آر ايس ايس فيڈ

محفوظات برائے 'سیاست' زمرہ

آج بہت عرصہ بعد ایک پوسٹ کر رہا ہوں گو کہ کسی اچھے موضوع پر کرنی چاہیے تھی مگر ذہن میں الجھن ہے کہ پاکستان کے حالات کیا رخ اختیار کریں گے اور حالات بہتر ہوں گے کہ ابتری کی طرف جائیں گے۔ قوم میں اتحاد ہوگا کہ مزید انتشار کا شکار ہوتی جائے گی ؟ کیا سیاسی اور معاشی استحکام آئے گا یا رہا سہا بھی جاتا رہے گا؟
ایک دم اتنے سارے طالبان کہاں سے نمودار ہو گئے ہیں اور اتنے مضبوط کیسے ہیں جبکہ پوری دنیا ان کی مخالف ہے۔ افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی افواج ہیں اور پاکستان میں پاکستان کی افواج اور سیکیوریٹی فورسز کئی سالوں سے ان کے ساتھ لڑ رہی ہیں مگر ان کی طاقت اور اثر رسوخ کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ بغیر بھاری امداد ، اسلحہ اور پیسے کے یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک چھوٹا سا گروہ اتنی زیادہ طاقتوں کے ساتھ اتنی دیر تک لڑ سکے اور دن بدن مضبوط بھی ہوتا جائے۔ متعدد رپورٹس میں یہ کہا جاتا ہے کہ ڈرگ ڈیلرز ، جرائم پیشہ اور امریکہ کے خلاف لڑنے والے گروپس اب ایک ہوگئے ہیں اور اب مجموعی طور پر ان کا نام پاکستانی طالبان ہے۔ ان کے لیے فنڈنگ اور امداد کئی ملک کر رہے ہیں جن میں بہت سے غیر ممالک کا نام لیا جاتا ہے جو سرحد اور بلوچستان میں مسلسل بدامنی پھیلا رہے ہیں۔ بیت اللہ محسود پر تو کئی دفعہ بھارت سے مدد لینے کا الزام لگ چکا ہے مگر تصدیق نہیں ہوئی۔ دن رات میڈیا پر طالبان کے حق اور مخالفت میں آخری حدوں کو چھونے والی بحثیں ہو رہی ہیں مگر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیئے کوئی ٹھوس اور قومی پالیسی نہیں بنائی جا رہی جو کہ اس وقت سب سے اہم اور ضروری ہے۔ حکومت کا سب سے اہم اور اولین فریضہ لوگوں کی جان اور مال ہوتا ہے جس میں حکومت بری طرح ناکام ہو رہی ہے اور تاحال اسے پہلی ترجحیح دینے میں ناکام ہے۔ انتہاپسندی صرف قبائلی علاقوں میں ہی زوروں پر نہیں ہے بلکہ مبصرین اور تبصرہ نگار بھی انتہا پر جا کر تبصرے دے رہے ہیں کوئی کسی کے مخالف کوئی بات کردے تو اسے دوسری انتہا کا حامی قرار دے دیا جاتا ہے اور پھر اس کی ہر رائے کو اسی پلڑے میں رکھ کر تولا جاتا ہے جبکہ حقیقتا وہ شخص شاید چند باتوں سے اختلاف اور چند سے اتفاق رکھتا ہے اور معقولیت سے اسے قائل کیا جا سکتا ہے مگر زور بیان اور جلد بازی میں اس کی فکر کم ہی کی جاتی ہے۔ اس رویہ کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی اور بات کو سن کر اپنے موقف کو طعنوں اور طنز سے پاک رکھ کر ادب سے پیش کرکے ہی بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے اور اہم معاملات پر اتفاق پیدا کیا جا سکتا ہے۔
ایک خبر پڑھی تھی چند دن پہلے کہ حکومت نے پنجاب اور سندھ میں بیس بیس ہزار کی فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو صرف دہشت گردی کے مرض سے نمٹنے کے لیے ہی استعمال ہوگی اور اب پنجاب میں بھی ایک اسپیشل فورس بنانے کی بات ہو رہی ہے جسے پنجاب بارڈر پر تعینات کیا جائے گا تاکہ شدت پسند اور دہشت گردوں کو ان کی کاروائیوں سے روکا جا سکے۔ یہ ایک خوش آئین قدم ہے اور ضرورت ہے کہ ایسی ٹاسک فورس کا قیام جلد از جلد پورے ملک میں ہو اور اس کے ذمہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنا ہو اور اس فورس کے پاس جدید آلات اور بہترین سہولیات ہونی چاہیے۔
کچھ عرصہ کے لیے تمام جماعتوں کو مل کر معاشی اور سیاسی استحکام کے لیے پوری کوششیں وقف کر دینی چاہیے کہ اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو کوئی جماعت بھی اقتدار کا لطف نہ اٹھا سکے گی۔ ویسے  بات تو میں ذہنی انتشار پر کرنا چاہتا تھا مگر شاید رخ امن و عامہ کی صورتحال کی طرف ہو گیا ہے جو کہ بہت نازک ہے اور اس طرف دھیان بار بار جاتا ہے۔ آئیندہ کبھی ذہنی انتشار جو میرا بھی اور قوم کا بھی اس پر لکھوں گا۔

مکمل تحرير پڑھيے »

اللہ رے زرداری کی معصومیت قبلہ فرما رہے ہیں کہ میں کبھی بھی جسٹس افتخار کے خلاف نہیں تھا فقط ڈوگر کی ریٹائرمنٹ کا انتظار کر رہا تھا۔ یہ ایک چھوٹی سی چیز تھی مگر اس چھوٹی سی چیز نے بڑے بڑے لوگوں کو بے نقاب کر دیا۔ اس موقع پر انہوں نے یہ شعر بھی دہرایا کہ

 

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

لیکن اتنا تو ہوا کہ کچھ لوگ پہچانے گئے 

 

ویسے تو زرداری اب سخت مقابلہ کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کو ببانگ دہل جھوٹ بولنے میں پیچھے چھوڑ چکے ہیں مگر پھر بھی اس تازہ تازہ جھوٹ کے لیے ان کا ابھی دو دن قبل کا بیان ملاحظہ کر لیں۔

 

جنگ چودہ مارچ کی یہ خبر دیکھیں

صدر نے لانگ مارچ اور دھرنا تحریک کو سیاسی چیلنج قرار دیا اور کہا کہ افتخار محمد چوہدری کی بحالی کوئی ایشو نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افتخار چوہدری بحال ہوں گے اور نہ ہی پنجاب میں گورنر راج ختم ہوگا، سلمان تاثیر بدستور گورنر پنجاب رہیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر زرداری نے دو ٹوک کہا کہ حکومت کسی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرے گی اور سیاسی چیلنجز کا مقابلہ سیاسی طریقے سے کیا جائیگا۔

 

سیاسی چیلنج قبول کرنے اور کسی کمزوری کا مظاہرہ نہ کرنے والے مرد حر کی کمزوری ڈیڑھ دن میں ہی سامنے آ گئی اور پہلے مرحلے پر افتخار چوہدری صاحب کو تو بحال کرنا پڑ گیا ہے دوسرے مرحلے پر گورنر راج اور اس کے ساتھ سلمان تاثیر کو بھی رخصت پر بھیجنا پڑے گا۔ پیپلز پارٹی والوں کا عجب حال ہے اور ڈھٹائی کی حد ہے کہ فخر سے بتا رہے ہیں کہ شہید بینظیر بھٹو کا اور زرداری کا وعدہ پورا کر دیا ہے ، ہم تو شروع سے ہی وعدہ پورا کرنا چاہتے تھے ( مگر نواز شریف لانگ مارچ کر ہی نہیں رہا تھا ) اب مناسب موقع پر یہ وعدہ پورا کر دیا ( جب عوامی طاقت کے سامنے بالکل نہ چلی)۔

 

اس کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم نے سندھ دھرتی کے خلاف نعروں کا نوٹس نہ لینے پر اڑتالیس گھنٹوں میں حکومت سے علیحدگی کا نوٹس چوبیس گھنٹوں میں واپس لے کر اصول پسندی اور مفاہمت کی روشن مثال قائم کی ہے( اس طرح کی پھلجڑیاں چھوڑنے کی ماہر جو ٹھہری ویسے سندھ کارڈ اس دفعہ بری طرح سے ناکام رہا آئندہ الطاف بھائی دیکھ کر استعمال کیجیے گا)۔ اس کے ساتھ انہوں نے بھی ججوں کی بحالی کو خوش آئین قرار دیا ہے( مجبوری کا دوسرا نام سیاست شاید اس کو کہتے ہیں)۔

مکمل تحرير پڑھيے »

ابھی ابھی پاکستان وقت کے مطابق سولہ مارچ صبح دو بجے یہ خبر جیو نیوز پر آ رہی ہے کہ چیف جسٹس کو بحال کر دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور چوہدر ی نثار نے کامران خان کو بتایا ہے کہ حکومت کی طرف سے یہ پیغام پہنچا دیا گیا ہے کہ ابھی چند منٹ میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی قوم سے خطاب میں چیف جسٹس اور دو نومبر کی عدلیہ کی بحالی کا اعلان کریں گے۔ وکلا چیف جسٹس کے گھر کے سامنے جمع ہو گئے ہیں اور کامران خان نے شہباز شریف کے پانچ مارچ کے جلسہ میں کی گئی پیشن گوئی کو سنوایا کہ لانگ مارچ ابھی جہلم تک نہیں پہنچے گا کہ چیف جسٹس بحال ہو جائیں گے اور ایسا ہی ہو رہا ہے۔

قوم کو مبارک ہو۔

مکمل تحرير پڑھيے »

ابھی چند دن پہلے ہم سب امید سے ہیں پر زرداری پر یہ گانا سنا اور سوچا کہ اس پر ایک تحریر لکھی جائے جو  حسب معمول تاخیر سے لکھ رہا ہوں اور چند اور دلچسپ خبریں جمع ہو گئی ہیں۔ پہلے گانا ہو جائے جتنا مجھے یاد ہے اور جس طرح یاد ہے

 

زورداری ہوں

اور سب پہ بھاری ہوں

زورداری ہوں

 

موج میں ہوں کہ اوبامہ کی ذمہ داری ہوں

زورداری ہوں

 

سلمان ، بدر ، رحمان ملک پہ واری ہوں

زورداری ہوں

 

سب گردش میں ہیں اور میں ان پہ طاری ہوں

زورداری ہوں

 

شاید کچھ عرصہ زورداری ابھی شریفوں پہ بھاری پڑتے کہ شریف برادران کو نااہلی اور حکومت سے بے دلی اکھٹی تحفہ میں دے کر زورداری صاحب نے شریفوں کی بل کچھ زیادہ ہی کس دیے جس سے شریف برادران کی رہی سہی شرافت نے دم توڑ دیا اور یکایک ان پر زورداری کی چالاکی سے کئی گئی ہوشیاریاں اور دھوکے یاد آ گئے اور نرم نرم یاد دہانیاں گرما گرم محاذ آرائی میں بدل گئیں۔ نواز شریف کہنے لگے بھرے مجمع میں کہ

زورداری صاحب آپ نے بڑی چالاکی سے مجھے دھوکہ دیا مگر اب آپ کی چالاکی کو ساری عوام جان گئی ہے اور اب آپ مزید چالاکیاں نہیں کر سکیں گے۔

ویسے ایک دفعہ تو زیر لب انسان مسکراتا ہی ہے یہ سن کر اور بڑے شریف کی اس سادہ دلی پر کہ عوام کو تو چالاکیوں کا کافی عرصہ سے پتہ تھا وہ تو آپ کے بیدار ہونے کا انتظار کر رہی تھی کہ کب آپ کی آخری امید پنجاب حکومت ختم ہو اور کب آپ عدلیہ کی آزادی کے لیے ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگیں اور بیچارے وکلا کو بھی بھرپور مدد میسر ہو جو دو سال سے زائد عرصہ سے اس اصولی موقف کے لیے سختیاں اور گرفتاریاں برداشت کر رہے ہیں۔

زورداری نے بھی مشرف کی آٹھ سالہ غلطیوں کو ایک سال میں ہی کر گزرنے کا مشکل ہدف پورا کرکے شریفوں کو سچوں کے ساتھ ہونے کا ایک سنہری موقع فراہم کر دیا اور چار و ناچار شریفوں کو عوام اور وکلا کے موقف کا کھل کر ساتھ دینا پڑ رہا ہے جو قوم پر فی الحال تو ایک کڑا وقت ہے مگر اس طرح کی مشکلات برداشت کرکے ہی قوم صحیح راستے پر چل سکے گی۔ جیو بھی اس اثنا میں قائد اعظم کی سنہری تقریریں ڈھونڈ ڈھانڈ کر قوم کو دن رات سنا رہا ہے اور ساتھ ساتھ زورداری کے وعدے یاد دلا رہا ہے جو سب کو بیوقوف سمجھتے ہوئے یا سب کی یاداشت گولڈ فش جیسی سمجھ کر تھوک کے حساب سے زورداری نے کیے  تھے اور اب دن رات جیو پر سننے کو ملتے ہیں جس کی وجہ سے بھلائے نہیں بھولتے۔ ایک سال کی مختصر مدت میں وعدہ خلافیوں کا ریکارڈ توڑنےکا اعزاز اب یقینا زورداری صاحب کے پاس ہی ہیں مگر افسوس کہ شریفوں نے اب اس ریکارڈ کو مزید بہتر بنانے کا موقع فراہم کرنے سے انکار کر دیا ورنہ زورداری صاحب اب بھی مفاہمت اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ ویسے داد دینی پڑتی ہے کہ اتنی مفاہمت اور مذاکرات کے بعد بھی زورداری تھکتے نہیں اور مزید مذاکرات کی دعوت پر دعوت دیئے جاتے ہیں اور تمام مسائل کا حل مذاکرات اور مفاہمت میں ہی ڈھونڈتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ مذاکرات میں بیٹھ بیٹھ کر اور مفاہمت کر کے شریفوں کی کمر میں درد شروع ہو گیا ہے اور لوگ اب انہیں ہمہ وقت مائل بہ مفاہمت ہی سمجھنے لگے تھے جس سے جان چھڑانے کے لیے انہیں اب مفاہمت سے پہلے عملی اقدامات کی ضرورت محسوس ہونا شروع ہو گئی ہے۔  باتیں لمبی ہو جائیں گی مگر چند مضحکہ خیز اور ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جانے والے حکومتی لطیفوں پر پوسٹ ختم کرتا ہوں۔

 

زورداری صاحب کو گلی گلی میں گالیاں دی جارہی ہیں اور وہ پھر بھی مفاہمت کے لیے تیار ہیں ۔ ایوان صدر ( حد ہے مفاہمت کی بھئی )

 

ججوں کی بیٹیوں پر جعلی کیسز بنائے جائیں گے تو پھر حالات تو خراب ہوں گے ۔ رحمان ملک ( اس پر ایک زوردار قہقہہ بنتا ہے )

 

بلاول ہاؤس کے ترجمان اعجاز درانی نے کہا ہے کہ جیو نیوزکی نشریات صدر آصف علی زرداری کے حکم پربند نہیں ہوئی (یہ ان کے بھوت نے بند کروئی ہیں) ۔ ان کا کہنا تھا کہ جیو کی نشریات بند کرانے میں ضیا کی باقیات(کمال ہے باقیات کہاں کہاں پہنچ گئی ہیں اور کتنی بااثر بھی)  ملوث ہیں۔ جیو نیوز کو آزادی صحافت کے خلاف کام کرنے والوں نے بندکرایا (زورداری اور تاثیر نے تو یہی تو کہہ رہے ہیں سب) ۔ اعجاز درانی نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی خود آزادی صحافت کی حامی ہے اور اس کے لئے ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں ( اس لیے اب وہ ساری قربانیاں برابر کرنے کا حق بھی رکھتی ہے )۔

 

اس اثنا میں شیریں رحمان کے استعفی کی خبر سن کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ ایک وزیر کا ضمیر تو زندہ نکلا۔

مکمل تحرير پڑھيے »

حیرت ہے اردو بلاگران نے بش کے جوتے پر کوئی بلاگ نہیں لکھا یا شاید میری نظر سے نہیں گزرا حالانکہ ایسا تاریخی واقعہ میری نظر سے تو کم از کم نہیں گزرا اگر کسی کی نظر سے گزرا ہو تو مجھے ضرور مطلع کرے۔ سب سے پہلے تو اس دلچسپ واقعہ کی ویڈیو ملاحظہ کر لیں کیونکہ اس کے بغیر گفتگو کا لطف ادھورا رہے گا۔

 

اس کے علاوہ یوٹیوب پر جا کر شو اٹیک ٹائپ کریں اور بے شمار ویڈیو بمع ری مکس کے ملاحظہ کریں اور بش کے الوداعی عراقی دورے کا آنکھوں دیکھا عبرت ناک حال دیکھیں۔ جیو نے اس پر ایک کارٹون شو منتر بنایا ہے جس میں نور المالکی کی جگہ مشرف ہے اور کہتا ہے کہ

 

کوئی جوتے سے نہ مارے مرے دیوانے کو

 

بش پر جوتے برسانے والے البغدادیہ ٹی وی کے عراقی صحافی کا نام منتظر الزیدی ہے جسے عرب دنیا میں نئے ہیرو اور مجاہد کا درجہ دیا جا رہا ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ منتظر نے ہزار خودکش حملہ آوروں سے بڑھ کر کام کیا ہے اور عراقی عوام کی نفرت اور غصہ کی ترجمانی کی ہے۔ جوتا پھینکنے سے پہلے منتظر نے کیمرہ مین سے کہا تھا کہ غلامی کی زندگی سے شہادت کی موت کہیں بہتر ہے۔ صدر بش پر اپنا جوتا پھینکتے ہوئےکہا:

’ کتے، عراقی عوام کی جانب سے الوداع۔‘

بش نے کمال مہارت سے جھک کر خود کو جوتا لگنے سے بچا لیا مگر منتظر نے بھی دوسرا جوتا تیار رکھا ہوا تھا اور عرب بلاغت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے  دوسرا جوتا بش کی طرف پھینکا اور کہا 

’یہ عراقی بیواؤں، یتیموں اور عراق کے تمام ہلاک شدگان کی طرف سے ہے۔‘

شومئی قسمت کہ دوسرا جوتا بھی بش کو نہیں لگا گو کہ دوسری دفعہ بش جھکا نہیں، شاید اسی دن کے لیے بش  نے بیس بال سیکھی تھی۔ دوسری دفعہ بش نے ہاتھ آگے کیا اور نور المالکی نے بھی بے دلی سے ایک ہاتھ آگے کرکے جوتا روکنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد سیکورٹی گارڈز نے صحافی کو قبضہ میں لے لیا اور تا حال کسی سے ملنے نہیں دیا اور متضاد خبروں کے مطابق صحافی کی پسلیاں اور ہاتھ کی ہڈی توڑی گئی ہے۔ عراقی انتظامیہ کے مطابق صحافی بالکل ٹھیک  ہے اور اس کا مقدمہ عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔

بش کی ڈھٹائی دیکھیے کہ اس واقعہ کے فورا بعد فرمایا

 

’میں اتنا بتا سکتا ہوں کہ جوتے کا سائز دس تھا۔‘

واقعی دس نمبری جوتا ہی ہوگا جو دو کوششوں میں بھی نہیں لگا۔

سی این این ، ایم ایس این بی سی اور دوسرے کئی ممتاز امریکی نیوز چینلز نے بھی اس واقعہ کو خصوصی کوریج دی اور بار بار جوتا پھینکے جانے کا کلپ دکھایا۔ سی این این کی سائٹ پر اس لنک میں چند ویڈیوز ہیں جن میں بش کا انٹر ویو ہے اور جوتا پھینکے جانے کے متعلق چند سوالات بھی جن میں بش نے کہا کہ میرے پاس زیادہ وقت نہیں تھا کسی بھی چیز پر رد عمل کے لیے میں جھک کر جوتے کو جھانسہ دے رہا تھا۔ بش کا یہ بھی کہنا تھا کہ انتظامیہ کو بہت زیادہ رد عمل نہیں دکھانا چاہیے اور یہ میری صدارت  کا عجیب ترین واقعہ ہے ساتھ ہی اسے بھی اپنا کارنامہ بتایا اور مزید کہا کہ آزاد معاشرہ جنم لے رہا ہے اور آزاد معاشرہ ہماری سیکوریٹی اور امن کے لیے ضروری ہے۔ ایک بہت ہی دلچسپ ویڈیو اسی لنک پر ہے جس میں امریکہ میں اس واقعہ کے بارے میں لوگوں کے تاثرات ہیں اور ساتھ کچھ ویڈیو کاریگری بھی ہے۔ ویڈیو کا نام ہے

shoe-icide attack  ویڈیو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

ونیزویلا کے صدر ہیوگو شاویز نے منتظر کو بہادر شخص قرار دیا ہے اور یہ کہتے ہوئے ہنسی چھپائے نہیں چھپتی تھی۔ سعودی عرب کے ایک باشندے نے جوتے کی قیمت ایک کروڑ ڈالر رکھی ہے۔ تحریک انصاف نے بھی دس لاکھ کی بولی دی ہے۔بش کی صدارت پر بہت تبصرے اور تجزیے ہوں گے مگر جو مکمل اور بھرپور تجزیہ اور تبصرہ منتظر الزیدی نے جوتوں کی شکل میں کر دیا ہے وہ شاید کوئی اور نہ کرسکے۔

جاتے جاتے بش کو اپنی صدارت پر مکمل اور جاندار تاثرات مل گئے ہیں دو جوتوں کی شکل میں جسے پوری دنیا میں سراہا گیا ہے کہ بش اسی لائق تھا۔

مکمل تحرير پڑھيے »

29 جنوری کے اخبارات سے چند سیاسی و غیر سیاسی لطیفے 

دفتر خارجہ کے ترجمان ایم صادق نے کہا ہے کہ امریکہ میں عبدالستار ایدھی سے پاکستانی پاسپورٹ لئے جانے اور تفتیش کا سختی سے نوٹس لیا گیا ہے اور واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے امریکی حکام سے رابطہ بھی کیا ہے۔

یقینا اس رابطے کے بعد امریکی حکام کی نیندیں اڑ گئیں ہوگی اور وہ اس وقت کو کوستے ہوں گے جب انہوں نے امریکہ میں عبدالستار ایدھی کا پاسپورٹ لے کر انہیں ایک طرح سے قیدی بنا لیا تھا۔ فی الفور ہی معافی مانگ کر عبدالستار ایدھی کا پاسپورٹ عزت اور احترام کے ساتھ آئندہ ایسی گستاخی نہ کرنے کا وعدہ کرکے واپس  کر دیا جائے گا۔

امریکہ پاکستان میں کبھی کارروائی نہیں کرے گا، صدر مشرف

صدر جنرل پرویز مشرف نے لندن میں بیٹھ کر کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں کبھی کارروائی نہیں کرے گا اور یہ سب باتیں میڈیا کی پھیلائی ہوئی ہیں۔ میڈیا واقعی بہت دریدہ دہن اور گستاخ ہے اور بلاوجہ کبھی باجوڑ میں امریکی میزائل چلانے کی کبھی کوئی مدرسہ اڑانے کی خبر پھیلا دیتا ہے اور کبھی امریکی صدارت کی دوڑ میں شریک امیدواروں کے پاکستان پر حملے کے بیانات پھیلا دیتا ہے جو یقنیا ملک دشمنی کے مترادف ہیں بھلا ہمیں اپنے صدر پر یقین کرنا ہے یا جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے آزاد ہوئے میڈیا کی پھیلائی ہوئی باتوں کی جو سراسر حکومت کی مخالف میں اور انہیں حکومت سے خدا واسطے کا بیر ہے۔

صدر مشرف کا دورہ یورپ

یورپ کا میاب دورہ کرنے کے بعد صدر نے کہا کہ انہوں نے عالمی برادری کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے ( یہ درست سمت صرف صدر صاحب کو ہی معلوم ہے پوری قوم اس سمت کو ڈھونڈنے کی کوشش میں ہے) ۔

بعض قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی پر قابو پانے میں کامیابی ہورہی ہے اور ملک میں اقتصادی استحکام بھی برقرار ہے ۔ ( استحکام کے اصطلاحی معنوں کے لیے آپ کو مشرف لغت دیکھنی کی ضرورت ہوگی)

پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں ( ابھی انہیں کتنا کامیاب ہونا ہے )

۔ صدر نے کہا کہ ملک میں تمام ادارے ( جو صدر کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں ) معمول کے مطابق کام کررہے ہیں

۔ اٹھارہ فروری کو شفاف ، منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کرائے جائیں گے (شفاف ، منصفانہ اور آزادنہ کے معنی بھی آپ کو مشرف لغت سے ہی دیکھنے پڑیں گے) اور نئی حکومت کے قیام کا عمل کسی رکاوٹ کے بغیر مکمل ہوجائے گا۔

صدر پرویز مشرف نے امید ظاہر کی کہ آئندہ حکومت اعتدال پسند اور مستحکم ہوگی ۔ ( اگر اعتدال پسند نہ ہوئی تو صدر صاحب کو اعتدال پسند بنانے کے مجرب نسخے آتے ہیں اس لیے پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں)۔

صدر مشرف کی پیرس میں اسرائیلی وزیر دفاع سے اتفاقیہ ملاقات

دونوں رہنما ایک ہی ہوٹل میں ٹھہرے تھے اور ان میں اتفاقیہ طور پر آمنا سامنا ہوگیا اور جب آمنا سامنا ہو ہی گیا تو پھر رسما ایک دوسرے سے بات چیت کرنی پڑی اور اخلاقیات نبھانی پڑیں۔ اگلے روز صدر صاحب کو مزید اخلاقیات کا خیال آیا اور انہوں نے ایہود بارک کو ملاقات کی اتفاقی دعوت دے دی جو اتفاق سے انہوں نے قبول کر لی۔ یہ اتفاقیہ ملاقات جو دعوت میں بدل گئی وہ ایک گھنٹہ جاری رہی۔ اس اتفاقیہ ملاقات میں ایہود بارک نے اتفاقا ایران کے نیوکلئیر پروگرام کی بات چھیڑ دی اور اس پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اس کے بعد اتفاقیہ طور پر پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کے عدم تحفظ پر بھی مسلسل تشویش کا اظہار کرتے رہے جس پر صدر نے انہیں یقین دلایا کہ یہ ہتھیار اتفاقی طور پر بھی کسی کے ہاتھ نہیں لگ سکتے جس پر دونوں نے اتفاق کا اظہار کیا کم از کم صدر صاحب نے تو کیا۔

صدارتی ترجمان نے بتایا ہے کہ صدر مشرف اور اسرائیلی وزیر دفاع میں نہ تو کوئی ملاقات ہوئی اور نہ کوئی اتفاق اور نہ کوئی اتفاقیہ بس دونوں نے کھڑے کھڑے سلام دعا کیا اور اپنی اپنی راہ لی البتہ برا ہو میڈیا کا جس نے یہ سب باتیں پھیلا دی ہیں۔

نصیبو لال نے کہا ہے کہ عوام اس بات کو سمجھیں کہ غیر اخلاقی گانے گانا میری مجبوری ہے۔

عوام کو سمجھنا چاہیے کہ نصیبو لال اپنی خوشی سے یہ گانے نہیں گاتی بلکہ یہ مجبوری کا سودا ہے بالکل ویسے ہی جیسے صائمہ خان اور دوسری سٹیج کی رقاصائیں باامر مجبوری غیر اخلاقی رقص پیش کرتی ہیں یقینا وہ بھی پروڈیوسر صاحبان کی فرمائش پر ہے اور فنی مجبوریوں کو پیش نظر رکھنا پڑتا ہے مگر عوام کی بھی کوئی کل سیدھی نہیں وہ غیر اخلاقی چیزیں بھی چاہتے ہیں اور مجبوریاں بھی نہیں سمجھنا چاہتے۔

 

مکمل تحرير پڑھيے »

یہ کالم فاطمہ بھٹو نے جنگ میں اپنی پھوپھو بینظیر بھٹو کے لیے لکھا ہے اور میرا خیال ہے بینظیر بھٹو پر لکھے جانے والے کالموں میں ایک بہترین کالم ہے۔

اپنی مرحومہ پھوپھی سے میرے تعلقات کی نوعیت کافی پیچیدہ تھی۔ یہ بہرطور ایک حقیقت ہے ایک افسوسناک حقیقت !!! یہ بھی ایک بدیہی حقیقت ہے کہ گزشتہ پندرہ برس کے دوران ہم نے دوستوں یا رشتے داروں کی طرح ایک دوسرے سے قطعاً کوئی سلوک نہیں کیا۔ یہ پندرہ برس کا عرصہ ہم نے ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہ کر بسر کیا تھا تاہم اس ہفتے میں نے بھی انہیں باندازِ دگر یاد کرنے کی کوشش کی اور خواہش کی ہے۔ میں انہیں ایک مختلف طریقے سے یاد کرنا چاہتی ہوں کیونکہ مجھے ایسا ہی کرنا ہو گا۔ یہ ملک جو میرا وطن ہے اور جس پر میرا ایمان غیر متزلزل ہے میں اس ایمان کو کبھی کھونا نہیں چاہوں گی۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ انہیں بغیر کسی سبب اور وجہ کے قتل کیا گیا ہے۔ تشدد اپنی خالص شکل میں کس قدر سفاک اور ناقابل معافی ہوتا ہے۔ میں اب بھی اس صورت حال کو ذہنی طور پر تسلیم کرنے سے قاصر ہوں۔ بہر صورت مجھے اپنی مرحومہ پھوپھی کو الوداع تو کہنا ہی ہو گا۔ ایک ایسا الوداعیہ جسے اشکوں سے تحریر کیا گیا ہے، جس میں شدید غم و غصہ بھی شامل ہے لیکن جو ایک ایسے مقام سے پیش کیا جا رہا ہے، جو بے حد دور افتادہ ہے اور جسے حافظے اور معذرت خواہی کے جذبے کے ساتھ خلط ملط بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ایسی جگہ ہے جہاں کسی اور وقت ہم سب محفوظ تصور کئے جا سکتے تھے۔ جب میں ننھی منی سی بچی تھی تو اپنی پھوپھی کو بڑی بوا ( سندھی زبان میں وڈی بوا ) کہہ کر مخاطب کیا کرتی تھی جو سندھی افراد اپنے والد کی بڑی بہن کو کہتے ہیں۔ جب مجھے یہ خبر ملی کہ میری بڑی بوا کو کچھ ہو گیا ہے تو مجھے بڑا تعجب ہوا کیونکہ یہ ایک ایسا تاثر تھا جو میں نے اس سے پہلے اتنی طویل مدت کے دوران کبھی نہیں سنا تھا چنانچہ ٹیلی ویژن پر جب میں نے یہ خبر سنی تو مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی اور کے بارے میں یہ خبر سن رہی ہوں۔ مجھے دفعتاً ایک ایک کر کے سب ہی واقعات یاد آنے لگے۔ ہم دونوں مل جل کر بچوں کی کتابیں پڑھا کرتے تھے۔ ہمیں ایک ہی طرح کی مٹھائیاں بھی پسند تھیں۔ خشک میوہ اور پھل بھی ہمیں ایک جیسے ہی پسند تھے۔ ہم دونوں کے کان میں تکلیف کی نوعیت بھی مشترک تھی جس کے نتیجے میں ہم دونوں کئی برس تک شدید اذیت میں مبتلا رہے۔ بہرطور اس سے قبل میں نے ایسا مضمون نہیں لکھا جسے تحریر کرنا مجھے تقریباً نا ممکن سا لگ رہا ہو۔ اس کے باوجود ہم ایک دوسرے سے کافی مختلف تھیں۔ لوگ ہمیں ایک دوسرے سے ملانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں غالباً وہ جبلی طور پر ایسا کرتے ہیں اور کر سکتے ہیں لیکن میرے لئے یہ بے حد دشوار ہے کہ میں بیک وقت دو ایسے افراد کے بارے میں لکھ سکوں جن میں سے ایک کے لئے مجھے صیغہٴ ماضی اور دوسرے کے لئے صیغہٴ حال استعمال کرنا پڑے۔ بالخصوص اس وقت جب ایک فرد کی شخصیت دوسرے کو حیرت زدہ ہو کر یہ سوچنے پر مجبور کر دے کہ واقعی زمانہٴ حال یا زمانہ ماضی کا کوئی حقیقی وجود ہے بھی یا نہیں ؟؟؟ مجھے اپنی مرحومہ پھوپھی کی سیاست سے کبھی اتفاق نہیں رہا۔ جی ہاں۔ کبھی نہیں، مجھے ان لوگوں سے بھی قطعاً کوئی اتفاق نہ تھا، جو انہیں ہر وقت گھیرے رہتے تھے۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر مجھے کراہت محسوس ہوتی تھی۔ واقعات اور حالات کی جو تعبیر اور تفسیر وہ بیان کرتی تھیں اس سے بھی مجھے کوئی اتفاق نہیں رہا۔ تاہم یہ باتیں اور اختلافات ان کی زندگی تک تھے لیکن اب وہ ہمارے درمیان موجود نہیں رہیں۔ موت ہمیں سکون اور اطمینان کے ساتھ سوچنے کا پیغام دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے، جو ہمیں ٹھنڈے دل کے ساتھ چیزوں پر غور کرنے کا موقع دیتا ہے۔ موت ہمیں بتاتی ہے کہ بس !!! بہت ہو چکا۔ ہم آپس میں کافی لڑ بِھڑ چکے اب ہم مزید پاگل پن کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ میں اپنے خاندان کے ساتھ ہونے والے المناک واقعات کا سوگ منا رہی ہوں۔ میرا دل بلاول، بختاور اور آصفہ کے لئے رو رہا ہے۔ میں ان کے رنج و غم میں برابر کی شریک ہوں کیونکہ وہ میرے مرحوم والد کی حقیقی بہن تھیں۔ انہیں بھی میں اپنے والدین جیسا ہی سمجھتی تھی۔ میں ایسے تجربے سے گزر چکی ہوں، جب کوئی سمندر کی لہروں میں گم ہوتا ہوا محسوس کرتا ہے جہاں صرف خوف اور بے بسی ہی اس کے ساتھ ہوتے ہیں مجھے اس جانکاہ صدمے کا بڑا تلخ تجربہ ہو چکا ہے۔ میں پارٹی کے کارکنوں کے لئے بھی افسردہ ہوں جو اس المناک حادثے میں اپنے پیاروں سے محروم ہو چکے ہیں۔ جب کوئی اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اس کے عزیز، رشتے دار اور احباب سب ہی مساجد، گرجا گھروں اور مندروں میں جمع ہو کر اس کے لئے دعائے خیر کرتے ہیں اور رنج و امید سے بھرے حمدیہ کلمات ادا کرتے ہیں۔ ابھی تک کوئی ایسی حمد نہیں لکھی گئی جو غم و غصے یا احساس محرومی کو ظاہر کرتی ہو۔ یہ لمحات بھی بالآخر بیت جائیں گے۔ وقت بہت بڑا مرہم ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب ہمیں کیسی حمد گانا ہو گی؟؟ ایک ایسی حمد جس میں اداسی اور افسردگی کے بعد سورج نمودار ہوتا ہے۔ ہر رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کس چیز کے لئے پُر امید ہو سکتے ہیں؟؟ صبح کو بیدار کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہو گا؟ میں اپنے قارئین کے ساتھ ہمیشہ نہایت دیانتدار رہی ہوں۔ میں نے ان سے کبھی اپنے دل کی بات نہیں چھپائی۔ اس کا اظہار میں نے شروع ہی میں ان سے کر دیا تھا۔ میں پوری ایمانداری اور سچائی سے اس بات کا اظہار کرنا چاہتی ہوں کہ میرا نقصان کم نہیں ہوا۔ میں اب تک صدمے کی حالت سے باہر نہیں آ سکی۔ میں صدمے کی حالت میں ہوں کیوں کہ اب تک میں نے اپنے جتنے پیاروں کو مٹی میں دفن ہوتے دیکھا ہے ان سب کی ہلاکت غیر قدرتی طریقوں سے ہوئی تھی۔ ان میں سے کوئی بھی اپنی قدرتی موت نہیں مَرا۔ میرے چار انتہائی قریبی اور نزدیکی عزیز رشتے دار، جنہیں مٹی کے سپرد کیا گیا ، سب کے سب وحشیانہ اور سفاکانہ قتل کا نشانہ بنے ہیں۔ میں اپنے دادا ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کے پانچ برس بعد پیدا ہوئی تھی۔ میں نے اپنے دادا کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والے خلاء میں جنم لیا تھا چنانچہ اپنے مرحوم والد میر مرتضیٰ علی بھٹو کے نزدیک میں ان کے لئے نئی زندگی کی نوید تھی۔ میں اپنے مرحوم دادا کی تقاریر سن کر بڑی ہوئی اور ان کے ویڈیو کیسٹ بھی میں نے دیکھے ہیں۔ جب میرے دادا کو شہید کیا گیا تھا تو میرے والد ابھی نوجوان ہی تھے اور یہ صدمہ ان کے آخری سانس تک، ان کے ساتھ ہی رہا تھا۔ وہ اپنے والد کی جدائی کے غم سے کبھی آزاد نہ ہو سکے تھے۔ جب میرے چچا شاہ نواز بھٹو کا پیرس میں قتل ہوا تو میں فقط تین برس کی تھی۔ مجھے یاد ہے اس موقع پر میری بڑی بوا نے میرے ساتھ بیٹھ کر مجھے کہانیاں سنائی تھیں۔ خاندان کے دیگر افراد اس سانحے کے بارے میں پولیس سے گفت و شنید میں مصروف تھے۔ چودہ برس کی عمر کو پہنچی تو یوں سمجھ لیں میری زندگی کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ میں اپنے قلب اور اپنی روح سے محروم ہو چکی تھی۔ میرے پیارے والد میر مرتضیٰ علی بھٹو کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔ اس لمحے کے بعد سے میں صرف اور محض اپنی شخصیت اور وجود کا ایک سایہ بن کر رہ گئی ہوں اور اب جب میری عمر پچیس برس ہے تو میری بڑی بوا کو مجھ سے چھین لیا گیا۔ بہرحال یہ مضمون میری ذات کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کی یاد میں لکھا گیا ہے جو مجھ سے بچھڑ چکے ہیں۔ یہ ہمارے آبائی قبرستان گڑھی خدا بخش کے بارے میں ہے جو لمحہ بہ لمحہ قبروں سے بھرتا چلا جا رہا ہے۔ میری دعا ہے کہ کاش یہ آخری میت ہو اور ہمیں آئندہ کسی کو اتنی جلد الوداع نہ کہنا پڑے۔ الوداع بڑی بوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الوداع

مکمل تحرير پڑھيے »

لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر دل آج اداس ہے گو دل کو یہ خبر متوقع تھی مگر ایک انہونی ہونے کا انتظار تھا مگر وہ انہونی نہیں ہوئی کیونکہ ہونی جو ہونی تھی۔ آج پھر ایک افسوسناک دن رہا ، جنرل مشرف اپنی ق لیگ کے سر پر پھر سے صدر منتخب ہو گئے اور بے حمیت مسلم لیگ نے جو اپنی مثال آپ ہے کہ ایک باوردی صدر کو منتخب کروانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتی ہے۔ نیب زدگان کا یہ ٹولہ جس کی کرپشن کی فائلیں کھلی پڑی ہیں صرف مشرف کی کرپشن کی چھاؤں تلے ہی زندہ رہ سکتے ہیں اور اب تو اس رسم کو قانونی شکل دینے کے لیے پیپلز پارٹی نے بھی اپنا کلیدی کردار ادا کر دیا ہے۔ بینظیر نے بالآخر اپنے کرپشن کے مقدمات واپس کروا ہی لیے بلکہ صرف اپنے ہی نہیں پوری پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم ، مسلم لیگ ق اور جتنے جملہ لٹیرے ہیں ان سب کو قانونی تحفظ فراہم کیا ہے قومی مفاہمت بل کے نام پر جو بجا طور پر عوام میں لوٹ مار مفاہمتی بل کے طور پر جانا جا رہا ہے۔ اس تحفظ لوٹ مار کے بل کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے خلاف مقدمات واپس لے لیے جائیں گے اور آئیندہ بھی ان پر براہ راست مقدمہ نہیں بنایا جا سکے گا یعنی چوروں نے مل جل کر اب چوری سینہ زوری کی روایت کو اپناتے ہوئے ڈکیت بننے کا فیصلہ کیا ہے اور پوری قوم کو یہ پیغام دیا ہے کہ ہمیں نہ تو کسی کا ڈر ہے اور نہ ہم میں امانت دیانت کی کوئی رمق باقی رہی ہے ہم اگر پہلے ڈھکے چھپے معنوں میں کرپشن اور چوریاں کیا کرتے تھے تو اب سرعام کیا کریں گے اور اسے قانونی شکل بھی دے رہے ہیں اگر عوام میں ضمیر نام کی شے باقی ہے تو ہمیں اس سے روک لے۔
اس بل کو لاہور عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے اور ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل نے اسے اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف قرار دیا ہے۔ صدر مشرف کو کامیاب کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے بینظیر اور مولانا فضل الرحمان نے جن کی حرکتیں کسی سے پوشیدہ نہیں اور اب تو بہت ہی واضح طور پر بغیر دکھاوے کے صرف اور صرف اپنے مفادات کی سیاست کر رہے ہیں۔ ملک کی عدلیہ کا امتحان ہے ١٧ اکتوبر کو ، یا تو وہ تاریخ ساز فیصلہ دے کر باوردی صدر کا راستہ روک سکتی ہے یا قوم کو ایک اور غلط فیصلے کے ذریعے زیر بار کرکے آئیندہ کے لیے مزید مشکلات کھڑی کر سکتی ہے جس کا خمیازہ شاید کئی نسلوں کو بھگتنا پڑے۔ ایک بری روایت کو پیدا ہونے سے پہلے روک سکتی ہے اور اپنے ماضی کے داغ بھی دھو سکتی ہے۔ صورتحال کشیدہ اور پریشان کن ضرور ہے مگر ناامیدی کی ہرگز نہیں کہ جدوجہد اور آمریت کے خلاف تحریک جاری رہے گی اور بالآخر عوام کی مرضی مسلط ہو کر رہے گی۔

غم کی شام لمبی سہی شام ہی تو ہے ۔

مکمل تحرير پڑھيے »

آج ایک دفعہ پھر حکومت نے ننگی جارحیت اور بدترین ریاستی تشدد کا مظاہرہ کیا جو اس حکومت کی عادت بن چکی ہے جہاں حکومت کو مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں وہ مخالفین کو دبانے ، ہراساں کرنے اور مارنے پر اتر آتی ہے۔ یہ کام نو مارچ کے بعد چیف جسٹس کی حمایت میں کئی جلسوں میں ہوا ، جیو کے دفتر پر حملہ ہوا ، لاہور ہائی کورٹ پر بکتر بند گاڑیاں چڑھا کر اور آنسو گیس سے ہائیکورٹ کو گھیرے میں لے کر پورا دن ریاستی تشدد ہوتا رہا۔ ١٢ مئی کو چیف جسٹس کراچی گئے تو وہاں ایم کیو ایم اور حکومت نے مل کر ٤٣ لوگوں کے خون سے کراچی کو سرخ کیا اور اسی دن اسلام آباد میں حکومتی اراکین بشمول چوہدری شجاعت ، مشرف رات کو میلہ لگایا ،بھگنڑے ڈلوائے اور کہا کہ عوام نے اپنی طاقت کا اظہار کیا ہے اور کراچی میں بھی عوام نے طاقت دکھائی ہے۔
آج ٢٩ ستمبر کو وکلاء چیف الیکشن کمیشن میں اپنا احتجاج رقم کروانا چاہتے تھے مشرف کے کاغذات نامزدگی کی توثیق پر اور قوم کی مایوسی کی ترجمانی کرنا چاہتے تھے مگر بے حوصلہ اور غنڈہ حکومت سے یہ بھی برداشت نہ ہوا اور آج انہوں نے ایک بار پھر تشدد اور جارحیت کی راہ اپنائی جو اب اس حکومت کی پہچان بن چکا ہے۔ گجرات کے دو غنڈے جو اب وزیر اعلی پنجاب اور مسلم ق کے صدر ہیں انہوں نے سفید لباس میں غنڈے منگوا کر صحافیوں اور وکلا پر وحشتناک تشدد کیا ، اعتزاز احسن اور علی احمد کرد جنہوں نے چیف جسٹس کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا ان دونوں کو بیدردی سے مارا اور وحشت کا یہ شرمناک کھیل کئی صحافیوں کے ساتھ بھی کھیلا۔ پنجاب کے سب سے بڑے غنڈے وزیر اعلی پرویز الہی (سندھ میں عشرت العباد اور دہشت گرد تنظیم ایم کیو ایم کو نافذ کیا ہوا ، بلوچستان اور سرحد میں فوج کو مامور کیا ہے دہشت گردی کے لیے ) نے اپنی فرعونیت دکھاتے ہوئے گاڑی صحافیوں اور وکلا کے ساتھ ٹکرا کر نکلوائی اور ایک بوڑھے کے پاؤں کے اوپر سے رعونت کے ساتھ گاڑی گزار دی۔ اعتزاز اور علی کرد کو خصوصیت

29 صحافی زخمی ہوئے ہیں جن میں ایک ICU میں ہے اور اسے اب تک ہوش نہیں آئی۔

آج ، اے آر وائی ، جیو ٹی وی کی نشریات معطل رہیں۔

حکومت کا نعرہ رہا ہے کہ آزادی اظہار جو پہلے کبھی نہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واقعی کبھی کسی ایک دن میں اتنے صحافی اتنی بیدردی سے زود کوب اور پولیس تشدد کا شکار ہوئے۔ لٹا لٹا کر صحافیوں کو مارا گیا ، وزیر اعظم اندر الیکشن کمیشن میں موجود تھے اور بے حمیتی کی تصویر بنے مجرمانہ غفلت برتے رہے۔ کئی صحافیوں کے سر پھٹ گئے ، کئی صحافیوں کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور کئی بیہوش ہوئے۔
آئی جی صاحب خود مارنے کا کام کر رہے تھے اور باقاعدہ بتا رہے تھے کہ اس صحافی کو مارو ، علی کرد کو مارو ، صحافی اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں انہیں صحیح سبق سکھاؤ۔

آنسو گیس کے تین شیل پھینکے گئے اور بغیر اشتعال کے جس سے بہت سے لوگ زخمی ہوئے۔

ایک فارن ٹیلی ویژن کے کیمرے کو بھی توڑنے کی کوشش کی گئی ، جس صحافی کا کیمرہ توڑنے کی کوشش کی گئی اس سے جب پوچھا گیا کہ ایسے حالات کا سامنا انہیں دنیا میں اور کہاں کرنا پڑتا ہے تو جو جواب صحافی نے دیا اس کے بعد پاکستان کا جو تاثر ابھرا وہ انتہائی شرمناک تھا۔ صحافی کے مطابق ایسا اب صرف چار جگہ ہوتا ہے

نیپال
برما
مقبوضہ کشمیر
پاکستان

اس میں تین جگہ حالات ایمرجنسی جیسے ہیں اور چوتھا ملک پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شرم اگر ہو حکومت کو تو چلو بھر پانی میں ڈوب کر مر جائے مگر شرم تو انہوں نے بیچ کر کھا لی ہے وہ کہاں سے آئے۔

٢١ صحافی مشرف کے دور میں مارے گئے
١٠٠ واقعات ایسے ہوئے ہیں جن میں صحافیوں کو بری طرح سے مارا گیا ہے ۔

ایسا کبھی ایوب اور ضیا کے گیارہ سالہ دور میں بھی نہیں ہوا۔ خدارا اب جو لوگ یہ کہتے تھکتے نہیں تھے کہ اس گورنمنٹ نے صحافت کو آزادی دی ہے وہ اللہ سے معافی مانگیں اور اپنی اس رائے سے رجوع کرلیں ورنہ قیامت کے دن اللہ کے پاس کیا منہ لے کر جائیں گے۔

مشرف اور تمام حکومتی عہدیدار شرم کرو کچھ شرم کرو آخر یہ اقتدار کا سورج غروب بھی ہونا ہے۔

چیف جسٹس صاحب آپ کہاں سوئے پڑے ہیں ، اعتزاز ، علی کرد وہ لوگ ہیں جنہوں‌ نے دن رات ایک کرکے آپ کو دوبارہ بحال کروایا اور آج ان پر بدترین تشدد ہوا ہے ، آپ کو خبر ہوئی یا آپ بھی کسی مصلحت کا شکار ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ لوگوں نے آپ کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں ، خدارا انصاف کے لیے نہ سہی لوگوں کا احسان اتارنے کے لیے ہی ان لوگوں کے خلاف ایکشن لیں۔

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے

مکمل تحرير پڑھيے »

بینظیر نے اپنی روایات کو قائم رکھتے ہوئے ایک اور انتہائی خودغرضانہ اور اقتدار کی ہوس میں پاگل ہو جانے والی ایک عورت کا ثبوت دیا ہے۔ یہ بات اب کسی سے چھپی ہوئی نہیں کہ بینظیر کس قدر پست اور گر چکی ہے اور اپنے ڈیڑھ سو ارب ڈالر کے کرپشن کے کیسوں کو ختم کرنے کے لیے مشرف سے کس طرح ڈیل کے لیے مری جا رہی ہیں اور امریکہ بیٹھ کر اسرائیل اور تمام مغربی ممالک کو یہ یقین دلا رہی ہیں کہ ان کا ایجنڈا پورا کرنے کے لیے وہ سب سے زیادہ موزوں ہیں۔ نام نہاد دہشت گردی کے خلاف وہ سخت سے سخت رویہ دکھانے کی کوشش میں ہیں اور اب تازہ بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ میں عالمی انرجی کمیشن کی رسائی ڈاکٹر عبدالقدیر تک کروا دوں گی۔ بینظیر اس حد تک گر جائے گی مجھے امید نہ تھی مگر اس عورت نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور ہر شے داؤ پر لگا رکھی ہے۔ اپنے باپ کے نام پر تمام عمر سیاست کرنے والی یہ عورت اپنے بل بوتے پر ایک سیٹ بھی نہ جیت پاتی اور سیاست میں بینظیر کا کریڈٹ مسٹر ٹین پرسنٹ زرداری ، سرے محل اور کرپشن کے لمبے چوڑے کیسسز ہیں۔

اللہ ہمیں اس ہوس پرست اور انتہا سے زیادہ کرپٹ عورت سے بچائے۔ آمین۔

مکمل تحرير پڑھيے »

اگلي تحارير »