غصہ دور کرنے کا طریقہ
Tuesday، 23 June 2009 | مصنف: محب علوی
آج غصہ کی کیفیت طاری ہوئی اور کافی ضبط کرنے کے باوجود جب نہ گئی تو میں نے سوچا کہ گوگل سے تلاش کرکے غصہ دور کرنے اور قابو پانے کے طریقے ہی ڈھونڈے جائیں۔ درج ذیل اقتباسات مختلف ویب سائٹس سے ہیں۔ پہلا اقتباس ہے اردو مجلس سے جو عبدالرحمن نے بنائی ہے اور انہوں نے ہی اردو ویب محفل کو وی بلیٹن کا اردو ترجمہ دیا تھا۔
دورِحاضر کا ذکر ہے کہ ایک بچہ بہت بدتمیز اور غصے کا تیز تھا۔اسے بات بے بات فوراً غصہ آجاتا ، والدین نے اسے کنٹرول کرنے کی بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے۔ایک روز اسکے والد کو ایک ترکیب سوجھی۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو کیلوں کا ایک ڈبا لا کے دیا اور گھر کے پچھلے حصے کی دیوار کے پاس لے جا کر کہنے لگے، “ بیٹا جب بھی تمہیں غصہ آئے ۔اس میں سے ایک کیل نکال کر یہاں دیوار میں ٹھونک دینا۔پہلے دن لڑکے نے دیوار میں 37 کیلیں ٹھونکیں۔ایک دو ہفتے گزرنے کے بعد بچہ سمجھ گیا کہ غصہ کنٹرول کرنا آسان ہے لیکن دیوار میں کیل ٹھونکنا خاصا مشکل کام ہے۔اس نے یہ بات اپنے والد کو بتائی۔والد نے مشورہ دیا کہ اب جب تمھیں غصہ آئے اور تم اسے کنٹرول کر لو تو ایک کیل دیوار میں سے نکال دینا۔لڑکے نے ایسا ہی کیا اور بہت جلد دیوار سے ساری کیلیں نکال لیں۔
باپ نے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور اس دیوار کے پاس لے جا کر کہنے لگے،بیٹا تم نے اپنے غصے کو کنٹرول کرکے بہت اچھا کیا لیکن ذرا اس دیوار کو غور سے دیکھو ! یہ پہلے جیسی نہیںرہی۔ اس میں یہ سوراخ کتنے برے لگ رہے ہیں۔جب تم غصے سے چیختے چلاتے ہو اور الٹی سیدھی باتیںکرتے ہو تو اس دیوار کی مانند تمھاری شخصیت پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے۔تم انسان کے دل میںچاقو گھونپ کر اسے باہر نکال سکتے ہو لیکن چاقو باہر نکالنے کے بعد تم ہزار بار بھی معذرت کرو ، معافی مانگو ، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔وہ زخم اپنی جگہ باقی رہے گا۔
یاد رکھو زبان کا زخم ،چاقو سے کہیںبد تر اور دردناک ہے !
اس کے بعد بھی گوگل پر تلاش جاری رکھی اور مسرت اللہ جان کا آرٹیکل کیا آپ کو غصہ آتا ہے اچھا لگا جس میں سے ایک اقتباس یہ ہے
مجھے بھی آتا ہے اور البرٹ پینٹو کو بھی آتا ہے۔ لیکن کب اور کیوں آتا ہے اور یہ کہ کن لوگوں کو کم اور کن کو زیادہ آتا ہے۔ مجھے غصہ کیوں آتا ہے اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اپنی زندگی تلخیوں سے عبارت ہے بلکہ ایسی بات پر بھی آتا ہے جنہیں لوگ نظرانداز کردیتے ہیں۔ بات بات پر غصہ آتا ہے اور چونکہ ایک عدد ملازم رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہوں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اپنا یہ غصہ ہمیشہ قہر درویش بر جان درویش ثابت ہوا اسی غصہ اور بے بسی کے باعث ایک سے زائد مرتبہ ذہنی دباؤ میں بھی مبتلا ہوا اور اس طرح جسم اور ذہن کے ساتھ ساتھ پیسے کا بھی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
روح کا ناسور نامی عنوان سے یہ مفید باتیں پتہ چلیں
حضرت امام جعفر صادق(علیہ السلام) سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے پدر بزرگوار حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے سنا۔کہ ایک بدّو رسول خدا کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں ریگستان میں رہتا ہوں۔ مجھے عقل اور دانش کی باتیں بتائیں۔ جواب میں جناب رسول اللہ نے فرمایا۔ ”میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ غصّہ نہ کیا کرنا۔“
اسی سوال کو ۳ دفعہ دہرانے اور رسول خدا سے ایک ہی جواب پانے پر بدّو نے اپنے دل میں کہا کہ اس کے بعد میں پیغمبر خدا سے اور کوئی سوال نہیں کروں گا اس لئے کہ وہ نیکی کے علاوہ اور کسی چیز کا حکم نہیں دیں گے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کہتے تھے کہ میرے والد ماجد فرمایا کرتے تھے :
”کیا غضب سے بڑھ کر اور کوئی شدید شئے ہوسکتی ہے؟ ایک شخص کو غصّہ آجاتا ہے اور وہ کسی ایسے آدمی کا قتل کردیتا ہے۔ جس کا خون اللہ کی طرف سے حرام کردیا گیا ہے یا ایک شادی شدہ عورت پر تہمت اور الزام لگا بیٹھتا ہے۔“
(الکلینی الکافی، جلد ۲، صفحہ ۳۰۳، حدیث ۴)امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السّلام نے فرمایا:
’اپنے آپ کو غصّہ سے بچاؤ اس لئے کہ اس کی ابتداء دیوانگی ہے اور انتہا اس کی ندامت اور پشیمانی۔‘
فیض رضا سے یہ کام کی چیزیں ملی۔
حدیث شریف میں ہے جو شخص اپنے غصے کو روک لے گا، اللہ عزوجل بروز قیامت اس سے اپنا عذاب روک لے گا۔ ( مشکٰوۃ شریف )
ابوداؤد کی حدیث میں ہے جس نے غصے کو ضبط کر لیا حالانکہ ہ اسے نافذ کرنے پر قادر تھا تو اللہ تعالٰی بروز قیامت اس کو تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا اور اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے لے لے ( اس کے بعد مرد حضرات پر تو غصہ حرام ہونا حقیقی معنوں میں سمجھ آ جاتا ہے کیونکہ غصہ کرکے حور گنوانا گویا لاٹری جیت کر ٹکٹ گنوانے کے مترادف ہے )۔
غصہ معاشرے کی ان بڑی برائیوں میں سے ہے جس سے انسان کی شخصی اور تعمیری بلندی کو زوال آتا ہے انسان ہمیشہ ان حالات سے دوچار رہتا ہے جس کی وجہ سے اعصاب اور حواس کھینچے رہتے ہیں اس کی یادداشت بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی غصہ زہر کا اثر رکھتا ہے اور خون میں ایک زہریلا مادہ پیدا کرتا ہے جس سے چہرے پر رونق ختم ہو جاتی ہے آنکھوں اور ہونٹوں میں تازگی ختم ہو جاتی ہے غصہ معدے اور اعصابی نظام کو بری طرح متاثر کرتا ہے اور کردار میں منفی اور تخریبی اثرات پیدا کرتا ہے ماہرین عمرانیات ( سوشیالوجی ) کا کہنا ہے کہ خاوند غصیلا ہو یا بیوی ان کے گھر میں سکون اور اطمینان نہیں رہتا ا سکے اثرات بچوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں بچے آپس میں پیار و محبت میں رہنے کے بجائے لڑتے جھگڑتے ہیں پھر غصہ پورے معاشرے میں بد امنی کرتا ہے۔ ( سنتیں اور انکی برکتیں )
غصہ پر قابو پانے کے لیے مندرجہ ذیل علاج بتائے جاتے ہیں ، آپ بھی آزما کر دیکھیںاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھنا
لاحول ولا قوتہ الا باللہ پڑھنا
وضو کر لینا
کھڑے ہو تو بیٹھ جانا اور بیٹھے ہوں تو لیٹ جانا
جس پر غصہ آ رہا ہو اس کے سامنے سے ہٹ جانا
پانی پینا
خاموش ہو جانا
ڈیوک یونیورسٹی امریکہ کے ایک سائنسدان ڈاکٹر ریڈ فورڈ بی ولیمز کے مطابق غصے اور بغض رکھنے والے افراد جلد مر جاتے ہیں ان کے مطابق اس سے انسانی قلب کو وہی نقصان پہنچتا ہے جو تمباکونوشی اور ہائی بلڈ پریشر سے پہنچتا ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے سائنسی ادیبوں کے سیمینار میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بہت سے لوگ وقت سے پہلے محض بغض اور کینے کے جذبات کی شدت کی وجہ سے چل بستے ہیں غصہ اور بغض قلبی دردوں کے اہم اسباب میں سے ایک ہیں اس طرح حرص و طمع میں مبتلا بے چین و بے صبر افراد بھی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی تمناؤں اور آرزؤں کے ہاتھوں اپنی شمع زندگی کو گل کر لیتے ہیں۔
ماہرین نے غصیلے اعصاب زدہ، بے چین اور ضرورت سے زیادہ آرزو مند افراد کو زمرہ “ الف “ اور بردبار، حلیم اور صابر و شاکر لوگوں کو زمرہ “ ب “ میں تقسیم کیا ہے وہ اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زمرہ الف سے تعلق رکھنے والے افراد بالعموم امراض قلب کی زد میں رہتے ہیں اور انہیں کولیسٹرول کی زیادتی، سگریٹ نوشی اور ہائی بلڈ پریشر ہی کی طرح دورہ قلب کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ ( سنت نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور جدید سائنس )یہ سب پڑھ کر میرا غصہ تو اتر گیا ہے آپ بھی غصہ آنے کی صورت میں پورا آرٹیکل پڑھ لیں امید واثق ہے اتنا لمبا مضمون پڑھ کر غصہ کا باقی رہ جانا امر محال ہے۔
![Reblog this post [with Zemanta]](http://img.zemanta.com/reblog_b.png?x-id=d5f39246-e55b-4f9d-a5d8-214a3a8c0eb0)










اتنی عمدہ اور مفید تحریر کے لئے شکریہ۔۔۔۔


لیکن اتنی طویل تھی کہ آخر تک آتے آتے غصہ آنا شروع ہو گیا۔۔۔
جعفر´s last blog ..چوہدری نسرین باجوہ اور ہمنوا
واہ محب تمھارے ہوش و حواس غصے میں بھی قائم رہے کہ اتنی کام کی چیزیں ڈھونڈ لائے

محمد وارث´s last blog ..علامہ اقبال کی ایک خواہش – ایک خوبصورت فارسی نظم
ہم غصے پر قابو پانے کیلیے وقتی طور پر خاموش ہو جاتے ہیں، تھوڑا انتظار کرتے ہیں اور پھر بات کرتے ہیں۔
لیکن یہ سچ ہے کہ غصے میںآدمی پاگل ہو جاتا ہے اور پاگل پن کا علاج ابھی تک ایجاد نہیںہوا سوائے نشے کے۔
غصے کی بہت ساری وجوہات میں فرسٹریشن، وقت پر کام ختم نہ کرنا، مالی پریشانیوں کو خود پر طاری کر لینا اہم ہیں۔
ویسے ہم سب کو معلوم ہے کہ غصہ ہمیںکمزور پر ہی آتا ہے۔ طاقتور کے آگے ہماری زبان گنگ ہو جاتی ہے اور یہی غصے کا علاج ہے۔
دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ زیادہ جلتے کڑھتے رہتے ہیں، غیبت کرتے ہیں یا غصے والے ہوتے ہیں، وہ بہت جلد بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

جسم کی تندرستی کے لیے خوش رہنا سب سے زیادہ اہم ہے۔
آپ کو متحرک دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے بالکل ویسی جیسی آپ کو ہمیں بلاگنگ میں گھیرنے کے بعد ہوئی ہوگی
ابوشامل´s last blog ..مہنت؟؟؟؟
تو گویا میری صحت کا یہی راز ہے
مجھے دو خطرناک بیماریاں ہیں
ایک ۔ مجھے گُدگُدی نہیں ہوتی
دو ۔ مجھے غُصہ نہیں آتا
البتہ میں کبھی کبھی غُصے کا ڈرامہ کرتا ہوں اپنے آس پاس جو ہوں اُنہیں ڈرانے کے لئے
السلام علیکم
یہ بلاگ تحریر اچھی لگی ۔ اس میں ایک پیراگراف اگر شامل نہ ہوتا تو بہتر تھا ۔
غصہ آیا کیوں تھا؟
بہت محنت سے لکھا ہے۔۔۔ بہت اعلی مضمون ہے۔
جعفر آپ کو مستقل دیکھ کر کافی خوشی ہو رہی ہے۔ طویل اس لیے تھا کہ غصہ کم کرتے کرتے جتنی دیر لگی اتنا ہی مضمون طویل ہوتا گیا اور میں نے سوچا چلو اسی بہانے کچھ اچھا مواد جمع ہو رہا ہے تو ہونے دیا جائے۔
وارث،
اصل میں جس شخص پر غصہ تھا اسے میں یہی کہتا ہوں کہ غصہ پر قابو پاؤ اور اسے خود پر سوار نہ کرو تو میں نے اسی پر خود عمل کرتے ہوئے غصہ پر قابو پانے کی جدوجہد کی اور مجھے خوشی ہے کہ اس بہانے کچھ کام کی چیزیں میں نے جمع کر لیں۔
میرا پاکستان ،
آپ کی تجاویز قابل قدر ہیں اور یہ بات تو انتہائی پتہ کی لکھی ہے آپ نے
ویسے ہم سب کو معلوم ہے کہ غصہ ہمیںکمزور پر ہی آتا ہے۔ طاقتور کے آگے ہماری زبان گنگ ہو جاتی ہے اور یہی غصے کا علاج ہے۔
یعنی غصہ اتنا نا سمجھ نہیں ہوتا دیکھ کر اور مقابل کا اندازہ لگا کر ہی آتا ہے
ابو شامل،
خوشی دوبالا ہو گئی تبصرہ پڑھ کر
اجمل صاحب ،
آپ کی صحت کا راز بھی معلوم ہو ہی گیا
وعلیکم السلام شگفتہ ،
جو پیراگراف شامل نہ کرنے کا کہہ رہی ہیں وہ مردوں کا غصہ دور کرنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے
غصہ دور کرنے کی کوشش کو دیکھیں ، صنفی امتیاز کو نہیں
محب، تمھیں غصہ بھی آتا ہے؟
ویسے آیا کیوں تھا؟
بدتمیز ،
غصہ کسی کے رویے پر آیا تھا جو ایک عرصہ کے بعد ملی خوشی کو بے صبری سے کشیدگی میں بدلنے پر آیا تھا
شعیب صفدر ،
خوشی ہوئی بلاگ پر دیکھ کر اور تعریف کا شکریہ ویسے آخری پوسٹ بہت عمدہ ہے آپ کے بلاگ پر بھی ۔
ماورا مجھے بھی غصہ آتا ہے البتہ اکثر پی لیتا ہوں جیسے اس دفعہ پی لیا۔
عمدہ تحریر ہے بطور خاص ان کے لئے جنھیں گصہ آتا ہے
مجھے تو نہیں آتا یا ذیادہ سے ذیادہ حد خاموشی ہوتی ہے
محب آپ کو غصّہ بھی آتا ہے یہ نئی خبر ہے ، اور غصّہ میں اتنا اچھا کام واہ پھر تو غصّۃ کر کے نئی نئی پوسٹ لکھا کریں
تبصرہ کا شکریہ نوائے اردو
اور حجاب کوشش کروں گا کہ یہ اچھا کام کرتا رہوں
جعفر کے تبصرے سے پوری طرح متفق ہوں

DuFFeR – ڈفر´s last blog ..فوج کرے موج