امریکہ یاترا ۔۔۔۔مانچسٹر پڑاؤ
Sunday، 17 August 2008 | مصنف: محب علوی
اگست کا دن گزرا اور ١٥ اگست کا آغاز ائیرپورٹ کی طرف روانگی سے ہوا۔
صبح ساڑھے چار بجے کی فلائیٹ تھی اور دوبئی کے مقامی وقت کے مطابق ساڑھے پانچ بجے پہنچا۔ کسی نئے ٹرمینل کی تعمیر کی وجہ سے بس سروس کے ذریعے ٹرمینل تک پہنچے۔ دوبتئی ائیر پورٹ چپر بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو بے تکلفی سے زمین پر بیٹھے اور دنیا مافی سے بے خبر سوتے بھی دیکھا شاید کچھ لوگوں کی دوسری فلائیٹ میں کافی گھنٹے باقی تھے۔ مجھے تو ایک سیٹ مل گئی اور میری فلائیٹ بھی ڈھائی گھنٹے بعد تھی اس لیے زمین پر بیٹھنے اور لیٹنے کی نوبت نہ آئی۔
اس دفعہ مانچسٹر پر اچھی خاصی پوچھ گچھ ہوئی اور یہ بھی سننے کو ملا کہ میرا ویزہ کام کا ہے یوں سیر و تفریح کا نہیں ، آئندہ اگر سیر و تفریح کرنے آنا ہے تو وزٹ ویزہ لے کر آؤں ورنہ کام کے لیے آ سکتا ہوں۔ بندہ کر بھی کیا سکتا تھا جی کہنے کے سوا سو اقرار کرکے آگے بڑھا تو پھر ایک آفیسر نے روک لیا اور پھر سے یہی تفتیش شروع ہو گئی اور کچھ دیر تک میرا پاسپورٹ لے جا کر چیک کرتے رہے میں تو سمجھا کہ آج یوکے میں داخلہ نہیں ہو پائے گا مگر خیریت گزری کہ بالآخر مجھے جانے کی اجازت مل ہی گئی۔
کچھ دیر مانچسٹر ائیر پورٹ پر گھوم پھر کر حسن علوی کو ڈھونڈتا رہا پھر پانچ پاؤنڈ کا چینج لے کر حسن کو فون کیا اور وہ جلدی ہی پہنچ گیا تین عدد دوستوں کے ساتھ ۔ شکر ہے چار دوستوں کے ساتھ نہیں آ گیا ورنہ میری بھی گنجائش نہ ہوتی گاڑی میں۔ گاڑی کی وجہ سے ہم آسانی سے گھر پہنچ گئے ورنہ بس یا ٹرین کے ذریعے آنے میں کافی دقت بھی ہوتی اور وقت بھی لگتا۔










وہی منہ تھا جو کراچی لے کر گئے تھے؟ اگر ہاں تو پھر تو بھائی ابھی تو کچھ کم کیا ہے شکر کریں الگ کمرے میں بیٹھا کر نہیں کچھ پوچھ گچھ کی۔ میں نے کل ہی بال کٹوائے ہیں۔ اس سے پہلے بڑھی ہوئی شیو اور لمبے بالوں کے ساتھ سلیبریٹی بنا ہوا تھا۔
ائیر پورٹ تو خاص جاتے وقت بندہ منہ صاف کر کے جائے کہ بہر حال ان کو ببر شیر صرف چڑیا گھر ہی میں پسند ہیں۔
بدتمیزکی آخری تحریرlets listen some bakwas :d
کیا ارادے ہیں جناب؟
تزک نگارکی آخری تحریرGSM Phone Companies in Pakistan
بالآخر آپ دیار غیر سدھار ہی گئے۔ اللہ سفر مبارک کرے۔ امید ہے کہ اب تک منزل مقصود پر پہنچ چکے ہوں گے۔ مزید احوال کے منتظر ہیں۔
دیار غیر میں خدا آُ پر مزید مہربان ہو! اوئے گوریوں سے بچنا! تے فیر تسی فرنگی دا کم کن گئے او!
کیا کہنے۔
مزید سرگزشت کا انتظار رہے گا۔ یہ تو بتائیں آنا جانا رہے گا یا وہیں رہیں گے اب آپ؟
دوستکی آخری تحریربابا مشرف (مرحوم)
واہ جی واہ کیا بات ہے۔۔۔ پھر ہالی وڈڈ میں اگر آپ کی کچھ مصروفیات ہوں تو جناب ہمیں بھی یاد رکھیں۔
بدتمیز منہ تو وہی تھا بس کچھ تھکا ہوا تھا البتہ پوچھ گچھ کی عادت نہ تھی اس لیے تھوڑا پریشانی ہوئی شاید اس لیے بہت زیادہ پوچھ گچھ نہیں ہوئی۔ اب دیکھیں نیویارک ائیر پورٹ پر کتنی پوچھ گچھ ہوتی ہے۔
تزک نگار ارادے تو نیک ہی ہیں
محب علویکی آخری تحریرامریکہ یاترا ۔۔۔۔مانچسٹر پڑاؤ
ابو شامل اللہ آپ کی زبان مبارک کرے۔ ابھی راستے میں ہوں ، پہنچ کر مزید لکھوں گا انشاءللہ۔
آمین شعیب صفدر اور گوریوں سے بچوں تو تب جب وہ متوجہ ہوں اگر وہ غلط نگاہ ہی نہ ڈالیں تو بچنا کیسا۔
بالکل لکھوں گا شاکر اور اب آنا جانا سال ڈیڑھ بعد ہی ہوگا
محب علویکی آخری تحریرامریکہ یاترا ۔۔۔۔مانچسٹر پڑاؤ
راشد ہالی وڈ پہنچ کر تو سنا ہے اپنا آپ یاد نہیں رہتا کسی اور کو یاد رکھنا کہاں ممکن ہوگا
سال ڈیڑھ سال بعد واپسی؟ واپس آ کر کیا کرو گے؟
سیدھے سیدھے کیوں نہیں کہتے کہ پیا/ پریتم دیس سدھار گئے ہو۔
جہاں رہو خوش رہو۔
سڑک دیکھ بھال کر کراس کرنا۔
رضوانکی آخری تحریر1
چلیںجی ڈالر کے مقناطیس نے ایک اور بندہ چھین لیا،
خیر بھائی جہاںرہو خوش رہو!
فیصلکی آخری تحریرهمارا نیا نوکیا -١
رضوان ،
سال ڈیڑھ سال بعد چکر تو لگانا ہوتا ہے نہ بھائی ، اسی چکر کی بات کر رہا تھا اور سڑک واقعی دیکھ بھال کر ہی پار کروں گا۔
فیصل دعا کے لیے شکریہ
کہانی آگے نہیں بڑھی اب تک؟
سفر کی روانگی ک اآغاز 15 اگست کو ہوا تھا ۔ دس کو نہیں
اللہ بخشے محب بہت کام کا بندہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ہے بھی۔
ساجداقبالکی آخری تحریرUrdu-Blocks
او تواڈا پلا ہوجائے تسی مریکہ ٹرگئے او
میں بھی سوچ رہا تھا کہ کہیں نظر نہیں آتے آپ حضرت اب ایم ایس ان پر چلیں جناب اللہ تعالٰی آپ کا حامی و ناصر ہو
اور یہ گوریوں سے کیسے بچیں گے؟ برقہ ساتھ لے کر گئے ہیں؟
عبدالقدوسکی آخری تحریراقوال زریں پلگ ان
السلام و علیکم
مولانا، میں بھی کہوں کہ اتنے عرصے سے کوئی اتا پتا نہیں۔ تو آپ پھر دیارِ غیرمسلم کے سفر پر ہیں۔
اللہ تعالٰی آپ کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین
فرخکی آخری تحریرTree in a rock ….