آر ايس ايس فيڈ

محفوظات برائے 'شخصیات' زمرہ

بھلے وقتوں میں شعور ادب نامی ایک کتاب خریدی تھی جو بی اے کے طلبا و طالبات کے لیے تھی۔ اس کی ورق گردانی کرتے ہوئے بہت سے اچھے مضامین پڑھے اور مومن خاں مومن جو میرا پسندیدہ شاعر ہے اس پر لکھنے کو دل کیا مگر خود سے لکھنے کی بجائے وہاں سے نقل کر لیا تاکہ بعد میں پر بھی ڈال سکوں۔ مومن نے نو عشق بھی کیے جس میں پہلا عشق نو سال کی عمر میں تھا مگر ان  کا تذکرہ پھر سہی ۔

مختصر حالات زندگی

مومن خاں مومن کی ولادت ۱۸۰۰ میں دلی ہوئی۔ ابتدا میں عربی کی متداول کتابیں شاہ عبدالقادر سے پڑھیں۔ علم نجوم ، رمل اور طب میں انہیں مہارت حاصل تھی۔ شطرنج کے بہت اچھے کھلاڑی تھے۔ شاعری کے ساتھ انہیں فطری مناسبت تھی۔ اس ضمن میں شاہ نصیر سے اصلاح لیتے رہے۔ مومن نے شاعری کو کبھی ذریعہ معاش نہیں بنایا اور نہ امرا کی مدح سرائی کی۔ کوٹھے سے گر کر پانچ ماہ بیمار رہنے کے بعد ۱۸۵۱ میں مومن نے انتقال کیا۔

خصوصیات کلام

مومن کے کلیات میں میں دیگر اصناف بھی ہیں لیکن مثنوی اور غزل کی صنف میں انہوں نے بطور خاص کمال فن کا اظہار کیا ہے ان کی غزل کو غالب جیسے استاد فن نے بھی سراہا ہے۔ مومن کو اپنے عہد میں خاصی عزت و توقیر تھی اور آج بھی وہ اپنے منفرد انداز کے باعث پسند کیے جاتے ہیں۔

مومن کی شاعری میں حسن پرستی کا رجحان نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ کہیں تو وہ محبوب "پردہ نشین " دکھائی دیتا ہے جو اس عہد کے سماجی حالات کا آئینہ دار ہے اور کہیں وہ محبوب بے حجاب ہو کر سامنے آتا ہے اور مومن محبوب کے حسن کو اجاگر کرنے کے لیے دراز اقامت ، سرمگیں آنکھ ، لب نازک ، خم کاکل اور خرام ناز وغیرہ کا ذکر کرتے ہیں لیکن مومن اکثر لکھنوی شعرا کی طرح خارجی مظاہر پر ہی توجہ نہیں دیتے بلکہ حسن کو دیکھ کر پیدا ہونے والی داخلی کیفیتوں کو بھی بیان کرتے ہیں دراصل مومن حسن کی تاثیر کے قائل ہیں۔

مومن حسن کا بھی ایک اعلی معیار پیش کرتے ہیں اور عشق کا بھی ایک ایسا تصور پیش کرتے ہیں جو جاں نثاری اور عجز و نیاز کا حامل ہے۔ ان کی غزلوں میں ایک ایسا عاشق دکھائی دیتا ہے جو جذب صادق کا حامل ہے وہ محبوب کی جفاؤں اور رقیب پر اس کی عنایتوں کے باوجود اس کی محبت سے سرشار ہے اور اس کے سامنے عاجزی کا پیکر بنا ہوا ہے۔ وہ محبوب سے گلہ کرنے سے بھی گریز کرتا ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ مومن کی غزل میں عاشق ، محبوب اور رقیب کی مثلث واضح اور نمایاں صورت میں موجود ہے۔

مومن کے ہاں ذاتی سطح پر پیش آنے والے تجربات بھی ہیں اور ان کی شاعری سماجی شعور کی بھی حامل ہے۔ وہ اپنے زمانے میں سیاسی و سماجی سطح پر رونما ہونے والے انقلابات سے آگاہ تھے اور اشاروں کنایوں میں ان کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ مومن کی غزل تغزل سے معمور ہے۔ اس میں تاثیر اور دلچسپی کے عناصر موجود ہیں۔ وہ حسن و عشق سے متعلق تصویریں بڑی عمدگی سے پیش کرتے ہیں اور ان کی غزل رمز و ایما کا اچھا نمونہ ہے۔ وہ غزل کے فنی اور جمالیاتی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے حسن و عشق سے متعلق معلومات کو رمز و ایما کے پیرائے میں بیان کرتے ہیں۔

مومن غزل کی زبان سے آگاہ تھے اور انہوں نے زبان و بیان پر قدرت کا ثبوت دیا ہے۔ وہ ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جس میں فطری پن ، برجستگی ، بے ساختگی ، سادگی اور روانی پائی جاتی ہے۔ مومن روزمرے اور محاورے کا استعمال بھی عمدگی سے کرتے ہیں لیکن ان کا میلان زیادہ تر فارسی تراکیب کی طرف ہے۔ انہوں نے خوبصورت تراکیب تراشی ہیں۔ تشبیہ و استعارہ کا استعال بھی ہے۔ کہیں کہیں مومن نے اپنے تخیل کو بالکل آزاد کر دیا ہے وہاں فطرت سے دوری پیدا ہوگئی ہے۔ مومن کے کلام میں ایک اور بات خاص طور سے نظر آتی ہے ، یہ ہے کہ انہوں نے اپنے تخلص " مومن  " بہت عمدگی سے برتا ہے اور نئی نئی معنویت پیدا کی ہے۔

مجموعی طور پر مومن اپنے عہد کے کامیاب شاعر ہیں۔ نمونے کے طور پر چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

 

ہم بھی کچھ خوش نہیں وفا کر کے
تم نے اچھا کیا نباہ نہ کی

تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانا کر لے
ہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہوں گے

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک
شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو

تیری نگاہ شرم سے کیا کچھ عیاں نہیں
میں اپنی چشم شوق کو الزام خاک دوں

کیا دل کو لے گیا کوئی بیگانہ آشنا
کیوں اپنے جی کو لگتے ہیں کچھ اجنبی سے ہم

جسے آپ گنتے تھے آشنا ، جسے آپ کہتے تھے باوفا
میں وہی ہوں مومنِ مبتلا ، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

مکمل تحرير پڑھيے »

کچھ لوگ ہیں جو اس ملک کو برا کہہ کر ہی سکون پاتے ہیں ۔ ایسے لوگ صرف پاکستان میں ہی پائے جاتے ہیں۔ دنیا کی کوئی قوم بھی ایسی نہیں ہے جو ایسے لوگوں کو اپنے درمیان پائے اور انہیں برداشت کرتی رہے۔ جنہیں اس قوم پر غصہ آتا ہے ، ان کا احترام کرو ، ان کے سامنے محبت اور عقیدت سے گردنیں جھکاؤ مگر جو برائی کرنا اور پاکستان کی تحریک  کو طعنے دینا چاہتے ہیں ، انہیں نمک حرام اور غدار جانو کہ بروں کو برا کہنا اور سمجھنا بھی نیکی ہے۔   ( جون ایلیا )  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مکمل تحرير پڑھيے »

یہ کالم فاطمہ بھٹو نے جنگ میں اپنی پھوپھو بینظیر بھٹو کے لیے لکھا ہے اور میرا خیال ہے بینظیر بھٹو پر لکھے جانے والے کالموں میں ایک بہترین کالم ہے۔

اپنی مرحومہ پھوپھی سے میرے تعلقات کی نوعیت کافی پیچیدہ تھی۔ یہ بہرطور ایک حقیقت ہے ایک افسوسناک حقیقت !!! یہ بھی ایک بدیہی حقیقت ہے کہ گزشتہ پندرہ برس کے دوران ہم نے دوستوں یا رشتے داروں کی طرح ایک دوسرے سے قطعاً کوئی سلوک نہیں کیا۔ یہ پندرہ برس کا عرصہ ہم نے ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہ کر بسر کیا تھا تاہم اس ہفتے میں نے بھی انہیں باندازِ دگر یاد کرنے کی کوشش کی اور خواہش کی ہے۔ میں انہیں ایک مختلف طریقے سے یاد کرنا چاہتی ہوں کیونکہ مجھے ایسا ہی کرنا ہو گا۔ یہ ملک جو میرا وطن ہے اور جس پر میرا ایمان غیر متزلزل ہے میں اس ایمان کو کبھی کھونا نہیں چاہوں گی۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ انہیں بغیر کسی سبب اور وجہ کے قتل کیا گیا ہے۔ تشدد اپنی خالص شکل میں کس قدر سفاک اور ناقابل معافی ہوتا ہے۔ میں اب بھی اس صورت حال کو ذہنی طور پر تسلیم کرنے سے قاصر ہوں۔ بہر صورت مجھے اپنی مرحومہ پھوپھی کو الوداع تو کہنا ہی ہو گا۔ ایک ایسا الوداعیہ جسے اشکوں سے تحریر کیا گیا ہے، جس میں شدید غم و غصہ بھی شامل ہے لیکن جو ایک ایسے مقام سے پیش کیا جا رہا ہے، جو بے حد دور افتادہ ہے اور جسے حافظے اور معذرت خواہی کے جذبے کے ساتھ خلط ملط بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ایسی جگہ ہے جہاں کسی اور وقت ہم سب محفوظ تصور کئے جا سکتے تھے۔ جب میں ننھی منی سی بچی تھی تو اپنی پھوپھی کو بڑی بوا ( سندھی زبان میں وڈی بوا ) کہہ کر مخاطب کیا کرتی تھی جو سندھی افراد اپنے والد کی بڑی بہن کو کہتے ہیں۔ جب مجھے یہ خبر ملی کہ میری بڑی بوا کو کچھ ہو گیا ہے تو مجھے بڑا تعجب ہوا کیونکہ یہ ایک ایسا تاثر تھا جو میں نے اس سے پہلے اتنی طویل مدت کے دوران کبھی نہیں سنا تھا چنانچہ ٹیلی ویژن پر جب میں نے یہ خبر سنی تو مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی اور کے بارے میں یہ خبر سن رہی ہوں۔ مجھے دفعتاً ایک ایک کر کے سب ہی واقعات یاد آنے لگے۔ ہم دونوں مل جل کر بچوں کی کتابیں پڑھا کرتے تھے۔ ہمیں ایک ہی طرح کی مٹھائیاں بھی پسند تھیں۔ خشک میوہ اور پھل بھی ہمیں ایک جیسے ہی پسند تھے۔ ہم دونوں کے کان میں تکلیف کی نوعیت بھی مشترک تھی جس کے نتیجے میں ہم دونوں کئی برس تک شدید اذیت میں مبتلا رہے۔ بہرطور اس سے قبل میں نے ایسا مضمون نہیں لکھا جسے تحریر کرنا مجھے تقریباً نا ممکن سا لگ رہا ہو۔ اس کے باوجود ہم ایک دوسرے سے کافی مختلف تھیں۔ لوگ ہمیں ایک دوسرے سے ملانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں غالباً وہ جبلی طور پر ایسا کرتے ہیں اور کر سکتے ہیں لیکن میرے لئے یہ بے حد دشوار ہے کہ میں بیک وقت دو ایسے افراد کے بارے میں لکھ سکوں جن میں سے ایک کے لئے مجھے صیغہٴ ماضی اور دوسرے کے لئے صیغہٴ حال استعمال کرنا پڑے۔ بالخصوص اس وقت جب ایک فرد کی شخصیت دوسرے کو حیرت زدہ ہو کر یہ سوچنے پر مجبور کر دے کہ واقعی زمانہٴ حال یا زمانہ ماضی کا کوئی حقیقی وجود ہے بھی یا نہیں ؟؟؟ مجھے اپنی مرحومہ پھوپھی کی سیاست سے کبھی اتفاق نہیں رہا۔ جی ہاں۔ کبھی نہیں، مجھے ان لوگوں سے بھی قطعاً کوئی اتفاق نہ تھا، جو انہیں ہر وقت گھیرے رہتے تھے۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر مجھے کراہت محسوس ہوتی تھی۔ واقعات اور حالات کی جو تعبیر اور تفسیر وہ بیان کرتی تھیں اس سے بھی مجھے کوئی اتفاق نہیں رہا۔ تاہم یہ باتیں اور اختلافات ان کی زندگی تک تھے لیکن اب وہ ہمارے درمیان موجود نہیں رہیں۔ موت ہمیں سکون اور اطمینان کے ساتھ سوچنے کا پیغام دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے، جو ہمیں ٹھنڈے دل کے ساتھ چیزوں پر غور کرنے کا موقع دیتا ہے۔ موت ہمیں بتاتی ہے کہ بس !!! بہت ہو چکا۔ ہم آپس میں کافی لڑ بِھڑ چکے اب ہم مزید پاگل پن کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ میں اپنے خاندان کے ساتھ ہونے والے المناک واقعات کا سوگ منا رہی ہوں۔ میرا دل بلاول، بختاور اور آصفہ کے لئے رو رہا ہے۔ میں ان کے رنج و غم میں برابر کی شریک ہوں کیونکہ وہ میرے مرحوم والد کی حقیقی بہن تھیں۔ انہیں بھی میں اپنے والدین جیسا ہی سمجھتی تھی۔ میں ایسے تجربے سے گزر چکی ہوں، جب کوئی سمندر کی لہروں میں گم ہوتا ہوا محسوس کرتا ہے جہاں صرف خوف اور بے بسی ہی اس کے ساتھ ہوتے ہیں مجھے اس جانکاہ صدمے کا بڑا تلخ تجربہ ہو چکا ہے۔ میں پارٹی کے کارکنوں کے لئے بھی افسردہ ہوں جو اس المناک حادثے میں اپنے پیاروں سے محروم ہو چکے ہیں۔ جب کوئی اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اس کے عزیز، رشتے دار اور احباب سب ہی مساجد، گرجا گھروں اور مندروں میں جمع ہو کر اس کے لئے دعائے خیر کرتے ہیں اور رنج و امید سے بھرے حمدیہ کلمات ادا کرتے ہیں۔ ابھی تک کوئی ایسی حمد نہیں لکھی گئی جو غم و غصے یا احساس محرومی کو ظاہر کرتی ہو۔ یہ لمحات بھی بالآخر بیت جائیں گے۔ وقت بہت بڑا مرہم ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب ہمیں کیسی حمد گانا ہو گی؟؟ ایک ایسی حمد جس میں اداسی اور افسردگی کے بعد سورج نمودار ہوتا ہے۔ ہر رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کس چیز کے لئے پُر امید ہو سکتے ہیں؟؟ صبح کو بیدار کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہو گا؟ میں اپنے قارئین کے ساتھ ہمیشہ نہایت دیانتدار رہی ہوں۔ میں نے ان سے کبھی اپنے دل کی بات نہیں چھپائی۔ اس کا اظہار میں نے شروع ہی میں ان سے کر دیا تھا۔ میں پوری ایمانداری اور سچائی سے اس بات کا اظہار کرنا چاہتی ہوں کہ میرا نقصان کم نہیں ہوا۔ میں اب تک صدمے کی حالت سے باہر نہیں آ سکی۔ میں صدمے کی حالت میں ہوں کیوں کہ اب تک میں نے اپنے جتنے پیاروں کو مٹی میں دفن ہوتے دیکھا ہے ان سب کی ہلاکت غیر قدرتی طریقوں سے ہوئی تھی۔ ان میں سے کوئی بھی اپنی قدرتی موت نہیں مَرا۔ میرے چار انتہائی قریبی اور نزدیکی عزیز رشتے دار، جنہیں مٹی کے سپرد کیا گیا ، سب کے سب وحشیانہ اور سفاکانہ قتل کا نشانہ بنے ہیں۔ میں اپنے دادا ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کے پانچ برس بعد پیدا ہوئی تھی۔ میں نے اپنے دادا کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والے خلاء میں جنم لیا تھا چنانچہ اپنے مرحوم والد میر مرتضیٰ علی بھٹو کے نزدیک میں ان کے لئے نئی زندگی کی نوید تھی۔ میں اپنے مرحوم دادا کی تقاریر سن کر بڑی ہوئی اور ان کے ویڈیو کیسٹ بھی میں نے دیکھے ہیں۔ جب میرے دادا کو شہید کیا گیا تھا تو میرے والد ابھی نوجوان ہی تھے اور یہ صدمہ ان کے آخری سانس تک، ان کے ساتھ ہی رہا تھا۔ وہ اپنے والد کی جدائی کے غم سے کبھی آزاد نہ ہو سکے تھے۔ جب میرے چچا شاہ نواز بھٹو کا پیرس میں قتل ہوا تو میں فقط تین برس کی تھی۔ مجھے یاد ہے اس موقع پر میری بڑی بوا نے میرے ساتھ بیٹھ کر مجھے کہانیاں سنائی تھیں۔ خاندان کے دیگر افراد اس سانحے کے بارے میں پولیس سے گفت و شنید میں مصروف تھے۔ چودہ برس کی عمر کو پہنچی تو یوں سمجھ لیں میری زندگی کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ میں اپنے قلب اور اپنی روح سے محروم ہو چکی تھی۔ میرے پیارے والد میر مرتضیٰ علی بھٹو کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔ اس لمحے کے بعد سے میں صرف اور محض اپنی شخصیت اور وجود کا ایک سایہ بن کر رہ گئی ہوں اور اب جب میری عمر پچیس برس ہے تو میری بڑی بوا کو مجھ سے چھین لیا گیا۔ بہرحال یہ مضمون میری ذات کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کی یاد میں لکھا گیا ہے جو مجھ سے بچھڑ چکے ہیں۔ یہ ہمارے آبائی قبرستان گڑھی خدا بخش کے بارے میں ہے جو لمحہ بہ لمحہ قبروں سے بھرتا چلا جا رہا ہے۔ میری دعا ہے کہ کاش یہ آخری میت ہو اور ہمیں آئندہ کسی کو اتنی جلد الوداع نہ کہنا پڑے۔ الوداع بڑی بوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الوداع

مکمل تحرير پڑھيے »

مولانا ظفر علی خان ١٨٧٣ میں کوٹھ میرٹھ شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مشن ہائی سکول وزیر آباد سے مکمل کی اور گریجویشن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کی۔ کچھ عرصہ وہ نواب محسن الملک کے سیکرٹری کے طور پر بمبئی میں کام کرتے رہے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ مترجم کی حیثیت سے حیدرآباد ، دکن سے کام کیا اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کی سیکرٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ دکن ریویو اور بہت سی کتابیں تصنیف کرکے اپنی حیثیت بطور ادیب صحافی خاصی مستحکم کی۔

انیس سو آٹھ میں لاہور آئے روزنامہ زمیندار کی ادارت سنبھالی جسے ان کے والد مولوی سراج الدین احمد نے انیس تین میں شروع کیا تھا۔ مولانا کو اردو صحافت کا امام کہا جاتا ہے اور زمیندار ایک موقع پر پنجاب کا سب سے اہم اخبار بن گیا تھا۔ زمیندار ایک اردو اخبار تھا جو بطور خاص مسلمانوں کے لیے نکالا گیا تھا۔ اس اخبار نے مسلمانوں کی بیداری اور ان کے سیاسی شعوری کی تربیت کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا باوجود اس حقیقت کے کہ اس کی اشاعت محدود تھی اور مسلمانوں کے پاس نہ صنعت تھی نہ تجارت جس کی وجہ سے اشتہارات کی تعداد اتنی کم تھی کہ اخبار کو چلانا جان جوکھوں کا کام تھا۔ بعض اوقات ایسی صورت بھی پیدا ہو جاتی تھی کہ سٹاف کو تنخواہ دینے کے لیے پیسے بھی نہ ہوتے تھے۔

مولانا نے صحافیانہ زندگی کی شروعات انتہائی دشوار گزار اور ناموافق حالات میں کی۔ اس زمانے میں لاہور اشاعت کا مرکز تھا اور تینوں بڑے اخبار پرتاب ، مہراب اور وی بھارت ہندو مالکان کے پاس تھے ۔ اسی دور میں مولانا اور زمیندار نے پاکستان تحریک کے لیے بے لوث خدمات انجام دیں ۔ کامریڈ ( مولانا محمد علی کا اخبار ) اور زمیندار دو ایسے اخبار تھے جن کی اہمیت تحریک پاکستان میں مسلم ہے اور دونوں کے کردار کو بیک وقت تسلیم کیا جانا چاہیے۔ انیس سو چونتیس میں جب پنجاب حکومت نے اخبار پر پابندی عائد کی تو مولانا ظفر علی خان جو آہنی جرات اور شاندار عزم کے مالک تھے انہوں نے گورنمنٹ پر کیس کر دیا اور عدلیہ کے ذریعے حکومت کو اپنے احکامات واپس لینے پر مجبور کر دیا۔ اگلے دن انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور ایک طویل نظم لکھی جس کے ابتدائی اشعار یہ ہیں

یہ کل عرش اعظم سے تار آگیا زمیندار ہوگا نہ تا حشر بند

تری قدرت کاملہ کا یقین مجھے میرے پروردگار آگیا

ماڈرن مسلم انڈیااور برتھ آف پاکستان میں ڈاکٹر ایس ایم اکرم لکھتے ہیں ” وہ جوان ، زور آور اور جرات مند تھے اور نئے سیاسی اطوار کا پرجوش انداز میں سامنا کیا۔ ان کی ادارت میں زمیندار شمالی ہند کا سب سے اثر انگیز اخبار بن گیا اور خلافت تحریک میں ان سے زیادہ فعال صرف کردار علی برادران اور مولانا ابوالکلام آزاد ہی تھے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ پنجاب پاکستان کا واحد صوبہ تھا جس نے اردو کو اپنی زبان کے طور پر اپنایا اور اسے کام کی زبان بنایا باوجود اس کے کہ پنجابی اس صوبے کی مادری زبان ہے اور سب سے زیادہ بولی جاتی ہے۔ پنجابی کا اصل رسم الخط گورمکھی کو مسلمانوں نے اس لیے نہیں اپنایا کہ یہ سکھ مذہب سے جڑا ہوا تھا۔ اس طرح اردو انگریزی کے ساتھ پنجاب کی اہم لکھی جانے والی زبان بن گئی اور دونوں تقریبا ایک جتنی مقدار میں سرکاری اور تعلیمی زبان کے طور پر استعمال ہوتی رہیں۔

مکمل تحرير پڑھيے »