فاطمہ بھٹو کا بینظیر بھٹو کے لیے الوداعی کالم
زمرہ(جات): تاریخ پاکستان، شخصیات، حالات حاضرہ، سیاست | (5) آراء »
یہ کالم فاطمہ بھٹو نے جنگ میں اپنی پھوپھو بینظیر بھٹو کے لیے لکھا ہے اور میرا خیال ہے بینظیر بھٹو پر لکھے جانے والے کالموں میں ایک بہترین کالم ہے۔
اپنی مرحومہ پھوپھی سے میرے تعلقات کی نوعیت کافی پیچیدہ تھی۔ یہ بہرطور ایک حقیقت ہے ایک افسوسناک حقیقت !!! یہ بھی ایک بدیہی حقیقت ہے کہ گزشتہ پندرہ برس کے دوران ہم نے دوستوں یا رشتے داروں کی طرح ایک دوسرے سے قطعاً کوئی سلوک نہیں کیا۔ یہ پندرہ برس کا عرصہ ہم نے ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہ کر بسر کیا تھا تاہم اس ہفتے میں نے بھی انہیں باندازِ دگر یاد کرنے کی کوشش کی اور خواہش کی ہے۔ میں انہیں ایک مختلف طریقے سے یاد کرنا چاہتی ہوں کیونکہ مجھے ایسا ہی کرنا ہو گا۔ یہ ملک جو میرا وطن ہے اور جس پر میرا ایمان غیر متزلزل ہے میں اس ایمان کو کبھی کھونا نہیں چاہوں گی۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ انہیں بغیر کسی سبب اور وجہ کے قتل کیا گیا ہے۔ تشدد اپنی خالص شکل میں کس قدر سفاک اور ناقابل معافی ہوتا ہے۔ میں اب بھی اس صورت حال کو ذہنی طور پر تسلیم کرنے سے قاصر ہوں۔ بہر صورت مجھے اپنی مرحومہ پھوپھی کو الوداع تو کہنا ہی ہو گا۔ ایک ایسا الوداعیہ جسے اشکوں سے تحریر کیا گیا ہے، جس میں شدید غم و غصہ بھی شامل ہے لیکن جو ایک ایسے مقام سے پیش کیا جا رہا ہے، جو بے حد دور افتادہ ہے اور جسے حافظے اور معذرت خواہی کے جذبے کے ساتھ خلط ملط بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ایسی جگہ ہے جہاں کسی اور وقت ہم سب محفوظ تصور کئے جا سکتے تھے۔ جب میں ننھی منی سی بچی تھی تو اپنی پھوپھی کو بڑی بوا ( سندھی زبان میں وڈی بوا ) کہہ کر مخاطب کیا کرتی تھی جو سندھی افراد اپنے والد کی بڑی بہن کو کہتے ہیں۔ جب مجھے یہ خبر ملی کہ میری بڑی بوا کو کچھ ہو گیا ہے تو مجھے بڑا تعجب ہوا کیونکہ یہ ایک ایسا تاثر تھا جو میں نے اس سے پہلے اتنی طویل مدت کے دوران کبھی نہیں سنا تھا چنانچہ ٹیلی ویژن پر جب میں نے یہ خبر سنی تو مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی اور کے بارے میں یہ خبر سن رہی ہوں۔ مجھے دفعتاً ایک ایک کر کے سب ہی واقعات یاد آنے لگے۔ ہم دونوں مل جل کر بچوں کی کتابیں پڑھا کرتے تھے۔ ہمیں ایک ہی طرح کی مٹھائیاں بھی پسند تھیں۔ خشک میوہ اور پھل بھی ہمیں ایک جیسے ہی پسند تھے۔ ہم دونوں کے کان میں تکلیف کی نوعیت بھی مشترک تھی جس کے نتیجے میں ہم دونوں کئی برس تک شدید اذیت میں مبتلا رہے۔ بہرطور اس سے قبل میں نے ایسا مضمون نہیں لکھا جسے تحریر کرنا مجھے تقریباً نا ممکن سا لگ رہا ہو۔ اس کے باوجود ہم ایک دوسرے سے کافی مختلف تھیں۔ لوگ ہمیں ایک دوسرے سے ملانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں غالباً وہ جبلی طور پر ایسا کرتے ہیں اور کر سکتے ہیں لیکن میرے لئے یہ بے حد دشوار ہے کہ میں بیک وقت دو ایسے افراد کے بارے میں لکھ سکوں جن میں سے ایک کے لئے مجھے صیغہٴ ماضی اور دوسرے کے لئے صیغہٴ حال استعمال کرنا پڑے۔ بالخصوص اس وقت جب ایک فرد کی شخصیت دوسرے کو حیرت زدہ ہو کر یہ سوچنے پر مجبور کر دے کہ واقعی زمانہٴ حال یا زمانہ ماضی کا کوئی حقیقی وجود ہے بھی یا نہیں ؟؟؟ مجھے اپنی مرحومہ پھوپھی کی سیاست سے کبھی اتفاق نہیں رہا۔ جی ہاں۔ کبھی نہیں، مجھے ان لوگوں سے بھی قطعاً کوئی اتفاق نہ تھا، جو انہیں ہر وقت گھیرے رہتے تھے۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر مجھے کراہت محسوس ہوتی تھی۔ واقعات اور حالات کی جو تعبیر اور تفسیر وہ بیان کرتی تھیں اس سے بھی مجھے کوئی اتفاق نہیں رہا۔ تاہم یہ باتیں اور اختلافات ان کی زندگی تک تھے لیکن اب وہ ہمارے درمیان موجود نہیں رہیں۔ موت ہمیں سکون اور اطمینان کے ساتھ سوچنے کا پیغام دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے، جو ہمیں ٹھنڈے دل کے ساتھ چیزوں پر غور کرنے کا موقع دیتا ہے۔ موت ہمیں بتاتی ہے کہ بس !!! بہت ہو چکا۔ ہم آپس میں کافی لڑ بِھڑ چکے اب ہم مزید پاگل پن کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ میں اپنے خاندان کے ساتھ ہونے والے المناک واقعات کا سوگ منا رہی ہوں۔ میرا دل بلاول، بختاور اور آصفہ کے لئے رو رہا ہے۔ میں ان کے رنج و غم میں برابر کی شریک ہوں کیونکہ وہ میرے مرحوم والد کی حقیقی بہن تھیں۔ انہیں بھی میں اپنے والدین جیسا ہی سمجھتی تھی۔ میں ایسے تجربے سے گزر چکی ہوں، جب کوئی سمندر کی لہروں میں گم ہوتا ہوا محسوس کرتا ہے جہاں صرف خوف اور بے بسی ہی اس کے ساتھ ہوتے ہیں مجھے اس جانکاہ صدمے کا بڑا تلخ تجربہ ہو چکا ہے۔ میں پارٹی کے کارکنوں کے لئے بھی افسردہ ہوں جو اس المناک حادثے میں اپنے پیاروں سے محروم ہو چکے ہیں۔ جب کوئی اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اس کے عزیز، رشتے دار اور احباب سب ہی مساجد، گرجا گھروں اور مندروں میں جمع ہو کر اس کے لئے دعائے خیر کرتے ہیں اور رنج و امید سے بھرے حمدیہ کلمات ادا کرتے ہیں۔ ابھی تک کوئی ایسی حمد نہیں لکھی گئی جو غم و غصے یا احساس محرومی کو ظاہر کرتی ہو۔ یہ لمحات بھی بالآخر بیت جائیں گے۔ وقت بہت بڑا مرہم ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب ہمیں کیسی حمد گانا ہو گی؟؟ ایک ایسی حمد جس میں اداسی اور افسردگی کے بعد سورج نمودار ہوتا ہے۔ ہر رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کس چیز کے لئے پُر امید ہو سکتے ہیں؟؟ صبح کو بیدار کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہو گا؟ میں اپنے قارئین کے ساتھ ہمیشہ نہایت دیانتدار رہی ہوں۔ میں نے ان سے کبھی اپنے دل کی بات نہیں چھپائی۔ اس کا اظہار میں نے شروع ہی میں ان سے کر دیا تھا۔ میں پوری ایمانداری اور سچائی سے اس بات کا اظہار کرنا چاہتی ہوں کہ میرا نقصان کم نہیں ہوا۔ میں اب تک صدمے کی حالت سے باہر نہیں آ سکی۔ میں صدمے کی حالت میں ہوں کیوں کہ اب تک میں نے اپنے جتنے پیاروں کو مٹی میں دفن ہوتے دیکھا ہے ان سب کی ہلاکت غیر قدرتی طریقوں سے ہوئی تھی۔ ان میں سے کوئی بھی اپنی قدرتی موت نہیں مَرا۔ میرے چار انتہائی قریبی اور نزدیکی عزیز رشتے دار، جنہیں مٹی کے سپرد کیا گیا ، سب کے سب وحشیانہ اور سفاکانہ قتل کا نشانہ بنے ہیں۔ میں اپنے دادا ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کے پانچ برس بعد پیدا ہوئی تھی۔ میں نے اپنے دادا کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والے خلاء میں جنم لیا تھا چنانچہ اپنے مرحوم والد میر مرتضیٰ علی بھٹو کے نزدیک میں ان کے لئے نئی زندگی کی نوید تھی۔ میں اپنے مرحوم دادا کی تقاریر سن کر بڑی ہوئی اور ان کے ویڈیو کیسٹ بھی میں نے دیکھے ہیں۔ جب میرے دادا کو شہید کیا گیا تھا تو میرے والد ابھی نوجوان ہی تھے اور یہ صدمہ ان کے آخری سانس تک، ان کے ساتھ ہی رہا تھا۔ وہ اپنے والد کی جدائی کے غم سے کبھی آزاد نہ ہو سکے تھے۔ جب میرے چچا شاہ نواز بھٹو کا پیرس میں قتل ہوا تو میں فقط تین برس کی تھی۔ مجھے یاد ہے اس موقع پر میری بڑی بوا نے میرے ساتھ بیٹھ کر مجھے کہانیاں سنائی تھیں۔ خاندان کے دیگر افراد اس سانحے کے بارے میں پولیس سے گفت و شنید میں مصروف تھے۔ چودہ برس کی عمر کو پہنچی تو یوں سمجھ لیں میری زندگی کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ میں اپنے قلب اور اپنی روح سے محروم ہو چکی تھی۔ میرے پیارے والد میر مرتضیٰ علی بھٹو کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔ اس لمحے کے بعد سے میں صرف اور محض اپنی شخصیت اور وجود کا ایک سایہ بن کر رہ گئی ہوں اور اب جب میری عمر پچیس برس ہے تو میری بڑی بوا کو مجھ سے چھین لیا گیا۔ بہرحال یہ مضمون میری ذات کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کی یاد میں لکھا گیا ہے جو مجھ سے بچھڑ چکے ہیں۔ یہ ہمارے آبائی قبرستان گڑھی خدا بخش کے بارے میں ہے جو لمحہ بہ لمحہ قبروں سے بھرتا چلا جا رہا ہے۔ میری دعا ہے کہ کاش یہ آخری میت ہو اور ہمیں آئندہ کسی کو اتنی جلد الوداع نہ کہنا پڑے۔ الوداع بڑی بوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الوداع