<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>محب اور محبت &#187; تاریخ</title>
	<atom:link href="http://mohib.urdutech.com/category/%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://mohib.urdutech.com</link>
	<description>میں اور میری سوچوں کا پھیلتا دائرہ</description>
	<lastBuildDate>Thu, 22 Jul 2010 06:28:48 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0</generator>
		<item>
		<title>کچھ تحریک نسواں کی علمبردار خواتین کی خدمت میں</title>
		<link>http://mohib.urdutech.com/2010/01/17/%da%a9%da%86%da%be-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d9%86%d8%b3%d9%88%d8%a7%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b9%d9%84%d9%85%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%aa%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%ae/</link>
		<comments>http://mohib.urdutech.com/2010/01/17/%da%a9%da%86%da%be-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d9%86%d8%b3%d9%88%d8%a7%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b9%d9%84%d9%85%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%aa%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%ae/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 17 Jan 2010 17:57:20 +0000</pubDate>
		<dc:creator>محب علوی</dc:creator>
				<category><![CDATA[تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین اور تحریک نسواں]]></category>
		<category><![CDATA[مذہب اور اخلاقیات]]></category>
		<category><![CDATA[اسلامی خواتین ، تحریک نسواں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mohib.urdutech.com/2010/01/17/%da%a9%da%86%da%be-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d9%86%d8%b3%d9%88%d8%a7%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b9%d9%84%d9%85%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%aa%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%ae/</guid>
		<description><![CDATA[]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><font color="#008000" size="4" face="Arial Narrow">کافی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ اس موضوع پر لکھوں کیونکہ جب بھی بہت زیادہ پڑھی لکھی محترمہ کا بلاگ پڑھتا ہوں ضرور اس میں کچھ نہ کچھ ایسا لکھا ہوتا جو مندرجہ ذیل چیزوں میں سے کسی ایک پر لازما مشتمل ہوتا ہے</font></p>
<p><font color="#008000" size="4" face="Arial Narrow">&#160;</font></p>
<p><font color="#008000" size="4" face="Arial Narrow">مردوں کے خلاف بالعموم اور پاکستانی مردوں کے خلاف بالخصوص</font></p>
<p><font color="#008000" size="4" face="Arial Narrow">پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف</font></p>
<p><font color="#008000" size="4" face="Arial Narrow">کبرائی بڑائی اور انا</font></p>
<p><font color="#008000" size="4" face="Arial Narrow">صحیح بات بھی اگر غلط طریقے سے کی جائے تو اثر کھو دیتی ہے اور بری لگتی ہے۔ کئی باتیں بذات خود ٹھیک ہوتی ہیں مگر اس طور سی کی جاتی ہیں کہ نتیجہ میں انتشار اور کدرورتیں ہی پیدا ہوتی ہیں۔ </font></p>
<p><font color="#008000" size="4" face="Arial Narrow">&#160;</font></p>
<p><font color="#008000" size="4" face="Arial Narrow">عورت اور مرد دونوں رب ذاولجلال کی تخلیق ہیں اور دونوں بحیثیت انسان ایک جیسی قدر و منزلت رکھتے ہیں اللہ کی نظر میں۔ مرد و عورت کی فضیلیت اور برتری رشتوں اور تعلق کی بنیاد پر مقرر کی گئی ہے۔ عورت کو سب سے بلند رتبہ بحیثیت ماں دیا گیا ہے اور مرد کو بحیثیت شوہر۔&#160; اگر تعصب اور مغربی پروپیگنڈا کو ایک طرف رکھ کر انصاف کیا جائے تو مرد و عورت کو جس رشتہ میں سب سے زیادہ تقدس دیا گیا ہے وہاں اس کی بڑی مضبوط وجوہات ہیں ، دل و دماغ دونوں اس چیز کو نہ صرف مانتے ہیں بلکہ تقاضہ بھی کرتے ہیں۔ </font></p>
<p><font color="#008000" size="4" face="Arial Narrow">&#160;</font></p>
<p><font color="#008000" size="4" face="Arial Narrow">مرد و عورت برابر نہیں ہیں ، نہ تھے اور نہ کبھی ہوں گے ۔</font></p>
<p><font color="#008000" size="4" face="Arial Narrow">یہ دونوں ملتےجلتے ضرور ہیں مگر ایک جیسے نہیں۔ دونوں میں جسمانی ، ذہنی ، نفسیاتی اور روحانی فرق موجود ہیں۔ دونوں کے اپنے اپنے دائرہ کار ہیں اور دونوں کے لیے پروردگار نے فرائض اور حقوق مقرر کر دیے ہیں جن پر اگر عمل ہو تو مرد اور عورت کا جھگڑا ہی نہ اٹھے۔ نہ تو دنیا مردوں کے&#160; لیے پیدا کی گئی نہ عورتوں کے لیے دنیا کی تخلیق کا اصل راز تو اللہ کو ہی پتہ ہے البتہ جو اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے اس کے مفہوم کے مطابق اللہ نے انسان کو دنیا میں اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے تاکہ وہ اس کی عبادت کر سکے۔</font></p>
<p><font color="#008000" size="4" face="Arial Narrow">اس میں کہیں بھی مرد اور عورت کا ذکر نہیں ہے بلکہ انسان کا ذکر کیا ہے اور اشرف المخلوقات بھی ہمیشہ انسان کو ہی بتایا گیا ہے مرد و عورت کا ذکر نہیں کیا گیا۔ عورتوں کو نبوت کا اعزاز نہیں ملا جس کی بڑی سادہ اور واضح وجہ ہے کہ نبی کو زندگی میں بہت زیادہ مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہے حتی کہ بہت سے نبیوں کو لوگوں نے شہید بھی کر دیا۔ نبی کے منصب کا تقاضہ تھا کہ وہ لوگوں میں گھلے ملیں اور ہر جگہ اور ہر قسم کے لوگوں کو تبلیغ کریں ظاہر ہے یہ کام ایک عورت کے لیے ناممکن نہیں تو انتہائی کٹھن ضرور تھے اور دوسرا عورت اگر نبی ہوتی تو بحیثیت بیوی وہ اپنے شوہر کے تابع ہو جاتی اور یوں ایک اور مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔ اس کے باوجود ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں بڑی ہی جلیل القدر اور عزت مآب عورتوں کی مثالیں ملتی ہیں جو روحانیت کی بلندیوں پر فائز ہیں اور تمام مردوں اور عورتوں کے لیے مینارہ نور ہیں۔ </font></p>
<p><font color="#008000" size="4" face="Arial Narrow">حضرت آسیہ فرعون کی بیوی اور حضرت موسی کو پالنے والی اور موسی کے دین پر قربان ہو جانے والی۔ کوئی عورت اس زمانے میں اس سے زیادہ کیا چاہ سکتی تھی جو حضرت آسیہ کو میسر تھا مگر انہوں نے حق پر شاہانہ جاہ و جلال اور مادی آسائشیں قربان کر دیں۔ غیر مصدقہ تاریخ کے مطابق ان کو ایمان سے ہٹانے کے لیے فرعون نے انہیں تختہ دار پر کھینچ ڈالا اور انہوں نے تختہ دار پر اپنے بیٹے کے دین حق پر جان دے دی مگر شوہر کی فرعونیت پر سر تسلیم خم نہ کیا۔</font></p>
<p><font color="#008000" size="4" face="Arial Narrow">حضرت مریم سے زیادہ شاید ہی کسی عورت نے دکھ سہا ہو اور میرے خیال میں اللہ نے عورتوں کی تشفی قلب کے لیے تاریخ انسانی میں ولادت انسان کا دوسرا معجزہ دکھاتے ہوئے بغیر مرد کے ایک عورت کو ماں کا تقدس بخش دیا اور عورتوں کو بھی دلیل قاطعہ دے دی کہ اگر مائی حوا بغیر ماں کے صرف ایک مرد کے بطن سے پیدا ہوئی تھی تو حضرت مریم نے بھی اللہ کے حکم سے حضرت عیسی کو جنم دیا کسی مرد سے بیاہے بغیر۔ یہ چیز عقل انسانی ہضم نہیں کر سکتی تھی اس لیے ان پر جاہلوں نے بہت الزام لگائے باوجود اس کے کہ حضرت مریم کی گود میں ایک بولتا ہوا بچہ تھا جو خود بول کر اپنی ماں کے تقدس کی گواہی دے رہا تھا مگر جب کسی کے دل میں بیماری اور نقص ہو تو وہ زندہ و جاوید معجزوں کو بھی نہیں مانتا۔ حضرت مریم اللہ کو کتنی محبوب تھیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن جسے الہامی کتابوں میں سب سے اونچا درجہ حاصل ہے جس کی عظمت اور پاکیزگی کی قسم سب مسلمان کھاتے ہیں اس میں اللہ نے اپنی محبوب بندی حضرت مریم کے درد زہ کا تذکرہ اس طرح سے کیا ہے کہ رہتی دنیا تک وہ تذکرہ سامعین اور قارئین کے لیے باعث ثواب و نجات بن گیا ہے۔ وہی درد زہ جس کا تذکرہ عام حالات میں لوگ باعث شرم سمجھتے ہیں اسے اللہ نے قرآن کا حصہ بنا دیا ہے۔ </font></p>
<p><font color="#008000" size="4" face="Arial Narrow">حضرت عائشہ کا تذکرہ کرکے اس پوسٹ کو ختم کروں گا کہ تاریخ انسانی میں اللہ کی محبوب بہت سی بندیاں گزری ہیں جن کا ذکر تمام عمر کرتے بھی عمر کم لگے گی۔ حضرت عائشہ کی فضیلیت اور برتری کو کون مسلمان ہے جو نہیں جانتا اور مانتا ہو گا سوائے ان کے جن کے دل میں کھوٹ اور بیماری ہو۔ حضرت عائشہ ایک سفر میں ہار گرنے اور پھر اسے ڈھونڈنے کی وجہ سے قافلے سےپیچھے رہ گئیں۔ وہ جب واپس قافلے سے ملیں تو چار لوگوں نے جنہیں رئیس المنافقین کی پشت پناہی حاصل تھی حضرت عائشہ پر الزام لگایا اور پورے شہر میں اس بات کو مشہور کر دیا جس پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت رنج اور تکلیف پہنچی۔ اس کے ساتھ ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی علیہ کو اور ان کے گھر والوں کو بھی بہت تکلیف اور رنج اٹھانا پڑا۔ یہ معاملہ اللہ کی قدرت سے بغیر وحی اتارے بھی سلجھ سکتا تھا اور حضرت عائشہ کی بے گناہی بہت سے طریقوں سے ظاہر ہو سکتی تھی مگر اللہ نے اپنی محبوب بندی کی پاک دامنی کی گواہی اور بے گناہی ثابت کرنے کے لیے قرآن کی اٹھارہ آیتیں اتاریں جو کہ ایسا اعزاز ہے جو کسی اور عورت کو حاصل نہیں ہوا۔ </font></p>
<p><font color="#008000" size="4" face="Arial Narrow">قرآن میں بہت سی عورتوں کا تذکرہ ہے جو اللہ کی اپنی بندیوں سے محبت اور کرم کا اظہار ہے۔ مسلمانوں کو مغرب سے عورتوں کے حقوق کا سبق پڑھنے کی نہ تو حاجت ہے اور شوق۔ اللہ کے فضل سے مسلمان عورتوں کے علم و فضل اور کارہائے نمایاں سے تاریخ بھری پڑی ہے اس کے لیے کسی تحریک نسواں یا نسائیت کی علمبردار گمراہ اور جدید جاہلیت کی پیروکار کے لیکچر کی ضرورت نہیں۔</font></p>
<p><font color="#008000" size="4" face="Arial Narrow">&#160;</font></p>
<p><font color="#008000" size="4" face="Arial Narrow">مسلمان مردوں اور عورتوں کو لیے اسلام ہی مکمل ضابطہ حیات ہے۔&#160; </font></p>
<p><font color="#008000" size="4" face="Arial Narrow"></font></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mohib.urdutech.com/2010/01/17/%da%a9%da%86%da%be-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d9%86%d8%b3%d9%88%d8%a7%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b9%d9%84%d9%85%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%aa%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%ae/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>64</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>حسین اور کاروبار یزید</title>
		<link>http://mohib.urdutech.com/2009/12/29/%d8%ad%d8%b3%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%db%8c%d8%b2%db%8c%d8%af/</link>
		<comments>http://mohib.urdutech.com/2009/12/29/%d8%ad%d8%b3%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%db%8c%d8%b2%db%8c%d8%af/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 29 Dec 2009 07:05:45 +0000</pubDate>
		<dc:creator>محب علوی</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخ اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[husain]]></category>
		<category><![CDATA[karbala]]></category>
		<category><![CDATA[muharram]]></category>
		<category><![CDATA[yazeed]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mohib.urdutech.com/2009/12/29/%d8%ad%d8%b3%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%db%8c%d8%b2%db%8c%d8%af/</guid>
		<description><![CDATA[کیا ستم ہے کہ آج پیروئے یزید بھی ماتم کناں ہیں لے کر نام حسین ہی وہ جو دست یزید پر بیعت کیے ہیں ظلم کی وہ جو کھیلتے ہیں جسم و جاں سے سادہ دلوں کی وہ بھی روتے ہیں لے کر نام حسین ہی میں دس بہ دست گزارش ہے ساہوکاروں ، سرمایہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><font size="5" face="Jameel Noori Nastaleeq">کیا ستم ہے کہ آج پیروئے یزید بھی     <br />ماتم کناں ہیں لے کر نام حسین ہی      <br />وہ جو دست یزید پر بیعت کیے ہیں ظلم کی      <br />وہ جو کھیلتے ہیں جسم و جاں سے سادہ دلوں کی      <br />وہ بھی روتے ہیں لے کر نام حسین ہی </font></p>
<p><font size="5" face="Jameel Noori Nastaleeq">میں دس بہ دست گزارش ہے ساہوکاروں ، سرمایہ داروں ، سیاستدانوں ، حکمرانوں اور علمائے سو سے عرض کر رہا ہوں کہ آیتیں ، حدیثیں اور جانے کتنی مقدس چیزیں بیچ کر بھی ان کا دل نہیں بھرا تو فریب و ریا کے لیے کوئی اور شے ڈھونڈ لیں مگر خون حسین فروخت کرنا بند کر دیں۔ کسی کو تو چھوڑ دیں، خون حسین پر تو اپنی دکانیں نہ سجاؤ ، حسین کے لہو کی سبیلیں تو نہ لگاؤ ، حسین کی قربانی کی تجارت تو نہ کرو۔ حسین کا نام لے کر اپنے قد اونچے کرنے کی ناکام کوشش تو نہ کرو ، حسین کی اعلی ظرفیوں میں تو اپنی کم ظرفی نہ چھپاؤ ، حسین کو جذبات کی بھینٹ نہ چڑھاؤ۔ </font></p>
<p><font size="5" face="Jameel Noori Nastaleeq">حسین میراث ہے بنی نوع انسان کی     <br /> حسین پہ تسلط نہ جماؤ      <br />وہ جس نے خون حق دیا ہے امت کے لیے      <br />اسے امت کے لیے وجہ تنازع نہ بناؤ      <br />حسین سب کے ہیں      <br /> انہیں فقط اپنا نہ بناؤ </font></p>
<p><font size="5" face="Jameel Noori Nastaleeq">کنور سنگھ بیدی کی نظم کا یہ حصہ بہت اچھا لگا </font></p>
<p><font size="5" face="Jameel Noori Nastaleeq">زندہ اسلام کو کیا تُو نے&#160;&#160;&#160; <br />حق و باطل کو دکھا دیا تُو نے      <br />جی کے مرنا تو سب کو آتا ہے      <br />مر کے جینا سکھا دیا تُو نے</font></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mohib.urdutech.com/2009/12/29/%d8%ad%d8%b3%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%db%8c%d8%b2%db%8c%d8%af/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>9</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>فلرٹنگ اور فلرٹ</title>
		<link>http://mohib.urdutech.com/2008/04/03/flirt/</link>
		<comments>http://mohib.urdutech.com/2008/04/03/flirt/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 03 Apr 2008 13:14:41 +0000</pubDate>
		<dc:creator>محب علوی</dc:creator>
				<category><![CDATA[تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[طنز و مزاح]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mohib.urdutech.com/2008/04/03/%d9%81%d9%84%d8%b1%d9%b9%d9%86%da%af-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%81%d9%84%d8%b1%d9%b9/</guid>
		<description><![CDATA[بڑے دنوں سے سوچ رہا تھا کہ اس اہم اور حساس موضوع پر لکھا جائے&#160; مگر یہ سوچ کر رک جاتا تھا کہ شاید قوم ابھی اس کے لیے تیار نہیں ہے&#160; مگر الیکشن میں قوم نے جتنی بالغ نظری کا ثبوت دیا ہے اس کے بعد میں امید کرتا ہوں کہ عوام اب مسائل [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<blockquote><p align="right"><font size="4"><font face="Urdu Naskh Asiatype"><strong>بڑے دنوں سے سوچ رہا تھا کہ اس اہم اور حساس موضوع پر لکھا جائے</strong>&#160; مگر یہ سوچ کر رک جاتا تھا کہ شاید قوم ابھی اس کے لیے تیار نہیں ہے&#160; مگر الیکشن میں قوم نے جتنی بالغ نظری کا ثبوت دیا ہے اس کے بعد میں امید کرتا ہوں کہ عوام اب مسائل کو&#160; سمجھنے اور سچائی تک پہنچنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں اور پیچیدہ مسائل کے لیے اگر انہیں تحقیق کی بھی ضرورت پڑے تو اس سے چنداں نہ گھبرائیں گے۔ فلرٹ اور فلرٹنگ پر عموما نجی محفلوں اور چیٹ پر یا ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں تو بات ہوتی رہتی ہے مگر اسے صحیح معنوں میں سمجھنے اور اس پر تحقیق کی ضرورت کم ہی کسی نے محسوس کی ہے۔ میں نے سوچا بھڑوں کے اس چھتے میں ہاتھ ڈال کر دیکھا جائے اور اس کے لغوی اور اصطلاحی مفہوم کو تاریخی پس منظر کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس سلسلے میں میں چند پوسٹس کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں جو کچھ سنجیدہ اور کچھ مزاح کا رنگ لیے ہوئے ہوں گی تاکہ نہ تو اسے پڑھ کر لوگ بے زار ہوں اور نہ اس سے خوفزدہ ہوں بلکہ اپنے مشاہدات ، محسوسات اور تجربات سے اسے سمجھ اور سمجھا سکیں۔&#160; اس سلسلے میں آپ لوگوں کی آرا اور تبصروں کی روشنی میں پہلی پوسٹ کروں گا اور اس کے بعد دو تین پوسٹس اس سلسلے میں چلیں گی جس سے اس موضوع پر گپ شپ اور تبادلہ خیال ممکن ہو سکے گا جس کی خواہش کئی <font color="#800000">پردہ نشینوں</font> اور <font color="#ff0000">گمنام مجاہدین</font>&#160; کو ہے۔ اگر یہ سلسلہ مبلغین ، ناصحین اور ناقدین کی تاب لا کر بھی نہ رکا تو آخر میں اسے اقبال کی شاعری کی روشنی میں بھی دیکھا جائے جس پر اب تک کوئی تحقیق نہیں ہوئی۔ اقبال کا صرف یہ مصرعہ ہی اس پورے موضوع پر دلیل قاطع ہے جسے لوگ کوزہ میں دریا بند کرنا کہتے ہیں۔ ستاروں کو نوجوانوں کی بلند ہمتی سے جوڑ کر جس طرح کمند کا عمدہ استعمال کیا ہے وہ اردو شاعری کی تاریخ میں نہ اقبال سے پہلے کہیں ملتا ہے نہ بعد میں اور نہ ہی کوئی اب ایسا بلیغ استعمال کر سکے گا۔ مزید تبصرہ پھر سہی ابھی شعر ملاحظہ فرمائیں </font></font></p>
<p align="right"><font face="Urdu Naskh Asiatype" size="4">محبت مجھے ان جوانوں سے ہے&#160;&#160;&#160;&#160;&#160;&#160;&#160;&#160;&#160;&#160;&#160; <font color="#ff0000">ستاروں</font> پہ جو ڈالتے ہیں کمند </font></p>
</blockquote>
<p align="right"><font face="Urdu Naskh Asiatype" size="4"></font></p>
<blockquote><p align="right"><font size="4"><strong><font face="Urdu Naskh Asiatype"><font color="#0000ff"><font size="5">کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں یہ آرٹ تھا اب خیر سے سائنس بن گئی ہے ۔</font> </font></font></strong></font></p>
</blockquote>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mohib.urdutech.com/2008/04/03/flirt/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>16</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اردو کی کہانی از مقبول انور داؤدی</title>
		<link>http://mohib.urdutech.com/2008/02/12/urdu-adab-history/</link>
		<comments>http://mohib.urdutech.com/2008/02/12/urdu-adab-history/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 12 Feb 2008 14:27:42 +0000</pubDate>
		<dc:creator>محب علوی</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخ اردو]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mohib.urdutech.com/2008/02/12/urdu-adab-history/</guid>
		<description><![CDATA[اردو زبان دنیا کی جدید ترین زبانوں میں سے ایک ہے اس لیے اس کا ادب بھی کم سنی کے دور سے گزر رہا ہے۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><font face="Urdu Naskh Asiatype" size="4">ہر قوم کا ادب اس قوم کی انفرادی ، اجتماعی معاشرتی و سیاسی زندگی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ کسی قوم کے ادب کو دیکھ کر ہی اس کے خیالات و افکار اور مجلسی و معاشی ارتقا کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ازمنہ قدیم کی اقوام دنیا میں موجود نہیں مگر ان میں سے جن قوموں کا ادب اور فنون لطیف زمانے کی خورد برد سے محفوظ رہ گئے ہیں ، ان کی تہذیب و تمدن ، بود و باش اور ثقافت کا آج بھی تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ </font></p>
<p><font face="Urdu Naskh Asiatype" size="4">اردو زبان دنیا کی جدید ترین زبانوں میں سے ایک ہے اس لیے اس کا ادب بھی کم سنی کے دور سے گزر رہا ہے۔ تاہم یہ ہماری گذشتہ ڈھائی سو سال کی تہذیبی ، تمدنی اور سیاسی و معاشی کش مکش کا حامل ہے اور اس مختصر مدت میں بھی اس نے جو حیرت انگیز ہمہ گیری حاصل کر لی ہے ، اس سے اس کے تابناک مستقبل کا پتا چلتا ہے اور یہ امید بندھتی ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہمارا ادب بھی دنیا کی دوسری ترقی یافتہ زبانوں کے مماثل ہو جائے گا اور ہم اردو ادب کو دنیا بھر کے نقادوں کے سامنے فخر سے پیش کر سکیں گے۔ </font></p>
<p><font face="Urdu Naskh Asiatype" size="4">اگر ہم اردو ادب کا بالاستیعاب مطالعہ کریں تو ہمیں دامان اردو جملہ علوم و فنون سے لبریز نظر آئے گا۔ ادب و آرٹ ، فلسفہ و سائنس ، تاریخ و جغرافیہ غرض کہ کون سا فن ہے جس تک اردو کی پہنچ نہ ہوئی ہو۔ دوسرے علوم و فنون کے متعلق بلند بانگ ع دعاوی شاید صحیح نہ ہوں مگر ادب کے متعلق تو ہم ببانگ دہل کہہ سکتے ہیں کہ جب اس کا بچپن ایسا ہے تو جوانی کیسی ہوگی۔ </font></p>
<p><font face="Urdu Naskh Asiatype" size="4"></font></p>
<p><font face="Urdu Naskh Asiatype" color="#800040" size="5">اردو ادب کی کہانی </font></p>
<p><font face="Urdu Naskh Asiatype" size="4">اردو زبان کا اصلی ماخذ وہ زبان ہے جو دلی کے اطراف و جوانب میں بولی جاتی تھی اور اس کا تعلق براہ راست شور سینی پراکرت سے تھا۔ مسلمانوں کی آمد سے اس میں فارسی الفاظ کا عمل دخل شروع ہوا۔ چونکہ نئی زبانوں کی طرح اس میں فارسی الفاظ و محاورات کو قبول کر لینے کی کافی صلاحیت تھی لہذا فارسی کے نرم اور ملائم الفاظ کو اس نے آسانی سے جذب کر لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اردو ایک ادبی زبان بنتی چلی گئی چونکہ فارسی الفاظ ہندی رسم الخط میں آسانی اور صحت سے نہ لکھے جا سکتے تھے اس لیے اس کے لیے فارسی رسم الخط رائج ہوا اور اردو شاعری ، فارسی شاعری کے قدم بقدم چلنے لگی۔ اسی طرح نثر پر بھی ایسا ہی انقلاب گزرا۔ الغرض اردو پر فارسی زبان کا اس قدر گہرا اثر ہوا کہ اردو کی ابتدائی خصوصیات کا بالکل خاتمہ ہوگیا۔ </font></p>
<p><font face="Urdu Naskh Asiatype" size="4">فارسی کی طرح مغربی زبانوں نے بھی اردو پر اپنا گہرا اثر ڈالا۔ ڈچ اور فرانسیسی کے اثرات بہت کم رہ گئے ہیں لیکن پرتگالی اور انگریزی الفاظ اپنی اصلی حالت میں اور بعض کسی قدر تبدیلی کے بعد اب تک موجود ہیں جیسے اسٹیشن ، بوتل ، تولیہ وغیرہ۔ </font></p>
<p><font face="Urdu Naskh Asiatype" size="4">اردو زبان کی ابتدا عام بول چال سے ہوئی۔ اس کے بعد اس زبان میں اشعار لکھے جانے لگے مگر اس وقت کیفیت یہ تھی کہ ایک مصرعہ فارسی کا ہے اور دوسرا اردو کا یا مخلوط زبان میں اشعار لکھے جانے لگے۔ اردو زبان کے ابتدائی دور نظم میں اکثر اشعار ایسے مل سکیں گے کہ صرف ایک لفظ کے فارسی کر دینے سے سارا شعر یا مصرعہ فارسی کا ہوجاتا تھا۔</font></p>
<p><font face="Urdu Naskh Asiatype" size="4">جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔</font></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mohib.urdutech.com/2008/02/12/urdu-adab-history/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
