محب علوی فانٹ
Monday، 30 November 2009 | مصنف: محب علوی
سب سے پہلے تو محترمی و مکرمی جناب شاکر القادری صاحب کا میں دل کی گہرائیوں سے مشکور ہوں کہ آدھی زبان سے کی گئی فرمائش کا اس قدر جلد پورا کر دینا بلاشبہ خصوصی محبت اور الفت اور تعلق کا آئینہ دار ہے۔ اس کے بعد میں اشتیاق صاحب کا دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے اتنی محبت اور لگن سے یہ دل کش اور خوبصورت فونٹ بنایا۔ میں فونٹ کی خوبیوں اور باریکیوں پر تو روشنی نہیں ڈال سکتا کہ میں اس فن میں درسگاہ کے باہر کھڑے ان طالب علموں کی طرح ہوں جو پڑھنا تو چاہتے ہیں مگر کم علمی سے شرمندہ تو ہیں مگر خود پسندی اور نفس امارہ انہیں اقبال کم علمی سے مانع بھی رکھتا ہے۔
فانٹ سے زیادہ خوشی مجھےشاکر صاحب کے خراج تحسین سے ہوئی ہے۔
اس فانٹ کو ار دو بلاگنگ کے مشہور نام جناب محب علوی سے منسوب کیا گیا ہے
مدت سے آرزو تھی کہ ہم بھی مشہور ہوں کسی بہانے۔ داغ کے کہنے کےمطابق بدنامی کے داغ بھی اٹھائے پر وائے افسوس کہ شہرت ملی نہ نام ۔ جب بھی ٹی وی ، رسالوں ، میگزین ، کتابوں میں مشہور لوگوں کے قصے پڑھتا ، سنتا اور دیکھتا تو اللہ سے دل ہی دل میں شکوہ ضرور کرتا تھا کہ
یااللہ مجھے کب مشہور کرے گا ایسے ایسے کو شہرت دیتا ہے مجھے بھی تو دے دے تو تیرے خزانے میں کون سی کمی ہو جائے گا ، آج اللہ نے میری ایک دیرینہ خواہش بھی پوری کردی۔ شاکر صاحب میں آپ کو بتا نہیں سکتا کہ میں آپ کا یہ جملہ پڑھ کر کتنا مسرور ہوں۔ شکر ہے آج میں بھی اکتیس سال کی دن رات محنت کے بعد مشہور ہو ہی گیا۔










بھئی بہت تاخیر کر دی یہ خبر پوسٹ کرنے میں آپ نے۔
دیر لگی پر سعود پوسٹ ہو تو گئی
محب علوی´s last blog ..محب علوی فانٹ
ہمیں صرف یہ پوچھنا ہے کہ آپ نے وہ عرصہ بھی شبانہ روز محنت کی مد میں داخل کردیا جب آپ کی تمام محنت ذرا سا پہلو بدل کر ہلکی سی “اونہہ” کردینا ہوتا تھا اور دھونے سکھانے کی باقی ماندہ محنت خالہ جان کیا کرتی تھیں؟

خرم´s last blog ..غیر حاضری
ٍفونت واقعی خوسصورت ہے