کیا کریں کیا نہ کریں
Thursday، 16 April 2009 | مصنف: محب علوی
آج بہت عرصہ بعد ایک پوسٹ کر رہا ہوں گو کہ کسی اچھے موضوع پر کرنی چاہیے تھی مگر ذہن میں الجھن ہے کہ پاکستان کے حالات کیا رخ اختیار کریں گے اور حالات بہتر ہوں گے کہ ابتری کی طرف جائیں گے۔ قوم میں اتحاد ہوگا کہ مزید انتشار کا شکار ہوتی جائے گی ؟ کیا سیاسی اور معاشی استحکام آئے گا یا رہا سہا بھی جاتا رہے گا؟
ایک دم اتنے سارے طالبان کہاں سے نمودار ہو گئے ہیں اور اتنے مضبوط کیسے ہیں جبکہ پوری دنیا ان کی مخالف ہے۔ افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی افواج ہیں اور پاکستان میں پاکستان کی افواج اور سیکیوریٹی فورسز کئی سالوں سے ان کے ساتھ لڑ رہی ہیں مگر ان کی طاقت اور اثر رسوخ کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ بغیر بھاری امداد ، اسلحہ اور پیسے کے یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک چھوٹا سا گروہ اتنی زیادہ طاقتوں کے ساتھ اتنی دیر تک لڑ سکے اور دن بدن مضبوط بھی ہوتا جائے۔ متعدد رپورٹس میں یہ کہا جاتا ہے کہ ڈرگ ڈیلرز ، جرائم پیشہ اور امریکہ کے خلاف لڑنے والے گروپس اب ایک ہوگئے ہیں اور اب مجموعی طور پر ان کا نام پاکستانی طالبان ہے۔ ان کے لیے فنڈنگ اور امداد کئی ملک کر رہے ہیں جن میں بہت سے غیر ممالک کا نام لیا جاتا ہے جو سرحد اور بلوچستان میں مسلسل بدامنی پھیلا رہے ہیں۔ بیت اللہ محسود پر تو کئی دفعہ بھارت سے مدد لینے کا الزام لگ چکا ہے مگر تصدیق نہیں ہوئی۔ دن رات میڈیا پر طالبان کے حق اور مخالفت میں آخری حدوں کو چھونے والی بحثیں ہو رہی ہیں مگر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیئے کوئی ٹھوس اور قومی پالیسی نہیں بنائی جا رہی جو کہ اس وقت سب سے اہم اور ضروری ہے۔ حکومت کا سب سے اہم اور اولین فریضہ لوگوں کی جان اور مال ہوتا ہے جس میں حکومت بری طرح ناکام ہو رہی ہے اور تاحال اسے پہلی ترجحیح دینے میں ناکام ہے۔ انتہاپسندی صرف قبائلی علاقوں میں ہی زوروں پر نہیں ہے بلکہ مبصرین اور تبصرہ نگار بھی انتہا پر جا کر تبصرے دے رہے ہیں کوئی کسی کے مخالف کوئی بات کردے تو اسے دوسری انتہا کا حامی قرار دے دیا جاتا ہے اور پھر اس کی ہر رائے کو اسی پلڑے میں رکھ کر تولا جاتا ہے جبکہ حقیقتا وہ شخص شاید چند باتوں سے اختلاف اور چند سے اتفاق رکھتا ہے اور معقولیت سے اسے قائل کیا جا سکتا ہے مگر زور بیان اور جلد بازی میں اس کی فکر کم ہی کی جاتی ہے۔ اس رویہ کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی اور بات کو سن کر اپنے موقف کو طعنوں اور طنز سے پاک رکھ کر ادب سے پیش کرکے ہی بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے اور اہم معاملات پر اتفاق پیدا کیا جا سکتا ہے۔
ایک خبر پڑھی تھی چند دن پہلے کہ حکومت نے پنجاب اور سندھ میں بیس بیس ہزار کی فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو صرف دہشت گردی کے مرض سے نمٹنے کے لیے ہی استعمال ہوگی اور اب پنجاب میں بھی ایک اسپیشل فورس بنانے کی بات ہو رہی ہے جسے پنجاب بارڈر پر تعینات کیا جائے گا تاکہ شدت پسند اور دہشت گردوں کو ان کی کاروائیوں سے روکا جا سکے۔ یہ ایک خوش آئین قدم ہے اور ضرورت ہے کہ ایسی ٹاسک فورس کا قیام جلد از جلد پورے ملک میں ہو اور اس کے ذمہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنا ہو اور اس فورس کے پاس جدید آلات اور بہترین سہولیات ہونی چاہیے۔
کچھ عرصہ کے لیے تمام جماعتوں کو مل کر معاشی اور سیاسی استحکام کے لیے پوری کوششیں وقف کر دینی چاہیے کہ اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو کوئی جماعت بھی اقتدار کا لطف نہ اٹھا سکے گی۔ ویسے بات تو میں ذہنی انتشار پر کرنا چاہتا تھا مگر شاید رخ امن و عامہ کی صورتحال کی طرف ہو گیا ہے جو کہ بہت نازک ہے اور اس طرف دھیان بار بار جاتا ہے۔ آئیندہ کبھی ذہنی انتشار جو میرا بھی اور قوم کا بھی اس پر لکھوں گا۔










اجی صاحب کہاں گُم ہیں، اپنی کوئی خبر اخبار دیتے رہا کریں چاہے کسی بھی حوالے سے
محمد وارثکی آخری تحریررالف رسل از محمود ہاشمی
عزیز من۔۔ وہ آپ کو پرانی بسوں کے پیچھے لکھا جملہ تو یاد ہوگا
ہمت ہے تو پاس کر ۔۔ ورنہ برداشت کر
بس یہی ہورہا ہے اور یہی کررہے ہیں۔
راشد کامرانکی آخری تحریرحقہ ۔۔ زیر زمین وکی پیڈیا سے ایک ورق
شور قیامت میں معقولیت کی آواز۔۔۔
بجا لکھا لیکن کیا کریں کہ ہم لوگ معقولیت کو عاق کرچکے ہیں ۔۔
جعفرکی آخری تحریربُندا
جس مُلک میں اسلام کہا جائے اور شور مچانے والے لوگ دہشتگردی کا غُوغا کرنے لگیں ۔ جس ملک میں ناچنے گانے والے کہیں “مجھے اللہ نے کامیابی دی” ۔ جس مُلک میں نماز یا قرآن نہ پڑھنے والے کہیں “ہم ان داڑھی والوں سے زیادہ مسلمان ہیں” ۔ جہاں قبائلی علاقہ میں کوڑے لگانے کی سزا پر اُدھم مچایا جائے اور شہر میں آئے دن وحشت و درندگی کا شکار ہونے والی لڑکیوں کو نظرانداز کیا جائے ۔
وہاں آخر کیا ہو گا ؟
شُکر ہے بھائی
تمہاری تحریر تو آئی
وارث،
بالکل مجھے اب تک وہ پہلی دلچسپ اور خوبصورت نوک جھونک یاد ہے جو ہمارے درمیان ہوئی تھی۔ اب بھی یاد کرتا ہوں تو مسکراہٹ آ جاتی ہے ۔
پچھلے دو ماہ میں تو میں نے چار پانچ پوسٹس کی ہیں اور اس لحاظ سے میری خیر خبر لے سکتے ہیں آپ اور آپ کا بلاگ تو میں خاموش قاری کے طور پر پڑھتا رہتا ہوں کبھی کبھار تبصرے کا شوق بھی پورا کر لیتا ہوں مگر پڑھتا کافی ہوں۔ آپ سے شکوہ ہے کہ شاعری پر تو بہت زور ہے مگر فلسفہ اور تاریخ کو کافی نظر انداز کیا ہوا ہے۔ ہفتہ میں ایک آدھ تحریر ان پر بھی ہونی چاہیے اور نثر پر بھی نظر کرم کبھی کبھی ہو جائےتو لطف دوبالا ہو جائے۔ یقین کرو مگر لگی لپٹی کہہ رہا ہوں کہ صریر خامہ اردو بلاگ میں بہترین نہیں تو بہترین میں سے ایک ضرور ہے۔ اگر میری پرانی رگ ظرافت قائم ہوتی تو ایک عدد پوسٹ ضرور لکھتا تمہارے اوپر اور تمہارے بلاگ کے تجزیے پر
راشد ،
یاد تو ہے پر یہ زیادہ دیر تک برداشت کرنا بھی تو مشکل ہے اور پاس کرنے کی تو ہمت ہی نہیں ہے۔ ویسے میں آپ کے بلاگ پر کچھ عرصے بعد گیا یا یوں کہیے کہ آپ کا بلاگ اردو سیارہ اور وینس ٹیک میں مجھے سے کوتاہ ہو گیا اور آپ کی آخری عمدہ ادبی تحریریں نہ پڑھ سکا۔ اب پڑھ رہا ہوں اور وہیں تبصرہ کر رہا ہوں۔
قبلہ امریکہ جاتے ہی رگِ ظرافت کو کیا ہوا؟ واپس لائیں اسے
میری کوشش تو ہوتی ہے کہ کچھ علمی موضوعات پر بھی لکھوں لیکن بس شعر و شاعری کچھ زیادہ ہی دامن گیر ہو گئی ہے، خیر انشاءاللہ کوشش کرتا رہونگا!
جعفر،
بہت شکریہ آپ کی رائے کا اور میرے خیال سے اس شور میں اب بھی معقولیت کی بات سنی جائے گی اگر اسے اسی طرح تواتر سے کیا جائے جس طرح اس کا حق ہے۔
افتخار صاحب ،
جو باتیں آپ نے کی ان میں سے زیادہ تر تو کافی عرصہ سے جاری ہیں البتہ کچھ باتیں اب شامل ہو گئی ہیں مگر اچھے حالات کی امید کا دامن تو ہمیں ہر حال میں تھامے رکھنا ہے۔
رضوان،
شکر ہے بھئی تم بھی نظر آئے ویسے تمہاری تحریر اجو کے تھیٹر پر پڑھی اور مجھے بھی اسلام آباد کلب میں لگنے والا اوپیرا یاد آ گیا وہ بھی کمال تھا۔
وارث ،
کوشش کرتا ہوں اور زرداری پر کچھ پوسٹس میں کوشش کی بھی تھی ، آپ بھی علمی موضوعات پر ضرور لکھیں