گلوبل سائنس بند ہونے کے دہانے پر
Wednesday، 30 January 2008 | مصنف: محب علوی
محسن حجازی کی یہ دردمندانہ اپیل ابھی ابھی نظر سے گزری ہے اور سخت تشویش لاحق ہو گئی ہے۔ اس لیے جو محسن نے لکھا ہے وہ من و عن ہی شائع کر رہا ہوں اور سب اردو سے محبت کرنے والوں سے درخواست ہے کہ وہ بڑھ چڑھ کر گلوبل سائنس کی مدد کریں۔
monthly Global Science,
139-Sunny Plaza,
Hasrat Mohani Road, Karachi.
Voice: 021-2625545
اردو میں سائنس پر بہت کم کام ہوا ہے۔ گلوبل سائنس ایک ایسا ہی سائنسی ماہنامہ ہے جو گذشتہ دس سال سے اردو کی خدمت کر رہا ہے۔ خاص طور پر اردو سائنسی اصطلاحات سازی میں اس رسالے کے مدیران نے جو کردار ادا کیاہے وہ تمام بڑے بڑے نام نہاد قومی ادارے بھی نہیں کر سکے۔ اس رسالے کی تعداد اشاعت بھی کچھ خاص نہیں اور مشتہرین بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔
میں خود اس رسالے کا بہت عرصے تک قاری رہا ہوں۔ جنوری کا شمارہ نظر سے گزرا توا معلوم ہوا کہ اس ادارے کے مالی حالات بے حد نازک ہیں اور نوبت یہاں تک جا پہنچی ہے کہ ادارہ فقط اگلے تین ماہ تک ہی رسالے کا اجرا کر سکتا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے رسالے میں صاحب حیثیت و مخلص حضرات سے تعاون کی اپیل بھی شائع کی ہے۔ علاوہ ازیں اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کے بارے میں اداریہ بھی لکھاہے جسے پڑھ کر میں اشک بار ہوگیا۔
میرے لیے ممکن نہیں ہے کہ میں اس ادارے کی دس سالہ شاندار خدمات کا احاطہ کر سکوں۔ میں خود ایک ایسے ادارے کے اندر رہ کر آیا ہوں جہاں عوام کا کروڑوں روپیہ محض ذاتی تشہیر و تعیش کے لیے اردو کے نام پر ضائع کیا جا رہا ہے اور نہ صرف یہ بلکہ مزید ضائع کرنے کے منصوبے بھی بنائے جا رہے ہیں۔ اس کے بارے میں تفصیلات پھر کبھی۔ بہرطور اتنا ضرور کہوں گا کہ ریاضی، طبعیات، ما بعد الطبعیات، کیمیا، فلکیات، عمرانیات، حیاتیات اور کمپیوٹر سائنس تک تمام موضوعات پر سینکڑوں مضامین ترجمہ و تحریر کیے جا چکے ہیں۔ اگر اردو سائنسی صحافت کا یہ اکلوتا بالغ و روشن چراغ گل ہو گیا تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک ایسا المیہ ہوگا جسے کم سے کم میں ذاتی طور پر نہ سہہ پاؤں گا۔ اس کے مقابلے میں ایک انگریزی جریدہ جو پاکستان میں کثیر تعداد میں چھپتا ہے، صرف کمپیوٹر سائنس سے متعلق ہے اور مجھے اس رسالے میں محدود مصنفین کی محدود تر ذاتی آرا سے اٹے ہوئے مضامین سے بڑھ کر کبھی کچھ نظر نہیں آیا۔ اسے قارئین کی بڑی تعداد محض اشتہاروں کے لیے خریدتی ہے تاکہ بدلتی مارکیٹ پر نظر رکھی جا سکے اور اس بات کا اندازہ اس انگریزی رسالے کی انتظامیہ کو بھی خوب ہے۔ گلوبل سائنس کو اردو میں ہونے کی وجہ سے ملٹی نیشنل تو کیا نیشنل کمپنیاں بھی اشتہار دینے سے کتراتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس شدید مہنگائی کے دور میں اس ادارےکے لیے اپنے وجود کو برقرار رکھنا بے حد کٹھن ہو گیا ہے۔ خاص طور پر عہد زریں المعروف بہ عہد مشرفیہ شریف میں کاغذ کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ تاہم فلمیں اور بے ہودہ گانے اور رقص سستے ہیں۔
اس سلسلے میں ایک تو گزارش یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس جنوری کا شمارہ ہے تو براہ کرم وہ اداریہ اور وہ نوٹ یہاں چسپاں کر دیں۔
دوم یہ کہ اس ادارے سے تعاون کا طریقہ کار یہ ہے کہ آپ اس کے سالانہ خریدار بن جائیں جس کے لیے صرف 500 روپے درکار ہیں۔
اگر یہ پیغام کسی غلط دھاگے میں ارسال کر دیا ہے یا فورم کی پالیسی کے خلاف ہے تو پیشگی معذرت۔
نوٹ:- میرا گلوبل سائنس سے کوئی تعلق نہیں نہ ہی اس کے منتظمین سے کوئی ذاتی تعلق یا کسی قسم مراسلت و خط و کتابت ہے نہ کبھی رہی ہے، یہ پیغام خالصتا نیک نیتی کے جذبے سے ارسال کیا جا رہا ہے۔
والسلام،
محسن۔
پتہ ایک بار پھر لکھ رہا ہوں
monthly Global Science,
139-Sunny Plaza,
Hasrat Mohani Road, Karachi.
Voice: 021-2625545










السلام علیکم محب بھائی آپ نے اچھا کیا اس تحریر کو یہاں پوسٹ کر دیا ہے محسن حجازی صاحب نے ایک اہم مسئلے کی طرف توجہ ڈالنے کی کوشش کی ہے اور اس میں کامیاب بھی ہو رہیں ہے ہم سے جتنا ہو سکا انشاءاللہ ہم کرے گے شکریہ
خرم اس کا بہترین حل تو یہی ہے کہ تمام اردو فورمز پر اس مسئلہ کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے اور لوگوں سے کہا جائے کہ وہ سالانہ خریدار بن جائیں جو کہ صرف 500 خرچ کرنے سے وہ بن جائیں گے اور ایک معیاری اردو سائنس رسالہ پڑھ سکیں گے۔
میں صرف یہ کہنا چاھتا ھوں کہ پاکستانیوں میں جب تک شعور نہیں پیدا کیا جاے گا اسی طرح کے کام ھوتے رھیں گے۔ھم سب کا فرض ھے کہ ھر مُمکن طریقے سے پاکستانیوں کو با شعور کریں۔
اسلام علیکم
محب بھائی
یہاں جیوانی میں پانچ مہینے سے گلوبل سائنس نہیں مل رہا ہے ۔ میں نیوز ایجنسی والے سے پوچھا کہ گلوبل سائنس کیوں نہیں آ رہا ہے ۔ وہ جواب دیتا ہے کہ کوئی پرھنے والا نہیں ہے سب لوگ جواب عرض ، سپر اسٹارڈسٹ اور ڈائجسٹ کے متعلق پوچھتے ہیں صرف تم ہی ایک ہو جو گلوبل سائنس کے بارے میں پوچھتے ہو ۔ ایک کے لئے میں گلوبل سائنس نہیں منگوا سکتا ۔ اسلئے میں بند کردیا ہے ۔ گلوبل سائنس بند ہونے کے دہانے پر سن کر بہت دکھ ہو رہا ہے ۔ اردو زبان میں اتنا اچھا رسالہ اگر بند ہوگیا تو بہت بڑا نقصان ہے۔
شعیب خا لق’s last blog post..اچارہے
آپ سالانہ خریداری لے لیں تو گھر پہنچ جایا کرے گا بذریعہ ڈاک۔ ان کی مدد بھی ہوجائے گی اور آپ کو کوفت بھی نہیں ہوا کرے گی۔
وسلام
محمد شاکر عزیز’s last blog post..گلوبل سائنس کی مدد کیجیے
سعید صاحب آپ کی بات صحیح ہے کہ شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے مگر یہ شعور وہ رسالہ بھی تو پیدا کر رہا ہے پچھلے دس سال سے اور ہم سب بھی مل کر یہی کوشش کر رہے ہیں۔ فی الوقت آپ ان کی سالانہ ممبر شپ لے کر اپنا حصہ تو ڈالیں۔
شعیب آپ کی بات بھی ٹھیک ہے مگر اس کا حل شاکر نے بتا دیا ہے
آپ سالانہ خریداری لے لیں تو گھر پہنچ جایا کرے گا بذریعہ ڈاک۔ ان کی مدد بھی ہوجائے گی اور آپ کو کوفت بھی نہیں ہوا کرے گی۔
السلام علیکم، گلوبل سائینس ایک معیاری ماہنامہ ہے۔ بند ہونے کا سن کر افسوس ہوا۔ اردو میں معیاری مضامین پڑھنے کو ملتے تھے۔
قسیم وہ بند نہیں ہوا مگر ان کے مالی حالات بد سے بدتر ہو رہے ہیں اور انہیں اس وقت سالانہ خرایداروں کی ضرورت ہے جو آپ بھی بن سکتے ہیں اور اس طرح ان کی مدد کر سکتے ہیں۔
گلوبل ماینس کے بند ہونے کا سن کر افسوس ہوا۔
مجھے واقعی اسکے بند ہونے کا افسوس ہو گا کیونکے یہے انک رسالی ہے جس کی بدولت ہمیں ساینس و ٹیکنالوجی کی خبریں ملتی ہیںِِ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اردو میں گلوبل سائنس واحد دستیاب سائنسی میگزین ہے جسے بالکل بھی بند نہیں ہونا چاہیے