آر ايس ايس فيڈ

محفوظات برائے 'ریڈیو ، ٹی وی ، سینما' زمرہ

کافی پہلے لکھنا تھا اس موضوع پر گردش دوراں نے مہلت ہی نہ دی البتہ میں نے احتیاط اس پوسٹ کو سرخی کے ساتھ ڈرافٹس میں رکھ لیا تھا وہی آج کام آ گیا۔

نادیہ خان جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے سب سے پہلے کلیاں یا انکل سرگم کے ساتھ کسی پروگرام میں آئی تھی اور اس کے بعد اپنی صلاحیتیوں اور قابلیت کے زور پر آگے ہی بڑھتی گئی ۔ کئی عمدہ ڈرامے کیے جن میں مجھے بندھن کافی پسند ہے ، اس کے علاوہ شاید ایک ڈرامہ اڑان میگا کاسٹ کے ساتھ بھ تھا۔

اب کافی عرصہ سے نادیہ جیو ٹی وی پر صبح کا طویل دورانیہ کا ایک پروگرام کرتی ہیں جو کافی مقبول ہے اور واقعی ایک اچھا اور معیاری پروگرام ہے۔ نادیہ کافی سلجھی ہوئی باتیں کرتی ہے اور اپنے پروگرام کے ذریعے کافی لوگوں کی تربیت بھی کر رہی ہے بس ڈانس کا شوق کم کر لے تو بہت ہی عمدہ تعلیم و تربیت کا پروگرام بھی بن سکتا ہے۔  اس کے کچھ حصے تو لاجواب ہیں جیسے

 

واہ واہ پاکستان

ایک اور حصے میں ایک لڑکی دو ڈھول والوں کے ساتھ لوگوں کی غلطیوں پر انہیں پکڑتی ہے ، ان سے ان کی غلطی منواتی ہے ، انہیں پھولوں کا ہار پہناتی ہے  اور پھر اس پر ڈھول بجواتی ہے یعنی بھگو بھگو کر خطا کے پتلوں کو آن سکرین مارتی ہے۔

 

نادیہ نے پچھلے سال بہترین ہوسٹ کا ایوارڈ جیتا ہے جو کہ یقینا ایک بہت بڑا اعزاز ہے اور میں اس پر تہہ دل سے نادیہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ کوئی بھی شخص جو پاکستان کے لیے اعزاز حاصل کرتاہے ، پاکستان کا نام روشن کرتا ہے قابل احترام ہے۔

مکمل تحرير پڑھيے »

The Phanton of the Opera
یہ ناول  Gaston Leroux نے 1909 میں لکھا اور بطور ایک سیریل کے شائع کیا تھا۔ یہ ناول مصنف کے تخیل کی پیداوار ہے اور تعارف لکھتے ہوئے مصنف نے فرض کرتے ہوئے اپنے ناول کا ابتدائیہ اس طرح لکھا کہ اس نے 1880 میں پراسرار واقعات کی تحقیق کی جو کہ مشہور اوپیرا ہاؤس میں پیش آئے۔ مصنف نے یہ بھی لکھا کہ اس نے وہ بہت بڑی جھیل بھی دیکھی جہاں فینٹم چھپا رہا جہاں بہت سے لوگوں کے لاشے بھی تھے جنہیں بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ یہ کتاب بیسٹ سیلر تو نہیں بنی مگر  1925 میں اس پر ایک فلم ضرور بن گئی جو کہ مشہور بھی ہو گئی۔
Andrew Lloyd Webber نے ایک میوزیکل کہانی لکھی جو کہ   لندن میں  1986 اور پھر 1988 نیویارک میں پیش کی گئی۔  2006 تک Broadway Productions میں یہ شو Cats سے بھی زیادہ چلنے والا شو بن گیا ہے اور Broadway تاریخ میں سب سے زیادہ چلنے والا شو بن گیا ہے۔
اب تک اس میں
9100 پرفارمنس ہو چکی ہیں
10 کروڑ سے زائد لوگ اسے دیکھ چکے ہیں
25 ملکوں کے  124 شہروں میں یہ شو دیکھا جا چکا ہے اور بلاشبہ اسے تاریخ انسانی کی اعلی ترین تفریحی پڑاڈکشن کہا جا سکتا ہے

اسلام آباد میں میں نے بھی یہ شو اسلام آباد کلب میں شاہ شرابیل کی ڈائریکشن میں دیکھا تھا اور بہت لطف اندوز ہوا تھا۔

مکمل تحرير پڑھيے »

نغمہ و شعر کی سوغات کسے پیش کروں
یہ چھلکتے ہوئے جذبات کسے پیش کروں

یہ گانا میں نے پہلی دفعہ فرزانہ نیناں کی فیس بک پر پیش کردہ ویڈیوز شعر و نغمہ میں سنا اور پہلا شعر ہی اتنا اچھا لگا کہ میں نے سوچا کہ اسے ڈھونڈ کر سننا چاہیے اور جب  ڈھونڈ کر سنا تو واقعی بے حد لطف آیا۔ فرزانہ کا اپنا پروگرام نغمہ و شعر بھی بہت خوب اور فیس بک پر اس کی بہت سی ویڈیوز میسر ہیں جن میں کمال درجہ کے گرافکس ہیں اور پس منظر میں فرزانہ کی خوبصورت آواز اور گانوں کا عمدہ انتخاب۔ یوکے میں رہنے والوں کی تو آسانی ہے کہ وہ براہ راست سن سکتے ہیں البتہ یوکے سے باہر رہنے والوں کے لیے ویڈیوز اور پوڈ کاسٹ کی سہولت پیش کی گئی ہے جس سے یو کے سے بارہ رہنے والے لطف اندوز ہ ہو سکتے ہیں۔ نغمہ و شعر کی پاڈ کاسٹ کا لنک یہ ہے

نغمہ و شعر پاڈ کاسٹ ( Podcast)

اس لنک (نغمہ و شعر ٨ پارٹ ١) پر جو پروگرام کیا ہے فرازنہ نے وہ بہت عمدہ ہے اور اس میں سے ایک اقتباس لکھ رہا ہوں جسے پڑھ کر اندازہ ہوگا کہ کتنا خوبصورت پروگرام ہے۔

لگتا تھا جیسے اندر سے وہ لڑکی بھی اس کے دوست کا انتظار کر رہی ہے۔ ڈرائنگ روم سے نکل کر جب وہ بیڈ روم کے سامنے سے گزرے تو سامنے پلنگ کے قریب رکھے جوتے دیکھ کر لڑکی نے پوچھا یہ تمہارے دوست کے جوتے ہیں اور پھر اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر کہنے لگی
لگتا ہے یہ کسی بے سفر آدمی کے جوتے ہیں۔
نہیں نہیں اس نے جلدی سے وضاحت کی وہ بے سفر نہیں بلکہ میں اسے اکثر کہتا ہوں  تمہارے پاؤں میں  چکر ہے  وہ بہت زیادہ سفر  کرتا ہے ۔
دیکھو نہ آج بھی وہ سفر سے واپس آ رہا ہے۔
لڑکی نے اس کی بات ان سنی کرکے وارڈ روب کی جانب رخ کیا اور اسے کھول کر تھوڑا سا پیچھے ہٹی اور بولی
اس کے کپڑوں کا رنگ دیکھ کر تو لگتا ہے جیسے  وہ بے محبت آدمی ہے۔
پتہ نہیں بے محبت سے تمہاری کیا مراد ہے
اگر تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ اس سے کبھی کسی نے محبت نہیں کی تو یہ درست ہے مگر خود وہ  بے حد محبت کرنے والا ہے
کبھی کبھی میں اس سے کہا کرتا ہوں کہ تم گاؤں کی اس عورت کی طرح ہو جو کئی سالوں سے دل کی چاٹی میں وہی رڑک رہی ہے
مگر مکھن کی ایک پھٹکی بھی نہیں نکلی
مگر میری بات سن کر وہ ہمیشہ ہنس پڑتا ہے اس وقت اس کی ہنسی سے کچے دودھ کی مہک آتی ہے
وہ ابھی تک پیار کی ڈولی میں نہیں بیٹھا
وہ ایسی بات ہے جو ابھی تک بیاہی نہیں گئی
لڑکی اس کی قمیض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی
میں نے سنا ہے ایسی شکنیں عام طور پر ہٹ دھرم لوگوں کی قمیضوں پر ہوتی ہیں
ہو سکتا ہے وہ ہٹ دھرم ہی ہو
مگر اس کی قمیض پر جو شکنیں تمہیں نظر آ رہی ہیں وہ اداسی کی ہیں
اس کی زندگی بھی اس کی قمیض کی طرح شکنوں سے بھری ہوئی  ہے
جب بھی کوئی لڑکی اس سے ملتی ہے اس کی زندگی پر ایک نئی شکن ڈال دیتی ہے
وہ ایک ایسی کشتی کی طرح ہے جس کے بادبان میں نے کئی لڑکیوں کی آنکھوں میں کھلے دیکھے ہیں
مگر پانی کی لہریں جنہیں تم شکنیں کہہ سکتے ہو اسے دکھیل کر لڑکیوں سے دور لے جاتی ہیں
وہ بہت زیادہ انا پرست ہے اپنے آپ کو سزا دیتا رہتا ہے میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں
ہم دونوں بچپن سے پڑھتے اور کھیلتے رہے ہیں۔
آج میں نے اس کی سالگرہ منانے کا پروگرام اسی لیے بنایا ہے اور تمہیں بھی اسی لیے بلایا ہے کہ شاید ہم دونوں مل کر اس کی شکنوں سے بھری زندگی پر سے ایک ہی شکن کم کر سکیں

ویسے نغمہ و شعر والا گانا تو رہ ہی گیا ، اچھا اگلی پوسٹ میں اسے پیش کرتا ہوں.

Powered by ScribeFire.

Enhanced by Zemanta

مکمل تحرير پڑھيے »