آر ايس ايس فيڈ

کائنات کا مکمل ترین نظریہ

یہ مضمون میں نے وکیپڈیا کے لیے لکھا تھا اب سوچا شیئر کر لوں تاکہ کوئی اس میں اضافہ کرنا چاہے تو کر سکے۔

یہ کتاب اسٹیفن ہاکنگ کے لیکچروں کا مجموعہ ہے جسے گلوبل سائنس کے مدیر علیم احمد نے ترجمہ کیا ہے۔ ان لیکچروں کے ذریعے مصنف نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ بگ بینگ (Big Bang) سے لے کر بلیک ہولز تک ، کائنات کی تاریخ کے بارے میں ہم کیا سوچتے ہیں اور کیا سوچتے چلے آ رہے ہیں۔

کائنات کے بارے میں تصورات

 پہلے لیکچر میں کائنات کے متعلق گزشتہ نظریات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ کائنات کی موجودہ تصویر تک ہماری رسائی کیسے ہوئی۔ اسے تاریخِ کائنات کی تاریخ کہا جا سکتا ہے۔

پھیلتی کائنات

 دوسرے لیکچر میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ نیوٹن اور آئن سٹائن ، دونوں کے نظریاتِ ثقل کس طرح ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتے ہیں کہ کائنات ساکن نہیں ہو سکتی۔ یعنی یہ نتیجہ کہ کائنات کو لازما پھیلنا یا سکڑنا چاہیے۔ اسی تصور سے یہ خیال اخذ کیا گیا ہے کہ ماضی بعید میں ، آج سے دس یا بیس ارب سال قبل ، ایک موقع ایسا بھی تھا جب کائنات کی کثافت (density) لامتناہی تھی۔

بلیک ہول

 تیسرے لیکچر میں بلیک ہولز کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ یہ تب بنتے ہیں جب کمیت والا کوئی ستارہ یا اس سے بڑا کوئی جسم ، اپنی ہی قوت ثقل کے زیر اثر ، اپنے ہی وجود میں منہدم (collapse ) ہوتا ہے۔ آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کے مطابق ، بلیک ہول میں جا گرنے والا کوئی احمق ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا؛ وہ بلیک ہول سے باہر آنے کے کے قابل نہیں رہے گا۔ اس کے برعکس ، بلیک ہول میں گرنے والے کسی شخص کے لیے تاریخ کا خاتمہ ایک ایسے مقام پر ہوگا جسے وحدانیت کہتے ہیں لیکن عمومی نظریہ اضافیت ایک کلاسیکی نظریہ ہے یعنی اس میں کوانٹم آلاتیات کے اصول عدم یقین کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

بلیک ہولز اتنے بھی سیاہ نہیں

 چوتھا لیکچر یہ واضح کرتا ہے کہ کوانٹم آلانیات کس طرح توانائی کو یہ اجازت دیتی ہے کہ وہ رس رس کر بلیک ہول سے باہر نکلتی رہے یعنی بلیک ہولز ایسے سیاہ و تاریک نہیں جیسے کہ ان کی تصویر کشی کی جاتی ہے۔

کائنات کا آغاز اور انجام

 پانچواں لیکچر اس پہلو کا احاطہ کرے گا کہ بگ بینگ اور ابتدائے کائنات جیسے مواقع پر میکانیاتی تصورات کا اطلاق کیسے کیا جاتا ہے۔ اسی اطلاق کی وجہ سے یہ خیال سامنے آتا ہے کہ زمان و مکان اس انداز سے متناہی finite ہو سکتے ہیں کہ ان کا کوئی سرا یا کنارہ نہ ہو ۔ یہ ( زمان و مکان ) زمین کی سطح جیسے ہوں گے مگر ان میں دو اضافی جہتیں (dimensions) ہوں گی۔

وقت کی سمت

 چھٹے لیکچر میں بتایا گیا ہے کہ حد بندی والا یہ نیا تصور کس طرح اس امر کی وضاحت کر سکتا ہے کہ قوانین طبیعات ، وقت کے اعتبار سے متشاکل (symmetric) ہی کیوں نہ ہو لیکن پھر بھی ماضی اور مستقل ایک دوسرے سے کس طرح مختلف ہوں گے۔

حتمی کائناتی نظریہ

 ساتویں لیکچر میں اس بابت گفتگو ہے کہ کیونکر کائنات کا مکمل ترین ، حتمی اور متحد نظریہ کھوجنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ایک ایسا نظریہ جس میں کوانٹم آلاتیات ، ثقل اور طبیعات کے دیگر عوامل کا احاطہ کیا جائے گا۔ اگر یہ نظریہ حاصل ہو گیا تو ہم واقعتا کائنات کو سمجھ لیں گے اور یہ بھی جان لیں گے کہ کائنات میں ہمارا مقام کیا ہے۔

 کوشش کروں گا کہ اس سلسلے میں آئندہ بھی پوسٹ کروں

Share and Enjoy:
  • Print this article!
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogosphere News
  • LinkedIn
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • Twitter

11 آراء برائے ”کائنات کا مکمل ترین نظریہ“

  1. محمد وارث Identicon Icon محمد وارث رقمطراز ہيں: بتاريخ Friday، 12 June 2009 بوقت 9:34 pm

    خوب لکھا ہے محب، کیا یہ ہاکنگ کی کتاب ‘اے بریف ہسٹری ؔف ٹإم’ کا تعارف ہے یا کوئی اور کتاب کیونکہ ؔپ نے ان کو مضامین کا مجموعہ لکھا ہے۔

    محمد وارثکی آخری تحریربحرِ مُتَقارِب – ایک تعارف

  2. افتخار اجمل بھوپال Identicon Icon افتخار اجمل بھوپال رقمطراز ہيں: بتاريخ Friday، 12 June 2009 بوقت 11:07 pm

    میں تو بِگ بَينگ کو ایسے سمجھتا ہوں کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے کہا ہو جا اور ہو گیا ۔ رہا ارتقاء تو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے ہر چیز کے لئے ارتقاء مقرر کیا ہے ۔ ميرے دو سوال ہیں جن کا جواب سائنس میں آج تک نہیں ملا
    دورِ حاضر میں انسانی جسم کی پیونڈکاری عام ہے اور اسے جدید سائنس کا کرشمہ قرار دیا جاتا ہے ۔ کيا درخت کے ايک پتے کا ٹوٹا ہوا کچھ حصہ کوئی سائنسدان واپس جوڑ سکتا ہے ؟
    درخت جس کي مکمل ديکھ بھال کی جا رہی ہوتی ہے اُس کی ہري بھری شاخوں کے درمياں ایک شاخ کیوں سوکھ جاتی ہے ؟

    بات صرف اتني ہے کہ جو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے مقرر کردیا ہوا ہے صرف وہی ہو سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتا

  3. رضوان Identicon Icon رضوان رقمطراز ہيں: بتاريخ Sunday، 14 June 2009 بوقت 11:51 am

    محب کافی دنوں بعد مجھے بھی اپنے کوچے کی سیر کا موقعہ ملا ہے۔
    تمہارا بلاگ دیکھ کر جی باغ باغ ہوگیا ان موضوعات پر مزید لکھنے کی ضرورت ہے۔ یار سائنس اور دیگر سنجیدہ موضوعات پر تو حقیقتًا کوئی بلاگ ہی نہیں ہے بس اکثریت روزمرہ کی باتیں ہی لکھے جارہی ہے۔ میری طرف سے زوردار مبارک قبول کرو اتنے عمدہ بلاگ پر
    محب ساڈا ۔۔۔۔۔۔۔ :lol:

    رضوانکی آخری تحریر1

  4. محب علوی Identicon Icon محب علوی رقمطراز ہيں: بتاريخ Monday، 15 June 2009 بوقت 3:56 pm

    شکریہ وارث ،

    میرا خیال ہے کہ یہ اسٹیفن ہاکنگ کی کتاب بلکہ لیکچروں کا مجموعہ ہی ہے جسے شاید بعد میں اسٹیفن ہاکنگ نے کتابی شکل دے دی ہو ویسے میں نے خود نہیں لکھا ہے یہ صرف اقتباس ہے علیم احمد کی کتاب کا جو اردو ترجمہ ہے اسٹیفن ہاکنگ کے لیکچروں کا۔ :smile:

  5. محب علوی Identicon Icon محب علوی رقمطراز ہيں: بتاريخ Monday، 15 June 2009 بوقت 8:37 pm

    وارث ،

    تلاش کرتے کرتے مجھے ایک اور ربط ملا ہے

    A Briefer history of Time سن اشاعت 2005

    جو کہ اسٹیفن ہاکنگ اور ایک امریکی سائنسدان لیونارڈ ملادینو۔ یہ کتاب اے بریف ہسٹری آف ٹائم 1988 ہی کا نیا ورژن بلکہ دوبارہ لکھا گیا ہے نسخہ ہے۔ اس نئی کتاب میں کوانٹم میکانیات ، سٹرنگ تھیوری اور دیگر سائنسی نظریات کو عام فہم زبان میں عوام کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایک سائنسی کلاسک ہے جسے زیادہ جامع، قابل رسائی ، واضح آسان اور نئی ریسرچ کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
    مصنفین نے اس میں زمان و مکان کی فطرت ، تخلیق میں خدا کے کردار اور کائنات کے ماضی اور مستقبل کے بارے میں بحث کی ہے۔

  6. محب علوی Identicon Icon محب علوی رقمطراز ہيں: بتاريخ Tuesday، 16 June 2009 بوقت 12:16 pm

    اجمل صاحب ،

    سب سے پہلے تع خوش آمدید کافی دیر بعد آپ کا تبصرہ میرے بلاگ پر آیا ہے جس کی ایک وجہ کافی دیر سے میری پوسٹ کا آنا بھی ہے۔
    اللہ کے لیے بگ بینگ کہا اور ہو جانا ہی ہے مگر مخلوق کے لیے اس میں بہت سی پیچیدگیاں اور مرحلے ہیں جس کی بنیادی وجہ خالق اور مخلوق میں موجود صفات کا فرق ہے۔

    درخت کی پیوند کاری کے بارے میں میری معلومات زیادہ نہیں ہیں مگر انسانی اعضا کی پیوندکاری پودوں کی پیوندکاری سے کہیں پیچیدہ اور مشکل ہے اور کافی کامیابی سی کی جاتی ہے۔ شاخوں کے درمیاں ایک شاخ کے سوکھنے پر سائنسی نظریات موجود ہیں البتہ سب کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
    آخری بات سے متفق ہوں آپ کی مگر اس سے انسان کے علم حاصل کرنے اور ترقی کرنے پر کوئی براہ راست قدغن نہیں آتی۔ اللہ کا علم مستقبل کے بارے میں بھی ہے جسے عام فہم زبان میں اللہ کا حکم کہتے ہیں مگر وہ حکم انسان کو کسی کام کی انجام دہی سے نہیں روکتا۔

  7. محب علوی Identicon Icon محب علوی رقمطراز ہيں: بتاريخ Wednesday، 17 June 2009 بوقت 3:53 am

    رضوان ،
    جی خوش ہوا تمہارا تبصرہ پڑھ کر اور یقین کرو سیروں خون بڑھ گیا :grin:

    سچ کہتے ہو ان موضوعات پر مزید لکھنے کی ضرورت ہے اور شاذ و نادر ہی کوئی لکھ رہا ہے۔ مکی البتہ اس کی ایک روشن مثال ہے کہ وہ گاہے گاہے سائنسی موضوعات پر لکھتا رہتا ہے اور تفصیل سے۔ زوردار مبارکباد قبول کر لی ہے ویسے ایک آدھ پوسٹ تم بھی کھڑکا دو سائنسی موضوع پر ۔ :razz:

  8. طارق راحیل Identicon Icon طارق راحیل رقمطراز ہيں: بتاريخ Tuesday، 28 July 2009 بوقت 6:26 am

    مبارک باد لیجئے میری طرف سے اتنی بہترین پوسٹ کے لئے
    طارق راحیل´s last blog ..Nahid Akhtar: Euphonious voice My ComLuv Profile

  9. شاہ۱۱۰ Identicon Icon شاہ۱۱۰ رقمطراز ہيں: بتاريخ Thursday، 30 July 2009 بوقت 3:32 pm

    بہت خوب جناب محب علوی ۔
    بہترین مضمون ہے

  10.  Identicon Icon Anonymous رقمطراز ہيں: بتاريخ Tuesday، 2 February 2010 بوقت 12:46 pm

    بہت اچھا کیا جو اس طرح کی تحریر شامل کی ھے۔۔۔۔۔ ماءشااللہ

  11.  Identicon Icon Anonymous رقمطراز ہيں: بتاريخ Tuesday، 2 February 2010 بوقت 12:48 pm

    گُڈ

ٹريک بيک | آراء کا آر ايس ايس

اپني رائے يہاں ديں

Englishاردو

Englishاردو

CommentLuv Enabled