شگفتہ کا گولڈ میڈل اور پارٹی
Friday، 15 June 2007 | مصنف: محب علوی
یہ پوسٹ اردو محفل کی سربراہ شگفتہ کو ماسٹرز میں گولڈ میڈل حاصل کرنے پر کی تھی
جیسا کہ سب دوستوں کو معلوم ہے ہماری لائبریری ٹیم کی سربراہ شگفتہ نے ماسٹرز میں گولڈ میڈل حاصل کرکے ہم سب کا بالعموم اور میرا بالخصوص سر فخر سے بلند کردیا ہے (میں تو اب اپنے سر کا کچھ کروں جو آئے دن بلند رہنے لگا ہے کہیں کسی اور طرح سے نہ بلند ہوجائے)۔ ہم سب کے لیے یہ بات باعث مسرت ہے کہ ہماری محنت رائیگاں نہیں گئی اور جتنی محنت ہم نے نصاب رٹانے میں لگائی تھی اس سے زیادہ محنت شگفتہ نے پرچے حل کرنے میں کرڈالی ۔ پرچہ جات میں رنگوں سے جانے کیا کیا نقش نگار بنائے کہ اصلی سونے کا میڈل ان کے نام ہوگیا ویسے ساری مشق یہیں کی تھی اور اب بھی رنگوں کا اور صفحات بھرنے میں جو ملکہ شگفتہ کو حاصل ہے کسی اور کو کہاں۔ عربی کے اسباق پر میں نے بہت محنت کی ( پڑھنے میں ) اور مجھے فخر ہے کہ شگفتہ نے میری محنت ضائع نہیں ہونے دی۔ اس کے علاوہ جانے ہم لوگ کتنی محنت کرتے رہے ہیں اس کا صحیح حساب تو شگفتہ ہی جانتی ہیں ہم لوگوں کے لیے قابل اطمینان بات یہ ہے محنت کا پھل مل گیا اور سچے سونے میں جس کا ریٹ آجکل 12000 (دس گرام) سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔
اب ایک ادبی پارٹی کا سوچا ہے اور سب کی تجاویز درکار ہیں۔ اس سلسلے میں اخراجات کی بالکل پرواہ نہیں کرنی ہے سارا خرچ
شگفتہ اپنی ذاتی جیب سے کریں گی ہم لوگ پارٹی لینے والوں میں سے ہوں گے۔
جامعہ کی ناانصافی ملاحظہ کیجیے کہ اور ناانصافی دیکھیے جو ہم لوگوں کے ساتھ ہوئی ہے ۔ اتنا بھی نہیں سوچا ان بے دردوں نے کہ اگر سربراہ کو سونے کا میڈل دیا ہے تو ٹیم کو چاندی کے سکے ہی دے دیں۔
اس پر ستم یہ کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ٹریٹ لینے کے لیے اپنی بھاری جیب خالی کریں۔ اب کون سمجھائے ان سادہ لوحوں کو کہ جس کے پاس سونا ہے جیب تو اسی کی بھاری ہے نہ اور یہ طبیعات کا مانا ہوا اصول ہے کہ بھاری جیبیں ہی خالی ہوتی ہیں یا نیوٹن کے تیسرے قانون کشش زر کے تحت
بھاری جییں اور خالی جیبیں ایک دوسرے پر ایک جیسی قوت سے طبع آزمائی کرتی ہیں
اور یوں کبھی کسی کی جیب بھاری اور کبھی کسی کی خالی ہوجاتی ہیں نیز بھاری جیبیں ہی خالی ہو کر دوسروں کی جیبیں بھرتی ہیں۔
اب طبیعات کے قانون کے بیچ میری اور آپ کی رائے چہ معنی دارد؟









