فیس بک عالمی بحران
زمرہ(جات): امریکی ثقافت، حالات حاضرہ | (16) آراء »
فیس بک کا بحران شدت اختیار کرتے ہوئے اب عالمی سطح پر خبروں کا مرکز بن گیا ہے اور لگتا نہیں ہے کہ دو چار دنوں میں یہ ختم ہوگا۔ ایک دن کے لیے گو کہ وہ صفحہ غائب ہو گیا تھا جس پر قابل اعتراض کارٹون مقابلے کا انعقاد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا مگر اب پھر سے وہ صفحہ موجود ہے اور صفحہ کے ناظمین میں سے ایک شخص کم ہو گیا جس کی وجہ غالبا اس کے ای میل اور سکائپ آئی ڈی کا ہیک ہونا بتایا گیا جو کچھ ترک نوجوانوں کا کام بتایا جاتا ہے۔
کارٹونوں کے مقابلے کے لیے مختلف قسم کا احتجاج سامنے آیا اور کچھ لوگوں نے بطور احتجاج اپنا اکاؤنٹ غیرفعال کر دیا ، کچھ نے جذبات بھڑکانے کے لیے ہولوکاسٹ ڈے منانے کا اعلان کیا اور کچھ نے مقابلے والے صفحے کو ہیک کرنے کی کوشش کی جس میں جزوی کامیابی بھی ہوئی مگر یہ صفحہ ایک آدھ دن بعد پھر سے فیس بک پر موجود ہے۔ ہولو کاسٹ ڈے منانے والے صفحات بھی ختم کر دیے گئے مگر وجہ تنازعہ بننے والا صفحہ اپنی جگہ قائم رہا جو کہ حیرت ناک اور افسوسناک ہے۔
اس صفحہ کو شروع کرنے والی کارٹونسٹ نے اپنے اس اقدام پر معافی مانگ لی ہے اور اپنی غلطی کا احساس بھی کر لیا ہے مگر معاملہ اب اور لوگوں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے جو آزادی اظہار کے نام پر یہ افسوسناک کام کرنا چاہتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے شاید انتہا پسند مسلمانوں کو سبق سکھایا جا سکتا ہے اور اپنی رائے کی آزادی کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے جو ایک گمراہ کن خیال کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔
پاکستان کی طرف سے فیس بک ، یوٹیوب اور وکیپیڈیا کی پابندی بین الاقوامی مشہور ویب سائٹس پر خبر بنی ہے خصوصا فیس بک کی پابندی کی خبر تو CNET جیسی خالص ٹیکنالوجی کی سائٹ پر بھی آئی ہے اور سی این این نے بھی پابندی کی خبر کو شائٰع کیا ہے
آج فیس بک پر گیا تو عواب علوی کا دلچسپ جملہ دیکھا۔
Everybody draw Mark Zuckerberg’s Mother Day
یہ صفحہ صرف اٹھارہ لوگوں کی پسند کے بعد ہی ختم ہوگیا ، ہولوکاسٹ تو بہت مقدس شے ہے ، اظہار آزادی بھی آزاد لوگوں کے لیے ہی ہے شاید ۔
میرے خیال سے یہ مسئلہ اجتماعی طور پر حکومتوں کے اٹھانے اور اس سلسلے میں قانون سازی سے ہی حل ہونے والا ہے ویسے نہیں۔