آر ايس ايس فيڈ

محفوظات برائے 'سیاست' زمرہ

29 جنوری کے اخبارات سے چند سیاسی و غیر سیاسی لطیفے 

دفتر خارجہ کے ترجمان ایم صادق نے کہا ہے کہ امریکہ میں عبدالستار ایدھی سے پاکستانی پاسپورٹ لئے جانے اور تفتیش کا سختی سے نوٹس لیا گیا ہے اور واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے امریکی حکام سے رابطہ بھی کیا ہے۔

یقینا اس رابطے کے بعد امریکی حکام کی نیندیں اڑ گئیں ہوگی اور وہ اس وقت کو کوستے ہوں گے جب انہوں نے امریکہ میں عبدالستار ایدھی کا پاسپورٹ لے کر انہیں ایک طرح سے قیدی بنا لیا تھا۔ فی الفور ہی معافی مانگ کر عبدالستار ایدھی کا پاسپورٹ عزت اور احترام کے ساتھ آئندہ ایسی گستاخی نہ کرنے کا وعدہ کرکے واپس  کر دیا جائے گا۔

امریکہ پاکستان میں کبھی کارروائی نہیں کرے گا، صدر مشرف

صدر جنرل پرویز مشرف نے لندن میں بیٹھ کر کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں کبھی کارروائی نہیں کرے گا اور یہ سب باتیں میڈیا کی پھیلائی ہوئی ہیں۔ میڈیا واقعی بہت دریدہ دہن اور گستاخ ہے اور بلاوجہ کبھی باجوڑ میں امریکی میزائل چلانے کی کبھی کوئی مدرسہ اڑانے کی خبر پھیلا دیتا ہے اور کبھی امریکی صدارت کی دوڑ میں شریک امیدواروں کے پاکستان پر حملے کے بیانات پھیلا دیتا ہے جو یقنیا ملک دشمنی کے مترادف ہیں بھلا ہمیں اپنے صدر پر یقین کرنا ہے یا جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے آزاد ہوئے میڈیا کی پھیلائی ہوئی باتوں کی جو سراسر حکومت کی مخالف میں اور انہیں حکومت سے خدا واسطے کا بیر ہے۔

صدر مشرف کا دورہ یورپ

یورپ کا میاب دورہ کرنے کے بعد صدر نے کہا کہ انہوں نے عالمی برادری کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے ( یہ درست سمت صرف صدر صاحب کو ہی معلوم ہے پوری قوم اس سمت کو ڈھونڈنے کی کوشش میں ہے) ۔

بعض قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی پر قابو پانے میں کامیابی ہورہی ہے اور ملک میں اقتصادی استحکام بھی برقرار ہے ۔ ( استحکام کے اصطلاحی معنوں کے لیے آپ کو مشرف لغت دیکھنی کی ضرورت ہوگی)

پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں ( ابھی انہیں کتنا کامیاب ہونا ہے )

۔ صدر نے کہا کہ ملک میں تمام ادارے ( جو صدر کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں ) معمول کے مطابق کام کررہے ہیں

۔ اٹھارہ فروری کو شفاف ، منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کرائے جائیں گے (شفاف ، منصفانہ اور آزادنہ کے معنی بھی آپ کو مشرف لغت سے ہی دیکھنے پڑیں گے) اور نئی حکومت کے قیام کا عمل کسی رکاوٹ کے بغیر مکمل ہوجائے گا۔

صدر پرویز مشرف نے امید ظاہر کی کہ آئندہ حکومت اعتدال پسند اور مستحکم ہوگی ۔ ( اگر اعتدال پسند نہ ہوئی تو صدر صاحب کو اعتدال پسند بنانے کے مجرب نسخے آتے ہیں اس لیے پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں)۔

صدر مشرف کی پیرس میں اسرائیلی وزیر دفاع سے اتفاقیہ ملاقات

دونوں رہنما ایک ہی ہوٹل میں ٹھہرے تھے اور ان میں اتفاقیہ طور پر آمنا سامنا ہوگیا اور جب آمنا سامنا ہو ہی گیا تو پھر رسما ایک دوسرے سے بات چیت کرنی پڑی اور اخلاقیات نبھانی پڑیں۔ اگلے روز صدر صاحب کو مزید اخلاقیات کا خیال آیا اور انہوں نے ایہود بارک کو ملاقات کی اتفاقی دعوت دے دی جو اتفاق سے انہوں نے قبول کر لی۔ یہ اتفاقیہ ملاقات جو دعوت میں بدل گئی وہ ایک گھنٹہ جاری رہی۔ اس اتفاقیہ ملاقات میں ایہود بارک نے اتفاقا ایران کے نیوکلئیر پروگرام کی بات چھیڑ دی اور اس پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اس کے بعد اتفاقیہ طور پر پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کے عدم تحفظ پر بھی مسلسل تشویش کا اظہار کرتے رہے جس پر صدر نے انہیں یقین دلایا کہ یہ ہتھیار اتفاقی طور پر بھی کسی کے ہاتھ نہیں لگ سکتے جس پر دونوں نے اتفاق کا اظہار کیا کم از کم صدر صاحب نے تو کیا۔

صدارتی ترجمان نے بتایا ہے کہ صدر مشرف اور اسرائیلی وزیر دفاع میں نہ تو کوئی ملاقات ہوئی اور نہ کوئی اتفاق اور نہ کوئی اتفاقیہ بس دونوں نے کھڑے کھڑے سلام دعا کیا اور اپنی اپنی راہ لی البتہ برا ہو میڈیا کا جس نے یہ سب باتیں پھیلا دی ہیں۔

نصیبو لال نے کہا ہے کہ عوام اس بات کو سمجھیں کہ غیر اخلاقی گانے گانا میری مجبوری ہے۔

عوام کو سمجھنا چاہیے کہ نصیبو لال اپنی خوشی سے یہ گانے نہیں گاتی بلکہ یہ مجبوری کا سودا ہے بالکل ویسے ہی جیسے صائمہ خان اور دوسری سٹیج کی رقاصائیں باامر مجبوری غیر اخلاقی رقص پیش کرتی ہیں یقینا وہ بھی پروڈیوسر صاحبان کی فرمائش پر ہے اور فنی مجبوریوں کو پیش نظر رکھنا پڑتا ہے مگر عوام کی بھی کوئی کل سیدھی نہیں وہ غیر اخلاقی چیزیں بھی چاہتے ہیں اور مجبوریاں بھی نہیں سمجھنا چاہتے۔

 

مکمل تحرير پڑھيے »

یہ کالم فاطمہ بھٹو نے جنگ میں اپنی پھوپھو بینظیر بھٹو کے لیے لکھا ہے اور میرا خیال ہے بینظیر بھٹو پر لکھے جانے والے کالموں میں ایک بہترین کالم ہے۔

اپنی مرحومہ پھوپھی سے میرے تعلقات کی نوعیت کافی پیچیدہ تھی۔ یہ بہرطور ایک حقیقت ہے ایک افسوسناک حقیقت !!! یہ بھی ایک بدیہی حقیقت ہے کہ گزشتہ پندرہ برس کے دوران ہم نے دوستوں یا رشتے داروں کی طرح ایک دوسرے سے قطعاً کوئی سلوک نہیں کیا۔ یہ پندرہ برس کا عرصہ ہم نے ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہ کر بسر کیا تھا تاہم اس ہفتے میں نے بھی انہیں باندازِ دگر یاد کرنے کی کوشش کی اور خواہش کی ہے۔ میں انہیں ایک مختلف طریقے سے یاد کرنا چاہتی ہوں کیونکہ مجھے ایسا ہی کرنا ہو گا۔ یہ ملک جو میرا وطن ہے اور جس پر میرا ایمان غیر متزلزل ہے میں اس ایمان کو کبھی کھونا نہیں چاہوں گی۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ انہیں بغیر کسی سبب اور وجہ کے قتل کیا گیا ہے۔ تشدد اپنی خالص شکل میں کس قدر سفاک اور ناقابل معافی ہوتا ہے۔ میں اب بھی اس صورت حال کو ذہنی طور پر تسلیم کرنے سے قاصر ہوں۔ بہر صورت مجھے اپنی مرحومہ پھوپھی کو الوداع تو کہنا ہی ہو گا۔ ایک ایسا الوداعیہ جسے اشکوں سے تحریر کیا گیا ہے، جس میں شدید غم و غصہ بھی شامل ہے لیکن جو ایک ایسے مقام سے پیش کیا جا رہا ہے، جو بے حد دور افتادہ ہے اور جسے حافظے اور معذرت خواہی کے جذبے کے ساتھ خلط ملط بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ایسی جگہ ہے جہاں کسی اور وقت ہم سب محفوظ تصور کئے جا سکتے تھے۔ جب میں ننھی منی سی بچی تھی تو اپنی پھوپھی کو بڑی بوا ( سندھی زبان میں وڈی بوا ) کہہ کر مخاطب کیا کرتی تھی جو سندھی افراد اپنے والد کی بڑی بہن کو کہتے ہیں۔ جب مجھے یہ خبر ملی کہ میری بڑی بوا کو کچھ ہو گیا ہے تو مجھے بڑا تعجب ہوا کیونکہ یہ ایک ایسا تاثر تھا جو میں نے اس سے پہلے اتنی طویل مدت کے دوران کبھی نہیں سنا تھا چنانچہ ٹیلی ویژن پر جب میں نے یہ خبر سنی تو مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی اور کے بارے میں یہ خبر سن رہی ہوں۔ مجھے دفعتاً ایک ایک کر کے سب ہی واقعات یاد آنے لگے۔ ہم دونوں مل جل کر بچوں کی کتابیں پڑھا کرتے تھے۔ ہمیں ایک ہی طرح کی مٹھائیاں بھی پسند تھیں۔ خشک میوہ اور پھل بھی ہمیں ایک جیسے ہی پسند تھے۔ ہم دونوں کے کان میں تکلیف کی نوعیت بھی مشترک تھی جس کے نتیجے میں ہم دونوں کئی برس تک شدید اذیت میں مبتلا رہے۔ بہرطور اس سے قبل میں نے ایسا مضمون نہیں لکھا جسے تحریر کرنا مجھے تقریباً نا ممکن سا لگ رہا ہو۔ اس کے باوجود ہم ایک دوسرے سے کافی مختلف تھیں۔ لوگ ہمیں ایک دوسرے سے ملانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں غالباً وہ جبلی طور پر ایسا کرتے ہیں اور کر سکتے ہیں لیکن میرے لئے یہ بے حد دشوار ہے کہ میں بیک وقت دو ایسے افراد کے بارے میں لکھ سکوں جن میں سے ایک کے لئے مجھے صیغہٴ ماضی اور دوسرے کے لئے صیغہٴ حال استعمال کرنا پڑے۔ بالخصوص اس وقت جب ایک فرد کی شخصیت دوسرے کو حیرت زدہ ہو کر یہ سوچنے پر مجبور کر دے کہ واقعی زمانہٴ حال یا زمانہ ماضی کا کوئی حقیقی وجود ہے بھی یا نہیں ؟؟؟ مجھے اپنی مرحومہ پھوپھی کی سیاست سے کبھی اتفاق نہیں رہا۔ جی ہاں۔ کبھی نہیں، مجھے ان لوگوں سے بھی قطعاً کوئی اتفاق نہ تھا، جو انہیں ہر وقت گھیرے رہتے تھے۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر مجھے کراہت محسوس ہوتی تھی۔ واقعات اور حالات کی جو تعبیر اور تفسیر وہ بیان کرتی تھیں اس سے بھی مجھے کوئی اتفاق نہیں رہا۔ تاہم یہ باتیں اور اختلافات ان کی زندگی تک تھے لیکن اب وہ ہمارے درمیان موجود نہیں رہیں۔ موت ہمیں سکون اور اطمینان کے ساتھ سوچنے کا پیغام دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے، جو ہمیں ٹھنڈے دل کے ساتھ چیزوں پر غور کرنے کا موقع دیتا ہے۔ موت ہمیں بتاتی ہے کہ بس !!! بہت ہو چکا۔ ہم آپس میں کافی لڑ بِھڑ چکے اب ہم مزید پاگل پن کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ میں اپنے خاندان کے ساتھ ہونے والے المناک واقعات کا سوگ منا رہی ہوں۔ میرا دل بلاول، بختاور اور آصفہ کے لئے رو رہا ہے۔ میں ان کے رنج و غم میں برابر کی شریک ہوں کیونکہ وہ میرے مرحوم والد کی حقیقی بہن تھیں۔ انہیں بھی میں اپنے والدین جیسا ہی سمجھتی تھی۔ میں ایسے تجربے سے گزر چکی ہوں، جب کوئی سمندر کی لہروں میں گم ہوتا ہوا محسوس کرتا ہے جہاں صرف خوف اور بے بسی ہی اس کے ساتھ ہوتے ہیں مجھے اس جانکاہ صدمے کا بڑا تلخ تجربہ ہو چکا ہے۔ میں پارٹی کے کارکنوں کے لئے بھی افسردہ ہوں جو اس المناک حادثے میں اپنے پیاروں سے محروم ہو چکے ہیں۔ جب کوئی اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اس کے عزیز، رشتے دار اور احباب سب ہی مساجد، گرجا گھروں اور مندروں میں جمع ہو کر اس کے لئے دعائے خیر کرتے ہیں اور رنج و امید سے بھرے حمدیہ کلمات ادا کرتے ہیں۔ ابھی تک کوئی ایسی حمد نہیں لکھی گئی جو غم و غصے یا احساس محرومی کو ظاہر کرتی ہو۔ یہ لمحات بھی بالآخر بیت جائیں گے۔ وقت بہت بڑا مرہم ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب ہمیں کیسی حمد گانا ہو گی؟؟ ایک ایسی حمد جس میں اداسی اور افسردگی کے بعد سورج نمودار ہوتا ہے۔ ہر رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کس چیز کے لئے پُر امید ہو سکتے ہیں؟؟ صبح کو بیدار کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہو گا؟ میں اپنے قارئین کے ساتھ ہمیشہ نہایت دیانتدار رہی ہوں۔ میں نے ان سے کبھی اپنے دل کی بات نہیں چھپائی۔ اس کا اظہار میں نے شروع ہی میں ان سے کر دیا تھا۔ میں پوری ایمانداری اور سچائی سے اس بات کا اظہار کرنا چاہتی ہوں کہ میرا نقصان کم نہیں ہوا۔ میں اب تک صدمے کی حالت سے باہر نہیں آ سکی۔ میں صدمے کی حالت میں ہوں کیوں کہ اب تک میں نے اپنے جتنے پیاروں کو مٹی میں دفن ہوتے دیکھا ہے ان سب کی ہلاکت غیر قدرتی طریقوں سے ہوئی تھی۔ ان میں سے کوئی بھی اپنی قدرتی موت نہیں مَرا۔ میرے چار انتہائی قریبی اور نزدیکی عزیز رشتے دار، جنہیں مٹی کے سپرد کیا گیا ، سب کے سب وحشیانہ اور سفاکانہ قتل کا نشانہ بنے ہیں۔ میں اپنے دادا ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کے پانچ برس بعد پیدا ہوئی تھی۔ میں نے اپنے دادا کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والے خلاء میں جنم لیا تھا چنانچہ اپنے مرحوم والد میر مرتضیٰ علی بھٹو کے نزدیک میں ان کے لئے نئی زندگی کی نوید تھی۔ میں اپنے مرحوم دادا کی تقاریر سن کر بڑی ہوئی اور ان کے ویڈیو کیسٹ بھی میں نے دیکھے ہیں۔ جب میرے دادا کو شہید کیا گیا تھا تو میرے والد ابھی نوجوان ہی تھے اور یہ صدمہ ان کے آخری سانس تک، ان کے ساتھ ہی رہا تھا۔ وہ اپنے والد کی جدائی کے غم سے کبھی آزاد نہ ہو سکے تھے۔ جب میرے چچا شاہ نواز بھٹو کا پیرس میں قتل ہوا تو میں فقط تین برس کی تھی۔ مجھے یاد ہے اس موقع پر میری بڑی بوا نے میرے ساتھ بیٹھ کر مجھے کہانیاں سنائی تھیں۔ خاندان کے دیگر افراد اس سانحے کے بارے میں پولیس سے گفت و شنید میں مصروف تھے۔ چودہ برس کی عمر کو پہنچی تو یوں سمجھ لیں میری زندگی کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ میں اپنے قلب اور اپنی روح سے محروم ہو چکی تھی۔ میرے پیارے والد میر مرتضیٰ علی بھٹو کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔ اس لمحے کے بعد سے میں صرف اور محض اپنی شخصیت اور وجود کا ایک سایہ بن کر رہ گئی ہوں اور اب جب میری عمر پچیس برس ہے تو میری بڑی بوا کو مجھ سے چھین لیا گیا۔ بہرحال یہ مضمون میری ذات کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کی یاد میں لکھا گیا ہے جو مجھ سے بچھڑ چکے ہیں۔ یہ ہمارے آبائی قبرستان گڑھی خدا بخش کے بارے میں ہے جو لمحہ بہ لمحہ قبروں سے بھرتا چلا جا رہا ہے۔ میری دعا ہے کہ کاش یہ آخری میت ہو اور ہمیں آئندہ کسی کو اتنی جلد الوداع نہ کہنا پڑے۔ الوداع بڑی بوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الوداع

مکمل تحرير پڑھيے »

لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر دل آج اداس ہے گو دل کو یہ خبر متوقع تھی مگر ایک انہونی ہونے کا انتظار تھا مگر وہ انہونی نہیں ہوئی کیونکہ ہونی جو ہونی تھی۔ آج پھر ایک افسوسناک دن رہا ، جنرل مشرف اپنی ق لیگ کے سر پر پھر سے صدر منتخب ہو گئے اور بے حمیت مسلم لیگ نے جو اپنی مثال آپ ہے کہ ایک باوردی صدر کو منتخب کروانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتی ہے۔ نیب زدگان کا یہ ٹولہ جس کی کرپشن کی فائلیں کھلی پڑی ہیں صرف مشرف کی کرپشن کی چھاؤں تلے ہی زندہ رہ سکتے ہیں اور اب تو اس رسم کو قانونی شکل دینے کے لیے پیپلز پارٹی نے بھی اپنا کلیدی کردار ادا کر دیا ہے۔ بینظیر نے بالآخر اپنے کرپشن کے مقدمات واپس کروا ہی لیے بلکہ صرف اپنے ہی نہیں پوری پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم ، مسلم لیگ ق اور جتنے جملہ لٹیرے ہیں ان سب کو قانونی تحفظ فراہم کیا ہے قومی مفاہمت بل کے نام پر جو بجا طور پر عوام میں لوٹ مار مفاہمتی بل کے طور پر جانا جا رہا ہے۔ اس تحفظ لوٹ مار کے بل کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے خلاف مقدمات واپس لے لیے جائیں گے اور آئیندہ بھی ان پر براہ راست مقدمہ نہیں بنایا جا سکے گا یعنی چوروں نے مل جل کر اب چوری سینہ زوری کی روایت کو اپناتے ہوئے ڈکیت بننے کا فیصلہ کیا ہے اور پوری قوم کو یہ پیغام دیا ہے کہ ہمیں نہ تو کسی کا ڈر ہے اور نہ ہم میں امانت دیانت کی کوئی رمق باقی رہی ہے ہم اگر پہلے ڈھکے چھپے معنوں میں کرپشن اور چوریاں کیا کرتے تھے تو اب سرعام کیا کریں گے اور اسے قانونی شکل بھی دے رہے ہیں اگر عوام میں ضمیر نام کی شے باقی ہے تو ہمیں اس سے روک لے۔
اس بل کو لاہور عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے اور ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل نے اسے اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف قرار دیا ہے۔ صدر مشرف کو کامیاب کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے بینظیر اور مولانا فضل الرحمان نے جن کی حرکتیں کسی سے پوشیدہ نہیں اور اب تو بہت ہی واضح طور پر بغیر دکھاوے کے صرف اور صرف اپنے مفادات کی سیاست کر رہے ہیں۔ ملک کی عدلیہ کا امتحان ہے ١٧ اکتوبر کو ، یا تو وہ تاریخ ساز فیصلہ دے کر باوردی صدر کا راستہ روک سکتی ہے یا قوم کو ایک اور غلط فیصلے کے ذریعے زیر بار کرکے آئیندہ کے لیے مزید مشکلات کھڑی کر سکتی ہے جس کا خمیازہ شاید کئی نسلوں کو بھگتنا پڑے۔ ایک بری روایت کو پیدا ہونے سے پہلے روک سکتی ہے اور اپنے ماضی کے داغ بھی دھو سکتی ہے۔ صورتحال کشیدہ اور پریشان کن ضرور ہے مگر ناامیدی کی ہرگز نہیں کہ جدوجہد اور آمریت کے خلاف تحریک جاری رہے گی اور بالآخر عوام کی مرضی مسلط ہو کر رہے گی۔

غم کی شام لمبی سہی شام ہی تو ہے ۔

مکمل تحرير پڑھيے »

آج ایک دفعہ پھر حکومت نے ننگی جارحیت اور بدترین ریاستی تشدد کا مظاہرہ کیا جو اس حکومت کی عادت بن چکی ہے جہاں حکومت کو مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں وہ مخالفین کو دبانے ، ہراساں کرنے اور مارنے پر اتر آتی ہے۔ یہ کام نو مارچ کے بعد چیف جسٹس کی حمایت میں کئی جلسوں میں ہوا ، جیو کے دفتر پر حملہ ہوا ، لاہور ہائی کورٹ پر بکتر بند گاڑیاں چڑھا کر اور آنسو گیس سے ہائیکورٹ کو گھیرے میں لے کر پورا دن ریاستی تشدد ہوتا رہا۔ ١٢ مئی کو چیف جسٹس کراچی گئے تو وہاں ایم کیو ایم اور حکومت نے مل کر ٤٣ لوگوں کے خون سے کراچی کو سرخ کیا اور اسی دن اسلام آباد میں حکومتی اراکین بشمول چوہدری شجاعت ، مشرف رات کو میلہ لگایا ،بھگنڑے ڈلوائے اور کہا کہ عوام نے اپنی طاقت کا اظہار کیا ہے اور کراچی میں بھی عوام نے طاقت دکھائی ہے۔
آج ٢٩ ستمبر کو وکلاء چیف الیکشن کمیشن میں اپنا احتجاج رقم کروانا چاہتے تھے مشرف کے کاغذات نامزدگی کی توثیق پر اور قوم کی مایوسی کی ترجمانی کرنا چاہتے تھے مگر بے حوصلہ اور غنڈہ حکومت سے یہ بھی برداشت نہ ہوا اور آج انہوں نے ایک بار پھر تشدد اور جارحیت کی راہ اپنائی جو اب اس حکومت کی پہچان بن چکا ہے۔ گجرات کے دو غنڈے جو اب وزیر اعلی پنجاب اور مسلم ق کے صدر ہیں انہوں نے سفید لباس میں غنڈے منگوا کر صحافیوں اور وکلا پر وحشتناک تشدد کیا ، اعتزاز احسن اور علی احمد کرد جنہوں نے چیف جسٹس کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا ان دونوں کو بیدردی سے مارا اور وحشت کا یہ شرمناک کھیل کئی صحافیوں کے ساتھ بھی کھیلا۔ پنجاب کے سب سے بڑے غنڈے وزیر اعلی پرویز الہی (سندھ میں عشرت العباد اور دہشت گرد تنظیم ایم کیو ایم کو نافذ کیا ہوا ، بلوچستان اور سرحد میں فوج کو مامور کیا ہے دہشت گردی کے لیے ) نے اپنی فرعونیت دکھاتے ہوئے گاڑی صحافیوں اور وکلا کے ساتھ ٹکرا کر نکلوائی اور ایک بوڑھے کے پاؤں کے اوپر سے رعونت کے ساتھ گاڑی گزار دی۔ اعتزاز اور علی کرد کو خصوصیت

29 صحافی زخمی ہوئے ہیں جن میں ایک ICU میں ہے اور اسے اب تک ہوش نہیں آئی۔

آج ، اے آر وائی ، جیو ٹی وی کی نشریات معطل رہیں۔

حکومت کا نعرہ رہا ہے کہ آزادی اظہار جو پہلے کبھی نہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واقعی کبھی کسی ایک دن میں اتنے صحافی اتنی بیدردی سے زود کوب اور پولیس تشدد کا شکار ہوئے۔ لٹا لٹا کر صحافیوں کو مارا گیا ، وزیر اعظم اندر الیکشن کمیشن میں موجود تھے اور بے حمیتی کی تصویر بنے مجرمانہ غفلت برتے رہے۔ کئی صحافیوں کے سر پھٹ گئے ، کئی صحافیوں کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور کئی بیہوش ہوئے۔
آئی جی صاحب خود مارنے کا کام کر رہے تھے اور باقاعدہ بتا رہے تھے کہ اس صحافی کو مارو ، علی کرد کو مارو ، صحافی اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں انہیں صحیح سبق سکھاؤ۔

آنسو گیس کے تین شیل پھینکے گئے اور بغیر اشتعال کے جس سے بہت سے لوگ زخمی ہوئے۔

ایک فارن ٹیلی ویژن کے کیمرے کو بھی توڑنے کی کوشش کی گئی ، جس صحافی کا کیمرہ توڑنے کی کوشش کی گئی اس سے جب پوچھا گیا کہ ایسے حالات کا سامنا انہیں دنیا میں اور کہاں کرنا پڑتا ہے تو جو جواب صحافی نے دیا اس کے بعد پاکستان کا جو تاثر ابھرا وہ انتہائی شرمناک تھا۔ صحافی کے مطابق ایسا اب صرف چار جگہ ہوتا ہے

نیپال
برما
مقبوضہ کشمیر
پاکستان

اس میں تین جگہ حالات ایمرجنسی جیسے ہیں اور چوتھا ملک پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شرم اگر ہو حکومت کو تو چلو بھر پانی میں ڈوب کر مر جائے مگر شرم تو انہوں نے بیچ کر کھا لی ہے وہ کہاں سے آئے۔

٢١ صحافی مشرف کے دور میں مارے گئے
١٠٠ واقعات ایسے ہوئے ہیں جن میں صحافیوں کو بری طرح سے مارا گیا ہے ۔

ایسا کبھی ایوب اور ضیا کے گیارہ سالہ دور میں بھی نہیں ہوا۔ خدارا اب جو لوگ یہ کہتے تھکتے نہیں تھے کہ اس گورنمنٹ نے صحافت کو آزادی دی ہے وہ اللہ سے معافی مانگیں اور اپنی اس رائے سے رجوع کرلیں ورنہ قیامت کے دن اللہ کے پاس کیا منہ لے کر جائیں گے۔

مشرف اور تمام حکومتی عہدیدار شرم کرو کچھ شرم کرو آخر یہ اقتدار کا سورج غروب بھی ہونا ہے۔

چیف جسٹس صاحب آپ کہاں سوئے پڑے ہیں ، اعتزاز ، علی کرد وہ لوگ ہیں جنہوں‌ نے دن رات ایک کرکے آپ کو دوبارہ بحال کروایا اور آج ان پر بدترین تشدد ہوا ہے ، آپ کو خبر ہوئی یا آپ بھی کسی مصلحت کا شکار ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ لوگوں نے آپ کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں ، خدارا انصاف کے لیے نہ سہی لوگوں کا احسان اتارنے کے لیے ہی ان لوگوں کے خلاف ایکشن لیں۔

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے

مکمل تحرير پڑھيے »

بینظیر نے اپنی روایات کو قائم رکھتے ہوئے ایک اور انتہائی خودغرضانہ اور اقتدار کی ہوس میں پاگل ہو جانے والی ایک عورت کا ثبوت دیا ہے۔ یہ بات اب کسی سے چھپی ہوئی نہیں کہ بینظیر کس قدر پست اور گر چکی ہے اور اپنے ڈیڑھ سو ارب ڈالر کے کرپشن کے کیسوں کو ختم کرنے کے لیے مشرف سے کس طرح ڈیل کے لیے مری جا رہی ہیں اور امریکہ بیٹھ کر اسرائیل اور تمام مغربی ممالک کو یہ یقین دلا رہی ہیں کہ ان کا ایجنڈا پورا کرنے کے لیے وہ سب سے زیادہ موزوں ہیں۔ نام نہاد دہشت گردی کے خلاف وہ سخت سے سخت رویہ دکھانے کی کوشش میں ہیں اور اب تازہ بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ میں عالمی انرجی کمیشن کی رسائی ڈاکٹر عبدالقدیر تک کروا دوں گی۔ بینظیر اس حد تک گر جائے گی مجھے امید نہ تھی مگر اس عورت نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور ہر شے داؤ پر لگا رکھی ہے۔ اپنے باپ کے نام پر تمام عمر سیاست کرنے والی یہ عورت اپنے بل بوتے پر ایک سیٹ بھی نہ جیت پاتی اور سیاست میں بینظیر کا کریڈٹ مسٹر ٹین پرسنٹ زرداری ، سرے محل اور کرپشن کے لمبے چوڑے کیسسز ہیں۔

اللہ ہمیں اس ہوس پرست اور انتہا سے زیادہ کرپٹ عورت سے بچائے۔ آمین۔

مکمل تحرير پڑھيے »

باری تعالی : مخدوم و محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو صحتِ کاملہ عطا فرما

کینسر جیسے موذی مرض کے کراچی میں آپریشن کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان اب اسلام آباد میں اپنے گھر میں مسلسل نظر بندی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ پوری طرح صحت یاب نہیں ہوئے اور ابھی تک مسائل سے دوچار ہیں۔
گزشتہ دنوں ان کی شریانوں میں خون منجمد ہوگیا لہذا ہسپتال میں ان کے ٹیسٹ وغیرہ لیے گئے۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی ڈاکٹر صاحب کو جلد صحت کاملہ عطا فرمائے۔ ہماری یہ بھی دعا ہے کہ صحت یابی کے بعد انہیں آزادانہ طور پر زندگی گزارنے کا موقع میسر آئے اور وہ پھر سے اپنی قوم کے سامنے آئیں جو اپنے اس محسن کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے قرار ہے۔ پوری قوم ان کی صحت یابی کیلیے دعائیں کر رہی ہے۔ انہیں فورا رہا کرکے ملک کو باعزت اور باوقار اسلامی جمہوریہ پاکستان ثابت کرنا چاہیے۔

ان کی نظر بندی کو آج 1250 دن ہوگئے ہیں۔

یہ پیغام 1250دن سے مسلسل روزنامہ نوائے وقت میں آرہا ہے اور ہماری بے حسی کو مسلسل للکار رہا ہے۔

کیا ہم بے حس ہی رہیں گے۔

مکمل تحرير پڑھيے »

آخرکار وہ تاریخی فیصلہ آہی گیا جس کا انتظار قوم کو کئی ماہ سے تھا اور جس کے لیے لوگوں نے خون کا نذرانہ بھی پیش کیا اور بے مثال اتحاد اور یگانگت کا ثبوت بھی دیا۔ کوئی لالچ ، کوئی دھوکہ ، کوئی چال رغنہ نہ ڈال سکی اس بے مثال تحریک اور اتحاد میں ، اتحاد اور تحریک زور ہی پکڑتی گئی۔ ملک کے جس شہر میں بھی چیف جسٹس گئے وہاں ان کا والہانہ استقبال ہوا اور لوگوں نے وقت اور موسم کی پرواہ کیے بغیر گھنٹوں انتظار کیا اور شاندار استقبال کیا۔ وہ تمام سیاسی جماعتیں جو عوام کو باہر نہ لا سکیں وہ چیف جسٹس کی بحالی کی اس تحریک میں وکلا کے ساتھ مل کر بہت مدت بعد عوام کر سڑک پر لانے میں کامیاب رہیں۔ ہر چینل اور ہر جگہ چیف جسٹس کی ہی باتیں ہوتی رہیں اور ہر معاملہ سے زیادہ اہم چیف جسٹس کا معاملہ ہی رہا۔ ایک مدت بعد کسی نے مشرف کا حکم ماننے سے انکار کیا اور سر تسلیم خم کرنے کی بجائے لڑنے اور اپنے حق کے لیے جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا جس پر قوم کے ڈوبتے حوصلوں کو ایک نئی توانائی ملی اور انہیں محسوس ہوا کہ ان کے درمیان ابھی ایک ‘ رجل‘ ہے جو سر جھکانے کی بجائے سر افتخار سے کھڑا کرکے آمریت کے سامنے ڈٹ گیا ہے۔ کسی ایک شخص کے کھڑا ہونے کی منتظر تھی قوم اور جسٹس افتخار نے سر بلند ہو کر قوم کو پھر سے مجتمع ہونے کا ، اپنے حق کے لیے لڑنے کا ، بے حسی کو توڑنے کا ایک موقع فراہم کر دیا اور مشرف کے خلاف جمع سارا غصہ اور نفرت چیف جسٹس سے محبت اور موافقت میں بدل گئی۔ جب یہ کیس شروع ہوا تو کہا گیا کہ تاریخ کروٹ بدل رہی ہے اور ایک نئی تاریخ رقم ہونے جارہی ہے اور واقعی آج ایک نئی تاریخ رقم ہو گئی ہے ، عدلیہ نے پہلی بار کسی فوجی آمر کے خلاف اتنا بڑا فیصلہ عوامی خواہشات اور امنگوں کے مطابق دیا ہے ورنہ ہمیشہ نظریہ ضرورت جیسے ڈھکوسلوں سے غیر قانونی اور ماورائے آئین اقدامات کو تحفظ دیا گیا۔

مشرف اور چیف جسٹس افتخار

تمام لوگوں کو امید پیدا ہوئی ہے کہ عدالتوں میں انصاف ابھی باقی ہے اور اس مردہ گھوڑے میں جان پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ اب شاید لوگ مسائل کے حل اور انصاف کے لیے عدالتوں کی طرف دیکھا کریں گے اور جن عدالتوں سے ان کا اعتماد اٹھ گیا وہ اس فیصلے سے بہت حد تک بحال ہوا ہے۔ قوم اور عدلیہ نے فیصلہ دے دیا ہے کہ

اسلامی جمہوری پاکستان چاہیے نہ کہ عسکری غیر جمہوری پاکستان

مشرف کے لیے میرے ایک بزرگ نے کہا ہے کہ اس سے آخری خواہش پوچھ لینی چاہیے کہ اب اس کے جانے کا وقت آ گیا ہے۔ مشرف کے لیے قوم کا پیغام ہے کہ

چلے بھی جاؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

تاریخ بن گئی ہے مشرف کی آمرانہ حکومت کے جانے کی ، اب لوگ مشرف کے جانے کے لیے دن گن رہے ہیں ایک ایک کرکے۔

چیف جسٹس کی ب�الی پر خواتین وکٹری کا نشان بناتے ہوئے

مکمل تحرير پڑھيے »

یہ پوسٹ غازی صاحب کے جاں بحق ہونے کی خبر کے فورا بعد لکھی گئی۔ ١٠ جولائی ، سات بج کر کچھ منٹ پر

معاف کیجیے مگر یہ پوسٹ میں دلیل اور منطق کے اصولوں کی روشنی میں نہیں لکھ سکوں گا ، شاید بہت زیادہ جذباتی ہوں اس لیے بہت سی غلط باتیں جذبات کی رو میں بہہ کر بھی لکھوں گا اور شاید اس لیے بھی لکھوں گا کہ اتنی اموات میں نے اکھٹی اپنے سامنے کبھی نہیں دیکھیں اور شاید اس لیے بھی کہ وہ ہونی ہو گئی جس کا ایک ہفتہ سے انتظار تھا مگر حیرت کی بات ہے کہ دل موت پر مطمئن نہیں ہوا۔

عبدالرشید غازی جسے لوگ انتہائی ظالم ، انتہائی شدت پسند ، دہشت گرد اور برائیوں کا محور بتاتے تھے آج ہم سب نے مل کر آخر اس انتہائی ظالم شخص کو انجام تک پہنچا ہی دیا ، ٹھکانے لگا دیا۔ چھ ماہ سے ہم سب کی زندگی میں سکون حرام کر رکھا تھا کبھی کوئی مطالبہ کبھی کوئی مذاکرہ کبھی کسی کو اٹھا لینا کبھی کسی کو چھوڑ دینا ، لوگوں کو پریشان کر رکھا تھا۔ ہم سب چاہتے تھے کہ اس شخص کا بندوبست کیا جائے اور اس کے خلاف مناسب کاروائی کی جائے مگر ہم سب کے مطالبے کو ارباب حل و عقد ظالمانہ سمجھتے تھے اور اس ظالم شخص کو ڈھیل دیے جا رہے تھے جس سے ہم سب کو خطرات لاحق ہوتے جا رہے تھے اور ہمارا مطالبہ قانونی کاروائی کا بڑھتا جا رہا تھا۔
اس شخص کے حکم پر طالبات کی ہمت اتنی بڑھی کہ انہوں نے چلڈرن لائبریری پر قبضہ کر لیا ، کئی عورتوں کو اغوا کر لیا پھر ہمارے دباؤ پر چھوڑ دیا ، پولیس اہلکار بھی اغوا کر لیے پھر ہم نے دباؤ ڈالا حکومت نے وارننگ دی تو چھوڑے پھر مذاکرات شروع کر لیے پھر اسی طرح کی کاروائیاں شروع کر دیں۔ ہم نے بہت کہا کہ اسے روک دیں ورنہ یہ ہماری جان بھی لے سکتا ہے مگر ہماری ایک نہ سنی گئی اور حکومت نے معصوم طلبا اور طالبات کے خلاف کاروائی مناسب نہ سمجھی اور افہام و تفہیم سے مسئلہ کو حل کرنے پر زور دیا جو ہماری شدت پسندی کو گوارا نہ تھا ہم جلد از جلد اس مسئلے کا حل چاہتے تھے اور مناسب کاروائی اور قانون کو حرکت میں لانے کا کہتے رہے مگر ابھی حکومت کے خیال میں عبدالرشید غازی کے خلاف فضا ایسی نہ بنی تھی کہ کاروائی ہو نہ معصوم طلبا اور طالبات کے خلاف کاروائی مناسب تھی۔ حکومت کی رٹ بار بار چیلنج ہوتی رہی اور بار بار حکومت کو یاد دلایا جاتا رہا کہ وہ ظالم اور انتہا پسند کے خلاف قانونی کاروائی کیوں نہیں کر رہی جبکہ باقی طبقات بھی اس کے ساتھ ہیں مگر حکومت کا مثالی صبر جاری تھا کہ لال مسجد والوں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی انتہا کرتے ہوئے مساج پارلر سے چینی خواتین کو اغوا کر لیا اور اپنی عادت کے مطابق ان سے توبہ یا معافی لے کر انہیں چھوڑ دیا۔ اس واقعہ کے بعد بھی شاید ہماری حکومت کا صبر جاری رہتا مگر چین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور ہماری حکومت کو بادل نخواستہ ایکشن لینا پڑا۔ رینجرز اور فوج نے لال مسجد اور مدارس کو گھیرے میں لے لیا اور غازی صاحبان سے ہتھیار ڈالنے کو کہا اور طلبا و طالبات کو اپنی مرضی سے باہر آنے پر کچھ نہ کہنے کا کہا گیا۔ پہلے دو دن حکومت نے کاروائی بہت صبر و تحمل سے کی اور طلبا و طالبات کو باہر نکلنے کا ہی موقع دیا جس میں ایک غازی شہید ہونے سے بچ گیا مگر دوسرے غازی نے ہمیں موقع دیا کہ ہم اسے قلم اور زبان کی تلوار سے چھلنی کر سکیں اور اسے اس کا ظلم بتا سکیں۔ اپنے بھائی کے پکڑے جانے کے بعد میں تو مطمئن تھا کہ ان بھائیوں کا پتہ چل گیا ایک تو گیا دوسرا بھی اسی قسم کی کچھ حرکت کرے گا اور پھر مجھے اور میرے جیسے اور کچھ لوگوں کو تنقید اور بحث کے لیے وافر مقدار مہیا ہو جائے گی اور ہم حکومت پر تنقید اور غازی برادران کی مذمت دونوں سے فیض یاب ہو سکیں گے۔ توقع کے عین مطابق عبدالرشید غازی نے بھی ہتیھار ڈالنے کی پیشکش کر ڈالی اپنے اور اپنے طلبا کے لیے محفوظ راستہ مانگ کر ۔ ہماری امیدوں پر پورا اترے کہ یہ سب کتنا بڑا ڈرامہ تھا جو حکومت کے ساتھ مل کر یہ لوگ کھیل رہے تھے مگر اب حکومت نے محفوظ راستہ دینے سے انکار کر دیا اور غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی ۔ تیسرا دن ، چوتھا دن ، پانچواں دن ، چھٹا دن روز فائرنگ ہوتی روز لوگ مرتے مگر دونوں طرف سے یہی مطالبات ہوتے اور دونوں اپنی اپنی ضد پر اڑے رہے ۔ غازی اس پر کہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو محفوظ راستہ دیا جائے اور ہم مجرم پیشہ لوگ نہیں ہیں ہم قاتل نہیں اور اگر یہ نہیں کیا گیا اور حکومت نے ہمیں قتل ہی کرنے کا سوچ لیا ہے تو پھر طاقت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ہم ، حکومت قتل کرکے ہمیں اپنی طاقت دکھانے کا شوق پورا کر لے۔ حکومت نے بھی اصولوں پر سودے بازی سے انکار کر دیا اور اگر کہیں کسی نے لچک دکھائی بھی تھی ماضی میں تو اب ان ظالم اور دہشت گردوں کے لیے بند کر دی۔

ساتواں دن آن پہنچا سخت مزاحمت اور دونوں طرف سے ہلاکتوں کے بعد امید پیدا ہو چلی کہ شاید کوئی راستہ نکل آئے شاید کسی طرح قتل و غارت رک جائے شاید حکومت لچک پیدا کرکے کسی اور طریقے سے طلبا و طالبات کو نکال لے اور پھر اس ظالم اور انتہا پسند غازی کو ہم سب مل کر انجام تک پہنچا لیں گے جس نے بچوں اور طالبات کو اپنی ڈھال بنا رکھا ہے ۔ علما کی کوششیں تیز ہوئیں میڈیا نے بھرپور پریشر ڈالا ، چوہدری شجاعت اور مفتی تقی عثمانی نے مسئلے کے حل کرنے کے لیے کوششیں تیز کیں ، حکومت نے لچک کا مظاہرہ کیا۔ رات دو بجے بریکنگ نیوز آئی کہ مسئلہ کا حل شاید چند گھنٹوں کی دوری پر ہے ، حکومت مان گئی ہے کہ غازی کو آبائی گاؤں اپنی والدہ کے ساتھ جانے دیا جائے گا اور باقی تمام طلبا گرفتاری دے دیں گے اور جو حکومت کو مطلوب ہوں گے ان کے خلاف قانونی کاروائی کرکے باقیوں کو چھوڑ دیا جائے گا۔ چوہدری شجاعت لال مسجد پہنچ گئے اور معاہدہ ہونے کو تھا ، دل ماننے کو نہیں چاہ رہا تھا کہ چلو غازی تو اسی طرح نکلنا چاہ رہا تھا باقی تمام عسکریت پسندوں نے یہ بات کیسے مان لی ، کیسے جانے دے رہے ہیں ایسے کیسے ہو سکتا ہے اس طرح تو غازی بچ جائے گا اور ہے تو ظالم شخص ہی نہ اپنی جان بچا کر سب کو گرفتار کروا کر جا رہا ہے۔ رات اسی کشمکش میں سو گیا ،صبح اٹھ کر دیکھا تو حالات بدل چکے تھے اور دھماکوں اور سخت فائرنگ سے شہر لرز رہا تھا ، کیا غازی کے جانے کے بعد طلبا نے ہتھیار نہیں ڈالے ؟ خبریں دیکھیں تو یقین نہیں آیا کہ غازی کے مذاکرات اس لیے نہیں ہوسکے کامیاب کہ وہ غیر ملکیوں کے پریشان تھا ، اپنے طلبا کے لیے شاید کوئی گارنٹی مانگ رہا تھا، یہ کیا کر رہا تھا وہ اپنا محفوظ راستہ مانگنے میں کامیاب ہو کر اس ظالم میں یہ رحم اپنے طلبا کے لیے کیسے پیدا ہوگیا؟ اس ڈرامے کا کیا ہوا جو وہ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کھیل رہا تھا، یہ شخص کیا واقعی جان دے دے گا مگر یہ تو غازی ہی کا بھائی ہے اور یہ تو پورا عالم بھی نہیں۔ آپریشن جاری رہا اور غازی کی تلاش بھی ، دل مضطرب تھا کہ یہ ظالم شخص کب گرفتار یا فرار ہوتے ہوئے پکڑا جاتا ہے اور پھر ہم مل کر اسے ایسی سزا دے گیں کہ آئیندہ کسی کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کی جرات نہ ہوگی۔ تمام دن دھماکے ہوتے رہے ، دونوں طرف سے بہت سی ہلاکتیں ہوتی رہیں مگر غازی کے بارے میں کوئی اطلاع نہ ملی ، سات بجے کے بعد مجھے آفس میں گھر سے اطلاع ملی جس نے دی اس نے شاید بے تاثر یا طنزا کہا

غازی کے انا للہ کی خبر آ رہی ہے ٹی وی پر

اس خبر کے لیے کب سے تیار تھا مگر سن کر سن ہو گیا اور بات نہ ہو سکی زیادہ ، فون بند کر دیا۔ پھر ایک کولیگ نے فون پر بات کرتے کرتے بتایا کہ

سر غازی مارا گیا

پھر کچھ دیر بعد ایک اور کولیگ نے بتایا کہ

مار دیا غازی کو

غازی مر گیا ، ہلاک ہوا یا شہید ہوا دماغ کے اس فیصلے سے پہلے ہی دل کی حالت عجیب ہو گئی ، اتنی عجیب اور اتنی خراب کہ انتہائی ظالم اور انتہا پسند کے لیے آنسو بہنے لگے ، کتنی موت کی خبریں سنی مگر دل پتھر کا پتھر ہی رہتا تھا یہ آج کس کے لیے رو پڑی آنکھیں ، دماغ نے بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر دل اور آنکھوں نے ماننے سے انکار کر دیا۔ میں نے باقیوں کے چہرے دیکھے باتیں سنی چپ تو تھے مگر میری طرح کوئی بزدل آنسو نہیں بہا رہا تھا اور ایک ظالم کے لیے کوئی بہاتا بھی کیوں ، ایک انتہا پسند کو ہم نے طاقت سے کچل کر سب انتہا پسندوں کو یہ پیغام دے دیا کہ آئیندہ کسی نے یہ جرات کی تو اسے مارنے کے لیے نہ کوئی مسجد ہمارا راستہ روک سکے گی ، نہ بچے اور نہ عورتیں ۔ ہم انتہا پسندی ، دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے آخری حد تک جائیں گے اور اس میں ہمیں مدارس کو ختم ، مساجد کو گرانا ، بچوں اور عورتوں کی قربانی بھی دینی پڑی تو ہم گریز نہیں کریں گے۔ ہم نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کی تعریف اپنے پاس محفوظ رکھی ہے ، ہم جسے چاہیں گے وہ انتہا پسند اور دہشت گرد ہوگا اور جو کام ہم کریں گے وہ قانونی اور ضروری ہوگا اس کے لیے ہم سے پوچھا یا جواز نہ مانگا جائے۔ دماغ مجھے مسلسل سمجھا رہا ہے کہ میں نادانی نہ کروں اور یوں ایک انتہا پسند ظالم ، دہشت گرد کے لیے انسانیت کا درد محسوس نہ کروں ، یہ پڑھ کر میں اپنی بنی بنائی ساکھ روشن خیالوں کے سامنے کھو بیٹھوں گا لوگ مجھے انتہا پسندوں کا ساتھی اور ان کا ہمدرد سمجھیں گے ، اگر اب اتنی تنقید کرکے دل میں افسوس ہو بھی رہا ہے تو دل میں رکھوں لکھنے کی کیا ضرورت ہے سب کو بتانے کی کیا حاجت۔

شاید مجھے غصہ ہے کہ غازی نے مر کر میرے سب اندازے غلط ثابت کر دیے اورمجھے تنقید کرنے کی بجائے سوچنے پر مجبور کر دیا ، مجھے یاد دلا دیا کہ انسانوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بے رحمی اور کتنی سنگ دلی آگئی تھی ہم میں۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ بم مار کر مار دینا چاہیے ان سب کو ، کوئی کہہ رہا تھا کہ ان سب کو ختم کر دینا چاہیے کوئی کہہ رہا تھا ان سے کوئی رعایت نہیں کرنی چاہیے یہ سخت سے سخت سزا کے قابل ہیں۔ یہ بھی غصہ ہے کہ آخری وقت میں ہی ہتھیار ڈال دیتا تو حکومت نے اسے زندہ ہی گرفتار کرنا تھا اور پھر اس پر ہم سارا غصہ نکال سکتے ، مقدمہ چلاتے ، قتل کے ، اغوا کے ، دہشت گردی کے اور پھر اسے تختہ دار پر لٹکاتے اور اس تمام عرصے میں ہمیں انتہاپسندی ختم کرنے کا موقع بھی ملتا اور دہشت گردوں کے لیے کوئی نرم گوشہ بھی نہ پیدا ہوتا۔چوہدری شجاعت کے خدا ، رسول کے واسطے بھی اسے موم نہ کر سکے ، آخر تک اپنی ضد نہ چھوڑی حتی کہ زندگی نے بھی اسے چھوڑ دیا۔ مجھے اپنے اوپر بھی سخت غصہ آ رہا ہے کہ میں کیوں سوچ رہا ہوں یہ میں شکر کیوں نہیں کر رہا کہ آخر آپریشن کامیاب ہوگیا اور کم سے کم جانی نقصان پر، چند سو لوگ اتنے زیادہ نہیں ہوتے چاہے وہ فوج کے ہو ، رینجرز کے ، کمانڈوز ہوں ، بچے ہوں ، عورتیں ہوں ،طلبا ہو یا عسکریت پسند ہوں ، ہم نے سب کو مارا تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ ایک طرف اتنا ظلم ہوگیا اور دوسری طرف کوئی نقصان ہی نہیں ہوا ، انصاف سے دونوں طرف سے جانیں ضائع کروائیں تاکہ کوئی کسی کو یکسر ظالم یا یکسر مظلوم نہ کہہ سکے اور ہمارا طاقت سے مسائل کو حل کرنے کا منشور بھی پورا ہو جائے۔ شاید میں سوچ رہا ہوں کہ غازی کو ہم نے کیا بنا دیا اور یہ بننے سے روکنے کے لیے ہمارے پاس کتنے مواقع تھے مگر ہم سب خاموش ، اپنے کام سے کام رکھنے والے اور تعرض نہ کرنے والے بن گئے ، کچھ تنقید آپس میں کرلی اور اسے اپنے فرض کی ادائیگی سمجھ لیا۔ ہم نے انسان بن کر کم اور سیاست کے نکتہ نظر سے زیادہ سوچا ، ہم اس سانحے کے لیے انتظار کرتے رہے اسے روکنے کے لیے اقدامات کرنے کی بجائے۔
اب ہم لاشوں کی گنتی نہیں کریں گے ، اب ہم بچوں ، عورتوں کی تعداد بھی نہیں گنیں گے ہم صرف خاموش رہیں گے کہ معاملہ بالآخر ختم ہوگیا ، ایک دوسرے پر تنقید کر لیں گے کہ ایسا اس وجہ سے ہوا اور ایسا تو ہونا ہی تھا چلو اچھا ہوا۔ انتہا پسندی اور شدت پسندی کا یہی انجام ہونا تھا اور یہی انجام ہوگا شاید یہ مثال ہم نے قائم کرنی تھی اور کر دی جو روشن خیال ہیں وہ اسے مشکل مگر ضروری قدم گردانیں گے جو زیادہ روشن خیال ہیں وہ اسے احسن بھی کہیں گے اور جو تنگ نظر ہیں وہ اس پر قیامت اٹھانے کا شور مچائیں گے اور جو میانہ رو ہیں وہ شاید ان دو میں سے کسی ایک گروپ میں شامل ہونے پر آمادہ ہوں گے کیونکہ ہم نے اب دو ہی طبقات رکھنے ہیں یا تو تنگ نظر یا روشن خیال ( دونوں میں ہمیں شدت ضرور چاہیے تاکہ بنیاد ہماری شدت پسندی پر قائم رہے )۔ انسانی بنیادوں پر یا انسانی ہمدردی جیسے رویوں کو ہم صرف کتابوں میں رکھیں گے یا کبھی کبھی منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے استعمال کریں گے۔
ہم نے جن عورتوں اور بچوں کے لی کاروائی روک رکھی تھی ، ان کو شہادت میں برابر کا حصہ دیا تاکہ ان کی کفن پہن کر کئی گئی تیاریاں رائیگاں نہ چلی جائیں۔ غازی اور اس کے طلبا تم لوگ کس خیال میں رہے کہ کوئی معاہدہ ہو جائے گا کوئی راہ نکل آئے گی تمہاری انسانی ڈھال کو ہم برداشت کر لیں اور تمہیں چھوڑ دیں گے جبکہ تم سے صاف کہا تھا کہ ہتھیار ڈال دو ورنہ مارے جاؤ گے ، مر گئے نہ اور اتنے سارے اور لوگوں کو بھی اپنے ساتھ مروا لیا ، کیا ملا تمہیں یہ سب کرکے ، ہمیں مجبور کرکے ، ورنہ ہم تمہیں اس طرح نہیں مارنا چاہتے تھے۔

اس سب کے ذمہ دار صرف اور صرف تم خود تھے ، صرف تم خود
سن رہے ہو کیا !!!!!!!!!!!!!!
افسوس کہ اب تم سن بھی نہیں سکتے
اور سن بھی لیتے تو کیا تم نے زندگی میں کبھی نہیں سنا مر کر کیا سنو گے
مگر تمہارے پیچھے رہ جانے والوں کو ہم ضرور سنائیں گے اور جس نے نہ سنا
اسے تمہارے پیچھے بھیج دیں گے تمہیں سنانے کے لیے

اتنی دیر ہوگئی لکھتے ہوئے اور آفس میں بیٹھے ہوئے ، گھر بھی جانا ہے ، غازی کو گزرے بھی کئی گھنٹے ہو گئے مگر آپریشن ابھی جاری ہے اور یہ دیکھنے کی ہمت بھی باقی نہیں۔

مکمل تحرير پڑھيے »

یہ پوسٹ کل لکھی گئی تھی لال مسجد کے ڈرامے کا ڈراپ سین ہونے سے پہلے تین جولائی کو

کل سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے خلاف پیش کیے پٹیشن پر حکومت کی بے عزتی کی انتہا ہوئی اور رمدے کے الفاظ تھے کہ ایسی گھٹیا پٹیشن آج تک دائر نہیں ہوئی اتنی گھٹیا زبان آج تک استعمال نہیں کی گئی جیسی اس میں کی گئی ہے۔

بلوچستان میں ایک قیامت برپا ہے اور ہلاکتوں کی تعداد 300 سے زائد ، بے گھروں کی تعداد 8 لاکھ سے زائد اور حکومت پر کڑی تنقید ہو رہی تھی ناقص انتظامات اور مدد میں اتنی دیر کس وجہ سے ہو رہی ہے۔ ملک میں ہنگامی طور پر انتظامات کیوں نہیں کیے گئے اور زلزلہ کے وقت جو National Disaster Centre وہ اتنے دن کیا کرتا رہا۔

جس آپریشن کے بارے میں چھ ماہ سے سن رہے تھے اور جسے کسی طور بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا اس کے لیے حکومت نے کیا بہترین وقت کا انتخاب کیا؟

آنسو گیس اور شیلنگ سے پورے جی 6 اور آب پارہ تک بچے بے ہوش اور شہری سخت تکلیف کا شکار رہے۔ 150 لوگ زخمی ہوئے جن میں ستر سے زیادہ طالبات جامعہ حفصہ کی ہیں ( شاید ان کا کوئی تعلق بھی نہ ہو اس سارے معاملے سے )

میڈیا کا اپنا ایک کیمرہ مین ہلاک اور دو کی حالت نازک بتائی جاتی ہے کیا یہ میڈیا نے خود پیسے دے کر کروایا ہے یا لال مسجد والوں کی حمایت کے لیے اپنے ورکروں کی بھینٹ چڑھائی ہے۔

چند ہفتے پہلے ایک صحافی نے مشرف سے سوال کیا تھا کہ آپ کیا اقدامات کر رہے ہیں لال مسجد کے سلسلے میں۔ کیا ان کی بجلی ، گیس معطل کرکے ان کے خلاف کاروائی نہیں کی جاسکتی مگر اس وقت مشرف صاحب نے اس درخور اعتنا نہیں سمجھا کیونکہ وہ تو صرف طاقت کے استعمال کو ہی جانتے ہیں اور اسی سے مسائل کا حل چاہتے ہیں اور معاملات کو اور بگاڑتے جاتے ہیں۔

میرا سوال ہے کہ کیا حکومت لال مسجد والوں کی بجلی ، گیس اور رسد کاٹ کر انہیں مجبور نہیں کر سکتی تھی ہتھیار ڈالنے پر اور اب تک حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کیا منصوبہ بندی کی تھی جبکہ لال مسجد والوں کی ہمت روز بروز بڑھتی جا رہی تھی۔

کیا حکومت اسے اہم ایشوز سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال نہیں کر رہی مسلسل۔ کیا اس مسئلے کا حل صرف لاشیں گرانا ہی ہے ؟

مشرف صاحب کا ایک بیان چند دن قبل ہی آیا تھا کہ اگر میڈیا لاشیں نہ دکھائے تو لال مسجد آپریشن کر سکتا ہوں ، اس سے آپ مشرف صاحب کے مسائل حل کرنے کی حکمت عملی کا اندازہ کر سکتے ہیں۔

مکمل تحرير پڑھيے »

عمران خان نے متحدہ کے قائد الطاف حسین پر لندن میں مقدمہ کرنے کا اعلان کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ برطانیہ کے انسداد دہشت گردی کے قانون میں دوہزار دو کے دوران ہونے والی ترامیم کے تحت متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما الطاف حسین کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے اور اس سلسلے میں اپنے وکلاء کے ہمراہ جون کے پہلے ہفتے میں لندن روانہ ہوں گے۔ساتھ میں ان کا کہنا تھا کہ بارہ مئی کو ہونے والے فسادات اور کشت و خون نے لوگوں کے سامنے الطاف حسین کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے اور جنرل پرویز مشرف بھی عیاں ہو گئے ہیں۔
اس کے بعد عمران خان نے اتوار ٢٧ مئی کو کراچی اور حیدر آباد جا کر سانحہ کراچی میں جا بحق ہونے والے افراد سے تعزیت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بات انہوں نے لاہور میں تحریک انصاف کے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتائی۔ اس موقع پر ڈیرہ غازی خان سے ایم کیو ایم کے ضلعی صدر عامر شہباز ہاشمی نے ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔ عمران خان نے مزید یہ انکشاف بھی کیا کہ ١١ مئی کو الطاف حسین نے اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شجاعت حسین صدر مشرف کو چیف جسٹس سے نہیں بچا سکے اور اب ایم کیو ایم کی ذمہ داری ہے کہ کراچی والوں کو چیف جسٹس کا استقبال نہ کرنے دیں۔ اس کے بعد کراچی کو ایم کیو ایم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ الطاف حسین بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی کے مرتکب ہو رہے ہیں اور وہ کراچی جا کر ثابت کریں گے کہ کراچی پاکستانیوں کا ہے ، کسی دہشت گرد کا نہیں ہے۔
اس کے بعد ایم کیو ایم نے کراچی میں راتوں رات دیواروں پر عمران خان کے خلاف چاکنگ کروا دی ہے اور صبح تک جاری رہنے والی اس کاروائی میں سرکاری گاڑی میں سوار افراد شریک رہے۔ سرخ اور سیاہ رنگ میں نمایاں چاکنگ میں عمران خان کے خلاف نازیبا نعرے درج کیے گئے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق مسلح افراد رات بھر سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ، واٹر بورڈ اور مختلف اداروں کے علاوہ سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں چاکنگ کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ پولیس اور رینجرز نے حسب معمول کسی سرکاری اہلکار کو نہیں روکا بلکہ رابطہ کرنے پر لاعلمی کا اظہار کیا۔
ایم کیو ایم نے عمران خان کے بیانات پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے اور ان پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے اور یہ اعلان کیا ہے کہ وہ قومی اسمبلی سے ان کی رکنیت ختم کروانے کے لیے تحریک جمع کروائے گی۔

حکومت سندھ نے ان کی سندھ آمد پر ایک ماہ کی پابندی لگا دی ہے مگر عمران خان نے کہا ہے کہ وہ ضرور جائیں گے اور یہ ثابت کریں گے کہ کراچی سب پاکستانیوں کا ہے کسی کی جاگیر نہیں۔عمران خان نے کہا ’میرے دورے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ایم کیوایم کی یہ غلط فہمی دور ہوجائے کہ میں ان سے ڈر گیا ہوں۔‘ عمران خان نے کہا کہ ان کے خلاف وال چاکنگ ایک ایسے موقع پر کی گئی جب صدر مشرف کی سربراہی میں سندھ حکومت کا ایک اجلاس ہونے جارہا تھا۔عمران کا مزید کہنا ہے کہ الطاف حسین بوکھلا کر یہ کاروائیاں کر رہے ہیں کیونکہ میں ان کے خلاف مؤثر کاروائی کر سکتا ہوں اور اس سلسلے میں لارڈ نذیر ، جارج گیلوے اور ایما نکلسن سمیت برطانئی کے عمائدین سیاست و صحافت سے بات ہوچکی ہے ۔

مکمل تحرير پڑھيے »

اگلي تحارير »