آر ايس ايس فيڈ

محفوظات برائے 'حالات حاضرہ' زمرہ

جاپان کی عملی صورت حال اور یہاں کی جامعات اور علمی تحقیقی اداروں میں ہونے علمی کاموں اور تحقیقات اور مطالعات کے بارے میں بیرون جاپان خصوصا اردو دنیا اور برعظیم پاک و ہند کے باشندوں  کو بہت علم ہوتا ہے اور وہ زبان و ادب کے تعلق سے یہاں جو سرگرمیاں مختلف صورتوں میں دیکھنے آتی ہیں اور جن کی ایک دیرینہ اور مستقل روایت کم بیش سو سالوں سے یہاں موجود ہے۔ زیر نظر سطور میں "زبان و ادب" اور پاکستان اور جنوبی ایشیا کے بارے میں یہاں ہونے والے علمی و تحقیقی مطالعات سے قطع نظر ، اسلام اور اسلامی دنیا کے تعلق سے ہونے والے تازہ مطالعات اور تحقیقی و علمی سرگرمیوں کا ایک سرسری سا جائزہ مقصود ہے۔

اگرچہ زیر نظر جائزے کا دائرہ گزشتہ چھ سات سال کی تحقیقات اور مطالعات پر مشتمل پے لیکن سرسری طور پر شاید یہ تذکرہ بے محل نہ ہوگا کہ یہاں اسلامی دنیا یا مسلمانوں سے جاپانیوں کا رابطہ ایک تواتر کے ساتھ انیسویں صدی کے آخر میں استوار نظر آتا ہے لیکن اسلام کے بارے میں سوچنے اور سمجھنے کی علمی سط پر کوششیں بیسویں صدی کی تیسری چوتھی دہائی سے نمایاں ہونے لگتی ہے ۔ اس عرصے میں ہمارے نقطہ نظر سے مشہور انقلابی رہنما مولوی برکت اللہ بھوپالی کا قیام جاپان بھی جو اگرچہ زیادہ طویل نہیں تھا لیکن پھر بھی یوں اہم ہے کہ انہوں نے یہاں رہ کر بھی اپنی انقلابی سرگرمیاں جاری رکھیں۔  Islamic  Fetternity

یہ آرٹیکل شاید جنگ میں پڑھا تھا مگر پورا نہیں لکھ سکا ، سوچا جتنا لکھا ہے اتنا تو بانٹ لوں ہو سکتا ہے کوئی اس پر تفصیلی روشنی ڈال سکے۔

مکمل تحرير پڑھيے »

پاکستان میں حکومت کیا چاہتی ہے ، یہ ایک علیحدہ بات ہے۔ پاکستانی عوام یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے انگریزی بولنے کے قابل ہو جائیں۔ یہ صرف اس لیے نہیں کہ انگریزی ایک بین الاقوامی زبان ہے اور اعلا تعلیم کے لیے باہر جانے والوں کے لیے انگریزی جاننا ناگزیر ہے بلکہ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ملک میں انگریزی جانے بغیر ترقی نہیں ہوسکتی۔ یہ اعلا سماجی طبقے کی زبان ہے ، جو لوگ انگریزی بولتے ہیں ، ان کی بات پاکستان میں زیادہ سنی جاتی ہے۔

انگریزی بولنے والا شخص خواہ علمی اور ذہنی اعتبار سے احمق ہی کیوں نہ ہو ، انگریزی بولنے کی وجہ سے وہ تعلیم یافتہ اور مہذب تصور کیا جاتا ہے۔ یہ صرف اونچا طبقہ ہی نہیں ہےجو انگریزی کا دلدادہ ہے۔ عام پاکستانی بھی انگریزی کا شیدا ہے۔ لوگ انگریزی بولنے سے خوش ہوتے ہیں۔ لاہور کے پرانے شہر میں بے نظیر بھٹو کا ایک پوسٹر دیکھنے کے لیے میں رک گئی۔ ایک آدمی میرے پاس آیا اور بولا 

مائی ڈاٹر از مسٹر بھٹو   ( مسٹر بھٹو میری بیٹی ہے )  ۔

وہ غلط انگریزی بول رہا تھا لیکن خوش تھا کہ انگریزی میں بات کر رہا ہے

( ایما ڈنکن کی کتاب  "پاکستان کا سیاسی سفر نامہ"   سے اقتباس

مکمل تحرير پڑھيے »

29 جنوری کے اخبارات سے چند سیاسی و غیر سیاسی لطیفے 

دفتر خارجہ کے ترجمان ایم صادق نے کہا ہے کہ امریکہ میں عبدالستار ایدھی سے پاکستانی پاسپورٹ لئے جانے اور تفتیش کا سختی سے نوٹس لیا گیا ہے اور واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے امریکی حکام سے رابطہ بھی کیا ہے۔

یقینا اس رابطے کے بعد امریکی حکام کی نیندیں اڑ گئیں ہوگی اور وہ اس وقت کو کوستے ہوں گے جب انہوں نے امریکہ میں عبدالستار ایدھی کا پاسپورٹ لے کر انہیں ایک طرح سے قیدی بنا لیا تھا۔ فی الفور ہی معافی مانگ کر عبدالستار ایدھی کا پاسپورٹ عزت اور احترام کے ساتھ آئندہ ایسی گستاخی نہ کرنے کا وعدہ کرکے واپس  کر دیا جائے گا۔

امریکہ پاکستان میں کبھی کارروائی نہیں کرے گا، صدر مشرف

صدر جنرل پرویز مشرف نے لندن میں بیٹھ کر کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں کبھی کارروائی نہیں کرے گا اور یہ سب باتیں میڈیا کی پھیلائی ہوئی ہیں۔ میڈیا واقعی بہت دریدہ دہن اور گستاخ ہے اور بلاوجہ کبھی باجوڑ میں امریکی میزائل چلانے کی کبھی کوئی مدرسہ اڑانے کی خبر پھیلا دیتا ہے اور کبھی امریکی صدارت کی دوڑ میں شریک امیدواروں کے پاکستان پر حملے کے بیانات پھیلا دیتا ہے جو یقنیا ملک دشمنی کے مترادف ہیں بھلا ہمیں اپنے صدر پر یقین کرنا ہے یا جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے آزاد ہوئے میڈیا کی پھیلائی ہوئی باتوں کی جو سراسر حکومت کی مخالف میں اور انہیں حکومت سے خدا واسطے کا بیر ہے۔

صدر مشرف کا دورہ یورپ

یورپ کا میاب دورہ کرنے کے بعد صدر نے کہا کہ انہوں نے عالمی برادری کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے ( یہ درست سمت صرف صدر صاحب کو ہی معلوم ہے پوری قوم اس سمت کو ڈھونڈنے کی کوشش میں ہے) ۔

بعض قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی پر قابو پانے میں کامیابی ہورہی ہے اور ملک میں اقتصادی استحکام بھی برقرار ہے ۔ ( استحکام کے اصطلاحی معنوں کے لیے آپ کو مشرف لغت دیکھنی کی ضرورت ہوگی)

پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں ( ابھی انہیں کتنا کامیاب ہونا ہے )

۔ صدر نے کہا کہ ملک میں تمام ادارے ( جو صدر کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں ) معمول کے مطابق کام کررہے ہیں

۔ اٹھارہ فروری کو شفاف ، منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کرائے جائیں گے (شفاف ، منصفانہ اور آزادنہ کے معنی بھی آپ کو مشرف لغت سے ہی دیکھنے پڑیں گے) اور نئی حکومت کے قیام کا عمل کسی رکاوٹ کے بغیر مکمل ہوجائے گا۔

صدر پرویز مشرف نے امید ظاہر کی کہ آئندہ حکومت اعتدال پسند اور مستحکم ہوگی ۔ ( اگر اعتدال پسند نہ ہوئی تو صدر صاحب کو اعتدال پسند بنانے کے مجرب نسخے آتے ہیں اس لیے پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں)۔

صدر مشرف کی پیرس میں اسرائیلی وزیر دفاع سے اتفاقیہ ملاقات

دونوں رہنما ایک ہی ہوٹل میں ٹھہرے تھے اور ان میں اتفاقیہ طور پر آمنا سامنا ہوگیا اور جب آمنا سامنا ہو ہی گیا تو پھر رسما ایک دوسرے سے بات چیت کرنی پڑی اور اخلاقیات نبھانی پڑیں۔ اگلے روز صدر صاحب کو مزید اخلاقیات کا خیال آیا اور انہوں نے ایہود بارک کو ملاقات کی اتفاقی دعوت دے دی جو اتفاق سے انہوں نے قبول کر لی۔ یہ اتفاقیہ ملاقات جو دعوت میں بدل گئی وہ ایک گھنٹہ جاری رہی۔ اس اتفاقیہ ملاقات میں ایہود بارک نے اتفاقا ایران کے نیوکلئیر پروگرام کی بات چھیڑ دی اور اس پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اس کے بعد اتفاقیہ طور پر پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کے عدم تحفظ پر بھی مسلسل تشویش کا اظہار کرتے رہے جس پر صدر نے انہیں یقین دلایا کہ یہ ہتھیار اتفاقی طور پر بھی کسی کے ہاتھ نہیں لگ سکتے جس پر دونوں نے اتفاق کا اظہار کیا کم از کم صدر صاحب نے تو کیا۔

صدارتی ترجمان نے بتایا ہے کہ صدر مشرف اور اسرائیلی وزیر دفاع میں نہ تو کوئی ملاقات ہوئی اور نہ کوئی اتفاق اور نہ کوئی اتفاقیہ بس دونوں نے کھڑے کھڑے سلام دعا کیا اور اپنی اپنی راہ لی البتہ برا ہو میڈیا کا جس نے یہ سب باتیں پھیلا دی ہیں۔

نصیبو لال نے کہا ہے کہ عوام اس بات کو سمجھیں کہ غیر اخلاقی گانے گانا میری مجبوری ہے۔

عوام کو سمجھنا چاہیے کہ نصیبو لال اپنی خوشی سے یہ گانے نہیں گاتی بلکہ یہ مجبوری کا سودا ہے بالکل ویسے ہی جیسے صائمہ خان اور دوسری سٹیج کی رقاصائیں باامر مجبوری غیر اخلاقی رقص پیش کرتی ہیں یقینا وہ بھی پروڈیوسر صاحبان کی فرمائش پر ہے اور فنی مجبوریوں کو پیش نظر رکھنا پڑتا ہے مگر عوام کی بھی کوئی کل سیدھی نہیں وہ غیر اخلاقی چیزیں بھی چاہتے ہیں اور مجبوریاں بھی نہیں سمجھنا چاہتے۔

 

مکمل تحرير پڑھيے »

یہ کالم فاطمہ بھٹو نے جنگ میں اپنی پھوپھو بینظیر بھٹو کے لیے لکھا ہے اور میرا خیال ہے بینظیر بھٹو پر لکھے جانے والے کالموں میں ایک بہترین کالم ہے۔

اپنی مرحومہ پھوپھی سے میرے تعلقات کی نوعیت کافی پیچیدہ تھی۔ یہ بہرطور ایک حقیقت ہے ایک افسوسناک حقیقت !!! یہ بھی ایک بدیہی حقیقت ہے کہ گزشتہ پندرہ برس کے دوران ہم نے دوستوں یا رشتے داروں کی طرح ایک دوسرے سے قطعاً کوئی سلوک نہیں کیا۔ یہ پندرہ برس کا عرصہ ہم نے ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہ کر بسر کیا تھا تاہم اس ہفتے میں نے بھی انہیں باندازِ دگر یاد کرنے کی کوشش کی اور خواہش کی ہے۔ میں انہیں ایک مختلف طریقے سے یاد کرنا چاہتی ہوں کیونکہ مجھے ایسا ہی کرنا ہو گا۔ یہ ملک جو میرا وطن ہے اور جس پر میرا ایمان غیر متزلزل ہے میں اس ایمان کو کبھی کھونا نہیں چاہوں گی۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ انہیں بغیر کسی سبب اور وجہ کے قتل کیا گیا ہے۔ تشدد اپنی خالص شکل میں کس قدر سفاک اور ناقابل معافی ہوتا ہے۔ میں اب بھی اس صورت حال کو ذہنی طور پر تسلیم کرنے سے قاصر ہوں۔ بہر صورت مجھے اپنی مرحومہ پھوپھی کو الوداع تو کہنا ہی ہو گا۔ ایک ایسا الوداعیہ جسے اشکوں سے تحریر کیا گیا ہے، جس میں شدید غم و غصہ بھی شامل ہے لیکن جو ایک ایسے مقام سے پیش کیا جا رہا ہے، جو بے حد دور افتادہ ہے اور جسے حافظے اور معذرت خواہی کے جذبے کے ساتھ خلط ملط بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ایسی جگہ ہے جہاں کسی اور وقت ہم سب محفوظ تصور کئے جا سکتے تھے۔ جب میں ننھی منی سی بچی تھی تو اپنی پھوپھی کو بڑی بوا ( سندھی زبان میں وڈی بوا ) کہہ کر مخاطب کیا کرتی تھی جو سندھی افراد اپنے والد کی بڑی بہن کو کہتے ہیں۔ جب مجھے یہ خبر ملی کہ میری بڑی بوا کو کچھ ہو گیا ہے تو مجھے بڑا تعجب ہوا کیونکہ یہ ایک ایسا تاثر تھا جو میں نے اس سے پہلے اتنی طویل مدت کے دوران کبھی نہیں سنا تھا چنانچہ ٹیلی ویژن پر جب میں نے یہ خبر سنی تو مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی اور کے بارے میں یہ خبر سن رہی ہوں۔ مجھے دفعتاً ایک ایک کر کے سب ہی واقعات یاد آنے لگے۔ ہم دونوں مل جل کر بچوں کی کتابیں پڑھا کرتے تھے۔ ہمیں ایک ہی طرح کی مٹھائیاں بھی پسند تھیں۔ خشک میوہ اور پھل بھی ہمیں ایک جیسے ہی پسند تھے۔ ہم دونوں کے کان میں تکلیف کی نوعیت بھی مشترک تھی جس کے نتیجے میں ہم دونوں کئی برس تک شدید اذیت میں مبتلا رہے۔ بہرطور اس سے قبل میں نے ایسا مضمون نہیں لکھا جسے تحریر کرنا مجھے تقریباً نا ممکن سا لگ رہا ہو۔ اس کے باوجود ہم ایک دوسرے سے کافی مختلف تھیں۔ لوگ ہمیں ایک دوسرے سے ملانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں غالباً وہ جبلی طور پر ایسا کرتے ہیں اور کر سکتے ہیں لیکن میرے لئے یہ بے حد دشوار ہے کہ میں بیک وقت دو ایسے افراد کے بارے میں لکھ سکوں جن میں سے ایک کے لئے مجھے صیغہٴ ماضی اور دوسرے کے لئے صیغہٴ حال استعمال کرنا پڑے۔ بالخصوص اس وقت جب ایک فرد کی شخصیت دوسرے کو حیرت زدہ ہو کر یہ سوچنے پر مجبور کر دے کہ واقعی زمانہٴ حال یا زمانہ ماضی کا کوئی حقیقی وجود ہے بھی یا نہیں ؟؟؟ مجھے اپنی مرحومہ پھوپھی کی سیاست سے کبھی اتفاق نہیں رہا۔ جی ہاں۔ کبھی نہیں، مجھے ان لوگوں سے بھی قطعاً کوئی اتفاق نہ تھا، جو انہیں ہر وقت گھیرے رہتے تھے۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر مجھے کراہت محسوس ہوتی تھی۔ واقعات اور حالات کی جو تعبیر اور تفسیر وہ بیان کرتی تھیں اس سے بھی مجھے کوئی اتفاق نہیں رہا۔ تاہم یہ باتیں اور اختلافات ان کی زندگی تک تھے لیکن اب وہ ہمارے درمیان موجود نہیں رہیں۔ موت ہمیں سکون اور اطمینان کے ساتھ سوچنے کا پیغام دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے، جو ہمیں ٹھنڈے دل کے ساتھ چیزوں پر غور کرنے کا موقع دیتا ہے۔ موت ہمیں بتاتی ہے کہ بس !!! بہت ہو چکا۔ ہم آپس میں کافی لڑ بِھڑ چکے اب ہم مزید پاگل پن کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ میں اپنے خاندان کے ساتھ ہونے والے المناک واقعات کا سوگ منا رہی ہوں۔ میرا دل بلاول، بختاور اور آصفہ کے لئے رو رہا ہے۔ میں ان کے رنج و غم میں برابر کی شریک ہوں کیونکہ وہ میرے مرحوم والد کی حقیقی بہن تھیں۔ انہیں بھی میں اپنے والدین جیسا ہی سمجھتی تھی۔ میں ایسے تجربے سے گزر چکی ہوں، جب کوئی سمندر کی لہروں میں گم ہوتا ہوا محسوس کرتا ہے جہاں صرف خوف اور بے بسی ہی اس کے ساتھ ہوتے ہیں مجھے اس جانکاہ صدمے کا بڑا تلخ تجربہ ہو چکا ہے۔ میں پارٹی کے کارکنوں کے لئے بھی افسردہ ہوں جو اس المناک حادثے میں اپنے پیاروں سے محروم ہو چکے ہیں۔ جب کوئی اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اس کے عزیز، رشتے دار اور احباب سب ہی مساجد، گرجا گھروں اور مندروں میں جمع ہو کر اس کے لئے دعائے خیر کرتے ہیں اور رنج و امید سے بھرے حمدیہ کلمات ادا کرتے ہیں۔ ابھی تک کوئی ایسی حمد نہیں لکھی گئی جو غم و غصے یا احساس محرومی کو ظاہر کرتی ہو۔ یہ لمحات بھی بالآخر بیت جائیں گے۔ وقت بہت بڑا مرہم ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب ہمیں کیسی حمد گانا ہو گی؟؟ ایک ایسی حمد جس میں اداسی اور افسردگی کے بعد سورج نمودار ہوتا ہے۔ ہر رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کس چیز کے لئے پُر امید ہو سکتے ہیں؟؟ صبح کو بیدار کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہو گا؟ میں اپنے قارئین کے ساتھ ہمیشہ نہایت دیانتدار رہی ہوں۔ میں نے ان سے کبھی اپنے دل کی بات نہیں چھپائی۔ اس کا اظہار میں نے شروع ہی میں ان سے کر دیا تھا۔ میں پوری ایمانداری اور سچائی سے اس بات کا اظہار کرنا چاہتی ہوں کہ میرا نقصان کم نہیں ہوا۔ میں اب تک صدمے کی حالت سے باہر نہیں آ سکی۔ میں صدمے کی حالت میں ہوں کیوں کہ اب تک میں نے اپنے جتنے پیاروں کو مٹی میں دفن ہوتے دیکھا ہے ان سب کی ہلاکت غیر قدرتی طریقوں سے ہوئی تھی۔ ان میں سے کوئی بھی اپنی قدرتی موت نہیں مَرا۔ میرے چار انتہائی قریبی اور نزدیکی عزیز رشتے دار، جنہیں مٹی کے سپرد کیا گیا ، سب کے سب وحشیانہ اور سفاکانہ قتل کا نشانہ بنے ہیں۔ میں اپنے دادا ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کے پانچ برس بعد پیدا ہوئی تھی۔ میں نے اپنے دادا کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والے خلاء میں جنم لیا تھا چنانچہ اپنے مرحوم والد میر مرتضیٰ علی بھٹو کے نزدیک میں ان کے لئے نئی زندگی کی نوید تھی۔ میں اپنے مرحوم دادا کی تقاریر سن کر بڑی ہوئی اور ان کے ویڈیو کیسٹ بھی میں نے دیکھے ہیں۔ جب میرے دادا کو شہید کیا گیا تھا تو میرے والد ابھی نوجوان ہی تھے اور یہ صدمہ ان کے آخری سانس تک، ان کے ساتھ ہی رہا تھا۔ وہ اپنے والد کی جدائی کے غم سے کبھی آزاد نہ ہو سکے تھے۔ جب میرے چچا شاہ نواز بھٹو کا پیرس میں قتل ہوا تو میں فقط تین برس کی تھی۔ مجھے یاد ہے اس موقع پر میری بڑی بوا نے میرے ساتھ بیٹھ کر مجھے کہانیاں سنائی تھیں۔ خاندان کے دیگر افراد اس سانحے کے بارے میں پولیس سے گفت و شنید میں مصروف تھے۔ چودہ برس کی عمر کو پہنچی تو یوں سمجھ لیں میری زندگی کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ میں اپنے قلب اور اپنی روح سے محروم ہو چکی تھی۔ میرے پیارے والد میر مرتضیٰ علی بھٹو کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔ اس لمحے کے بعد سے میں صرف اور محض اپنی شخصیت اور وجود کا ایک سایہ بن کر رہ گئی ہوں اور اب جب میری عمر پچیس برس ہے تو میری بڑی بوا کو مجھ سے چھین لیا گیا۔ بہرحال یہ مضمون میری ذات کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کی یاد میں لکھا گیا ہے جو مجھ سے بچھڑ چکے ہیں۔ یہ ہمارے آبائی قبرستان گڑھی خدا بخش کے بارے میں ہے جو لمحہ بہ لمحہ قبروں سے بھرتا چلا جا رہا ہے۔ میری دعا ہے کہ کاش یہ آخری میت ہو اور ہمیں آئندہ کسی کو اتنی جلد الوداع نہ کہنا پڑے۔ الوداع بڑی بوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الوداع

مکمل تحرير پڑھيے »

لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر دل آج اداس ہے گو دل کو یہ خبر متوقع تھی مگر ایک انہونی ہونے کا انتظار تھا مگر وہ انہونی نہیں ہوئی کیونکہ ہونی جو ہونی تھی۔ آج پھر ایک افسوسناک دن رہا ، جنرل مشرف اپنی ق لیگ کے سر پر پھر سے صدر منتخب ہو گئے اور بے حمیت مسلم لیگ نے جو اپنی مثال آپ ہے کہ ایک باوردی صدر کو منتخب کروانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتی ہے۔ نیب زدگان کا یہ ٹولہ جس کی کرپشن کی فائلیں کھلی پڑی ہیں صرف مشرف کی کرپشن کی چھاؤں تلے ہی زندہ رہ سکتے ہیں اور اب تو اس رسم کو قانونی شکل دینے کے لیے پیپلز پارٹی نے بھی اپنا کلیدی کردار ادا کر دیا ہے۔ بینظیر نے بالآخر اپنے کرپشن کے مقدمات واپس کروا ہی لیے بلکہ صرف اپنے ہی نہیں پوری پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم ، مسلم لیگ ق اور جتنے جملہ لٹیرے ہیں ان سب کو قانونی تحفظ فراہم کیا ہے قومی مفاہمت بل کے نام پر جو بجا طور پر عوام میں لوٹ مار مفاہمتی بل کے طور پر جانا جا رہا ہے۔ اس تحفظ لوٹ مار کے بل کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے خلاف مقدمات واپس لے لیے جائیں گے اور آئیندہ بھی ان پر براہ راست مقدمہ نہیں بنایا جا سکے گا یعنی چوروں نے مل جل کر اب چوری سینہ زوری کی روایت کو اپناتے ہوئے ڈکیت بننے کا فیصلہ کیا ہے اور پوری قوم کو یہ پیغام دیا ہے کہ ہمیں نہ تو کسی کا ڈر ہے اور نہ ہم میں امانت دیانت کی کوئی رمق باقی رہی ہے ہم اگر پہلے ڈھکے چھپے معنوں میں کرپشن اور چوریاں کیا کرتے تھے تو اب سرعام کیا کریں گے اور اسے قانونی شکل بھی دے رہے ہیں اگر عوام میں ضمیر نام کی شے باقی ہے تو ہمیں اس سے روک لے۔
اس بل کو لاہور عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے اور ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل نے اسے اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف قرار دیا ہے۔ صدر مشرف کو کامیاب کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے بینظیر اور مولانا فضل الرحمان نے جن کی حرکتیں کسی سے پوشیدہ نہیں اور اب تو بہت ہی واضح طور پر بغیر دکھاوے کے صرف اور صرف اپنے مفادات کی سیاست کر رہے ہیں۔ ملک کی عدلیہ کا امتحان ہے ١٧ اکتوبر کو ، یا تو وہ تاریخ ساز فیصلہ دے کر باوردی صدر کا راستہ روک سکتی ہے یا قوم کو ایک اور غلط فیصلے کے ذریعے زیر بار کرکے آئیندہ کے لیے مزید مشکلات کھڑی کر سکتی ہے جس کا خمیازہ شاید کئی نسلوں کو بھگتنا پڑے۔ ایک بری روایت کو پیدا ہونے سے پہلے روک سکتی ہے اور اپنے ماضی کے داغ بھی دھو سکتی ہے۔ صورتحال کشیدہ اور پریشان کن ضرور ہے مگر ناامیدی کی ہرگز نہیں کہ جدوجہد اور آمریت کے خلاف تحریک جاری رہے گی اور بالآخر عوام کی مرضی مسلط ہو کر رہے گی۔

غم کی شام لمبی سہی شام ہی تو ہے ۔

مکمل تحرير پڑھيے »

آج ایک دفعہ پھر حکومت نے ننگی جارحیت اور بدترین ریاستی تشدد کا مظاہرہ کیا جو اس حکومت کی عادت بن چکی ہے جہاں حکومت کو مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں وہ مخالفین کو دبانے ، ہراساں کرنے اور مارنے پر اتر آتی ہے۔ یہ کام نو مارچ کے بعد چیف جسٹس کی حمایت میں کئی جلسوں میں ہوا ، جیو کے دفتر پر حملہ ہوا ، لاہور ہائی کورٹ پر بکتر بند گاڑیاں چڑھا کر اور آنسو گیس سے ہائیکورٹ کو گھیرے میں لے کر پورا دن ریاستی تشدد ہوتا رہا۔ ١٢ مئی کو چیف جسٹس کراچی گئے تو وہاں ایم کیو ایم اور حکومت نے مل کر ٤٣ لوگوں کے خون سے کراچی کو سرخ کیا اور اسی دن اسلام آباد میں حکومتی اراکین بشمول چوہدری شجاعت ، مشرف رات کو میلہ لگایا ،بھگنڑے ڈلوائے اور کہا کہ عوام نے اپنی طاقت کا اظہار کیا ہے اور کراچی میں بھی عوام نے طاقت دکھائی ہے۔
آج ٢٩ ستمبر کو وکلاء چیف الیکشن کمیشن میں اپنا احتجاج رقم کروانا چاہتے تھے مشرف کے کاغذات نامزدگی کی توثیق پر اور قوم کی مایوسی کی ترجمانی کرنا چاہتے تھے مگر بے حوصلہ اور غنڈہ حکومت سے یہ بھی برداشت نہ ہوا اور آج انہوں نے ایک بار پھر تشدد اور جارحیت کی راہ اپنائی جو اب اس حکومت کی پہچان بن چکا ہے۔ گجرات کے دو غنڈے جو اب وزیر اعلی پنجاب اور مسلم ق کے صدر ہیں انہوں نے سفید لباس میں غنڈے منگوا کر صحافیوں اور وکلا پر وحشتناک تشدد کیا ، اعتزاز احسن اور علی احمد کرد جنہوں نے چیف جسٹس کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا ان دونوں کو بیدردی سے مارا اور وحشت کا یہ شرمناک کھیل کئی صحافیوں کے ساتھ بھی کھیلا۔ پنجاب کے سب سے بڑے غنڈے وزیر اعلی پرویز الہی (سندھ میں عشرت العباد اور دہشت گرد تنظیم ایم کیو ایم کو نافذ کیا ہوا ، بلوچستان اور سرحد میں فوج کو مامور کیا ہے دہشت گردی کے لیے ) نے اپنی فرعونیت دکھاتے ہوئے گاڑی صحافیوں اور وکلا کے ساتھ ٹکرا کر نکلوائی اور ایک بوڑھے کے پاؤں کے اوپر سے رعونت کے ساتھ گاڑی گزار دی۔ اعتزاز اور علی کرد کو خصوصیت

29 صحافی زخمی ہوئے ہیں جن میں ایک ICU میں ہے اور اسے اب تک ہوش نہیں آئی۔

آج ، اے آر وائی ، جیو ٹی وی کی نشریات معطل رہیں۔

حکومت کا نعرہ رہا ہے کہ آزادی اظہار جو پہلے کبھی نہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واقعی کبھی کسی ایک دن میں اتنے صحافی اتنی بیدردی سے زود کوب اور پولیس تشدد کا شکار ہوئے۔ لٹا لٹا کر صحافیوں کو مارا گیا ، وزیر اعظم اندر الیکشن کمیشن میں موجود تھے اور بے حمیتی کی تصویر بنے مجرمانہ غفلت برتے رہے۔ کئی صحافیوں کے سر پھٹ گئے ، کئی صحافیوں کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور کئی بیہوش ہوئے۔
آئی جی صاحب خود مارنے کا کام کر رہے تھے اور باقاعدہ بتا رہے تھے کہ اس صحافی کو مارو ، علی کرد کو مارو ، صحافی اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں انہیں صحیح سبق سکھاؤ۔

آنسو گیس کے تین شیل پھینکے گئے اور بغیر اشتعال کے جس سے بہت سے لوگ زخمی ہوئے۔

ایک فارن ٹیلی ویژن کے کیمرے کو بھی توڑنے کی کوشش کی گئی ، جس صحافی کا کیمرہ توڑنے کی کوشش کی گئی اس سے جب پوچھا گیا کہ ایسے حالات کا سامنا انہیں دنیا میں اور کہاں کرنا پڑتا ہے تو جو جواب صحافی نے دیا اس کے بعد پاکستان کا جو تاثر ابھرا وہ انتہائی شرمناک تھا۔ صحافی کے مطابق ایسا اب صرف چار جگہ ہوتا ہے

نیپال
برما
مقبوضہ کشمیر
پاکستان

اس میں تین جگہ حالات ایمرجنسی جیسے ہیں اور چوتھا ملک پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شرم اگر ہو حکومت کو تو چلو بھر پانی میں ڈوب کر مر جائے مگر شرم تو انہوں نے بیچ کر کھا لی ہے وہ کہاں سے آئے۔

٢١ صحافی مشرف کے دور میں مارے گئے
١٠٠ واقعات ایسے ہوئے ہیں جن میں صحافیوں کو بری طرح سے مارا گیا ہے ۔

ایسا کبھی ایوب اور ضیا کے گیارہ سالہ دور میں بھی نہیں ہوا۔ خدارا اب جو لوگ یہ کہتے تھکتے نہیں تھے کہ اس گورنمنٹ نے صحافت کو آزادی دی ہے وہ اللہ سے معافی مانگیں اور اپنی اس رائے سے رجوع کرلیں ورنہ قیامت کے دن اللہ کے پاس کیا منہ لے کر جائیں گے۔

مشرف اور تمام حکومتی عہدیدار شرم کرو کچھ شرم کرو آخر یہ اقتدار کا سورج غروب بھی ہونا ہے۔

چیف جسٹس صاحب آپ کہاں سوئے پڑے ہیں ، اعتزاز ، علی کرد وہ لوگ ہیں جنہوں‌ نے دن رات ایک کرکے آپ کو دوبارہ بحال کروایا اور آج ان پر بدترین تشدد ہوا ہے ، آپ کو خبر ہوئی یا آپ بھی کسی مصلحت کا شکار ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ لوگوں نے آپ کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں ، خدارا انصاف کے لیے نہ سہی لوگوں کا احسان اتارنے کے لیے ہی ان لوگوں کے خلاف ایکشن لیں۔

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے

مکمل تحرير پڑھيے »