آر ايس ايس فيڈ

محفوظات برائے 'اسلام' زمرہ

کیا ستم ہے کہ آج پیروئے یزید بھی
ماتم کناں ہیں لے کر نام حسین ہی
وہ جو دست یزید پر بیعت کیے ہیں ظلم کی
وہ جو کھیلتے ہیں جسم و جاں سے سادہ دلوں کی
وہ بھی روتے ہیں لے کر نام حسین ہی

میں دس بہ دست گزارش ہے ساہوکاروں ، سرمایہ داروں ، سیاستدانوں ، حکمرانوں اور علمائے سو سے عرض کر رہا ہوں کہ آیتیں ، حدیثیں اور جانے کتنی مقدس چیزیں بیچ کر بھی ان کا دل نہیں بھرا تو فریب و ریا کے لیے کوئی اور شے ڈھونڈ لیں مگر خون حسین فروخت کرنا بند کر دیں۔ کسی کو تو چھوڑ دیں، خون حسین پر تو اپنی دکانیں نہ سجاؤ ، حسین کے لہو کی سبیلیں تو نہ لگاؤ ، حسین کی قربانی کی تجارت تو نہ کرو۔ حسین کا نام لے کر اپنے قد اونچے کرنے کی ناکام کوشش تو نہ کرو ، حسین کی اعلی ظرفیوں میں تو اپنی کم ظرفی نہ چھپاؤ ، حسین کو جذبات کی بھینٹ نہ چڑھاؤ۔

حسین میراث ہے بنی نوع انسان کی
حسین پہ تسلط نہ جماؤ
وہ جس نے خون حق دیا ہے امت کے لیے
اسے امت کے لیے وجہ تنازع نہ بناؤ
حسین سب کے ہیں
انہیں فقط اپنا نہ بناؤ

کنور سنگھ بیدی کی نظم کا یہ حصہ بہت اچھا لگا

زندہ اسلام کو کیا تُو نے   
حق و باطل کو دکھا دیا تُو نے
جی کے مرنا تو سب کو آتا ہے
مر کے جینا سکھا دیا تُو نے

مکمل تحرير پڑھيے »

جاپان کی عملی صورت حال اور یہاں کی جامعات اور علمی تحقیقی اداروں میں ہونے علمی کاموں اور تحقیقات اور مطالعات کے بارے میں بیرون جاپان خصوصا اردو دنیا اور برعظیم پاک و ہند کے باشندوں  کو بہت علم ہوتا ہے اور وہ زبان و ادب کے تعلق سے یہاں جو سرگرمیاں مختلف صورتوں میں دیکھنے آتی ہیں اور جن کی ایک دیرینہ اور مستقل روایت کم بیش سو سالوں سے یہاں موجود ہے۔ زیر نظر سطور میں "زبان و ادب" اور پاکستان اور جنوبی ایشیا کے بارے میں یہاں ہونے والے علمی و تحقیقی مطالعات سے قطع نظر ، اسلام اور اسلامی دنیا کے تعلق سے ہونے والے تازہ مطالعات اور تحقیقی و علمی سرگرمیوں کا ایک سرسری سا جائزہ مقصود ہے۔

اگرچہ زیر نظر جائزے کا دائرہ گزشتہ چھ سات سال کی تحقیقات اور مطالعات پر مشتمل پے لیکن سرسری طور پر شاید یہ تذکرہ بے محل نہ ہوگا کہ یہاں اسلامی دنیا یا مسلمانوں سے جاپانیوں کا رابطہ ایک تواتر کے ساتھ انیسویں صدی کے آخر میں استوار نظر آتا ہے لیکن اسلام کے بارے میں سوچنے اور سمجھنے کی علمی سط پر کوششیں بیسویں صدی کی تیسری چوتھی دہائی سے نمایاں ہونے لگتی ہے ۔ اس عرصے میں ہمارے نقطہ نظر سے مشہور انقلابی رہنما مولوی برکت اللہ بھوپالی کا قیام جاپان بھی جو اگرچہ زیادہ طویل نہیں تھا لیکن پھر بھی یوں اہم ہے کہ انہوں نے یہاں رہ کر بھی اپنی انقلابی سرگرمیاں جاری رکھیں۔  Islamic  Fetternity

یہ آرٹیکل شاید جنگ میں پڑھا تھا مگر پورا نہیں لکھ سکا ، سوچا جتنا لکھا ہے اتنا تو بانٹ لوں ہو سکتا ہے کوئی اس پر تفصیلی روشنی ڈال سکے۔

مکمل تحرير پڑھيے »