کرپشن کی انتہا
زمرہ(جات): حالات حاضرہ | (5) آراء »
ایسا لگتا ہے مصیبتوں اور بلاؤں نے پاکستان کا مستقل رخ کر لیا ہے اور کوئی دن نہیں گزرتا کہ بری اور افسوسناک خبر نہیں ملتی اور وہ بھی تب جب انتہائی مشکل حالات چل رہے ہیں اور مزید صدموں اور سانحوں کی تاب نہیں۔ پہلے ہی مشکلات اور اعتبار کی کمی کے بحران کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا مگر شاید کہیں کوئی کسر رہتی تھی جو تازہ ترین کرکٹ اسکینڈل نے بھرپور انداز میں پوری کر دی۔ کرپشن تو ہمیشہ سے تھی اور مکمل طور پر تو شاید کبھی بھی ختم نہیں ہوگی کہ کسی ملک میں بھی مکمل خاتمہ نہیں ہوا اس موذی بلا کا۔ کرپشن بھی ایمان کی طرح گھٹی بڑھتی رہتی ہے اور محسوس یوں ہوتا ہے کہ اس وقت کرپشن اپنے عروج پر ہے جس کی ایک سادہ وجہ تو شاید کرپٹ ترین شخص کا ملک کا سربراہ ہونا ہے جس نے انتہائی دھڑلے اور بے شرمی کی حد تک کرپشن کو ہر جگہ رواج دے رکھا ہے۔ ہر جگہ دوست ، رشتہ دار تعینات ہیں جو ہر جگہ تباہی مچا رہے ہیں اور ثبوت سمیت الزامات پر بھی کسی کو فارغ نہیں کیا جائے۔ اب اعجاز بٹ ، چیئر مین پی سی بی جو کہ وزیر دفاع احمد مختار کے رشتہ دار (بہنوئی شاید) اور یاور سعید منیجر ( رضا ربانی کے سسر ) دونوں انتہائی نا اہل اور ستر ستر سال سے زائد عمر کے ہیں اور سوائے پیسے بنانے کے دونوں کو اور کوئی کام نہیں۔ قائمہ کمیٹی برائے کھیل بھی کافی چیخ چکی ہے مگر بے حسی اور بے شرمی کی انتہا ہو چکی ہے جس کی بڑی وجہ جناب آصف علی زرداری ہیں جو کہ بدقسمتی سے کرکٹ بورڈ کو بھی دیکھتے ہیں۔ امید کرنی چاہیے کہ پیپلز پارٹی اور اس کی حلیف جماعتوں کی کرپشن کو اگر ملک جھیل گیا تو ہم بدترین دور دیکھ چکے ہوں گے کیونکہ مجھے اس سے زیادہ بدعنوان اور ڈھیٹ بد دیانت لوگوں کی حکومت آگے نظر نہیں آ رہی ۔
ایک چیز جو صاف نظر آ رہی ہے وہ ہے ٹرکل ڈاؤن کرپشن ( Trickle Down ) جو اوپر سے نیچے کی طرف اس قدر تیزی سے رواں دواں ہے کہ ملکی تاریخ میں اس کی کوئی نظیر نہیں ( اور بے نظیر فائدہ ہمیشہ زرداری نے ہی اٹھایا حتی کہ مرنے کے بعد بھی محترمہ کی یہ خطا معاف ہونے میں نہیں آ رہی) ۔ کرپشن پہلے بھی تھی مگر پہلے کرپشن کا موجودہ حکومت میں پتہ نہیں چلتا تھا اور پچھلی حکومتوں کی کرپشن کی بھرپور مذمت ہوا کرتی تھی اور ان پر کیس بھی بنا کرتے تھے اور مخالفین کے پاس صرف ایک ہی جواز ہوا کرتا تھا کہ یہ محض موجودہ حکومت کی پچھلی حکومت سے دشمنی ہے جو یہ سب کروا رہی ہے ورنہ اس میں کوئی سچ نہیں اور اس بات پر انہیں کچھ شک کی گنجائش مل بھی جاتی تھی کہ واقعی دونوں ہوتے تو دشمن ہی تھے مگر کرپشن کے کیس زیادہ تر اصلی ہی ہوتے تھے اور لوگ ان پر یقین بھی کرتے تھے۔ اب موجودہ دور میں میڈیا کی آزادی سے اپوزیشن کی بجائے یہ فرض میڈیا نے سنبھال لیا اور بمع ثبوت کے کرپشن پر حکومت کی گرفت شروع کر دی ہے مگر حکومت شاید بالکل لا تعلق ہو کر یا انتہائی ڈھیٹ ہو گئی ہے اور اسے پرواہ ہی نہیں کہ ان کی حرکات کیا ہیں اور ان سے ملک کو کیا نقصان پہنچ رہا ہے۔ ایک عجیب منطق کچھ منتشر اور قنوطیت پسند لوگوں کا یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ نیچے سے اوپر تک کرپشن ہے تو پھر کچھ کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے جبکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر حاکم یا ایسے اشخاص جن کے ہاتھ میں طاقت اور اختیار ہو اور وہ اسے صحیح استعمال کریں تو مثبت تبدیلی جلد آنے لگتی ہے اور بگڑے ہوئے بھی سدھرنے لگتے ہیں اور جو نہ سدھریں وہ محتاط ہو جاتے ہیں۔
دعا ہے کہ کچھ اچھی خبریں اگلے چند دنوں میں ضرور قوم کو ملیں تاکہ کچھ تو گلشن کا کاروبار چلے