اردو کا دکھڑا
Friday، 2 February 2007 | مصنف: محب علوی
اردو کی مجموعی صورتحال پر بات کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اردو کی خوش قسمتی ہے کہ اسے ہر دور میں نامساعد حالات میں کوئی نہ کوئی گوشہ عافیت مل ہی جاتا ہے جس میں محبان اردو اس کے گیسو سنوارتے رہتے ہیں۔ اب جب کہ حکومت اور پوری دنیا میں انگریزی کی حاکمیت اور اثر سے دوسری زبانوں کی اہمیت کم ہوتی جارہی ہے بالخصوص بر صغیر کی زبانوں کی۔ برصغیر میں تو یہ حالت ہے کہ انگریزی کو ہی علم سمجھ لیا گیا ہے اور جو انگریزی سے واقف نہیں وہ عالم ہی نہیں خواہ وہ اپنے شعبہ کا عبقری ہی کیوں نہ ہو۔ بہت سے لوگ جو اپنے مضامین پر مکمل دسترس رکھتے ہیں اور ہر لحاظ سے اپنے فن میں طاق ہیں اور انگریزی میں مشتاق نہیں ، صرف اسی ایک گناہ کی پاداش میں عالم کے درجے سے گرادیے جاتے ہیں اور جاہلوں کی قطار میں ٹھہرا دیے جاتے ہیں تاوقتیکہ وہ انگریزی کے دامن میں اردو کا خون نہ پیش کردیں ( اردو کے لواحقین سے صرف خون بخشوایا جاتا ہے خون بہا دینے کی روایت بھی نہیں ) ۔ اسی پر بس نہیں اردو سیکھ کر جو ناکردہ گناہ کیے تھے ان سے تائب ہو کر انگریزی کے دربار میں مغفرت کرتے رہنے کے بعد جا کر کہیں گناہ دھلتے ہیں۔ انگریزی سمجھنے پڑھنے اور لکھنے سے بھی کام نہیں چلتا ، جب تک بولنی نہ آجائے انگریزی کی سند عطا نہیں ہوتی بلکہ اگر صرف بولنی آجائے تو سند مل جاتی ہے اور آپ کو پڑھا لکھا تسلیم کر لیا جاتا ہے ورنہ آپ کی انگریزی چاہے پڑھنے لکھنے اور سمجھنے میں کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو آپ تعلیم یافتہ ہونے کا تمغہ نہیں سجا سکتے کندھے پر۔ ایسے میں کوئی پچھلی نشست سی دھیمی آواز میں بھی اردو کی بات معذرت خواہانہ لہجے میں بھی شروع کرے تو انگریزی خواہ طبقہ بہت چیں بچیں ہوتا ہے اور ان کا بس نہین چلتا کہ کس طرح وہ حلق ہی دبا دیں جس سے اردو کے حق میں سہمی ہوئی آواز نکلی ہے ۔ دبانے سے اگر کسی کا گلہ نہیں دبا تو وہ سخت جاں اردو کی سہل پسندی ، ترقی ، اہمیت پر ابھی کچھ روشنی ڈالنا شروع ہی کرے گا کہ انگریزی داں گروہ کے سینہ میں پھر درد اٹھنے لگتا ہے اور وہ ملک کی تعلیمی پسماندگی کی ساری ذمہ داری اردو کے کمزور کندھوں پر ڈالنا شروع کردیں گے ۔ ہوا میں نقشہ کھینچ کر بتائیں گے کہ اگر اردو کو ذریعہ تعلیم بنا دیا گیا تو ملک میں جہالت کے اندھیرے چھا جائیں گے ( کوئی پوچھے ان سے کہ پہلے انگریزی کی برکات سے کیا ملک جگمگ جگمگ کررہا ہے ) ۔ ملک کم از کم سو سال پیچھے چلا جائے گا (جیسے سو سال پہلے ملک میں اردو کا ہی راج تھا)۔ ترقی کی رفتار سست ہی نہیں رک جائے گی (جیسے پہلے اقوامِ عالم پیارے وطن کی ترقی کی رفتار کو دیکھ کر انگشتِ بدنداں ہیں )۔ علمی طور پر ملک مفلس ہو جائے گا ( انگریزی کے صدقے جیسےعلمی طور پر ملک مغنی و تونگر ہے ) ۔ الغرض زمینی حقائق کو یکسر نظر انداز کرکے قوم کو ذہنی طور پر بانجھ بنانے کے لیے انگریزی ان پر مسلط کی ہوئی ہے ، ایک زبان کے طور پر نہیں بلکہ سماجی تفریق قائم کرنے کے لیے ایک حدِ فاصل کے طور پر۔
کمپیوٹر کے آنے سے پہلے اردو کو اس کا جائز مقام ملنا کسی دیوانے کا خواب تو سمجھا جا سکتا تھا ، کسی ذی ہوش کا نہیں۔ کمپیوٹر کے آنے سے سرخ فیتہ اور دفتری دقیانوسیت سے جاں خلاصی کی امید پیدا ہوئی مگر قوم کو یہ کہہ کر ایک اور فریب میں مبتلا رکھا گیا کہ کمپیوٹر کی زبان ہی انگریزی ہے اور وہ اس کے سوا کچھ نہیں سمجھتا۔ اس فریب سے کئی سال اور قوم کو بہلایا جاتا رہا اور قوم کو تو چاہیے ہی بہلاوے ہوتے ہیں اس لیے سب نے آمنا صدقنا کہہ کر یقین بھی کر لیا۔ یونیکوڈ کے عام ہونے کے بعد یہ جب اس فریب کی قلعی کھلی تب بہت ہی سست رفتاری سے اردو پر کام ہونا شروع ہوا اور اب بھی اسی کچھوے کی رفتار سے جاری ہے ۔
اردو کا دکھڑا ابھی جاری ہے ………………










ارے واہ۔ تم نے بلاگنگ کی دنیا میں قدم رکھ ہی لیا۔ اور مجھے بتایا ہی نہیں۔ لیکن دیکھو مجھے پتہ چل ہی گیا۔ بہت مبارک ہو۔ امید ہے اسے جگا کر خود سونے نہیں چلے جاؤ گے۔
خیر۔۔اردو کا دکھڑا کافی اچھا رویا ہے۔ اصل میں ہمارے ملک میں جو رواج چل پڑتا ہے بس اس سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔ انگریزی بولنے والوں کو نہ صرف پڑھا لکھا بلکہ بہت کچھ سمجھا جاتا ہے۔ پھر جن کو انگریزی نہیں آتی وہ بے چارے احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اور پنگلش(پاکستان میں بولنے والی انگلش) بولنے لگتے ہیں۔ جس سے پوچھو کیا ہو رہا ہے آجکل۔ انگلش میں ماسٹر۔ واہ ۔ بھئی میں تو اردو میں ماسٹر کروں گی۔ lol
ویسے محب تم اتنے پریشان نہ ہو۔ جب تک تم جیسے اردو سے محبت کرنے والے موجود ہیں۔ اردو انشاءاللہ ترقی کی راہوں پر گامزن رہے گی۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
بہت خوب محب بھائی، آپ کابلاگ دیکھ کربہت خوشی ہورہی ہے آپ کی تحریر میں واقعی وہ کاٹ ہے جوکہ پڑھنے والے کے دل پراثرکرتی ہے۔ اللہ تعالی آپ کے اندازبیان کواورترقی دے (آمین ثم آمین)
والسلام
جاویداقبال
محب، تمہاری اس پوسٹ سے پتا چلتا ہے کہ فورم اور بلاگ پر لکھنے میں فرق ہے۔ میرے خیال میں اپنے بلاگ پر اپنے مافی الضمیر بیان کرنے کی زیادہ آزادی محسوس ہوتی ہے۔ فورم پر دوسروں کی موجودگی کا خیال رہتا ہے جبکہ بلاگ پر خود کلامی بھی کی جا سکتی ہے۔ ماشاءاللہ بہت اچھا لکھ رہے ہو۔ بہت اویجنل تحریر ہے تمہاری۔
حضرت آپ نے تو کمال کر دیا۔اتنا اچھا لکھا ھے کہ دل باغ باغ ھو گیا۔میں بھی ایک روایت پسند ھوں اور اردو کو اس کا مقام دیے جانے کا خواھاں ھوں ۔ لگتا ھے کہ اب منزل دور نہیں رھی۔ٹھوڑی سی محنت کی ضرورت ھے۔
اُردو نہ میرے والد صاحب کی مادری زبان تھی نہ میری والدہ صاحبہ کی لیکن ہمارے والدین نے ہمیں اُردو اس لئے اچھی طرح سکھائی کہ یہ ہماری قومی زبان اور ہماری پہچان ہے ۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو اپنی پہچان اغیار سے کراتے ہیں ۔ وہ اسے برتری سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ احساسِ کمتری ہے ۔ اب تو یہ حال ہے کہ ہمارے ملک کے صدر صاحب برملا کہتے ہیں کہ اُنہیں اُردو بولنا نہیں آتی ۔ گویا اُن کے والدین ہندوپاکستان میں نہیں رہتے تھے اور وہ خود دہلی میں پیدا نہیں ہوئے تھے اور نہ کراچی اور لاہور میں پروان چڑھے تھے ۔ اور نقّال لوگ ہیں کہ انگریزی نہ جانتے ہوئے بھی انگریزی نما بول کے فخر محسوس کر رہے ہوتے ہیں ۔
ان تمام نامساعد حالات کے باوجود اُردو دنیا کی چوتھی سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے ۔
بجا فرمایا۔
بالکل ایسا ہی ہے۔
اللہ نے چاہا تو یہ کچھوا خرگوش بن جائے گا جلد ہی۔
جاری رکھیے آپ کی تحاریر پڑھنے کا مزہ آتا ہے۔
وسلام
ہاں غلطی سے رکھ ہی لیا بلاگنگ کی دنیا میں قدم اور یہی تو غلطی کی کہ تمہیں بھی نہیں بتایا البتہ تمہیں پتہ ضرور چل جانا تھا یہ مجھے پتہ تھا۔ بالکل صحیح کہہ رہی ہو کہ ہمارے ملک میں یہ رواج ہے کہ جسے انگریزی آتی ہے وہ ہی قابل ہے اور باعلم بھی اور انگریزی میں ماسٹر تو فیشن ہے ایک۔
تمہاری دعا کا شکریہ اور مجھے یقین ہے کہ جب تک تمہاری طرح بیرون ملک اردو کی ایسی حمایت رہے گی اردو ترقی کرتی رہے گی۔
جاوید بھائی آپ کی تعریف اور حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ۔
نبیل
تمہارا اندازہ کسی حد تک درست ہے مگر میں نے کبھی بھی اردو ویب پر اظہار کرتے ہوئے دقت محسوس نہیں کی اور اس کا کریڈٹ تمہیں جاتا ہے جس نے کبھی قدغن نہیں لگائی۔
سعید،
کمال میں نے نہیں کیا ہے بلکہ کمال کیا ہے اس سوچ نے جو مشترکہ ہے ہم دونوں میں اور جسے پڑھ کر آپ کو لگا کہ یہ بھی میرے دل میں ہے
السلام علیکم۔۔
آجکل مجھے بہت نئی نئی جگہوں کے بارے میں معلوم ہو رہا ہے۔۔ یونہی چلتے چلتے اس بلاگ تک پہنچ گئی۔۔نام کچھ دیکھا دیکھا لگا۔۔غور کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں تو محفل کے لوگ ہی موجود ہیں۔۔
آپ نے ٹھیک کہا ۔۔اردو نہ بولنا ۔۔یا اگر بولنا تو اس طرح کہ اس میں انگریزی کے پیوند لگے ہوں ، ایک عام عادت بن چکا ہے۔۔کچھ لوگ اس کو اپنی قابلیت دکھانے کا پیمانہ سمجھتے ہیں اور کچھ تعلیمی اور گھریلو ماحول(جہاں والدین شروع سے ہی بچے کی زبان کو اردو انگریزی میں تقسیم کر دیتے ہیں) کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔۔میرا خیال ہے اگر ہر کوئی اپنی اپنی جگہ اردو کی ترویج کے لئے کوشش کرے تو سوچ میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔۔اور ایک بار تبدیلی کا عمل شروع ہو جائے تو مقصد کو آگے بڑھانا نسبتا آسان ہو جاتا ہے۔۔
[...] کا “اردو کا دکھڑا“ ابھی جاری تھا کہ محب پتہ نہیں کہاں ہے [...]
نہایت خوبصورت تحریر ہے ۔ اب شبکہ و شمارندہ کے دور میں اردو کےلیے نت نئی راہیں کھل رہی ہیں ۔ مایوسی کی کوئی بات نہیں ۔