فلرٹنگ اور فلرٹ
Thursday، 3 April 2008 | مصنف: محب علوی
بڑے دنوں سے سوچ رہا تھا کہ اس اہم اور حساس موضوع پر لکھا جائے مگر یہ سوچ کر رک جاتا تھا کہ شاید قوم ابھی اس کے لیے تیار نہیں ہے مگر الیکشن میں قوم نے جتنی بالغ نظری کا ثبوت دیا ہے اس کے بعد میں امید کرتا ہوں کہ عوام اب مسائل کو سمجھنے اور سچائی تک پہنچنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں اور پیچیدہ مسائل کے لیے اگر انہیں تحقیق کی بھی ضرورت پڑے تو اس سے چنداں نہ گھبرائیں گے۔ فلرٹ اور فلرٹنگ پر عموما نجی محفلوں اور چیٹ پر یا ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں تو بات ہوتی رہتی ہے مگر اسے صحیح معنوں میں سمجھنے اور اس پر تحقیق کی ضرورت کم ہی کسی نے محسوس کی ہے۔ میں نے سوچا بھڑوں کے اس چھتے میں ہاتھ ڈال کر دیکھا جائے اور اس کے لغوی اور اصطلاحی مفہوم کو تاریخی پس منظر کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس سلسلے میں میں چند پوسٹس کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں جو کچھ سنجیدہ اور کچھ مزاح کا رنگ لیے ہوئے ہوں گی تاکہ نہ تو اسے پڑھ کر لوگ بے زار ہوں اور نہ اس سے خوفزدہ ہوں بلکہ اپنے مشاہدات ، محسوسات اور تجربات سے اسے سمجھ اور سمجھا سکیں۔ اس سلسلے میں آپ لوگوں کی آرا اور تبصروں کی روشنی میں پہلی پوسٹ کروں گا اور اس کے بعد دو تین پوسٹس اس سلسلے میں چلیں گی جس سے اس موضوع پر گپ شپ اور تبادلہ خیال ممکن ہو سکے گا جس کی خواہش کئی پردہ نشینوں اور گمنام مجاہدین کو ہے۔ اگر یہ سلسلہ مبلغین ، ناصحین اور ناقدین کی تاب لا کر بھی نہ رکا تو آخر میں اسے اقبال کی شاعری کی روشنی میں بھی دیکھا جائے جس پر اب تک کوئی تحقیق نہیں ہوئی۔ اقبال کا صرف یہ مصرعہ ہی اس پورے موضوع پر دلیل قاطع ہے جسے لوگ کوزہ میں دریا بند کرنا کہتے ہیں۔ ستاروں کو نوجوانوں کی بلند ہمتی سے جوڑ کر جس طرح کمند کا عمدہ استعمال کیا ہے وہ اردو شاعری کی تاریخ میں نہ اقبال سے پہلے کہیں ملتا ہے نہ بعد میں اور نہ ہی کوئی اب ایسا بلیغ استعمال کر سکے گا۔ مزید تبصرہ پھر سہی ابھی شعر ملاحظہ فرمائیں
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں یہ آرٹ تھا اب خیر سے سائنس بن گئی ہے ۔










اوں ہوں ، غلط بات! ذاتی معاملات بلاگ پر نہیںلکھتے
قدیر احمد’s last blog post..اردوٹیک فورم
ہم اس شرط پر تبصرہ کرینگے جب آپ اپنے ذاتی تجربات بھی بیان کرینگے۔
آخر میں لکھے گئے شعر میں ‘ہے’ غائب ہے ہا شاید مجھے دکھائی نہیں دے رہا
اقبال نے کہا تھا
‘محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند’
اقبال نے طاؤس و رباب پر بھی کچھ فرمایا تھا۔ اقبال کو علم نہیں تھا ستارہ کہاں کہاں استعمال ہو سکتا ہے ورنہ خود کو فارسی تک ہی محدود رکھتے۔
اردو شاعری پرہی کیا موقوف تشریح میں بھی اس قسم کی تشریح کے بعد آپ کا میٹرک میں دو دفعہ فیل ہونا سمجھ میں آتا ہے۔
بدتمیز’s last blog post..ہالووین
میرے خیال میں تو ایک پوسٹ آپ اس شعر کی ’اپنی نظر‘ سے تشریح کرتے ہوئے لکھ ماریں۔ مجھے تو ہندی فلم ’’میں ہوں نا‘‘ کے گیت کی ایک سطور یاد آرہی ہیں۔ پہلی لائن کچھ یوں تھی
تم کو پوجا ہے تم سے چاہت کی ہے
اور دوسری
ہم نے ’جب بھی‘ کی ہے کچھ ایسی محبت کی ہے۔
تو فلرٹنگ بس ’’جب بھی کی‘‘ والا معاملہ ہے۔
عارف انجم’s last blog post..آہ
شعر تبدیل ہو چکا ہے۔تصحیح کر لیں
‘محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستارہ پہ جو ڈالتے ہیں کمند’
قدیر اور ساجد تم دونوں کے قصے بھی آپ بیتی اور جگ بیتی میں لکھوں گا تو تم لوگ کافی مطمن رہو گے فکر نہ کرو
دریچہ ،
اقبال نے اپنے زمانے کے لیے کہی تھی اس لیے ‘ہے’ کو میں نے ہٹا دیا کہ اب بھی اور آئندہ بھی ایسے نوجوان ہوں گے جو اقبال کے کلام کی روشنی میں ترقی کریں گے۔
بدتمیز ،
ظاؤس و رباب اور شمشیر و سناں میں تو اقبال نے صاف فرما دیا کہ پہلے تلوار بازی کر لو بعد میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سمجھ گئے نہ
عارف،
فکر نہ کریں اس سلسلے کی ایک پوسٹ اقبال کی نوجوانانہ تشریح بھی ہوگی۔
احمد ،
آپ بہت اصرار کرتے ہیں تو شعر کی تصحیح کر دیتا ہوں۔
واہ جی واہ ۔۔ کیے مطلب کا مطلب نکالا ہے اقبال کی شاعری سے ۔۔
اب اقبال نے کیا ان ستاروں پر کمند ڈالنے کے لئے کہا تھا۔۔
آپ نے ستارہ کہا صنفِ نازک کو اس پر آپ کے شکر گزار ہیں۔البتہ اگر “ذاتی تجربے” کچھ لکھ دیتے تو ہم جیسے کم فہموں کے لیے یہ دقیق موضوع سمجھنے میں کچھ آسانی ہوتی
اقبال کے ایک اور شعر کی کچھ الگ قسم کی تشریح کی جاتی ہے۔
تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
میری سادگی دیکھ میںکیا جاتا ہوں۔
یار لوگوں کا کہنا ہے کہ اقبال صاحب سادہ ہرگز نہیں تھے ، بہت ’پہنچے ہوئے‘ تھے اور ’عشق کی انتہا‘ سے ان کی مراد کچھ اور تھی۔ ویسے مجھے کچھ معلوم نہیں اقبال کا مطلب کیا تھا۔
عارف انجم’s last blog post..آہ
یعنی الیکشن کے بعد جو سب سے بڑا قومی مسئلہ ہے وہ ہے فلرٹ
محب ذرا جلدی سے اپنے قصّے تو لکھیں ۔اور یہ کون سی پردو نشین اور مجاہدین ہیں جن کو فلرٹ کے قصّوں سے دلچسپی ہے نام بھی لکھیں سب کے
سارہ،
اقبال نے ہمہ جہت شاعری کی ہے نوجوانوں کو ایک یہ راہ بھی دکھا دی۔
ذاتی تجربوں کا بڑا شوق ہے لوگوں کو ، لکھ دیے تو جو فرمائشیں کر رہے ہیں وہی رولا بھی ڈالیں گے
عارف،
اقبال کے شعروں کی روشنی میں ایک پوسٹ تو فرض ہے
حجاب،
میرے قصے سن کر تم متاثر ہو گئی تو پھر متاثرین پر بھی ایک پوسٹ لکھنی پڑے گی اور پردہ نشینوں کے نام نہ پوچھو کہ پھر اس میں کہیں تمہارا بھی نام آ جائے گا
میرا نام پردہ نشینوں میں آ تو سکتا ہے پردہ جو کرتی ہوں ، مگر فلرٹ کے قصّے سنانے کے لیئے کب کہا
میں فلرٹ کے قصّے سُن کے غصّہ تو کر سکتی ہوں متاثر نہیں ہوسکتی کم از کم ۔۔
آپ لکھیں تو ذرا کچھ پتہ چلے آپ کے بارے میں
اور یہ شعر میں آپ نے لڑکی کو ستارے سے تشبیہ دی ہے ناں ( علامہ اقبال کے شعر کا غلط استعمال ) لڑکی نہ ہوئی مچھلی ہوگئی کہ کمند ڈالو یعنی جال ، علامہ اقبال نے یہ شعر فلرٹ کے لیئے لکھا تھا کیا، روح تڑپ تڑپ کے بے قرار ہوگی علامہ اقبال کی ۔
حجاب ،
اب تم تو مکمل تشریح کرنے لگی ہو ، چلو تم نے مان تو لیا کہ تمہارا بھی نام آئے گا کیسے آئے گا یہ پھر سہی ویسے یہ پوسٹس تحقیقی ہیں تو اس میں قارئین کی رائے بہت اہمیت کی حامل ہے۔
اقبال کی شاعری سب سے آخر میں آئے گی اور علامہ اقبال تو خود کہتے تھے نوجوانوں کے لیے ایسے جذبات جو
قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے
اب یہ نہ پوچھنا کہ یہ کس طرح اشارہ کیا تھا
حد ہو گئی یہ تو حال ہے ہماری قوم کا ۔۔۔۔اصل موضوع کو چھوڑ کے سب ایک شعر کے پیچھے پڑ گئے۔۔پھر سب کہتے ہیں ہماری قوم ترقی کیوں نہیں کرتی۔۔۔
لو بھلا اتنا مزے کا ٹاپک چھیڑا ہے محب نے اسے بات کرنے دو اور پردے اٹحانے دو۔کہ ہو سکتا ہے وہ کمال سخاورت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے پہلا پردہ خود پر سے اٹھایئں
[...] عرصہ پہلے محب نے اس موضوع پر لکھا تھا۔ اور مزید لکھنے کا ارادہ بھی رکھتے تھے، پھر جانے [...]