بیس برس کے خود کش حملہ آور کے نام
Wednesday، 9 December 2009 | مصنف: محب علوی
جن آنکھوں کو ملک وقوم کو آپ کے قلم کی ضرورت ہے۔ ان بے گناہ اور معصوم لوگوں کو آپ کے قلم کی ضرورت ہے جوشب وروز بلا وجہ اور بے قصور، تاریک راہوں میں مارے جا رہے ہیں ۔
خواب محبت کی پہلی من موہنی دستک سے کھلنا تھا
وہ آنکھیں اک وحشت ناک دھماکے
کے خونی جھٹکے سے…بند ہوئی ہیں
بھورے بھورے بال الجھے ہیں… اک جھاڑی سے
تن کی دھجی دھجی رستوں پر بکھری ہے
مارنے اور مرجانے کی اندھی خواہش میں
کس بدلے کی بھاونا… اک شعلے کی صورت
اس نازک تن میں جلتی تھی
دشمن کو بن پہچانے ہی
بیس برس کے اس سینے میں
کیوں اتنی نفرت پلتی تھی؟
بیس برس کی عمرتو ماں کی سبز دعاؤں سے اُگتی ہے
بیس برس کی آنکھوں کے محمل میں تو لیلیٰ رہتی ہے
بیس برس کا دل تو عشق کی اونچی لَو سے
سرخ چراغ بنا رہتا ہے
اپنے انجانے جذبوں کا
خود ہی سراغ بنا رہتا ہے
کس نے تمہارے روشن دل کو نفرت کرنا سکھلایا تھا
لمبی عمر کی… سبز دعاؤں والی رُت میں
کس ظالم نے موت کا سپنا دکھلایا تھا؟
کس نے کہا، اس آگ میں جل کر تم کو شہادت مل جائے گی
کس نے بتایا، موت کی کالی راہ پہ جنت مل جائے گی
بیس برس کے کم سنِ دل کو
پہلی چاہت مل جائے گی؟
~~~
( ثمینہ راجہ )










اب صرف نظموں اور غزلوں سے کام نہیں چلے گا ۔ یہ وقتِ عمل ہے یعنی اپنے لئے اپنے بچوں کے لئے اپنے بہن بھائیوں کے لئے اپنے شہر کے لئے اپنے ملک اور قوم کے لئے محنت اور کوشش کا اور اسی کا نام جہاد ہے
افتخار اجمل بھوپال´s last blog ..چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ کڑوی کسَیلی
جی افتخار صاحب اسی کے لیے لکھی ہے یہ اور اسی کے لیے انشاءللہ کام جاری ہے
محب علوی´s last blog ..بیس برس کے خود کش حملہ آور کے نام
شائد اس بیس برس کے بچے سے بھی کسی اسلام آبادی نے جھوٹا وعدہ کیا ہو اور پھر بن بتائے غائب ہو گیا ہو اور بچے نے “غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا” گنگنانے کی بجائے “ٹھاہ”

خرم´s last blog ..غیر حاضری
پاکستان کے مختلف شہروں ميں تشدد کی لہر سے ميرا بھی دل دکھی ہے۔ ميری بھی يہی خواہش ہے کہ اس وحشت اور بربريت کا خاتمہ ہو۔