آر ايس ايس فيڈ

سقوط ڈھاکہ سے سقوط کرپشن تک

سولہ دسمبر تمام  پاکستانیوں کے لیے یوم سوگ ہوتا ہے۔ اس دن ہمارا ایک بازو ہم سے کٹ گیا تھا اور ہمارے بڑوں نے کمال سنگدلی اور بے حسی سے اس بازو کا نہ صرف کٹنا گوارا کر لیا بلکہ اسے جوڑنے کی کوئی کوشش بھی نہ کی۔

وہ جو کبھی “ہم“  تھے  آج  “میں“ اور “تم“  کیسے ہوگئے

چونکہ صوبائیت کا  زہر ہر طرف کار فرما ہے اور اچھے خاصے باعلم  پڑھے لکھے غیر جانب دار لوگ بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے اب ہر شخص کے ساتھ اس کی قومیت ضرور لکھوں گا تاکہ پڑھنے والے کو قوم کا پتہ چل سکے۔

ابھی بھی فقط ادھورے سچ کا ذکر جاری ہے ابھی بھی سارا قصور پنجابیوں کا نکالا جا رہا ہے جس میں سب سے زیادہ سیاہ کردار پٹھان ایوب کا تھا جس نے کتا کتا کہلوا کر بھی جاتے جاتے اقتدار اپنے ہی بنائے ہوئے آئین کی بجائے پنجابی چیف آف آرمی سٹاف یحیی کو دے گیا۔ تین کرداروں میں ایک کا تعلق سندھ سے ایک کا پنجاب سے اور ایک کا بنگلہ دیش سے تھا۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے یحیی کا نام تو سیاہ حروف سے لکھا جاتا ہے اور لکھا جانا بھی چاہیے مگر سندھی بھٹو اور بنگالی مجیب کا سیاہ کردار، روشن اور ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اس پر کب احساس ہوگا ہمیں اور کب لکھا جائے۔ بنگالیوں کو ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے ان سے زیادہ دنیا کی کوئی قوم مظلوم تھی نہ ہے جب کہ ان کی اپنی حرکات بھی بہت سیاہ تھی اگر ان پر ظلم ہوا تو انہوں نے بھی ظلم کی انتہا کر رکھی تھی اور مظالم کے لیے وہ سب سے زیادہ خود ذمہ دار ہیں۔ پہلا مارشل لا اسکندر مرزا نے لگوایا ایوب کو بلوا کر ۔ ایوب مرزا پٹھان تھا اور اسکندر مرزا بنگالی اور جس وزیر اعظم کو برطرف کیا گیا وہ پنجابی۔ اصولا تو یہ پنجاب کے ساتھ پٹھان اور بنگالی قوم کی زیادتی تھی مگر کمال خوبی سے یہ پنجاب کے حصہ میں ڈالی جاتی ہے۔ پھر جاتے جاتے پٹھان ایوب  اقتدار  پنجابی یحیی کو دے کر گیا ، اس لحاظ سے بھی پٹھان ایوب کا کردار پاکستان میں سب سے سیاہ ہے۔ پھر بنگالی مجیب اور سندھی بھٹو کی اقتدار کے لیے خونی کشمکش اور دونوں کا انجام ساری دنیا کے سامنے ہیں فقط ہمارے سوا۔ ایک کو اسی کی قوم نے گولیوں سے بھون ڈالا دوسرے کے اسی کی قوم نے پھانسی دے ڈالی۔ پنجابی یحیی تو اپنی زندگی میں ہی مر گیا تھا اور گمنامی کی زندگی گزاری ، افسوس کہ سندھی بھٹو نے اسے عزت سے دفن ہونے دیا حالانکہ پوری قوم کو اس کے سیاہ کارنامے بتانے چاہیے تھے اور عدالت سے اس کے گناہ کو ثابت کرنا چاہیے تھا مگر یہ تو تب ہوتا اگر سندھی بھٹو مخلص ہوتا۔

سولہ دسمبر کو اس سال سقوط ڈھاکہ  کے  38 سال بعد سقوط  کرپشن ہوا ہے جو قوم کی مشترکہ جدوجہد اور قربانیوں  کا ثمر ہے۔ قدرت نے اپنا فیصلہ دے بھی دیا اور سمجھا بھی دیا ہے ۔

کیا ہم اب بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مشیت  ایزدی کیا  ہے  !!!!!

 

Share and Enjoy:
  • Print this article!
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogosphere News
  • LinkedIn
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • Twitter

11 آراء برائے ”سقوط ڈھاکہ سے سقوط کرپشن تک“

  1. فرحان  دانش Identicon Icon فرحان دانش رقمطراز ہيں: بتاريخ Saturday، 19 December 2009 بوقت 12:13 pm

    NROکالا قانون ہے

  2. Hasan Identicon Icon Hasan رقمطراز ہيں: بتاريخ Saturday، 19 December 2009 بوقت 5:46 pm

    “پٹھان ایوب کا تھا”

    ایوب ہزارہ کا تھا جو پنجابيوں کے قريب ہيں- فوج ميں اکثريت پنجابيوں کی ہے، ہاتھی کے پاؤں ميں سب کا پاؤں-

  3. Hasan Identicon Icon Hasan رقمطراز ہيں: بتاريخ Saturday، 19 December 2009 بوقت 5:54 pm

    “کیا ہم اب بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مشیت ایزدی کیا ہے !!!!!”

    کيا ہے مشیت ایزدي، کہ پنجابی کسی نہ کسی بہانے دوسرے صوبوں کو دبائے رکھيں گے؟ پنجابی کرپشن کرليں، ٹيکس نہ ديں، منی لانڈرنگ کريں، قرضے معاف کراليں، سپريم کورٹ پہ حملے کرائيں، ماورائے عدالت قتل کرائيں، دوسرے صوبوں کے وسائل اور واجبات دونوں دباليں، پنجابيوں کو کوئ نہيں ہاتھ لگا سکتا اور انصاف سے آذاد عدليہ کے کان پہ جوں نہيں رينگتي-

  4. جعفر Identicon Icon جعفر رقمطراز ہيں: بتاريخ Saturday، 19 December 2009 بوقت 9:53 pm

    محب صاحب، حکمران طبقے کی کوئی ذات، نسل، مذہب نہیں‌ہوتا
    یہ ڈفانگ انہوں‌نے صرف عوام کالانعام کے لئے ہی پالے ہوئے ہیں
    جعفر´s last blog ..دودھ کا جلا My ComLuv Profile

  5. افتخار اجمل بھوپال Identicon Icon افتخار اجمل بھوپال رقمطراز ہيں: بتاريخ Sunday، 20 December 2009 بوقت 12:16 am

    یحیٰ خان کا پورا نام “آغا محمد یحیٰ خان” تھا وہ شیعہ پٹھان تھا پنجابی نہیں تھا
    سکندر مرزا بنگالی کے کہنے پر ایوب خان کاٹھے پٹھان نے پنجابی وزیرِاعظم کی حکومت بر طرف کی تھی
    جاتے ہوئے ایوب خان کاٹھے پٹھان نے عنانِ حکومت آغا محمد یحیٰ خان شیعہ پٹھان کے حوالے کی تھی
    سانحہ مشرقی پاکستان کے ذمہ دار تین کرداروں میں سے ایک مجیب الرحمٰن بنگالی دوسرا ذوالفقار علی بھٹو سندھی اور تیسرا آغا محمد یحیٰ خان شیعہ پٹھان تھا
    ایک حقیقت جو آج تک عوام سے مخفی رکھی جارہی ہے ۔ یحیٰ خان کو 12 دسمبر 1971ء کو گرفتار کر لیا گیا تھا ۔ یہ کاروائی ذوالفقار علی بھٹو کی پُشت پناہی کرنے والے مرزائی فوجی جرنیلوں نے کی تھی ۔ 12 سے 16 دسمبر 1971ء تک عنانِ حکومت کس کے ہاتھ میں تھا یہ آج تک واضح نہیں ہو سکا
    سقوطِ بد دیانتی کو ناکام بنانے کیلئے امریکی حکومت کی پُشت پناہی اور لندن والے الطاف حسین کی معاونت سے آصف علی زرداری سندھی برسرِ پیکار ہو چکا ہے

    اللہ ہمارے ملک کو بد دیانتوں سے بچائے
    افتخار اجمل بھوپال´s last blog ..جمہوریت ۔ کتابی اورعملی My ComLuv Profile

  6. عبداللہ Identicon Icon عبداللہ رقمطراز ہيں: بتاريخ Sunday، 20 December 2009 بوقت 1:26 am

    اور اللہ پاکستان اور پاکستانیوں کوافتخار اجمل جیسے تعصبی پنجابیوں سے بھی بچائے جو دین کی اور حب الوطنی کی آڑ میں نفرت کے بیج بوتے ہیں اور صرف اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے خواب دیکھتے ہیں!:(
    آمین

  7. عبداللہ Identicon Icon عبداللہ رقمطراز ہيں: بتاريخ Sunday، 20 December 2009 بوقت 1:27 am

    ویسے یہ کاٹھے پٹھان کونسی اصطلاح ہے :???:

  8. خرم Identicon Icon خرم رقمطراز ہيں: بتاريخ Sunday، 20 December 2009 بوقت 5:01 am

    افتخار انکل سچ کافی کڑوا لکھا آپ نے اگرچہ میں یہ نہیں سمجھتا کہ کسی خاص علاقے یا نسل میں‌پیدا ہوجانے سے آپ کے اخلاق و اطوار میں کوئی خداداد تبدیلی آجاتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو تمام پنجابی وارث شاہ، بلھے شاہ، میاں محمد بخش، تمام پٹھان رحمان بابا، تمام سندھی سچل سرمست اور شاہ عبدالطیف بھٹائی اور تمام بلوچ بابا خرواری ہوتے۔ دوسروں پر الزام عموماً وہی دیتے ہیں جن کے اپنے دامن میں کسی کے لئے کچھ نہیں ہوتا وگرنہ ہزاروں مربع اراضی والے بھٹو، جتوئی، مخدوم، بگٹی، نواب وغیرہا بنا کسی حکومتی مدد کے ہی اپنے علاقوں کو جنت کا نمونہ بنا سکتے ہیں۔ آخر سندھ پر حکومت تو ایک سندھی ہی کرتا ہے، بلوچستان پر بلوچ، سرحد پر پٹھان۔ پھر آخر کیوں ان میں سے کسی ایک بھی اکائی میں انصاف موجود نہیں؟ لیکن ہم یہ سب تھوڑا ہی سوچیں گے کہ پھر شائد عمل کرنا پڑ جائے۔ سو بھائیو، بہتر یہی ہے کہ الزامات کا طومار کسی دوسری قومیت، نسل یا لسانی گروہ کے سر منڈھ دیا جائے اور اللہ اللہ خیر صلا۔ :twisted:
    خرم´s last blog ..روٹھے ہوئے پانی My ComLuv Profile

  9. دوست Identicon Icon دوست رقمطراز ہيں: بتاريخ Sunday، 20 December 2009 بوقت 7:25 am

    ہاہاہاہاہاہاہا
    اچھا لطیفہ ہے سندھی، بلوچی اور پختون ہو تو ہر بات کا الزام پنجابیوں‌ پر رکھ دو۔ اور مسلمان ہو تو یہودیوں پر۔ :twisted:
    دوست´s last blog ..سندھ اور پانی My ComLuv Profile

  10. عبداللہ Identicon Icon عبداللہ رقمطراز ہيں: بتاريخ Tuesday، 22 December 2009 بوقت 10:16 pm

    اور خرم جب یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے پڑھے لکھے مڈل کلاس ایک ہوجائیں تو اس وقت بھی ہم سنی ان سنی کردیتے ہیں یا کسی جھوٹے ذہریلے پروپگینڈے پر بغیر اس کی تصدیق کیئے ہوئے ایمان لاکر وہی کرتے ہیں جو یہ خان وڈیرے جاگیردار اور سردار ہم سے کروانا چاہتے ہیں، :sad:

  11. فاتح Identicon Icon فاتح رقمطراز ہيں: بتاريخ Friday، 25 December 2009 بوقت 2:02 am

    سندھی، پنجابی، پٹھان، بنگالی، سبھی کا ذکر ہو گیا۔ بے چارے بلوچیوں نے کیا قصور کیا تھا کہ ان کا کوٕی تذکرہ نہیں آیا ;-)

ٹريک بيک | آراء کا آر ايس ايس

اپني رائے يہاں ديں

Englishاردو

Englishاردو

CommentLuv Enabled