کی موت کہیں بہتر ہے۔ صدر بش پر اپنا جوتا پھینکتے ہوئےکہا:

’ کتے، عراقی عوام کی جانب سے الوداع۔‘

بش نے کمال مہارت سے جھک کر خود کو جوتا لگنے سے بچا لیا مگر منتظر نے بھی دوسرا جوتا تیار رکھا ہوا تھا اور عرب بلاغت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے  دوسرا جوتا بش کی طرف پھینکا اور کہا 

’یہ عراقی بیواؤں، یتیموں اور عراق کے تمام ہلاک شدگان کی طرف سے ہے۔‘

شومئی قسمت کہ دوسرا جوتا بھی بش کو نہیں لگا گو کہ دوسری دفعہ بش جھکا نہیں، شاید اسی دن کے لیے بش  نے بیس بال سیکھی تھی۔ دوسری دفعہ بش نے ہاتھ آگے کیا اور نور المالکی نے بھی بے دلی سے ایک ہاتھ آگے کرکے جوتا روکنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد سیکورٹی گارڈز نے صحافی کو قبضہ میں لے لیا اور تا حال کسی سے ملنے نہیں دیا اور متضاد خبروں کے مطابق صحافی کی پسلیاں اور ہاتھ کی ہڈی توڑی گئی ہے۔ عراقی انتظامیہ کے مطابق صحافی بالکل ٹھیک  ہے اور اس کا مقدمہ عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔

بش کی ڈھٹائی دیکھیے کہ اس واقعہ کے فورا بعد فرمایا

 

’میں اتنا بتا سکتا ہوں کہ جوتے کا سائز دس تھا۔‘

واقعی دس نمبری جوتا ہی ہوگا جو دو کوششوں میں بھی نہیں لگا۔

سی این این ، ایم ایس این بی سی اور دوسرے کئی ممتاز امریکی نیوز چینلز نے بھی اس واقعہ کو خصوصی کوریج دی اور بار بار جوتا پھینکے جانے کا کلپ دکھایا۔ سی این این کی سائٹ پر اس لنک میں چند ویڈیوز ہیں جن میں بش کا انٹر ویو ہے اور جوتا پھینکے جانے کے متعلق چند سوالات بھی جن میں بش نے کہا کہ میرے پاس زیادہ وقت نہیں تھا کسی بھی چیز پر رد عمل کے لیے میں جھک کر جوتے کو جھانسہ دے رہا تھا۔ بش کا یہ بھی کہنا تھا کہ انتظامیہ کو بہت زیادہ رد عمل نہیں دکھانا چاہیے اور یہ میری صدارت  کا عجیب ترین واقعہ ہے ساتھ ہی اسے بھی اپنا کارنامہ بتایا اور مزید کہا کہ آزاد معاشرہ جنم لے رہا ہے اور آزاد معاشرہ ہماری سیکوریٹی اور امن کے لیے ضروری ہے۔ ایک بہت ہی دلچسپ ویڈیو اسی لنک پر ہے جس میں امریکہ میں اس واقعہ کے بارے میں لوگوں کے تاثرات ہیں اور ساتھ کچھ ویڈیو کاریگری بھی ہے۔ ویڈیو کا نام ہے

shoe-icide attack  ویڈیو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

ونیزویلا کے صدر ہیوگو شاویز نے منتظر کو بہادر شخص قرار دیا ہے اور یہ کہتے ہوئے ہنسی چھپائے نہیں چھپتی تھی۔ سعودی عرب کے ایک باشندے نے جوتے کی قیمت ایک کروڑ ڈالر رکھی ہے۔ تحریک انصاف نے بھی دس لاکھ کی بولی دی ہے۔بش کی صدارت پر بہت تبصرے اور تجزیے ہوں گے مگر جو مکمل اور بھرپور تجزیہ اور تبصرہ منتظر الزیدی نے جوتوں کی شکل میں کر دیا ہے وہ شاید کوئی اور نہ کرسکے۔

جاتے جاتے بش کو اپنی صدارت پر مکمل اور جاندار تاثرات مل گئے ہیں دو جوتوں کی شکل میں جسے پوری دنیا میں سراہا گیا ہے کہ بش اسی لائق تھا۔

مکمل تحرير پڑھيے »

بڑے دنوں سے سوچ رہا تھا کہ اس اہم اور حساس موضوع پر لکھا جائے  مگر یہ سوچ کر رک جاتا تھا کہ شاید قوم ابھی اس کے لیے تیار نہیں ہے  مگر الیکشن میں قوم نے جتنی بالغ نظری کا ثبوت دیا ہے اس کے بعد میں امید کرتا ہوں کہ عوام اب مسائل کو  سمجھنے اور سچائی تک پہنچنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں اور پیچیدہ مسائل کے لیے اگر انہیں تحقیق کی بھی ضرورت پڑے تو اس سے چنداں نہ گھبرائیں گے۔ فلرٹ اور فلرٹنگ پر عموما نجی محفلوں اور چیٹ پر یا ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں تو بات ہوتی رہتی ہے مگر اسے صحیح معنوں میں سمجھنے اور اس پر تحقیق کی ضرورت کم ہی کسی نے محسوس کی ہے۔ میں نے سوچا بھڑوں کے اس چھتے میں ہاتھ ڈال کر دیکھا جائے اور اس کے لغوی اور اصطلاحی مفہوم کو تاریخی پس منظر کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس سلسلے میں میں چند پوسٹس کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں جو کچھ سنجیدہ اور کچھ مزاح کا رنگ لیے ہوئے ہوں گی تاکہ نہ تو اسے پڑھ کر لوگ بے زار ہوں اور نہ اس سے خوفزدہ ہوں بلکہ اپنے مشاہدات ، محسوسات اور تجربات سے اسے سمجھ اور سمجھا سکیں۔  اس سلسلے میں آپ لوگوں کی آرا اور تبصروں کی روشنی میں پہلی پوسٹ کروں گا اور اس کے بعد دو تین پوسٹس اس سلسلے میں چلیں گی جس سے اس موضوع پر گپ شپ اور تبادلہ خیال ممکن ہو سکے گا جس کی خواہش کئی پردہ نشینوں اور گمنام مجاہدین  کو ہے۔ اگر یہ سلسلہ مبلغین ، ناصحین اور ناقدین کی تاب لا کر بھی نہ رکا تو آخر میں اسے اقبال کی شاعری کی روشنی میں بھی دیکھا جائے جس پر اب تک کوئی تحقیق نہیں ہوئی۔ اقبال کا صرف یہ مصرعہ ہی اس پورے موضوع پر دلیل قاطع ہے جسے لوگ کوزہ میں دریا بند کرنا کہتے ہیں۔ ستاروں کو نوجوانوں کی بلند ہمتی سے جوڑ کر جس طرح کمند کا عمدہ استعمال کیا ہے وہ اردو شاعری کی تاریخ میں نہ اقبال سے پہلے کہیں ملتا ہے نہ بعد میں اور نہ ہی کوئی اب ایسا بلیغ استعمال کر سکے گا۔ مزید تبصرہ پھر سہی ابھی شعر ملاحظہ فرمائیں

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے            ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں یہ آرٹ تھا اب خیر سے سائنس بن گئی ہے ۔

مکمل تحرير پڑھيے »

اگلي تحارير »

6 visitors online now
6 guests, 0 members
Max visitors today: 6 at 06:13 pm MST
This month: 6 at 09-01-2010 12:20 am MST
This year: 20 at 08-31-2010 03:14 am MST
All time: 20 at 08-31-2010 03:14 am MST

محب اور محبت is using WP-Gravatar