توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت
Thursday، 14 February 2008 | مصنف: محب علوی
ایران نے توہین رسالت پر مبنی تصاویر کی دوبارہ اشاعت پر ڈنمارک کے سفیر کو طلب کرکے احتجاج کیا ۔تہران میں مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے حکام نے ڈنمارک کے بڑے اخبارات میں حضور ﷺ سے متعلق توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر احتجاج کیا گیا ۔ایران کی جانب سے ڈنمارک کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور ایسے واقعات کو بار بار ہونے سے روکا جائے۔ڈنمارک کے گیارہ بڑے اخبارات میں ایک بار پھر توہین رسالت پر مبنی خاکے شائع کیے گئے تھے ۔دو ہزار چھ میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر مشتعل افراد نے ایران میں ڈنمارک اور دیگر غیر ملکی سفارتخانوں پر حملے کیے تھے اور ڈنمارک کا پرچم نذر آتش کر دیا تھا ۔
2005 میں بھی یہ کارٹون شائع کیے گئے تھے اور بہت ہنگامہ ہوا تھا اور اب دوبارہ شائع کرکے کس کا امتحان لیا جا رہا ہے ؟
کیا اسی شرارت کا نام آزادی رائے ہے ؟
کیا شرانگیزی صرف مسلمانوں کے لیے ہی بچا کر رکھ لی گئی ہے اور باقی جو چاہیں کریں ؟










ہما ری غیرت کا امتحا ن لیا جا رہا ہے ۔۔۔اور ہم واقی پکے بے غیرت ثا بت ہو رہے ہے ۔۔کیا دنا صرف ایران ہی مسلمان ہے ؟؟؟؟
نہیںوہ تو کا ف*****ٌٌٌٌ ملک ہے ۔ہم تو مسلمان ہے ۔بس منہ سے الفا ظ نہیں نکلتے ہے ۔کہی کو ئی نا راض نہ ہو جا ئے
“کیا شرانگیزی صرف مسلمانوں کے لیے ہی بچا کر رکھ لی گئی ہے اور باقی جو چاہیں کریں ؟”
”مسلمان” بھی کم شرپسند نہيں اور آپ کو کسی قسم کا احساس کمتری نہيں ہونا چاہيئے شرپسندی کے ظمن ميں اپنے متعلق-
يہ خبر ملاحظہ کريں جس ميں ”قومي” ميڈيا پرامن شہريوں کے خلاف قتل کے فتوی اشو کررہا ہے اور بے نظير کے قتل کے غلط الزام لگا کے منافرت پھيلا رہا ہے-
http://www.express.com.pk/epaper/Article.aspx?newsID=1100347716&Date=20080209&Issue=NP_KHI
اس پہ کسی کو اعتراض نہيں پورے ملک ميں، آپ سميت- ليکن ايسی باتيں جان کر دنيا اندازہ لگا ليتی ہے کہ مسلمان تشدد پسند ہيں- عالمی پريس ميں جو کچھ آرہا ہے وہ اسی سوچ کا ريفليکشن ہے-
آپ بھی اپنے رويے ميں تبديلی لائيں، آپ تو قتل سے کم بات ہی نہيں کرتے-
جمیل کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ایک نام نہاد پیسہ بٹورو تنظیم کے بانی کی وہ تقریر جو خود اس کے گھر والوں نے بھی نہ سنی ہوگی دراصل تمام پاکستانی مسلمانوں کے قادیانیوں کے خلاف روئیے کا مظہر ہے؟ اگر واقعی آپ یہ کہہ رہے ہیں تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ یہ ایک احمقانہ الزام ہے۔ ہاں پاکستانی قادیانیوں کے بارے میں بہت زیادہ متعصب ہیں لیکن اس حد تک نہیں کہ انہیں قتل کرتے پھریں۔ یا ان کے قتل کو جائز سمجھیں۔
اور مسلمانوں کے تعصب، بغض اور دیگر روئیے قطعی طور پر کسی اور کے غلط روئے کے خلاف کوئی دلیل نہیں۔ ڈنمارک کے انتہاپسند سیاستدان مسلمانوں کے خلاف منافرت پھیلا کر اپنے سیاسی مفادات حاصل کرتے ہیں۔ میرے خیال میں حمادی اور ڈنمارک کے میڈیا اور سیاستدانوں کے روئیے میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔ دونوں ہی پرلے درجے کے بے حس، بدتمیز اور بدتہذیب ہیں۔
“جمیل کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ایک نام نہاد پیسہ بٹورو تنظیم کے بانی کی وہ تقریر جو خود اس کے گھر والوں نے بھی نہ سنی ہوگی دراصل تمام پاکستانی مسلمانوں کے قادیانیوں کے خلاف روئیے کا مظہر ہے؟ ”
تمام کا لفظ ميں نے نہيں استعمال کيا آپ نے خود کيا اور پھر خود ہي اسے احمقانہ بھی قرار دے ديا-
تمام کريں نہ کريں، جو کررہے ہيں انکی مذمت کرنے والے کتنے ہيں؟ شائيد ہی کوئی ہو اگر ہو بھي- يہ ثابت کرتا ہے کہ معاشرے ميں ايک خاموش حمايت موجود ہے ان باتوں کے ليئے-
تقرير بھی سب نے سن ہی لی ہے نيشنل پريس کے ذريعے-
–
“ہاں پاکستانی قادیانیوں کے بارے میں بہت زیادہ متعصب ہیں لیکن اس حد تک نہیں کہ انہیں قتل کرتے پھریں۔ یا ان کے قتل کو جائز سمجھیں۔”
جيسا کہ ميں نے کہا ان باتوں کے ليئے tacit support موجود ہے معاشرہ ميں ليکن قتل کرنے والے بھی موجود ہيں؛
http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=200826\story_6-2-2008_pg7_13
اور معاشرہ عام طور سے انکی کوئی مذمت نہہيں کرتا کيونکہ قتل کرنے والے ”اپنے” ہيں اور قتل ہونے والے ”دوسرے”–
–
“اور مسلمانوں کے تعصب، بغض اور دیگر روئیے قطعی طور پر کسی اور کے غلط روئے کے خلاف کوئی دلیل نہیں۔”
آپ کا غلط رويہ دنيا ميں آپ کے خلاف نفرت کے جذبات پيدا کرتا ہے اور يہ جذبات کسی نہ کسی شکل ميں menifest ہوتے رہتے ہيں-
–
“میرے خیال میں حمادی اور ڈنمارک کے میڈیا اور سیاستدانوں کے روئیے میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔ دونوں ہی پرلے درجے کے بے حس، بدتمیز اور بدتہذیب ہیں۔”
ليکن ايک کے ليئے آپ اپنے بلاگ کے صفحے کےمصفحے کالے کررہے ہيں ليکن دوسرے کے ليئے نہيں- يہيں سے آپ کا دوہرا ميعار سامنے آجاتا ہے جو ميرے تبصرہ کا اصل نکتہ تھا-
“ہاں پاکستانی قادیانیوں کے بارے میں بہت زیادہ متعصب ہیں لیکن اس حد تک نہیں کہ انہیں قتل کرتے پھریں۔ یا ان کے قتل کو جائز سمجھیں۔ ”
تو يہ قتل و غارت فرشتوں نے کی کيا؟
http://www.thepersecution.org/facts/h71-80.html
خدا نے ہمیںیہ دن بھی دکھانے تھے کہ ہم سوائے کڑھنے کے اورکچھ بھی کرسکیں،
ہمارے حکمران اپنی کرسی بچانے کے لئے خاموش ہیں
اگر یہ زرا سی بھی غیرت کا مظاہرہ کرلیں اور اس سفیر کو نکال باہر کریں تو پوری قوم نہ صرف ان کے پیچھے ہوگی بلکہ اسلام کی یہ رسوائی بھی تھم جائے گی
عالم اسلام میںایسے حکمران بیٹھے ہیں جن کی جڑیں عوام میںنہیںہیں ان کے پیچھے امریکہ اور اس کے حواری ہیں،ان کے گناہ اتنے ہیںکہ یہ عوام کی عدالت میںنہیںجانا چاہتے اور اہل مغرب کو ناراض بھی نہیںکرسکتے ورنہ صدام حسین کا انجام کوئی ماضی کی بات نہیں۔۔۔
اسلام علیکم ،
جمیل آپ کا کیا مطلب ہے کہ قادیانیوں کو کچھ نہ کہا جائے؟ جو آپ نے کہا کہ: مسلمان قادیانیوں کو قتل کررہے ہیں ۔
ایک بات یاد رکھیے:
قادیانی غیر مسلم ہیں۔ لیکن قادیانی اوردوسرےغیرمسلموںمیںبہت فرق ہے۔
1) قادیانی ایک الگ نبی کو مانتے ہیں،حالانکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میں آخری نبی ہوںمیرے بعد کوئی نبی نہیںآئے گا۔
2) اس کے باوجود یہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔بہت سے لوگ ان کو مسلمان سمجھتے ہیں۔(افسوس)
3) یہ لوگ اسلام پے مختلف حملے بھی کرتے ہیں۔اس لیے ان کو قتل کرنا بری بات نہیںہے۔
ایک طرف آپ بات کرتے ہیںکہ غیر مسلم (ڈنمارک) اسلام پر حملے کرتے ہیں ان کو روکنا چاہیے اور دوسری طرف آپ روکنے والوں کو برا کہتے(یاسمجھتے)ہیں۔
میں اس موضوع پر مزید لکھتا لیکن کہیں صاحبِ بلاگ ناراض نہ ہو جائیں اس بحث کو یہیں پر چھوڑتا ہوں۔ مزید پڑھنے کے لیے میرے بلاگ پر تشریف لائیں۔
zahid.urdutech.net
ابھی تو ابتداء ہے ، میں نے کچھ دن پہلے محفل پر بھی بتایا تھا کہ ہالینڈ میں ایک فلم ریلیز ہو رہی ہے ۔۔ ۔ اب اس پر کیا کچھ ہو گا وہ بھی دیکھیے گا ۔ ۔
رہی بات ، قادیانیت کی ، تو بھائی ۔ ۔ جس کو یورپ میں امریکہ میں “عیش” کی زندگی گذارنی ہے یا پھر بر صغیر میں بھی تو وہ خود کو قادیانی بنا لے ۔ ۔ اور دنیا (یعنی ربوہ میں ) اور آخرت میں بھی “جنت” کا مزہ اٹھائے ۔ ۔ اب اصل مسلمان تو وہ ہی ہیں نا ۔ ۔ جنہیں “جنت” مل جائے اور “حوریں ” بھی ۔۔ ۔ اور ایسا ممکن صرف “قادنیت” میں ہی ہے ۔ ۔ ۔
یہ بات طے ہے کہ یورپ میں مذہبی رواداری نہیں اور وہ دنیا کا امن تباہ کرنے کو تلے ہوئے ہیں۔ کہیں جنگیں مسلط کرکے اور کہیں شرانگریزی پھیلا کر۔
کیا یہ دنیا محفوظ اور سکون سے رہنے کے قابل رہ گئی ہے؟
الف نظامی’s last blog post..بوئے اسداللہی
قابل مزمت ہے یہ ۔ بہت اور کم از کم ہم اپنی حد تک تو اجتجاج کر سکتے ہیں ۔ ۔ ۔