آر ايس ايس فيڈ

مولانا ظفر علی خان قسط ایک

مولانا ظفر علی خان ١٨٧٣ میں کوٹھ میرٹھ شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مشن ہائی سکول وزیر آباد سے مکمل کی اور گریجویشن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کی۔ کچھ عرصہ وہ نواب محسن الملک کے سیکرٹری کے طور پر بمبئی میں کام کرتے رہے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ مترجم کی حیثیت سے حیدرآباد ، دکن سے کام کیا اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کی سیکرٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ دکن ریویو اور بہت سی کتابیں تصنیف کرکے اپنی حیثیت بطور ادیب صحافی خاصی مستحکم کی۔

انیس سو آٹھ میں لاہور آئے روزنامہ زمیندار کی ادارت سنبھالی جسے ان کے والد مولوی سراج الدین احمد نے انیس تین میں شروع کیا تھا۔ مولانا کو اردو صحافت کا امام کہا جاتا ہے اور زمیندار ایک موقع پر پنجاب کا سب سے اہم اخبار بن گیا تھا۔ زمیندار ایک اردو اخبار تھا جو بطور خاص مسلمانوں کے لیے نکالا گیا تھا۔ اس اخبار نے مسلمانوں کی بیداری اور ان کے سیاسی شعوری کی تربیت کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا باوجود اس حقیقت کے کہ اس کی اشاعت محدود تھی اور مسلمانوں کے پاس نہ صنعت تھی نہ تجارت جس کی وجہ سے اشتہارات کی تعداد اتنی کم تھی کہ اخبار کو چلانا جان جوکھوں کا کام تھا۔ بعض اوقات ایسی صورت بھی پیدا ہو جاتی تھی کہ سٹاف کو تنخواہ دینے کے لیے پیسے بھی نہ ہوتے تھے۔

مولانا نے صحافیانہ زندگی کی شروعات انتہائی دشوار گزار اور ناموافق حالات میں کی۔ اس زمانے میں لاہور اشاعت کا مرکز تھا اور تینوں بڑے اخبار پرتاب ، مہراب اور وی بھارت ہندو مالکان کے پاس تھے ۔ اسی دور میں مولانا اور زمیندار نے پاکستان تحریک کے لیے بے لوث خدمات انجام دیں ۔ کامریڈ ( مولانا محمد علی کا اخبار ) اور زمیندار دو ایسے اخبار تھے جن کی اہمیت تحریک پاکستان میں مسلم ہے اور دونوں کے کردار کو بیک وقت تسلیم کیا جانا چاہیے۔ انیس سو چونتیس میں جب پنجاب حکومت نے اخبار پر پابندی عائد کی تو مولانا ظفر علی خان جو آہنی جرات اور شاندار عزم کے مالک تھے انہوں نے گورنمنٹ پر کیس کر دیا اور عدلیہ کے ذریعے حکومت کو اپنے احکامات واپس لینے پر مجبور کر دیا۔ اگلے دن انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور ایک طویل نظم لکھی جس کے ابتدائی اشعار یہ ہیں

یہ کل عرش اعظم سے تار آگیا زمیندار ہوگا نہ تا حشر بند

تری قدرت کاملہ کا یقین مجھے میرے پروردگار آگیا

ماڈرن مسلم انڈیااور برتھ آف پاکستان میں ڈاکٹر ایس ایم اکرم لکھتے ہیں ” وہ جوان ، زور آور اور جرات مند تھے اور نئے سیاسی اطوار کا پرجوش انداز میں سامنا کیا۔ ان کی ادارت میں زمیندار شمالی ہند کا سب سے اثر انگیز اخبار بن گیا اور خلافت تحریک میں ان سے زیادہ فعال صرف کردار علی برادران اور مولانا ابوالکلام آزاد ہی تھے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ پنجاب پاکستان کا واحد صوبہ تھا جس نے اردو کو اپنی زبان کے طور پر اپنایا اور اسے کام کی زبان بنایا باوجود اس کے کہ پنجابی اس صوبے کی مادری زبان ہے اور سب سے زیادہ بولی جاتی ہے۔ پنجابی کا اصل رسم الخط گورمکھی کو مسلمانوں نے اس لیے نہیں اپنایا کہ یہ سکھ مذہب سے جڑا ہوا تھا۔ اس طرح اردو انگریزی کے ساتھ پنجاب کی اہم لکھی جانے والی زبان بن گئی اور دونوں تقریبا ایک جتنی مقدار میں سرکاری اور تعلیمی زبان کے طور پر استعمال ہوتی رہیں۔

Share and Enjoy:
  • Print this article!
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogosphere News
  • LinkedIn
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • Twitter

9 آراء برائے ”مولانا ظفر علی خان قسط ایک“

  1. ًّME Identicon Icon ًّME رقمطراز ہيں: بتاريخ Wednesday، 12 December 2007 بوقت 7:47 am

    sikkay ka doosraa rukh;

    تحریکِ خلافت میں لاکھوں نوجوانوں کو گھربار، تعلیم اور روزگار چھوڑ کر ہجرت پر اُکسانے والے خود ہندوستان میں بیٹھے رہے تھے۔

    پہلی عالمی جنگ میں مولانا موصوف کو اُن کے آبائی گاؤں کرم آباد )وزیر آباد( میں نظر بند کردیا گیا تھا۔ موصوف نے حکومت کو رہائی کی درخواست دیتے ہوئے پیش کش کی کہ وہ صحافت سے دست کش ہو کر شکر کا کارخانہ کھولنا چاہتے ہیں اور اِس کے لیے حکومت اُنہیں مالی امداد فراہم کرے۔ یہ درخواست نامنظور ہوئی تو انہوں نے علمی تحقیق اور ترجمے کا ادارہ قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور انگریز حکومت سے مالی امداد کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا ’چاندی کی کڑاہی کے بغیر علمی گُلگلے تیار نہیں ہو سکتے‘۔

    کچھ برس بعد حجاز (موجودہ سعودی عرب) میں شریف مکہ اور ابنِ سعود کے مابین اقتدار کی لڑائی پر مسلمانانِ ہند بٹ گئے۔ نکتۂ نزاع مقدس اسلامی مقامات کی توہین تھا۔ اس تنازع میں ظفر علی خان ابن سعود کے کھلے حامی تھے۔ مورخ رئیس احمد جعفری کے مطابق انہیں اس کا بھاری مالی معاوضہ ملا۔ اسی رقم کی تقسیم پر جھگڑے میں مولانا غلام رسول مہر اور مجید سالک نے زمیندار سے الگ ہوکر ’روزنامہ انقلاب‘ نکالا تھا۔

    فروری1953ءمیں مولانا ظفر علی کے صاحبزادے اختر علی خان نے حکومت کو معافی نامہ لکھ کردیا۔ جو لوگوں کو خاصا ذلت آمیز لگا۔ جب عوام نے اُن کا گھیراؤ کیا تو انہوں نے مسجد وزیر خان پہنچ کر اُس معافی نامے سے صاف انکار کردیا جس پر اُن کے دستخط موجود تھے۔

    اسی موقع پر مشتعل ہجوم نے مسجد وزیرخان میں پولیس انسپکٹر فردوس شاہ کو چھریوں سے ہلاک کرڈالا۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/miscellaneous/story/2007/07/printable/070707_wajahat_column_sen.shtml

  2. ًّME Identicon Icon ًّME رقمطراز ہيں: بتاريخ Wednesday، 12 December 2007 بوقت 10:07 am

    جذباتیت اور عقیدت
    پاکستانی عوام کا عمومی سیاسی رویہ حقائق کی بجائے جذباتیت سے عبارت ہے۔ لیکن سعودی عرب کے بارے میں تو یہ جذباتیت مذہبی عقیدت کو جا پہنچتی ہے۔ حالانکہ اس تعلق کی تاریخ مذہبی رشتے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے

    ۔۔۔

    سنہ انیس سو دس میں سلطنتِ عثمانیہ کے جنوب مشرقی کونے میں ایک لق و دق صحرا تھا۔ خلیج فارس اور بحیرہ قلزم کے درمیان واقع اس خطے پر دو حکومتیں قائم تھیں۔ نجد کا حاکم ابنِ سعود انگریزوں کا حامی تھا جب کہ حجاز کا حکمران شریفِ مکہ عثمانی ترکوں کا اتحادی تھا۔

    پہلی عالمی جنگ میں ترکوں کو شکست ہوئی اورخلافت کا دھڑن تختہ ہوگیا۔ حجاز کے حاکم شریفِ مکہ کی کیا حیثیت تھی۔ حجاز پر ابنِ سعود نے قبضہ کر لیا۔

    سنہ انیس سو بتیس میں حجاز اور نجد کو ملا کر سعودی عرب نامی ملک کا اعلان کر دیا گیا۔اس مملکت کے قیام میں مقامی سمجھوتہ عبدالوہاب کے پیروکار مذہبی پیشواؤں سے تھا اور سیاسی سرپرستی برطانیہ بہادر کی تھی۔ سنہ انیس سو تینتیس میں ابنِ سعود نے امریکی کمپنی آرامکو کو ساٹھ برس کے لیے سعودی عرب میں تیل کی تلاش پر اجارہ داری سونپی۔ تفصیل کا یارا نہیں، عبدالعزیز ابنِ سعود کی شخصی اور سیاسی قامت جاننا ہو تو چرچل کی خود نوشت کے متعلقہ حصے پڑھ لیں۔

    ہندوستانی مسلمان تحریک خلافت کی دُنیا میں بستے تھے۔ ترکی خلیفہ کے ساتھی شریفِ مکہ کی شکست پر بہت جزبز ہوئے۔ عبدالوہاب کے پیروکاروں نے مقدس ہستیوں کی قبریں مسمار کر دیں تو بےچینی اور بڑھی۔ بالآخر خلافت کمیٹی کا ایک وفد حجاز روانہ کیا گیا۔

    وفد میں دیگر افراد کے علاوہ نامور صحافی ظفر علی خاں بھی شامل تھے۔ جنہوں نے ارکانِ وفد کی مخالفت کے باوجود ابنِ سعود سے تنہائی میں ملاقات کی اور واپس آ کر خلافت وفد سے الگ رپورٹ پیش کی۔ دو جملے ملاحظہ ہوں۔’خالص دینی زاویۂ نگاہ سے عبدالعزیز ابنِ سعود میرے نزدیک دنیائے اسلام کا بہترین فرد ہے ۔۔۔ وہ ایک روشن ضمیر مدبر، الوالعزم جرنیل، خدا کا سپاہی، معاملہ فہم حکمران، پُرجوش مذہبی مبلغ اور قوم کا سچا خادم ہے۔‘

    اس رپورٹ کے بعد مسلمانانِ ہند میں پھوٹ پڑ گئی۔ خلافت کمیٹی اور مجلسِ احرار پنجاب کے راستے الگ ہوگئے۔ مولانا ظفر علی خاں نے نیلی پوش تنظیم بنا لی۔ مولانا داؤد غزنوی کے خانوادے کی آلِ سعود سے یاد اللہ کے ڈانڈے بھی اسی مناقشے سے ملتے ہیں۔

    ابن سعود کی کھلی حمایت پر مؤرخ رئیس احمد جعفری کے مطابق، ظفر علی خان کو بھاری معاوضہ ملا۔ اسی رقم کی تقسیم پر جھگڑے میں مولانا غلام رسول مہر اور عبدالمجید سالک نے زمیندار سے الگ ہوکر سنہ انیس سو ستائیس میں ’روزنامہ انقلاب‘ نکالا تھا۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/miscellaneous/story/2007/09/070914_pak_saudi_brotherhood_ns.shtml

  3. راہبر Identicon Icon راہبر رقمطراز ہيں: بتاريخ Tuesday، 18 December 2007 بوقت 1:21 am

    Me: کافی معلوماتی روابط فراہم کیے ہیں آپ نے۔

  4. محب علوی Identicon Icon محب علوی رقمطراز ہيں: بتاريخ Wednesday، 19 December 2007 بوقت 7:17 am

    ماشاءللہ وجاہت مسعود کا اپنا علم جتنا ہے اس سے ان کی ہرزہ سرائی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔

    اس جیسے تیسرے درجے کے صحافیوں سے اس سے زیادہ اور امید بھی کیا کی جا سکتی ہے جو خود تو عمل اور علم سے عاری ہوتے ہیں البتہ دوسری قدآور شخصیات پر کیچڑ اچھال کر اپنا نام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

    حضرت ذرا مطالعہ اور مردم شناسی میں نظر پیدا کیجیے اور بات مستند حوالہ جات سے کیا کیجیے۔

  5. شعیب سعید شعوبی Identicon Icon شعیب سعید شعوبی رقمطراز ہيں: بتاريخ Wednesday، 19 December 2007 بوقت 7:26 am

    بہت شکریا جناب۔۔۔۔۔۔۔کافی معلوماتی سلسلہ ہے۔ جاری رکھیے!

    شعیب سعید شعوبی’s last blog post..کارٹون بنانا سیکھیں ( ٹیوٹوریل نمبر2 )

  6. محب علوی Identicon Icon محب علوی رقمطراز ہيں: بتاريخ Wednesday، 19 December 2007 بوقت 8:47 am

    شعیب یار تم کہاں غائب ہو نظر ہی نہیں آتے ہو۔

  7. الف نظامی Identicon Icon الف نظامی رقمطراز ہيں: بتاريخ Saturday، 22 December 2007 بوقت 5:38 am

    ظفر علی خان! اس شعر کا خالق
    نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا کی عزت پر
    خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

    الف نظامی’s last blog post..بے درد کوفی

  8. امید Identicon Icon امید رقمطراز ہيں: بتاريخ Sunday، 23 December 2007 بوقت 11:59 am

    اچھا سلسلہ ہیں ۔ ۔مذید بھی لکھیں

  9. محب علوی Identicon Icon محب علوی رقمطراز ہيں: بتاريخ Thursday، 3 January 2008 بوقت 3:15 am

    انشاءللہ جلد ہی اس پر مزید لکھتا ہوں اور تمام لوگوں کی رائے کا شکریہ

ٹريک بيک | آراء کا آر ايس ايس

اپني رائے يہاں ديں

Englishاردو

Englishاردو

CommentLuv Enabled