انگریزی کے شیدائی
Wednesday، 27 February 2008 | مصنف: محب علوی
پاکستان میں حکومت کیا چاہتی ہے ، یہ ایک علیحدہ بات ہے۔ پاکستانی عوام یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے انگریزی بولنے کے قابل ہو جائیں۔ یہ صرف اس لیے نہیں کہ انگریزی ایک بین الاقوامی زبان ہے اور اعلا تعلیم کے لیے باہر جانے والوں کے لیے انگریزی جاننا ناگزیر ہے بلکہ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ملک میں انگریزی جانے بغیر ترقی نہیں ہوسکتی۔ یہ اعلا سماجی طبقے کی زبان ہے ، جو لوگ انگریزی بولتے ہیں ، ان کی بات پاکستان میں زیادہ سنی جاتی ہے۔
انگریزی بولنے والا شخص خواہ علمی اور ذہنی اعتبار سے احمق ہی کیوں نہ ہو ، انگریزی بولنے کی وجہ سے وہ تعلیم یافتہ اور مہذب تصور کیا جاتا ہے۔ یہ صرف اونچا طبقہ ہی نہیں ہےجو انگریزی کا دلدادہ ہے۔ عام پاکستانی بھی انگریزی کا شیدا ہے۔ لوگ انگریزی بولنے سے خوش ہوتے ہیں۔ لاہور کے پرانے شہر میں بے نظیر بھٹو کا ایک پوسٹر دیکھنے کے لیے میں رک گئی۔ ایک آدمی میرے پاس آیا اور بولا
مائی ڈاٹر از مسٹر بھٹو ( مسٹر بھٹو میری بیٹی ہے ) ۔
وہ غلط انگریزی بول رہا تھا لیکن خوش تھا کہ انگریزی میں بات کر رہا ہے
( ایما ڈنکن کی کتاب "پاکستان کا سیاسی سفر نامہ" سے اقتباس










آپ کی تحریر ایک اہم پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔
جس کا آپ نے ذکر کیا ہے یہ روش مسلمانوں میں عام ہے۔
ویسے تو انگریزی کو اعلی معیار سمجھنا ایشیا میں عام بات ہے۔ اور اپنی زبان کو برتر سمجھنا بھی اتنا ہی عام ہے۔ لیکن اگر آپ مسلمان ہیں تو آپ کا رد عمل اکثر اس کے برعکس ہوتا ہے جو ایک حیران کن امر ہے۔ ہم نئی زبان پر عبور حاصل کرنے کی بجائے اپنی مادری زبان کو بھولنے پر زیادہ زور دیتے ہیں۔
مشرف حکومت نے تو اپنے گورے آقاؤں کے ایما پر پرائمری سے ھی انگریزی کی تعلیم ضروری قرار دے دی ھے۔ اسی طرح موصوف اپنی کتاب میں بہی لکہتے ھیں کھ وھ اپنی وزیرتعلیم کو انگریزی میںبولتے سن کر حیران رھ گئے۔
میرا پاکستان’s last blog post..ہارا ہوا ہیرو
انگریزی محض ایک زبان ہے اسکو ایک زبان کی حیثیت سے ہی جانا جائے
رہی تعلیم کی بات تو ہمارے ہاں جو چیز رائج ہے اسے تعلیم نہیں کہ سکتے
اور جو کچھ ہو رہا ہے اسے مادری زبانوں کی بتدریج موت کہا جا سکتا ہے
کسی کو کچھ سکھانا ہو تو اسے اس زبان میں جو وہ نہ جانتا ہو سکھانا کیا کہلائے گا اور اس سکھانے والے کو کیا کہیں گے جو شاگرد کی زبان جانتے ہوئے غیر زبان میں تعلیم دے
یعنی تعلیم کو چند گھرانوں تک محدود کرنا اور ساری قوم کو اصل تعلیم سے محروم رکھنا قوم کے بچے رٹے لگا کر پاس ہوں پلے ان کے کچھ نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی زبان سیکھنا اچھا فعل ہے لیکن غیرزبان کو اپنی مادری زبان پر ترجیح دینا احساسِ کمتری کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ہمارے موجودہ حکمران احساسِ کمتری کے سب سے اعلٰی درجے میں ہیں ۔ ملاحظہ ہو اسلام آباد کی سڑکوں کا حال :
خیابانِ قائد اعظم کو جناح ایوینیو ۔ شاہراہِ فیصل کو فیصل ایوینیو ۔ خیابانِ سر سیّد کو آئی جے پرنسپل روڈ کا نام دے دیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ ۔