کیا کریں کیا نہ کریں
زمرہ(جات): حالات حاضرہ، سیاست | (10) آراء »
آج بہت عرصہ بعد ایک پوسٹ کر رہا ہوں گو کہ کسی اچھے موضوع پر کرنی چاہیے تھی مگر ذہن میں الجھن ہے کہ پاکستان کے حالات کیا رخ اختیار کریں گے اور حالات بہتر ہوں گے کہ ابتری کی طرف جائیں گے۔ قوم میں اتحاد ہوگا کہ مزید انتشار کا شکار ہوتی جائے گی ؟ کیا سیاسی اور معاشی استحکام آئے گا یا رہا سہا بھی جاتا رہے گا؟
ایک دم اتنے سارے طالبان کہاں سے نمودار ہو گئے ہیں اور اتنے مضبوط کیسے ہیں جبکہ پوری دنیا ان کی مخالف ہے۔ افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی افواج ہیں اور پاکستان میں پاکستان کی افواج اور سیکیوریٹی فورسز کئی سالوں سے ان کے ساتھ لڑ رہی ہیں مگر ان کی طاقت اور اثر رسوخ کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ بغیر بھاری امداد ، اسلحہ اور پیسے کے یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک چھوٹا سا گروہ اتنی زیادہ طاقتوں کے ساتھ اتنی دیر تک لڑ سکے اور دن بدن مضبوط بھی ہوتا جائے۔ متعدد رپورٹس میں یہ کہا جاتا ہے کہ ڈرگ ڈیلرز ، جرائم پیشہ اور امریکہ کے خلاف لڑنے والے گروپس اب ایک ہوگئے ہیں اور اب مجموعی طور پر ان کا نام پاکستانی طالبان ہے۔ ان کے لیے فنڈنگ اور امداد کئی ملک کر رہے ہیں جن میں بہت سے غیر ممالک کا نام لیا جاتا ہے جو سرحد اور بلوچستان میں مسلسل بدامنی پھیلا رہے ہیں۔ بیت اللہ محسود پر تو کئی دفعہ بھارت سے مدد لینے کا الزام لگ چکا ہے مگر تصدیق نہیں ہوئی۔ دن رات میڈیا پر طالبان کے حق اور مخالفت میں آخری حدوں کو چھونے والی بحثیں ہو رہی ہیں مگر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیئے کوئی ٹھوس اور قومی پالیسی نہیں بنائی جا رہی جو کہ اس وقت سب سے اہم اور ضروری ہے۔ حکومت کا سب سے اہم اور اولین فریضہ لوگوں کی جان اور مال ہوتا ہے جس میں حکومت بری طرح ناکام ہو رہی ہے اور تاحال اسے پہلی ترجحیح دینے میں ناکام ہے۔ انتہاپسندی صرف قبائلی علاقوں میں ہی زوروں پر نہیں ہے بلکہ مبصرین اور تبصرہ نگار بھی انتہا پر جا کر تبصرے دے رہے ہیں کوئی کسی کے مخالف کوئی بات کردے تو اسے دوسری انتہا کا حامی قرار دے دیا جاتا ہے اور پھر اس کی ہر رائے کو اسی پلڑے میں رکھ کر تولا جاتا ہے جبکہ حقیقتا وہ شخص شاید چند باتوں سے اختلاف اور چند سے اتفاق رکھتا ہے اور معقولیت سے اسے قائل کیا جا سکتا ہے مگر زور بیان اور جلد بازی میں اس کی فکر کم ہی کی جاتی ہے۔ اس رویہ کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی اور بات کو سن کر اپنے موقف کو طعنوں اور طنز سے پاک رکھ کر ادب سے پیش کرکے ہی بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے اور اہم معاملات پر اتفاق پیدا کیا جا سکتا ہے۔
ایک خبر پڑھی تھی چند دن پہلے کہ حکومت نے پنجاب اور سندھ میں بیس بیس ہزار کی فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو صرف دہشت گردی کے مرض سے نمٹنے کے لیے ہی استعمال ہوگی اور اب پنجاب میں بھی ایک اسپیشل فورس بنانے کی بات ہو رہی ہے جسے پنجاب بارڈر پر تعینات کیا جائے گا تاکہ شدت پسند اور دہشت گردوں کو ان کی کاروائیوں سے روکا جا سکے۔ یہ ایک خوش آئین قدم ہے اور ضرورت ہے کہ ایسی ٹاسک فورس کا قیام جلد از جلد پورے ملک میں ہو اور اس کے ذمہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنا ہو اور اس فورس کے پاس جدید آلات اور بہترین سہولیات ہونی چاہیے۔
کچھ عرصہ کے لیے تمام جماعتوں کو مل کر معاشی اور سیاسی استحکام کے لیے پوری کوششیں وقف کر دینی چاہیے کہ اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو کوئی جماعت بھی اقتدار کا لطف نہ اٹھا سکے گی۔ ویسے بات تو میں ذہنی انتشار پر کرنا چاہتا تھا مگر شاید رخ امن و عامہ کی صورتحال کی طرف ہو گیا ہے جو کہ بہت نازک ہے اور اس طرف دھیان بار بار جاتا ہے۔ آئیندہ کبھی ذہنی انتشار جو میرا بھی اور قوم کا بھی اس پر لکھوں گا۔